تنہائی کا حال – حافظ محمد زبیر

محترم احمد جاوید صاحب کی اصلاحی مجلس میں تقریبا دو سال شرکت کا موقع ملا اور ان دو سالوں میں ان سے شاید دو لفظ ہی سیکھے ہیں۔ شروع میں تو سمجھ ہی نہیں آتی تھی کہ یہ کیا ہیں؟ لیکن جب لفظ معنی سے حال میں بدلنا شروع ہو تو الفاظ کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ ایک لفظ “تنہائی” اور دوسرا “سچائی” ہے۔ جب سے یہ دو لفظ سیکھے ہیں تو سیکھنے کا مفہوم بھی تبدیل ہو گیا ہے کہ سیکھنا کسے کہتے ہیں؟

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بہت کچھ سیکھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ نہیں سیکھتے یا بہت کم سیکھتے ہیں۔ ان الفاظ کو وہ جملے میں عام طور یوں استعمال کرتے تھے کہ “اپنی تنہائی کو بہتر بنا لو” اور “سچے بن جاو”۔ اب کہنے کو تو یہ عام سے جملے ہیں، آپ ان جملوں پر لمبا چوڑا وعظ سن لیں یا کہہ لیں، یہ سب سیکھنے میں شامل نہیں ہے۔ “تنہائی” کے لفظ کو سیکھ لینا یہ ہے، چاہے آپ ایک دن میں سیکھیں یا سال میں، کہ جب جب آپ کو تنہائی میسر ہو تو دل نماز کی طرف لپک لپک کر جائے

جس طرح تنہائی میں فلم دیکھنے کی رغبت محسوس ہوتی تھی، اب نماز پڑھنے کی رغبت ایسے ہی محسوس ہونے لگے۔ پہلے تنہائی میں گناہ سے روکنے کے لیے نفس سے مجاہدہ کرنا پڑتا تھا تو اب تنہائی کی نیکی چھوڑنے کے لیے مجاہدہ کی ضرورت محسوس ہو۔ اور پھر تنہائی، صرف بیڈ روم کی تنہائی، تنہائی محسوس نہ ہو بلکہ اگر کہیں گاڑی میں اکیلے سفر میں ہے تو بھی تنہائی میں ہے حتی کہ جب جب خاموش ہے تو حالت تنہائی میں ہی ہے۔

جس طرح بیڈ روم کی خلوت میں انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی تنہائی کی حفاظت کرنی ہے، اسی طرح بازار کی مجلس میں نظروں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی تنہائی کو بہتر بنانا ہے کہ چاہے کوئی اور تو نہ دیکھ رہا ہو لیکن وہ تو دیکھ رہا ہے کہ جو نظروں کی خیانت کا بھی حساب رکھتا ہے۔ اور سچا بننا صرف اپنے قول میں نہیں بلکہ حال میں بھی ہے۔ سچ صرف یہ نہیں ہے کہ جھوٹ نہ بولو بلکہ سچ یہ بھی ہے کہ سچ کو چھپاؤ نہ۔ سچا بننا یہ بھی ہے کہ جتنا نیک ہو، اتنا ہی نظر آئے۔ آپ کی بات چیت، گفتگو، حلیے اور وضع قطع سے کوئی آپ کو اتنا عالم فاضل اور متقی پرہیزگار نہ سمجھ لے کہ جتنا کہ آپ نہیں ہیں۔

اور آپ کیا ہیں، آپ صرف وہی ہیں جو آپ اپنی تنہائی میں ہوتے ہیں نہ کہ مجلس میں۔بھئی، سچا بننا یہ بھی نہیں کہ “عاجز”، “فقیر”، “حقیر پر تقصیر” اور “طویلب” جیسے القابات استعمال کرنا شروع کر دیں، سچا بننا یہ ہے کہ جو ہیں، بس اس کا اظہار کریں اور وہی ہم اپنے قال اور حال سے نظر آئیں۔ اگر تو عالم دین ہیں تو اپنے آپ کو طویلب کہنے کی بھی ضرورت نہیں اور نہ ہی علامہ کہے جانے پر خوشی محسوس کریں، بس یہی کہیں کہ عالم دین ہوں۔ تکلیف اور بیماری میں ہیں، تو کوئی حال احوال پوچھے تو بتلا دیں کہ تکلیف میں ہیں اور کچھ کھانے کو دل کر رہا ہے اور میزبان نے تکلفا پوچھ لیا ہے تو بتلا دیں کہ کھانے کو دل کر رہا ہے۔ تاجر ہیں تو اپنے مال کا عیب بھی بتلائیں، چاہے گاہک نہ بھی پوچھے، پھر بھی بتلائیں کہ اسی کا مطلب ہے کہ سچ نہ چھپائیں۔ اللہ عزوجل مجھے بھی اور آپ کو بھی ان دو جملوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam