مرنے کے بعد - اشفاق احمد

کسی کو ٹھیک سے معلوم نہیں کہ ماسٹرا لیاس کب اس محلہ میں آیا تھا اور کب اس نے یہ کوٹھڑی کرائے پر لی تھی، لیکن اس بات کا ہر ایک کو علم تھا کہ ماسٹر الیاس مہاجر ہے اور اس کا تعلق انبالے کے کسی علاقے سے ہے، کیونکہ وہ بولی ہی ایسی بولتا تھا جو انبالے پٹیالے میں بولی جاتی ہے۔

ماسٹر الیاس کرائے کی کوٹھڑی میں رہتا تھا اور اس کے پاس محلے کے لڑکے گنتی سیکھنے، پہاڑے کہنے اور تختی لکھنے کے لیے آجاتے تھے۔ اس کے پاس دو لڑاکا بٹیر اور ایک اصیل مرغا تھا۔ بٹیر تو پنجروں میں بند رہتے تھے لیکن اصیل مرغا اس کی کوٹھڑی کے دروازے سے ذرا دور کھڑا رہتا۔ ماسٹرالیاس نے مرغے کی ایک ٹانگ میں پیتل کا چھلا ڈال کر اس سے السی کی مضبوط ڈور باندھ رکھی تھی اور اس ڈور کا دوسرا سرا اپنیکوٹھڑی کی دہلیز میں میخ ٹھونک کر اس سے باندھ رکھاتھا۔

محسن محلہ کے سبھی لوگ ماسٹر الیاس کی عزت کرتے اور اس کو السلام علیکم کہہ کر اس کے دروازے کے آگے سے گزرتے تھے۔ ماسٹرجی کچھ اور کام بھی کرتے تھے لیکن کسی کو اس کا علم نہیں تھا۔ شاید وہ سبزی منڈی میں منشی گیری کرتے تھے یا کسی دور کے محلے میں پھیری لگاتے تھے یا کسی کارخانے میں رنگ وروغن کی دیہاڑی کرتے تھے۔ کوئی اس بابت اچھی طرح سے نہیں جانتا تھا لیکن اتنا سب کو معلوم تھا کہ ماسٹر الیاس کی گزر بسر ذرا تنگی ترشی ہی سے ہوتی ہے۔

دراصل ماسٹر صاحب سیدھے آدمی تھے اور ان کو زمانے کے ساتھ چلنے کا ڈھنگ نہیں آتا تھا۔ کچھ تو ان کی شکل ہی ایسی تھی کہ اسے دیکھ کر لوگوں کے دل میں محبت یا ہمدردی کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا تھا اور کچھ ان کی گفتگو اس انداز کی ہوتی کہ کسی کو اس پر یقین نہیں آتا تھا۔ وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے۔ ہیرا پھیری نہیں کرتے تھے۔ مبالغے سے کام نہیں لیتے تھے۔۔ شیخی نہیں بگھارتے تھے۔ کسی کو خوفزدہ نہیں کرتے تھے… اسی وجہ سے کسی کو ان کی بات پر یقین نہیں آتا تھا۔ ان کی گفتگو میں گرائمر اور علم بیان کی بہت سی غلطیاں ہوتی تھیں اور سننے والا جّھلا کر ان کی صحبت چھوڑ دیتا۔ وہ اتنے سیدھے اور اس قدر بے پیچ تھے کہ انسان ہی نہیں لگتے تھے۔ سارے محلے پر، سارے معاشرے پر ایک بوجھ سا لگتے تھے اور چونکہ ایسے لوگوں کے ساتھ رسم وراہ پیدا کرنا کوئی بھی پسند نہیں کرتا، اس لیے ان کا کوئی بھی دوست نہیں تھا۔ تاہممحلے والے ان کی عزت کرتے اور ان کے دروازے کے آگے سے گزرتے ہوئے السلام علیکم کہہ کر آگے بڑھتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   لاہور کتاب میلہ، چند تاثرات - محمد عامر خاکوانی

سردیوں کی ایک شام مالک مکان نے ماسٹر الیاس کو بڑے سخت الفاظ میں ڈانٹا اور دھمکی دی کہ اگر اس نے تین دن کے اندر اندرپچھلے چھ ماہ کا کرایہ ادا نہ کیا تو وہ اس کا سامان نکال کر باہر پھینک دے گا۔ خوف کے مارے ماسٹر جی کیگھگی بندھ گئی کیونکہ ان کے پاس ایک سو اسّی روپے یکمشت موجود نہ تھے۔ صرف چالیس روپے تھے جن کے ساتھ دس کا ایک نوٹ پرو کر انہوں نے پچاس بنا لیے تھے۔

پہلے تو مالک مکان پچیس تیس، چالیس پچاس روپے لے کر آگے کی تاریخ دے دیا کرتا تھا۔ لیکن اس مرتبہ وہ ’’تڑنگ‘‘ ہوگیا اور اس نے دھاگے میں پروئے ہوئے پچاس روپے مرغے کے آگے پھینک کر کہا: ’’جااوئے! میں نہیں لیتا۔ مجھے پورے ایک سو اسّی کرکے دے۔‘‘

جب وہ یہ کہہ کر چلا گیا تو ماسٹر الیاس نے پچاس روپے فرش سے اٹھا کہ اپنی واسکٹ کی جیب میں ڈال لیے اوراپنی کوٹھڑی کے اندر جا کر چارپائی پر بیٹھ گئے۔ چونکہ وہ اظہار کے معاملے میں کمزو ر تھے اس لیے ان کو رونا بھی نہیں آتا تھا۔ دکھی سے ہو کر بیٹھ گئے اور شدید غم کے باعث ان کی گھگی بندھ گئی، یہ پہلا موقع تھا کہ روئے بغیر کسی شخص کی گھگی بندھی ہو!

وعدے کے مطابق مالک مکان نے ان کا سامان اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ پھر اس نے کوٹھڑی کو نیا چینی تالا لگایا اور سکوٹر پر سوار ہو کر اپنے گھر چلا گیا۔ ا س کا گھر اس محلے سے کافی دور تھا اور وہ اپنی کوٹھڑیوں کا کرایہ وصول کرنے ماہ بہ ماہ آیا کرتاتھا۔ ماسٹر صاحب نے اپنی چارپائی ٹرانسفارمر والے دو کھمبوں کے پیچھے لگا دی اورباقی سامان اس کے اردگرد چن دیا۔

ماسٹر صاحب نے ایک رات جوں توں کر کے ٹرانسفارمر کے نیچے گزار دی اور اگلے دن شیخ کریم نواز کی حویلی پہنچ کر اس سے دو سو روپے ادھار کے طلب گارہوئے۔ شیخ صاحب نے ماسٹر صاحب کو نیک دل، سادہ لوح اور مرنجان شخص سمجھ کر ٹرخا دیا کیونکہ ایسے احمق لوگوں کو زیادہ رقم دینا اچھا نہیں ہوتا۔ پھر وہ اسماعیل بزاز کی دکان پر گئے اور رقم میں کمی کر کے ڈیڑھ سوروپے کا سوال کر ڈالا۔ اس نے بھی معذرت کر لی۔

محلے کا کوئی نائی، حلوائی، قصائی، ڈاکٹر، ویداور وکیل ماسٹر صاحب نے نہ چھوڑالیکن ہر طرف سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان لوگوں کو شدید مہنگائی نے گھیر رکھا تھا اور ان کے پاس ادھار دینے کو کچھ بھی باقی نہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   لاہور کتاب میلہ، چند تاثرات - محمد عامر خاکوانی

جس دن ماسٹرالیاس نے ہومیو پیتھک ڈاکٹر کو اپنی نبض دکھائی اس روز انہیں ٹرانسفارمر کے نیچے سوتے آٹھواں دن تھا۔ ڈاکٹر نے سٹیتھوسکوپ لگا کر دیکھا اور کہا: ’’ماسٹر صاحب نمونیہ ہے۔ میں آپ کو پڑیا تو دے دیتا ہوں لیکن آپ کسی اور کو بھی دکھا لیں۔‘‘
ماسٹر صاحب نے کہا: ’’بہت اچھا۔‘‘ اور گرم دودھ پینے جبار حلوائی کی دکان پر چلے گئے۔
انہوں نے دودھ پی کر اپنی نبض جبار کو دکھائی اور پھر گڑگڑا کر اس سے دو سو روپے قرض کی درخواست کی۔ جبار ہنس پڑا، اسے پتہ تھا کہ ایسے الو کو کوئی ایک روپیہ بھی ادھار نہیں دے سکتا، یہ پورے دو سو مانگ رہاتھا۔ جب ایسی انہونی بات ہو تو ہر ایک کو ہنسی آجاتی ہے اور اسی وجہ سے جبار ہنس پڑا ورنہ عام زندگی میں وہ بہت ہی کم ہنستا تھا۔

مسلسل تین دن تک ماسٹر الیاس اپنی رضائی سر پر ’’اگلو‘‘ کی طرح اوڑھ کر چارپائی پر بیٹھے رہے۔ جوکوئی وہاں سے گزرتا ’’السلام علیکم‘‘ کہہ کر یہ ضرور پوچھتا: ’’کیوں جی ماسٹر جی، دھوپ سینکی جارہی ہے؟‘‘
اور ماسڑ جی اندر سے بند آواز میں جواب دیتے: ’’ہاں جی تھوڑی سردی لگ رہی تھی۔‘‘

چوتھے روز فجر کی اذان کے وقت جب ماسٹر صاحب فوت ہوگئے تو محسن محلے کے ایک ایک شخص کو ان کی موت کا بڑا صدمہ ہوا۔ ناشتے کا وقت ختم ہونے تک ہر شخص خاموشی اور دکھ کے کوئے میں لپٹ کر دھوپ میں جا کھڑا ہوا۔ ماسٹر جی کے بٹیروں کو کٹورہ بھر کنگنی اور ان کے مرغے کو آٹے کی آب خورہ بھر گولیاں ڈالی گئیں۔ شیخ کریم نواز صاحب اپنی حویلی سے نکل کر ٹرانسفارمر کے نیچے آ بیٹھے۔ یہاں لوگوں نے بڑی سی دری بچھا دی اور دو تین تازہ اخبار لا کر رکھ دیے۔

لوگ جمع ہونے شروع ہوگئے۔ شیخ کریم نواز نے دو سو روپے نکال کر سعید اور بلال کو سکوٹر پر بھیجا کہ جا کر قبر کا بندوبست کریں۔ تین سو روپے بابو اسماعیل کو دیے کہ رحمت کو ساتھ لے جاکر لٹھے، کافور، عرق گلاب اور پھولوں کا بندوبست کریں۔ جبار حلوائی نے دودھ پتی کا ایک پتیلا کاڑھ کر صف پر پہنچا دیا۔ لوگوں نے ماسٹر صاحب کی رسم قل کے لیے پیسے جمع کرنے شروع کیے اور دیکھتے دیکھتے محسن محلہ کے لوگوں نے آٹھ سو گیارہ روپے جمع کرکے شیخ کریم نواز صاحب کے پاس محفوظ کرا دیے۔

Comments

محمد اقبال قریشی

محمد اقبال قریشی

محمد اقبال قریشی: مدیر، مترجم، ادیب، اور کہانی کار۔ ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے نائب مدیر رہ چکے ہیں ۔ شکاریات، مہم جوئی اور کمپیوٹرسائنس پر مبنی ان کی تحریریں ایک عرصہ تک اردو ڈائجسٹ کے صفحات کی زینت بنتی رہیں۔ بچوں کے ادب اور درسی کتب کی تحریر و ترتیب میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں