عزت بچانے کا آخری موقع - محسن حدید

عزت بچانے کا آخری موقع ہے۔ سڈنی میں پاکستان آسٹریلیا ٹیسٹ سیریز کا آخری ٹیسٹ شروع ہوا چاہتا ہے. پاکستان کے 21 سالہ انتظار کا کیا بنتا ہے، اب بھی امیدیں تو قائم ہیں مگر سچ کہیں تو یہ امیدیں اب ہمارے کھیل کے فن سے زیادہ چونکا دینے کے فن پر آ ٹکی ہیں. کبھی ہماری پہچان اپنی کھیل کی صلاحیت ہوتی تھی، مگر اب ہماری پہچان ایک اپ سیٹ کرنے والی ٹیم کی بن گئی ہے۔ پاکستان 17 سال بعد مسلسل 5 ٹیسٹ میچز ہار چکا ہے. اب دیکھنا یہ ہے کہ کہیں چھٹا ٹیسٹ بھی نہ ہار جائے. ایک امید ابھی بھی موجود ہے کیونکہ سڈنی کی وکٹ سپنرز کے لیے کافی سازگار ہوتی ہے. شاید یہاں یاسر شاہ کچھ کر جائیں، گو کہ ان کا ٹیسٹ میچ سے صرف ایک دن پہلے چھپنے والا انٹرویو ان کی ذہنی حالت کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کی مایوس کن کارکردگی نے ان پر دباؤ بہت زیادہ بڑھا دیا ہے، لیکن یہاں پر مشتاق احمد کی 1995ء میں پیش کی گئی شاندارکارکردگی انہیں کافی حوصلہ دے گی، کیونکہ اچھے لیگ سپنر کے لیے اس وکٹ میں کافی کچھ ہے. مشتاق احمد نے یہاں 9 وکٹیں حاصل کی تھیں اور یہ پاکستان کی آسٹریلیا میں آخری فتح بھی تھی.

سڈنی ٹیسٹ میں شاید پاکستان دو سپنرز کے ساتھ میدان میں اترنا پسند کرے. 18 سالہ محمد اصغر کے ٹیسٹ ڈیبیو کی خبریں آرہی ہیں. اگر ان کا ٹیسٹ ڈیبیو ہو جاتا ہے تو وہ پاکستان کی ٹیسٹ میچز میں نمائندگی کرنے والے پہلے بلوچ کھلاڑی ہوں گے۔ ان کی باؤلنگ اچھی ہے لیکن دیکھ کر یہ خیال ذہن میں آتا ہے جیسے وہ محدود اوورز کا میٹیریل ہوں. ہو سکتا ہے یہ خیال غلط ہو مگر اتنے زیادہ کھبے بلے بازوں کی موجودگی میں آسٹریلیا کی غیر مددگار سپن کنڈیشن میں ایک 18 سالہ نوجوان کو ٹیسٹ کھلانا کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں لگتا. جب آپ کے پاس اسی طرح کا ایک اور آپشن محمد نواز کی صورت میں موجود ہے، جس کی بیٹنگ بھی کافی مناسب ہے، تو اسے موقع دینا چاہیے. ویسے بھی مصباح الحق کی کپتانی میں (خاص کر جب وہ خود کافی انڈر پریشر ہیں)، ایک لڑکے کے لیے ڈیبیو کرنا بہت پریشانی کا باعث ہو سکتا ہے. مصباح الحق نئے لڑکوں کے حوالے سے بہت اچھے برتاؤ کا ریکارڈ نہیں رکھتے، ان کا اعتبار جیتنا کافی مشکل کام ہے. یہ ساری چیزیں ملا کر محمد اصغر کی جگہ محمد نواز کو کھلانا چاہیے.

یہ بھی پڑھیں:   آزاد مر کیوں نہیں جاتا؟ حافظ یوسف سراج

یاد رہے کہ اسی گراؤنڈ میں 2005ء میں آصف نے بھی ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا. اس میں ان کی بہت پٹائی ہوئی تھی. اس کے بعد انہیں لمبے عرصے کے لیے ٹیم سے نکال دیا گیا. 2010ء میں آصف نے یہاں اپنے کیرئیر کا دوسرا ٹیسٹ کھیلا اور 8 آسٹریلوی بلے باز آوٹ کیے تھے. یہ وہی مشہور زمانہ سڈنی ٹیسٹ تھا جس میں کامران اکمل کی خراب کیپنگ پر بہت سے سوالات بھی اٹھے تھے. پاکستان کی طرف سے سڈنی میں کسی فاسٹ باؤلر کی بہترین باؤلنگ کا ریکارڈ عمران خان کے پاس ہے، انہوں نے 1977ٰء میں یہاں 12/165 کی کارکردگی پیش کی تھی اور پاکستان کو فتح دلائی تھی۔ یہ آسٹریلوی سرزمین پر پاکستان کی پہلی فتح تھی. پاکستان کے سدا بہار کرکٹ ایڈمنسٹریٹر/کوچ/مینیجر ہارون رشید کا یہ ڈیبیو ٹیسٹ بھی تھا.

مصباح الحق کا شاید یہ آخری ٹیسٹ ہو، گو کہ وہ ریٹائرمنٹ والے بیان سے مکر چکے ہیں لیکن ان کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔ یونس خان کو 10 ہزار رنز بنانے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے صرف 211 رنز چاہییں. اگر وہ اس ٹیسٹ میں یہ کارنامہ کر جائیں تو کمال ہو جائے گا. یہ پچ ان کی بیٹنگ کے لیے ویسے بھی سازگار ہے. سمیع اسلم نے کچھ اچھی باریاں کھیلی ہیں، کپتان نے انہیں مناسب موقع بھی دیا ہے مگر وہ اپنے آپ کو اہل ثابت نہیں کر پائے. ان کے پاس ایک آخری موقع ہے کہ اس میچ میں کچھ کر دکھائیں ورنہ احمد شہزاد کی مسلسل اچھی کارکردگی ان کے ٹیم سے اخراج میں بہت معاون ثابت ہوگی. سرفراز احمد اگر یہ میچ اچھا کھیل گئے تو پاکستان کی ٹیسٹ کپتانی کے لیے ان کی نامزدگی کی راہ میں موجود ایک اور رکاوٹ دور ہوجائے گی. برسبین میں دوسری اننگز میں شاندار کھیل دکھانے والی ٹیم نے میلبورن میں پہلی اننگز میں بہت اچھا کھیل پیش کیا. پہلے دونوں میچز کو دیکھتے ہوئے یہی دعا کی جاسکتی ہے کہ اس بار ہماری ٹیم ایک ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں اچھا کھیل پیش کر جائے کیونکہ ٹیسٹ میچ جیتنا اس کے بغیر ممکن نہیں.