اجتماعی شعور، جمہور اور اصول فن کا استخراج - علی عمران

دنیا کے تمام ہی فنون کا معاملہ یہ ہے کہ اس پر نقد کرنے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ پہلے آپ اس فن کو سمجھ لیں، اس کی خوبیوں اور خامیوں کا بنظر غور مطالعہ کریں، اس کے بعد ہی آپ اس قابل بنتے ہیں کہ اس کے اصولوں پر نقد کر سکیں اور اس کے اصولوں میں اگر کوئی ضرورت ہو، تو کمی زیادتی بھی کر سکتے ہیں، مگر اس درجہ تک پہنچنے کے لیے جس درجہ کوشش، محنت، جدوجہد کرنی پڑتی ہے، اس کا ذرا سا اندازہ سفید بالوں والے پروفیسرز کو دیکھ کر کیا جا سکتا ہے.

عام آدمی یا اجتماعی شعور کا اعتبار نہیں کیا جاتا، کہ لوگ کیا سمجھتے ہیں اور کیا چاہتے ہیں، بلکہ ماہرین فن کی بات ہی اس سلسلےمیں معیار سمجھی جاتی ہے.

حیرت کی بات یہ ہے کہ جس اجتماعی شعور کا اعتبار دنیاوی فنون میں نہیں کیا جاتا، بلکہ اہل فن کی ہی بات لی جاتی ہے تو ان کے شعور اور فہم کا اعتبار دین میں کیونکر ممکن ہے.

دوسری بات یہ کہ سائنس سمیت تقریباً تمام ہی فنون ایک درجہ میں استخراجی ذہن ہی رکھتے ہیں، ان کا مطالبہ ایک عام آدمی سے ’’بلا چوں و چراں‘‘ قبول ہی کرنے کا ہوتا ہے.. بھلے وہ سائنسی یا فلسفیانہ رائے کسی صاحبِ فن کے مشاہدات و تجربات کا نتیجہ ہی کیوں نہ ہو، تاہم جب عام آدمی کا مرحلہ آتا ہے، تو اس سے محض ’’سر جھکا لو اور قبول کرلو‘‘ کا ہی تقاضا ہوتا ہے اور یہی وہ عین ایمان ہے، جس کا مطالبہ مذہبیات میں ہوتا ہے.

ایمان یعنی بلا دیکھے محض رسول کے کہنے پر مان لینا، تمام مذاہب کا بنیادی اور مشترکہ مطالبہ ہے. خداوند تعالیٰ نے عقل کی تخلیق فرمائی اور اس میں یہ صلاحیت رکھی کہ یہ اگر خارجی اثرات سے پاک رہے، تو فطرت کے ساتھ مل کر (واقعتاً عقل فطرت کا جز ہی بنتی ہے) اپنے مالک کی درست معرفت حاصل کرے. سوال مگر یہ ہے کہ اگر کل کلاں عقل دربار خداوندی میں یہ عرض معروض کردے، کہ چونکہ میں دلائل کی روشنی میں آپ کی واقعی معرفت تک نہ پہنچ سکی، لہذا مجھے معاف رکھا جائے اور سزا نہ دی جائے، تو کیا اس کی یہ معروضات مانی جا سکتی ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   قوم کو تعلیم کے ساتھ تربیت کی شدید ضرورت - حسیب عماد صدیقی

ظاہر ہے کہ نہیں، سو دین کے اصول اور احکام کے لیے محض عقل کو کہاں کب تک اور کیونکر بنیاد بنایا جاسکتا ہے؟ اسی طرح عقل کی روشنی میں کیے گئے مشاہدات یعنی استقراء کو ہی حق تک پہنچنے کا احسن ذریعہ کیونکر سمجھا جا سکتا ہے. استقرائی منہج یقین کا فائدہ دے ہی نہیں سکتا اور اس کے نتائج وقت، ماحول اور دوسرے خارجی اثرات کی وجہ سے تبدیل ہونا عین ممکن اور امرِ مشاہدہ ہے. مثلاً ایک آدمی سائیبیریا میں گیا اور وہاں اس نے جتنے بھی خرگوش دیکھے، وہ سفید تھے. اس سے اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ خرگوش سفید ہوتے ہیں. پھر جب وہ افریقہ میں گیا اور وہاں اس نے کالے رنگ کے خرگوش دیکھے، تو اب یہاں پر یہ بھی ممکن ہے کہ وہ یہ کہے کہ خرگوش صرف کالے رنگ کے ہوتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کہے کہ خرگوش سفید اور کالے رنگ کے ہوتے ہیں، تاہم جب ایک مرتبہ اس نے یہ احتمال مان لیا کہ خرگوش کالے رنگ کے بھی ہوتے ہیں، تو اسے دیگر رنگوں کا بھی احتمال ماننا پڑےگا. لہذا وہ کبھی بھی ایک حتمی اور لازمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکتا.

اس کے مقابلےمیں دین کچھ سالڈ اور ٹھوس چیزوں کا مطالبہ کرتا ہے اور ان میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کو دین سے ہی انحراف قرار دیتا ہے. پھر ان پائیدار اور نہ بدلنے والے احکامات کے ماننے اور ان پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہے. عقل کا کام ان احکام کی وجوہات اور فوائد ڈھونڈنا تو ہو سکتا ہے، تاہم ان احکامات کی اجراء کے لیے عقل بنیاد اور باعث کبھی نہیں بن سکتی.
یہاں پر سائنس اور مذہب میں کچھ فرق نہیں رہتا، بلکہ دونوں ہی محض ماننے یعنی ایمان بالغیب کا ہی مطالبہ کرتے ہیں.

دیکھیے نا ساری دنیا کے سمجھدار، ذہین وفطین اور بڑے بڑے سائنسدان کس طرح ماموں بن کر ایک فلمی سیٹ کو ’’چاند‘‘ سمجھ بیٹھے تھے ... اور جب تک خود فلمانے والوں نے قلعی نہیں کھولی، یہ ایمان اسی طرح قائم رہا... اب تو حال یہ ہے کہ اس انکشاف کے بعد خود ہمارے سائنس پر ’’ایمان بالغیب‘‘ میں دراڑیں اور شگافیں پڑگئی ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   پہلے انسان یا مسلمان؟ عقیدے کا ایک بنیادی سبق - محمد زاہد صدیق مغل

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ زمانے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم بےشک زمانے کے ہتھیاروں سے لیس رہیں، مگر اپنے حقیقی ہتھیاروں سے نہ غافل رہیں اور نہ ہی ان کی تحقیر دل و دماغ میں آئے. سائنسی نہج، تجرباتی اور استقرائی نہج کو ضرور سمجھیں، مگریہ نہ ہو کہ انہی کو اصل سمجھ بیٹھیں اور جو حضرات ’’اصل نہج‘‘ پر کام کررہے ہوں، ان کی تحقیر دل و دماغ میں در آئے.
جب امت کے جمہور کی فہم کو زمانے کے سب سے بڑا ’’عقلی فتنہ‘‘ یعنی معتزلہ بھی نہ ڈگمگا سکا، تو ان شاءاللہ ان پیٹ پرستوں کی کوششیں بھی اپنی موت آپ مرجائیں گی.

Comments

علی عمران

علی عمران

علی عمران مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز کے فاضل ہیں۔ تخصص فی الافتاء کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسلامک کمرشل لاء میں ایم فل کے طالب علم ہیں. دارالافتاء والاحسان اسلام آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں افتاء کے علاوہ عصری علوم پڑھنے والے طلبہ اور پروفیشنل حضرات کو دینی تعلیم فراہم کی جاتی ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں