منافقت - اوریا مقبول جان

کس قدر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ وہ لوگ جو اٹھتے بیٹھتے انگریزی تہذیب اور مغربی اقدار کے گن گاتے ہیں، جو یورپ کی ترقی کی توصیف کرتے ہوئے نہیں تھکتے، اپنے تمام مسائل کا حل انگلش میڈیم طرز تعلیم میں ڈھونڈتے ہیں، ان کے قلم اور منہ سے جب ’’انگریز کے غلامانہ نظام‘‘ جیسے الفاظ ادا ہوتے ہیں۔ یہ غلامی اور غلامانہ نظام کی جھلک انھیں صرف اور صرف ایک عہدے میں نظر آتی ہے جسے ڈپٹی کمشنر کہا جاتا ہے۔ کیا صرف یہی ایک ڈپٹی کمشنر کا عہدہ ہے جسے انگریز نے اس برصغیر کو تحفے میں دیا ہے۔ ہم تو سب کے سب سانس تک ان تمام نظام ہائے کار میں لے رہے ہیں جو انگریز کے غلامانہ نظام کی وجہ سے ہم پر مسلط کیے گئے۔

پولیس جسے گزشتہ تمام سیاسی ادوار میں اپنے جوہر دکھانے اور سیاسی آقاؤں کے ہاتھ میں کھل کھیلنے کا موقع ملا اور انھوں نے تابعداری اور فرمانبرداری سے ثابت کیا کہ ہم ڈپٹی کمشنر جیسے عہدے پر بیٹھے ہوئے شخص سے زیادہ کارآمد ہیں، آخر ڈپٹی کمشنر نے ہمارے ذریعے ہی مخالفین پر ناجائز کیس بنوانے ہوتے ہیں، ان کی جائیدادوں پر قبضے کروانے، انھیں بے جا مقدموں میں الجھانا ہوتا ہے‘ یہاں تک کہ انھیں سرے سے غائب کرنا یا پھر ان کے ساتھیوں کو پولیس مقابلے میں مروانا ہوتا ہے، تو پھر ہمیں سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کے دم چھلے کی کیا ضرورت ہے۔
کمال کی بات ہے کہ آج یہی پولیس ڈپٹی کمشنر کے دفتر کو غلامانہ نظام کا نمائندہ کہتی ہے جس کے سارے کے سارے قوانین اور ضابطے انگریز نے مرتب کیے ہیں۔ پورے کا پورا پولیس کا نظام انگریز کا دیا ہوا تحفہ ہے جو غلامانہ تصور حکومت کی بدترین مثال ہے۔ ضابطۂ فوجداری میں جو اختیارات ایس ایچ او کو حاصل ہیں، وہ تو شاید اس روئے زمین پر کسی فرعون کو بھی حاصل نہ تھے۔ یہ سب کے سب اختیارات کیا انگریز کے غلامانہ نظام کا عطیہ نہیں ہیں۔ ان ہی اختیارات کا تو گزشتہ 69 سالوں میں ہر سیاسی اور غیر سیاسی فوجی حکمران نے فائدہ اٹھایا ہے۔

ایوب خان کے مارشل لاء کے دوران مغربی پاکستان پر ملک امیر محمد خان آف کالا باغ کی گورنری مسلط تھی۔ وہ دریائے سندھ پر کالا باغ کے مقام پر اپنے سفید محل میں تمام افسران کی دعوت کرتے، ہر کوئی بڑے سے بڑا آفیسر آتا، جھک کر سلام کرتا اور ملک امیر محمد خان بیٹھے بیٹھے جواب دیتے‘ لیکن دو لوگوں کا استقبال وہ دروازے پر جاکر کرتے، ایک علاقے کا ایس ایچ او اور دوسرا علاقے کا پٹواری۔ یہ استقبال کیا اس لیے تھا کہ وہ دونوں کوئی عوامی خدمت کا اعلی نمونہ تھے، نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ انگریز کے تخلیق کردہ یہی دو اہلکار تھے جن کے ذریعے عوام پر حکمرانی کی جاتی تھی۔
انگریز کے جانے کے بعد جس طرح پاکستان کے ’’مقامی‘‘ سیاستدانوں اور ’’دیسی‘‘ جرنیلوں نے ایس ایچ او اور پٹواری کو استعمال کیا اس کا تو تصور بھی انگریز نے نہیں کیا ہوگا جس نے یہ دونوں عہدے تخلیق کیے ہیں۔ اس کے باوجود بھی پولیس کس بے باکی کے ساتھ کہتی ہے کہ ہمیں ڈپٹی کمشنر کا غلامانہ نظام نہیں چاہیے۔ دراصل یہ دو غلاموں بلکہ دوکنیزوں کے درمیان جھگڑا ہے کہ کون اپنے سیاسی آقا کی منظور نظر بنتی ہے۔

کیا انگریز کے غلامانہ نظام کا تسلسل صرف اور صرف ڈپٹی کمشنر اور پولیس کے نظام تک محدود ہے؟ ان دونوں نظام سے بالا ایک اور نظام ہے جسے نظام عدل کہتے ہیں۔ اس نظام عدل کا پورے کا پورا ڈھانچہ انگریز کا عطا کردہ ہے۔ پاکستان کا سارا عدالتی نظام برطانوی طرز قانون اینگلوسیکسن ”Anglo Saxon” لاء کی بنیادوں پر استوار ہے۔ جس میں تمام جوڈیشل اہلکار دو اہم زنجیروں میں بندھے ہوئے ہیں، ایک قانون کی حکمرانی ”Rule of law” اور دوسرا حریفانہ کارروائی “Adversatial Proceeding” ہے۔

قانون کی حکمرانی کا مقابل انصاف کی حکمرانی ”Rule of Justice” ہوتا ہے۔ قانون کی حکمرانی یہ ہے کہ اگر اسمبلی کے چارسو ارکان مل کر یہ قانون منظور کرلیں کہ کوئی وزیر اگر قتل کردے تو اسے عدالت میں طلب نہیں کیا جاسکتا تو عدالت اس استثنا پر عملدرآمد کرنے کی پابند ہے جیسے کہ آصف زرداری کو صدر پاکستان کی حیثیت سے استثنا حاصل تھا۔ جب کہ قانون کی بجائے انصاف کی حکمرانی یہ ہے کہ کوئی بھی شخص انصاف سے بالاتر نہیں ہے۔ یہی معاملہ حریفانہ کارروائی میں ہے۔ اس کے تحت تھانے کا تفتیشی جو مثل مقدمہ بناکر عدالت میں پیش کرتا ہے۔ سپریم کورٹ تک مقدمہ اسی کے گرد گھومتا ہے۔

عدالت کے علم میں بھی ہوکہ گواہ جھوٹے ہیں، ملزم بے گناہ ہے، لیکن وہ اپنے ذاتی علم اور ذاتی تفتیش کو انصاف کی فراہمی کے لیے استعمال نہیں کرسکتی۔ یہ دونوں اصول اسلام کے بنیادی تصور انصاف سے منافی ہیں۔ اسلام میں کوئی فرد یہاں تک کہ خلیفہ تک انصاف کے کٹہرے میں بلایا جاسکتا ہے اور قاضی خود حقائق کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ صحیح انصاف ممکن ہوسکے۔ انگریز کی بنائی گئی ہماری عدالتوں میں اس وقت چار سو سے زیادہ قوانین کے تحت مقدمات چلتے ہیں جن میں سے نوے فیصد سے زیادہ قوانین انگریز کے غلامانہ نظام کا تحفہ ہیں۔

پرویز مشرف کو اس ڈپٹی کمشنر کے نظام کو ختم کرکے ایک ایسے نظام کے قیام کی تلاش تھی جو اس کے لیے جمہوری سیاسی نظام کا متبادل ثابت ہو اور ضلعی سطح پر اس کی عملداری کو مضبوط کرے۔ اس کے لیے اس نے ایک نیشنل ری کنسٹرکشن بیورو بنایا جس کی سربراہی جنرل تنویر نقوی کو دی گئی۔ ہر صوبے سے آخری مشاورت کے لیے لوگوںکو بلایا گیا۔ اختیارات کی لاش پر ڈی ایم جی اور پولیس کے گدھ آپس میں دست و گریباں تھے کہ کس کو زیادہ حصہ ملتا ہے۔ بلوچستان کی جانب سے مجھے مشاورت کے لیے بھیجا گیا۔

میٹنگ میں جنرل تنویر نقوی بار بار انگریز کے غلامانہ نظام کا تذکرہ کررہے تھے۔ میں نے کہا آپ کو یہ لفظ زیب نہیں دیتا۔ ایک دم سناٹا چھاگیا۔ میں نے کہا جس فوج سے آپ تعلق رکھتے ہیں، اس کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں صرف ایک ادارہ ہی بچا ہے جس میں زوال نہیں آیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انگریز نے فوج کا جو ڈھانچہ 1857ء کے بعد مرتب کیا تھا، اس نے جو یونٹ سے لے کر ڈویژن اور کور کا نظام بنایا تھا، جس طرح کا ڈسپلن وضع کیا تھا، اور اس سب کے لیے جو قوانین بنائے تھے ان میں آج تک کوما اور فل اسٹاپ کا بھی فرق نہیں آیا۔ یہاں تک کہ آج بھی فوج کے افسران کی خط و کتابت اور ٹریننگ کی زبان انگریزی ہے۔ حالانکہ ٹینک، توپ یا بندوق اور عام سپاہی انگریزی سے نہیں چلتے۔

وہ کسی زبان کے محتاج نہیں ہوتے، لیکن حیرت ہے جس فوج میں آپ نے ساری زندگی گزاری اسے تو آپ انگریز کے نظام کی وجہ سے کامیاب ترین ادارہ قرار دیتے ہو اور باقی اداروں کو نہیں بلکہ صرف ایک ڈپٹی کمشنر کے دفتر کی جگہ کو غلامی کی یادگار قرار دیتے ہو، دراصل آپ نے ڈپٹی کمشنر کی جگہ اپنا ایک سیاسی وفادار بٹھانا ہے جو کل کو پرویز مشرف کا حلقۂ انتخاب بن سکے۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا، جن ناظمین کو ڈپٹی کمشنر کے ملبوس میں ڈھالا گیا، پرویز مشرف کے جاتے ہی انھوں نے وہ لباس تار تار کردیا۔ کچھ دیر دانیال عزیز کی سربراہی میں شور شرابا مچا اور پھر سیاست کی بھول بھلیوں میں سب کچھ گم ہوگیا۔

کیا ہمارا ریلوے کا نظام، ڈاک کی ترسیل، نہری اور آبپاشی کا تصور، اسپتالوں یہاں تک کہ جانوروں کے اسپتالوں کا نیٹ ورک، ہمارا موجودہ نظام تعلیم، یہ سب کے سب انگریزوں کے غلامانہ نظام کا تحفہ نہیں ہے۔ اسٹیشن ماسٹر، ڈاکیا، سول سرجن، انسپکٹر آف اسکولز، فارسٹ گارڈ، یہ بھی تو انگریز کے غلامانہ نظام کی علامتیں ہے۔ ہم اس پورے کے پورے نظام کو نہ بدلنا چاہتے ہیں اور نہ ہی ہمارے ارباب اختیار کی یہ خواہش ہے۔ انھیں تو دراصل اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے بھاڑے کا ایک ٹٹو چاہیے جو بلا چون و چرا ان کے جائز و ناجائز احکامات کی تعمیل کرے، وہ پولیس سے مل جائے، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے یا پھر کوئی ناظم ان کے حکم کی بجا آوری کرے۔

منافقت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے جس قوم کے رہنماؤں کا اوڑھنا بچھونا برطانوی راج، انگریزی تہذیب و تمدن اور انگریزی طرز تعلیم ہو، وہ ’’غلامانہ نظام‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے ذرا بھی نہیں شرماتے۔ سارتر سے مرنے سے تھوڑا عرصہ پہلے ایک انٹرویو لینے والے نے پوچھا، بیسویں صدی کا سب سے بڑا مسئلہ جہالت، افلاس، بیماری ہے یا کوئی اور، اس نے ایک لمحہ کے بغیر جواب دیا‘ بیسویں صدی کا سب سے بڑا مسئلہ منافقت ہے۔