جاوید ہاشمی صاحب! تو کیا میں انتظار کروں؟ زبیر منصوری

عقلمند کہتے ہیں کہ جو مکا لڑائی کے بعد یاد آئے، اسے اپنے منہ پر مار لینا چاہیے.
آپ نے کھونٹا چھوڑا تھا اور گئے تھے باغی بن کر انقلاب لانے، اور پھر دنیا نے جن کے خلاف انقلاب لانا تھا، آپ کو انہیں کے قبیلے میں پایا.

ہاشمی صاحب!
انقلاب ’’برف کا دماغ‘‘ مانگتے ہیں اور آپ کے پاس سطحی جذباتیت سے زیادہ کچھ نہیں.

ہاشمی صاحب!
انقلاب قیادت مانگتے ہیں اور قیادت وہ ہوتی ہے جس کے پاس وژن ہو، دانائی ہو، ٹیم بنانا اور بنا کر چلنا جسے آتا ہو، قیادت دیر تک اور دور تک سوچتی ہے، دور اندیشی سے قافلہ بناتی اور پھر تحمل سے اسے لے کر چلتی ہے، قیادت جرات اور اقدام مانگتی ہے، مگر وہ اندھے خطرات مول لینے کا نہیں، Calculated Risk لینے کا نام ہے. قیادت برسوں بعد کے لیےاسٹریٹیجک پلان بناتی اور عمل کرتی ہے. دل پر ہاتھ رکھ کر، اس اللہ کو جس سے تعلق کا شعور آپ کو جمعیت نے بخشا تھا، اسے حاضر و ناظر جان کر کہیے کہ آپ کی طویل سیاسی زندگی میں ان میں سے کس خوبی کا آپ نے ثبوت دیا؟ کہاں آپ کامیاب ٹھہرے؟

اور ہاں معاف کیجیے گا آپ کی درویشی اور ایمانداری سر آنکھوں پر، مگر درویش ترین صحابہ میں سے ایک ابوذر غفاری رض کو میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طلب کے باوجود کہیں کا گورنر تک نہیں لگایا۔ اللہ کو اپنی دنیا کے لیے اگر صلاحیت و صالحیت کا بہترین Combination نہ ملے تو وہ صرف صالحیت کے بجائے صرف صلاحیت کا انتخاب کرتا ہے، اور آپ جیسے درویش صالحین کو صلاحیت پیدا کرنے کا موقع دے کر وقت کی بھٹی میں جھونک دیتا ہے۔

ممکن ہے عمران خان کے بارے میں آپ کی باتیں اور دعوے درست ہوں، مگر اب دنیا انھیں کھسیانی بلی کھمبا نوچے ہی سمجھے گی.

یہ بھی پڑھیں:   تحریک انصاف نے نوازشریف کی مدد کیسے کی؟ ارشدعلی خان

آہ ہاشمی صاحب!
نہ خدا ہی ملا نہ لیلائے انقلاب کا وصال حصے میں آیا.
اور ہاں!
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

کبھی فرصت کے لمحوں میں سوچیےگا کہ آپ کے دور کے جن ساتھیوں نے انقلاب کی محبت میں آشیانہ چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا، اور شجر سے پیوستہ رہ کر امید بہار کا سامان کرنے میں لگے رہے تھے، وہ چاہے کچھ کر پائے یا نہیں، کم از کم نظام ظلم کے مددگار تو نہیں رہے اور آپ؟

چلیے چھوڑیے! اب آگے کی فکر کیجیے، مہلت عمل سکڑ سمٹ کر بس اب اختتام کو ہے. آ جائیے کہ کم از کم اللہ کو یہ تو پیش کر سکیں گے کہ مالک اٹھا تیری جدو جہد کرنے والوں کے ساتھ ہوں۔

اللہ بہت محبت سے آپ کا منتظر ہے۔
تو کیا میں انتظار کروں؟

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!