اِرادے، نئے یا پرانے؟ دلچسپ کہانی - حنا نرجس

پتہ نہیں وقت نے اپنی پہلی اڑان کب بھری ہوگی مگر یہ طے ہے کہ تب سے اب تک مسلسل پر پھیلائے اُڑے ہی چلا جا رہا ہے. نادیہ کو اپنے آج کے کام کل پر ڈالنے کی عادت تو نہیں تھی مگر دیر سویر ہو ہی جاتی ہے. لکھنے پڑھنے کی میز کے درازوں کی صفائی کا کام معطل ہی ہوئے جا رہا تھا اور بالآخر آج وہ اس کام میں جتی بیٹھی تھی. مختلف نوٹس، لیکچرز کے پوائنٹس، حصولِ علمِ کی دعاؤں کی فوٹو کاپیاں، بچوں کے دیے گئے مختلف کارڈز، سوالیہ پرچے، سلیبس کی نقول، پہلی اور دوسری میعاد کے منصوبہ جات (planners) اور بہت سے دوسرے کاغذات پر مشتمل ایک ڈھیر تھا جو نکلتا چلا آ رہا تھا... پھر خاکی لفافے میں لپٹا ایک بنڈل سا ہاتھ لگا... اس نے الٹ پلٹ کر دیکھا... لفافے پر کچھ نہیں لکھا گیا تھا... مندرجات کو باہر نکالا... اور یہی وہ لمحہ تھا جب وہ وقت کی تیز رفتاری پر حیران و پریشان ہونے کے ساتھ ساتھ بے یقین بھی تھی!

تو کیا پورا سال گزر بھی گیا؟؟؟ اوہ خدایا! یہ دن اور رات کا چکر ہمیں کیسے الجھائے رکھتا ہے اور پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہم سرپٹ بھاگتے بھاگتے کتنا سفر طے کر چکے ہوتے ہیں!

اور اب جب وہ بے یقینی سے یقین کی طرف لوٹ رہی تھی تو بے اختیار اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی، ہاں نا! ایک سال ہو تو گیا ہے. تب ہماری کلاس کا پہلا دن تھا اور سال کا پہلا مہینہ... اور آج دسمبر کے آخری دنوں میں جب میں یہ سب کھولے بیٹھی ہوں، بچے سالانہ امتحانات سے فارغ ہو کر چھٹیوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں.

ایک کے بعد ایک کاغذ کھول کر پڑھتے ہوئے وہ محظوظ ہو رہی تھی اور مسکراہٹ اس کے لبوں سے مستقل لپٹ گئی تھی ایک شرارتی سی سوچ کے ساتھ اس نے تمام کاغذات پھر سے ترتیب سے لفافے میں رکھ لیے.
* * * *
نئے کمرہ جماعت میں نئے رنگ میں رنگے در و دیوار، فرنیچر کی نئی پالش کی خوشبو اور نئی سجاوٹ کے درمیان ”پرانے“ بچے کچھ پا لینے کی مسرت میں سرشار، بہت کچھ فتح کر لینے کا عزم لیے بالکل "نئے" لگ رہے تھے. مس نادیہ اپنی مخصوص دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کمرہ جماعت میں داخل ہوئیں اور حسب معمول سلام کیا. بچوں نے ہمیشہ سے زیادہ جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے سلام کا جواب دیا. اس سال وہ ان کی کلاس انچارج تو نہیں تھیں لیکن ریاضی کا مضمون انہی کو سونپا گیا تھا. گویا بچوں کی دلی مراد بر آئی تھی.

بچوں نے جلدی جلدی ریاضی کی نئی کتابیں اور رف کاپیاں نکال لیں. وہ پہلا سبق لینے کے لیے پوری طرح تیار تھے جب مس نادیہ کی آواز سنائی دی.
”بچو! آپ سب کو نئی جماعت میں خوش آمدید. اس سے پہلے کہ ہم آج کا سبق شروع کریں، ہم ایک سرگرمی کریں گے. میرے پاس آپ کے لیے ایک سرپرائز ہے.“
”وہ کیا ٹیچر؟“
”کیسا سرپرائز؟“
”ٹھہریں، ہم اندازہ لگاتے ہیں کیا سرپرائز ہو گا.“
”پلیز جلدی سے بتا بھی دیں نا اب، مجھ سے صبر نہیں ہو رہا.“
ملی جلی آوازیں آ رہی تھیں.

”اچھا، ایسا کریں کہ آپ سب پانچ منٹ کے لیے آنکھیں بند کر لیں.“ بچوں نے عمل کیا. اس دوران مس نادیہ جلدی جلدی بچوں کے ڈیسکس پر کچھ رکھ چکی تھیں.
”خوب، اب آنکھیں کھولیں اور اپنے سامنے پڑا کاغذ اٹھا کر پڑھیں.“

”ارے، یہ کیا!“
”اوہ! یہ تو میں نے خود لکھا تھا.“
”ٹیچر، یہ آپ نے ابھی تک سنبھال کر رکھے ہیں!“
”میں تو بالکل ہی بھول گئی تھی اس کے بارے میں.“
”میں سمجھ گئی، آپ چاہتی ہیں آج پھر ہم نئے سال کے لیے اپنے نئے ارادے قلمبند کریں. ہے نا؟“

بچوں کا شور کچھ تھما تو مس نادیہ بولیں، ”بچو! اس سے پہلے کہ ہم نئے سال کے لیے نئے ارادے کریں، ہمیں احتساب کے عمل سے گزرنا ہے.“
”کیا مطلب، ٹیچر؟“
”مطلب یہ کہ آپ لوگ پین نکالیں اور جو ارادے پورے ہو چکے ہیں، ان کو ایک لکیر پھیر کر کاٹ دیں تاکہ پتہ چل سکے ہم نے کیا کھویا، کیا پایا.“

ٹیچر کی ہدایت پر عمل تو ہو رہا تھا مگر یہ کیا؟ بچوں کے چہروں کی چمک ماند پڑ رہی تھی، شرمندگی و خجالت کے آثار نمودار ہو رہے تھے، چہروں پر پریشانی و تفکر کی پرچھائیاں تھیں. اکثر بچے نظریں چرا رہے تھے.

”جو بچے اپنے دو ارادے پورے کرنے میں کامیاب رہے ہیں وہ ہاتھ کھڑے کریں.“
کلاس میں صرف تین بچوں کے ہاتھ کھڑے تھے، وہ بھی قدرے ڈھیلے ڈھیلے سے.
”اچھا، تو اب وہ بچے ہاتھ کھڑے کریں جو ایک ارادہ پورا کرنے میں کامیاب رہے.“
اب کے کم و بیش پوری کلاس کے ہاتھ کھڑے تھے.

مس نادیہ چلتے ہوئے پہلے ڈیسک پر انیسہ کے قریب آئیں اور پیپر اٹھا لیا. گرین پوائنٹر سے لکھا تھا:
*جھوٹ نہیں بولوں گی.
*بڑوں کی عزت کروں گی.
*کلاس کے دوران لنچ نہیں کروں گی.
*میتھس میں خوب محنت کروں گی.
آخری کو کاٹا جا چکا تھا اور اس محنت کی گواہ تو مس نادیہ خود بھی تھیں. مگر باقی تین ارادے؟
* * * *
اب کے وردہ کا کاغذ اٹھایا گیا. رنگ برنگے مارکرز سے لکھا تھا:
*اپنی ساری کتابیں لے کر آیا کروں گی.
*وقت کی بہت قدر کروں گی.
*ٹی وی کم سے کم دیکھوں گی.
صرف پہلا کاٹا گیا تھا.
* * * *
اگلی باری خنساء کی تھی، اس کے صفحے پر کارٹونز والے تین سٹکرز بھی چسپاں تھے. لکھا تھا:
*مزاحیہ پروگرامز دیکھنا کم کر دوں گی.
*سائنس ٹیچر کو تنگ کرنا چھوڑ دوں گی.
*سونے اور گانے سننے میں وقت ضائع نہیں کروں گی.
سارے جوں کے توں تھے. کوئی بھی کاٹا نہیں جا سکا تھا. 🙂
* * * *
رومیصہ تو پوری طرح سر نیچے کیے بیٹھی تھی جیسے نظریں ملانے کی تاب نہ ہو. اس کے سامنے سے کاغذ اٹھایا گیا:
*دوستوں کا دل نہیں دکھاؤں گی.
*رات کو جلدی سویا کروں گی کیونکہ کم نیند لینے سے انسان کند ذہن یو جاتا ہے.
*امی ابو نے جو سہولیات مہیا کی ہیں، ان کا مثبت استعمال کروں گی.
*سائنس لیب میں سنجیدہ رہا کروں گی.
صرف دوسرے نمبر پر لکیر پھیری گئی تھی، اسی لیے مس نادیہ کی مسکراہٹ بے ساختہ تھی. 🙂
* * * *
حمیضہ اپنے ہاتھوں کو مسلسل مروڑ رہی تھی. یہ عمل اس کی گھبراہٹ کا غماض تھا. اس کے پیپر پر لکھا تھا:
*سکول روزانہ دیر سے پہنچتی ہوں. اب میں اپنا ہوم ورک رات کو ہی مکمل کر کے سوؤں گی اور یونیفارم بھی رات کو استری کر لوں گی تاکہ روزانہ لیٹ آنے والے بچوں کی لائن میں نہ کھڑا ہونا پڑے.
*فیس بک پر زیادہ وقت نہیں گزاروں گی.
*امتحان کی تیاری کے بہانے سہیلی کے گھر جا کر وقت ضائع نہیں کروں گی.
*کسی بھی مضمون کو آسان نہیں سمجھوں گی.
*اپنے ذہن سے یہ نکال دوں گی کہ سوشل سٹڈیز کا سبق مجھے کبھی یاد نہیں ہو سکتا.
تیسرے اور چوتھے نمبر پر کراس لگا تھا اور یہ تو مس نادیہ جانتی تھیں کہ سوشل سٹڈیز کا پیپر پاس نہ کرنے کی وجہ سے اسے مشروط ترقی دی گئی تھی.
* * * *
خولہ نے لکھنے کے لیے پنسل استعمال کی تھی. اسی لیے اب الفاظ بہت مدھم سے ہو رہے تھے. لکھا تھا:
*میں کچھ سست ہوں. اس عادت پر قابو پا لوں تو بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے.
*کلاس میں پڑھایا جانے والا سبق پیشگی پڑھ کر آیا کروں گی.
*غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کروں گی.
*ٹیچرز کے رویوں کی وجہ سے favoritism کا مظاہرہ نہیں کروں گی.
*یہ بات دل سے نکال دوں گی کہ میں دوسروں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکتی کیونکہ اول، دوم اور سوم آنا کسی کی میراث نہیں.
صرف تیسرے نمبر پر ہلکی سی لکیر پھیری گئی تھی. کلاس میں اس کی پوزیشن بیسویں رہی تھی یہی وجہ تھی کہ اس وقت اس کا سر جھکا ہوا تھا. 🙂
* * * *
اسماء کے کاغذ پر چار پوائنٹس لکھے تھے اور ہر پوائنٹ کو مختلف رنگ سے ہائی لائٹ کیا گیا تھا.
*پانچ وقت کی نماز پابندی سے پڑھوں گی.
*کھانا ٹھیک طریقے سے کھاؤں گی تاکہ صحت ٹھیک رہے اور پڑھائی کے لیے ضروری توانائی میسر رہے.
*جو سبق یاد کروں گی اسے لکھ کر بھی دیکھوں گی.
*نقل کا سہارا لینا چھوڑ دوں گی.
صرف دوسرے پر عمل کیا جا سکا تھا. شاید اسی لیے اس کے چہرے پر کھسیانی سی مسکراہٹ تھی. 🙂
* * * *
عفیفہ نے مسکراتے ہوئے پیپر مس نادیہ کو تھمایا.
*کلاس میں مانیٹر بننا چاہتی ہوں. اس کے لیے پوری کوشش کروں گی.
*اپنے اندر اعتماد پیدا کروں گی.
*ایک ٹائم ٹیبل بنا کر اس کے مطابق اپنا دن گزاروں گی.
*مریضوں کی بیمار پرسی کیا کروں گی کیونکہ ان کی دعائیں بہت قیمتی ہوتی ہیں.
پہلے اور آخری کو کاٹ دیا گیا تھا اور عین ممکن تھا کہ پہلے کے حصول کے لیے آخری پر عمل کارگر رہا ہو. 🙂
* * * *
خاشعہ کی خواہشات سب سے مختلف تھیں.
*اس سال کوشش کروں گی کہ میری کوئی خواہش ادھوری نہ رہ جائے.
*عید پر سب سے زیادہ عیدی وصول کروں گی.
دونوں خواہشات جوں کی توں تھیں اور چہرے پر خجالت 🙂
* * * *
حلیمہ نے عجیب بات لکھی تھی:
*میں محسوس کرتی ہوں کہ جیسے جیسے میری کلاس بڑی ہوتی جا رہی ہے ویسے ویسے میری نمازوں کی تعداد اور باقاعدگی میں کمی آ رہی ہے. اپنی اس خامی کو دور کروں گی.
*ایک دفعہ انگلش کی ہوم ورک ڈائری ٹھیک سے نہ لکھنے پر ہوم ورک رہ گیا اور سخت سزا ملی. آئندہ روزانہ آخری پیریڈ میں ڈائری اپنی دوست کے ساتھ ڈسکس کر لیا کروں گی.
حلیمہ کی خوش قسمتی تھی کہ وہ پہلی خامی پر قابو پانے میں کامیاب رہی تھی.
* * * *
پیریڈ ختم ہونے میں صرف دس منٹ باقی تھے. اب میتھس کے پہلے سبق کا آغاز تو کل ہی ممکن تھا.

”تو بچو، بلاشبہ ہم نئے سال کے لیے نئے ارادے تو کریں گے لیکن آپ نے دیکھا اس احتساب نے ہمیں اپنی ذات میں جھانکنے اور نفع و نقصان کا اندازہ کرنے کا موقع فراہم کیا.
آج ہم نئے کاغذ پر دو کالمز بنائیں گے. ایک کا عنوان ہو گا، "جو غلطیاں/کوتاہیاں مجھ سے پچھلے سال سرزد ہوئیں" اور دوسرے کا عنوان ہے، "اگلے سال کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟" تو جلدی کریں پھر. اگر آپ میں سے کچھ بچے گھر جا کر اطمینان سے لکھنا چاہتے ہیں، تو بھی ٹھیک ہے اور ہاں اس بار اس کی ایک نقل اپنے پاس بھی رکھیں اور ہر دو ہفتے بعد جائزہ لیتے رہیں کہ کیا ہم اپنے لیے منتخب کیے گئے راستے پر گامزن ہیں؟.“

تو قارئین! دیر کس بات کی؟ آئیں ہم بھی اس کام میں ان بچوں کا ساتھ دیں.

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!