نیا سال مبارک - محمود فیاض

۔
آدھی رات کا وقت، شہر کے آخری کونے سے پرے ویران پڑے ریستوران کی میز پر چاروں دوست ایک سال بعد ملے تھے۔
۔
دانشور، دلدار، سنکی اور سائنسدان ... چاروں ہی سر جھکائے کاؤنٹر کے قریب لگے ریڈیو کی نشریات سن رہے تھے، نئے سال کی آمد میں مختلف پروگرام نشر ہو رہے تھے۔ پروگرام میزبان کی پرجوش آواز ان سب تک پہنچ رہی تھی۔
۔
”کیا ہے آنے والے سال میں، جو پچھلے سال میں نہیں تھا؟“ بالآخر دانشور نے خاموشی توڑی۔
۔
”بلکہ میں تو کہوں گا کہ ہر دن پچھلے دن جیسا ہی ہوتا ہے۔ تو ایک دن دوسرے سے اتنا مختلف کیوں سمجھا جاتا ہے؟ ویسے ہی سورج نکلتا ہے ۔۔ ہر گھنٹہ ساٹھ منٹ کا ہی ہوتا ہے۔ دھوپ چھاؤں، اندر باہر، اونچ نیچ سب ویسی ہی ہوتی ہے، تو یہ ہاؤ ہو کیوں بھئی؟ ۔۔۔ یعنی میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کیا اس دن غریب کو بھوک نہیں لگتی؟ ، یا سیٹھ کا بیاج نہیں بڑھتا؟ ، یا دھوپ میں ٹھنڈک یا چھاؤں میں حدت ہوتی ہے ؟ ۔۔ نہیں ناں؟ تو پھر ۔ ۔۔ ؟“
۔
سائنسدان نے اس کی طرف تائید بھری نظروں سے دیکھا اور اپنے چشمے کو منہ کے قریب لا کر ”ہاہ“ کی اور پھر اپنی نکٹائی سے شیشے کو صاف کرتے ہوئے بولا، ”میں نے بھی بہت سوچا کہ نیا سال کیا ہوتا ہے؟ اس کی کیا سائنسی وجہ ہو سکتی ہے، لیکن یہ تو محض وقت ناپنے کا ایک طریقہ ہے۔ اگر ہم کوئی اور کیلنڈر استعمال کر رہے ہوتے تو اس دن کے بجائے کوئی اور دن نیو ائیر نائٹ منا رہے ہوتے۔ دیکھا جائے تو ہمارا کوئی بھی دن ایک جیسا نہیں ہوتا کیونکہ ہماری زمین تو خلائے بسیط میں مسلسل محو سفر ہے۔ ہم اپنی زندگیوں میں کبھی بھی اس کائنات میں دوبارہ اس جگہ نہیں جا سکتے جہاں سے ہم ایک دفعہ گزر آئے ہیں۔“
۔
ویٹر خاموشی سے چائے کے چار کپ اور ایک پلیٹ میں کیک کے چار ٹکڑے رکھ کر جانے لگا تو سنکی نے اسے ٹوکا۔ ”ارے بھائی! ہم نے کیک کا آرڈر تو نہیں دیا، تو یہ ۔۔ ؟“
”سر یہ ہوٹل کی طرف سے ہے، نئے سال کی خوشی میں“، ویٹر نے وضاحت کی۔
۔
”لو جی، ان کو بھی نئے سال کی خوشی چڑھ گئی ہے۔“ سنکی نے ہاتھ ہوا میں لہرایا، ”خوشی کس بات کی؟ ہر سال پہلے سے بھی برا آتا ہے۔ کبھی حالات اچھے تھے، اب تو مہنگائی، بےروزگاری، لاقانونیت، دہشت گردی، اور قتل و غارت ۔۔۔ زندگی ایسی ہو گئی ہے کہ موت اچھی لگنے لگی ہے۔ دیکھ لینا اگلے سال لوگ اس سے بھی زیادہ خودکشیاں کریں گے۔“
۔
ریستوران تقریباً ویران تھا، ان کی میز کے علاوہ دوسرے کونے میں ایک بوڑھا جوڑا غالباً کیک کے مفتے کے لیے آبیٹھا تھا۔ وہ چاروں اب خاموش تھے۔ ان کی باتوں سے میز کے اردگرد اداسی اور بڑھ گئی تھی۔
۔
اچانک سائنسدان کو کچھ خیال آیا ، ”ارے دلدار بھائی! تم کچھ نہیں کہو گے اس فضول رسم کے بارے میں؟“
۔
دلدار نے اپنے سرد ہوتے ہاتھوں کو آپس میں تیزی سے رگڑ کر گرم کیا، اور اپنے چائے کے کپ کو دونوں ہاتھوں کے شکنجے میں لپیٹ کر منہ سے ایک زور دار ”سڑپ“ کی، اور اپنی چسکی کا مزہ لیتے ہوئے بولا، ”بھائی لوگو! آپ کی باتیں مزے کی ہیں، بہت مزہ آتا ہے آپ جیسے پڑھے لکھے لوگوں میں بیٹھ کر“، اتنا کہہ کر اس نے ایک اور سڑپ کی اور پھر کہنے لگا، ”مجھے تو ہر سال ایک بند پیکٹ کی طرح لگتا ہے۔ جیسے اللہ میاں نے میرے لیے بہت سے پیکٹ ڈاک میں ڈالے ہوئے ہیں اور وہ ایک ایک کرکے ہر سال مجھے مل رہے ہیں۔ اور میں جب ان پیکٹوں کو کھولتا ہوں تو بڑا مزہ آتا ہے۔۔۔ نئے نئے تحفے ملتے ہیں۔“
۔
”پچھلے سال کا پیکٹ کھلا تو مجھے میرے بیٹے نے پہلی بار بابا کہہ کر بلایا، میری کیاری میں لگے لیموں کے پودے نے چھوٹے ہرے لیموں دیے۔ اس پیکٹ سے کئی سنہری دوپہریں نکلیں، جن کو میں نے سردیوں میں کمبل کی طرح اوڑھا- ایک لمبا سفر نکلا جو میں نے اپنی بیوی اور بچوں کو دے دیا۔ پندرہ بیس شامیں جو میں نے آپ جیسے دوستوں میں بانٹیں۔ کچھ بے موسمی بارشیں تھیں جن کے بہانے کام سے جان چھوٹی۔ ایک دو حادثے بھی نکلے۔ ایک کو دل پر روکا، دوسرا روح کا کچھ حصہ لے کر ٹلا۔ بیٹی کے قد کے پانچ انچ نکلے تو بیٹے کی پہلی بولی کے بول، بیوی کے ساتھ تکرار کی گھڑیاں کم نکلیں تو شکر کے بجائے فکر یوئی کہ ’محبت‘ کم تو نہیں ہو گئی۔ رشتہ داروں کے گلے بھی کم تھے، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ رشتہ دار ہی کم رہ گئے ہیں.“

یہ بھی پڑھیں:   فرمانبردار بیٹا اور خود ساختہ مفکرین - عظیم الرحمن عثمانی

اتنا کہہ کر دلدار سانس اور چسکی لینے کو رکا۔ پھر بولا ، ”تو دوستو! مجھے تو کچھ اندازہ نہیں کہ سال کیا ہوتا ہے، میں تو بس نیا پیکٹ کھولنے کی خوشی میں خوش ہو جاتا ہوں کہ جانے اس بار اس میں سے کیا نکلے۔“

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں