عالمی دہشت گرد مسیحا - احسان کوہاٹی

سیلانی کی آنکھوں میں بچی کھچی نیند ایسے گئی جیسے منڈیر پر بیٹھی چڑیاں پھر کر کے اڑجاتی ہیں، اس نے دوبارہ خبر پڑھی اوراس طرح پڑھی کہ اس کا ایک ایک لفظ بغور پڑھا اور پھر خبر کی آخری سطور میں وہ نام تیسری بار پڑھے، پھر پڑھے اور پھر پڑھے، نام وہی تھے، اس نے فورا ان ناموں میں سے ایک کا واٹس اپ اسٹیٹس چیک کیا، وہ آن لائن ملا تو سیلانی نے جھٹ سے وہ خبر اسے بھیج دی.
’’امریکہ کی وزارت خارجہ نے لشکر طیبہ کے دو مزید سینئر رہنماؤں کے نام اور اس کی ذیلی تنظیم المحمدیہ اسٹوڈنٹس کا نام خصوصی طور پر عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے لشکر طیبہ کا نام 2001ء میں غیر ملکی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا، امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس فہرست میں شامل ہونے کے بعد سے لشکر طیبہ نے پابندیوں سے بچنے کے لٰیے اپنا نام کئی بار تبدیل کیا اور اور دیگر تنظیمیں تشکیل کیں، امریکی وزارت خارجہ کے مطابق المحمدیہ اسٹوڈنٹس، لشکر طیبہ کا طلبہ ونگ ہے، یہ 2009ء میں قائم کی گئی تھی، اور لشکر طیبہ کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ کام کرتی ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کا دعویٰ تھا کہ المحمدیہ اسٹوڈنٹس نوجوانوں کو عسکری تربیت دے کر ملک سے باہر بھیجتی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق المحمدیہ اسٹوڈنٹس کی امریکہ میں تمام جائیداد ضبط کر لی جائے گی، امریکہ نے لشکر طیبہ کے جن دو رہنماؤں کے نام غیر ملکی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے ہیں، ان میں محمد سرور اور شاہد محمود شامل ہیں‘‘۔

خبر بھیجنے کے بعد سیلانی نے سیل فون پر نام ٹائپ کیا اور آگے سوالیہ نشان لگا کر میسج بھیج دیا،
’’شاہد محمود؟‘‘
جواب آیا ’’جی‘‘
’’یہ آپ ہیں؟‘‘
’’جی‘‘ اب کسی شک کی گنجائش نہیں رہی تھی لیکن اسے حیرت ہوئی کہ یہی شاہد محمود ملا تھا جس کے نام پر پاکستان کیا، دنیا کے کسی بھی ملک میں کہیں کوئی مقدمہ، شکایت درج نہیں۔

سیلانی نے امریکہ کے اس ’’غیرملکی دہشت گرد‘‘ کے ساتھ دس بارہ دن پہلے ہی ناشتہ کیاتھا، ناشتہ کیا تھا چند لقمے زہر مار کیے تھے، شام حلب میں ہونے والے مظالم کا ذکر ہو رہا ہو، ٹکڑے ٹکڑے جگرگوشوں کی لاشوں کے سامنے حواس باختہ ماؤں کی بات ہو رہی ہو، زبان پر باعصمت بہنوں کو مال غنیمت کے طور پر ساتھ لے جانے کے دلدوز واقعات ہوں تو کون کچھ کھا پی سکتا ہے؟ شاہد محمود بھی رندھی ہوئی آواز میں یہی سب بتا رہا تھا، اس کی سرخ متورم آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ رات بہت کم سو پایا ہے، اس کی بھاری ہوجانے والی آواز حلب کا کرب تھا، وہ شام کی ان خانماں برباد ماؤں بہنوں اور بچوں سے بہت قریب تھا جن کی آہیں کراہیں ہمیں سنائی نہیں دیتیں، جن کی کٹی پھٹی لاشیں دکھائی نہیں دیتیں، اس کے سیل فون میں حلب کی وہ تمام ویڈیوز اور تصاویر تھیں جنھیں دیکھنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں، وہ گاہے بہ گاہے یہ تصاویر اپنے دوستوں کو بھیج کر ان کا ضمیر جھنجھوڑتا رہتا ہے، بتاتا رہتا ہے کہ اس وقت شامی مہاجرین ترکی کی سرحد پر ٹھٹھرتی سردی میں موت سے بےحد قریب ہیں، برف باری ہو رہی ہے، بچوں کے پاؤں میں جوتے نہیں، وہ ننگے پیر پھر رہے ہیں، بیمار بوڑھوں کی اکڑی ہوئی لاشیں مل رہی ہیں، خیمے ٖڈیپ فریزر بن چکے ہیں، چھوٹے بچوں کے لیے دودھ نہیں ہے، انہیں کمبل چاہییں،گرم کپڑے چاہییں ۔۔۔ وہ ان شامی مہاجرین کے لیے ان معصوم بچوں کے لیے بھیک مانگتا پھرتا، لوگوں کے ضمیر جھنجھوڑتا پھرتا کہ انبیاء کی سرزمین پر بشار الاسد کی فوجی تمہاری ماؤں بہنوں کو بھنبھوڑ رہے ہیں، تم ان ہاتھوں کو کاٹ نہیں سکتے لیکن ان زخموں پر مرہم تو رکھ سکتے ہو. شاہد محمود یہ پیغام لے کر کراچی میں پھرتا رہتا ہے، اس نے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے دیگر شاہدوں کو مصروف اور متحرک کر رکھا ہے، ملک بھر میں حلب کے لیے مہم چل رہی ہے اور جو بھی رقم جمع ہوتی ہے، وہ ترکی کی سرحد پر ان خانماں بربادوں تک پہنچا دی جاتی ہے، خیمے، کمبل اور گرم ملبوسات خرید کر مہاجرین کو دیے جاتے ہیں. یہ شاہد محمود کا ایسا جرم ہے جو ناقابل معافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت کیوں نہیں ہوسکتا؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سیلانی سے ملاقات کے روز بھی شاہد محمود اسی سلسلے میں ڈیفنس جا رہا تھا کہ سیلانی نے کال کر کے بلا لیا اور اب وہ کراچی پریس کلب میں ساتھ بیٹھا شکست حلب کا احوال بتا رہا تھا. اس کی بھی آنکھیں پرنم تھیں اور سیلانی کی آنکھیں بھی جل رہی تھیں. حلب میں ہونے والے مظالم کے لیے ڈکشنری میں موجود الفاظ بےمعنی ہیں، امریکہ کی نظر میں ’’دہشت گرد‘‘ ٹھہرنے والا یہ نوجوان سانحہ حلب سے پہلے غزہ فلسطین کے مظلوموں کے لیے اسی طرح متحرک تھا، وہ خط غربت سے کہیں بہت نیچے زندگی گزارنے والے غزہ کے شہریوں کے لیے عید قرباں پر گوشت کا انتظام کرنا چاہتا تھا، وہاں معذور بچوں کے دو مراکز میں کچھ تحائف بھجوانا چاہتا تھا، یہ ہر اس شخص کے پاس گیا جس سے کچھ رقم ملنے کی امید تھی، کبھی اس کے گھر کبھی اس کے دفتر، یہ لوگوں قائل کرتا رہا کہ اس بار ایک قربانی غزہ میں کر لیں، وہاں کے لوگ بڑی ہی کسمپرسی میں ہیں، اسرائیل نے شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے، مصر نے وہ تمام سرنگیں بند کر دی ہیں جہاں سے غزہ کے محاصرین چوری چھپے اس محصور شہر سے باہر نکال دیا کرتی تھیں یا پھر کوئی درد دل رکھنے والے کچھ لوگ اجناس راشن سامان بھجوا دیا کرتے تھے، اب یہ راستہ نہیں رہا لیکن رقم وہاں پہنچ سکتی ہے، آپ ہی کچھ مدد کریں، آگے بڑھیں اور ایک قربانی غزہ میں کرلیں۔ شاہد محمود نے جمع ہونے والی ساری رقم غزہ بھجوا دی، جہاں اس رقم سے قربانی کے مویشی خریدے گئے، عیدالاضحی پر نماز عید کے بعد قربانیاں ہوئیں، اور پھر غزہ والوں کے دروازوں پر دستکیں ہوتیں، دروازے کھلتے اور وہ خوشگوار حیرت کے ساتھ قربانی کا گوشت وصول کرتے، اور ہاتھ اٹھا اٹھا کر اہل پاکستان کو دعائیں دینے لگتے، یہودیوں سے آنکھ بچا کر غزہ کے غریب مسکینوں کے لیے قربانی کا انتظام کرنا شاہد محمود کا ایک اور سنگین جرم تھا، ایسا جرم جس کا اعتراف کرتے ہوئے شاہد محمود کبھی نہیں ہچکچایا۔

یہ بھی پڑھیں:   یروشلم: انٹرنیشنل لاء کیا کہتا ہے؟ آصف محمود

فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے نائب سربراہ شاہد محمود اور ان کے ساتھیوں کے جرائم کی فہرست توخاصی طویل ہے، اس کا سب سے بڑا جرم امت کے لیے کلمہ گو بھائیوں کے لیے درد دل رکھنا ہے. سانحہ کوئٹہ ہوا، زخمیوں کو سول اسپتال کوئٹہ لایا گیا، کوئٹہ کے سینئر صحافی عبدالرشید بلوچ سے سیلانی کا رابطہ ہوا، بلوچ صاحب نے یہ بتا کر حیران کر دیا کہ سول اسپتال کوئٹہ میں لائے گئے زخمیوں کے لیے وہ لباس تک نہیں ہے جو اسپتال میں داخل افراد کو پہنایا جاتا ہے، زخمی سپاہیوں کے جو کپڑے تھے وہ خودکش دھماکے میں لگنی والی آگ کی نذر ہوگئے، اور نہ بھی ہوئے تو کسے ہوش ہوتا ہے کہ زخمی ہو کر اسپتال جاتے ہوئے اپنا سامان بھی ساتھ لے لے. عبدالرشید بلوچ نے بتایا کہ یہاں اسٹاف نے چندہ جمع کر کے زخمیوں کی سترپوشی کے لیے چادریں خریدی ہیں، حکومت نے زخمیوں کے لیے دس ہزار روپے دینے کا اعلان تو کیا ہے لیکن خدا جانے یہ رقم کب ملتی ہے۔ سیلانی یہ جان کر تڑپ گیا، اس نے شاہد محمود سے رابطہ کیا اور ساری صورتحال بتائی، اگلے ہی دن اسپتال میں موجود زخمیوں کو فوری ضرورت کے لیے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کی جانب سے مناسب رقم دی جا چکی تھی۔

سیلانی کو گذشتہ گیارہ برسوں میں کوئی ایسا سانحہ، زلزلہ، سیلاب یاد نہیں جس میں اس نے اس ’’دہشت گرد‘‘ کو ادویات، خیمے، راشن، امدادی سامان کے ساتھ متاثرہ علاقے میں ’’دہشت‘‘ پھیلاتے نہ دیکھا ہو. اسے حیرت ہوئی کہ امریکہ کو شاہد محمود اب یاد آیا جب وہ جانے کتنے ہی شاہد محمود متحرک کر چکا ہے. ان شاہدوں میں ایک ’’شاہد‘‘ سیلانی بھی ہے کہ وہ بھی حلب میں ہونے والے قتل عام پر روتا رہا ہے اور اگر آپ نے کبھی برما میں کسی مسلمان کے ذبح ہونے پر، حلب میں عصمت دری کے بعد کسی بہن کے بہتے اشک، آسمان کی طرف اٹھے ہاتھ دیکھ کر، آٹھ ٹکڑوں میں تقسیم کسی پھول سے بچے کی لاش دیکھنے کے بعد اور بھارت میں گئوکشی کے جھوٹے الزام پر کسی مسلمان کو سرعام پھانسی دینے پر یا پھر امریکہ میں اسیر بہن ڈاکٹر عافیہ کی قید تنہائی پر کوئی بےچینی محسوس کی ہو، آنکھوں سے کوئی اشک ٹپکا ہو، دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہوئے لب کپکپائے ہوں، یا آپ نے کبھی کسی مظلوم مسلمان کی مدد کا ارادہ ہی کیا ہو تو تھوڑے سے شاہد محمود آپ بھی ہیں، اس پر اپنے رب کا شکرادا کیجیے۔ سیلانی یہ سوچتا ہوا اپنے سیل فون پر عالمی دہشت گرد مسیحا کا آنے والا پیغام پڑھنے لگا
’’اللہ کچھ کام لے لے، میں تو اپنا کام کرتا رہوں گا‘‘

سیلانی نے آمین کہا اور دہشت گرد کی بھیجی گئی شامی مہاجرین کی تصاویر دیکھنے لگا، خوشی سے تمتماتے چہرے لیے شامی مہاجر بچے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کی جانب سے ملنے والے کمبل اٹھائے اپنے اپنے خیموں میں جا رہے تھے. اس خوشی کی بات پر جانے کیوں سیلانی کی آنکھیں بھر آئیں، اس کی آنکھوں میں شاہد محمود کا مسکراتا چہرہ گھوم گیا اور وہ ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے ان پھول سے بچوں کو دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں