سید مودودی، قائد اعظم اور سیکولر بیانیے کے فکری تضادات (2) - آصف محمود

اس تمہید کے بعد اب آئیے موضوع کی طرف بڑھتے ہیں۔ میں اپنے سیکولر دوستوں کی خدمت میں چند سوالات رکھنا چاہتا ہوں۔

1۔ قیام پاکستان سے پہلے اگر ایک فرد یا گروہ یہ رائے رکھتا ہے کہ برصغیرکی تقسیم ضروری ہے اور ایک دوسرا گروہ یہ رائے رکھتا ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے تو کیا دوسرے گروہ کو اس کی اجازت حاصل ہے یا نہیں۔ حیات اجتماعی میں مختلف مراحل آتے ہیں اور ہر فرد اور گروہ جسے درست سمجھتا ہے، اسے بیان کر دیتا ہے۔ کیا اسے اس بات کا حق ہونا چاہیے یا نہیں۔ کیا علم کی دنیا میں اس رویے کا کوئی اعتبار ہے کہ آپ ساٹھ سال بعد کسی کو طعنہ دیں کہ فلاں موقع پر تم نے یہ رائے دی تھی۔ کیا ایک فکری اور شعوری رائے رکھنا اور اسے بیان کر دینا جرم ہے۔ کیا کوئی ایک مثال بھی موجود ہے کہ سید مودودی اور جماعت اسلامی نے ایک رائے کا سیاسی اور فکری اظہار کرنے کے علاوہ کوئی ایسا قدم اٹھایا ہو جو قیام پاکستان کے عمل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا ہو۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا قیام پاکستان کے بعد جماعت اسلامی اپنے اقدامات اور پالیسیوں کی روشنی میں محب وطن جماعت قرار پاتی ہے یا وہ غداری کی مرتکب ہوئی ہے۔ اگر وہ غداری کی مرتکب ہوئی ہے تو بتایا جائے کہ ایسا کہاں ہوا ہے؟ جماعت اسلامی کی پالیسیوں سے شدید اختلاف رائے اپنی جگہ لیکن یاد رکھیے کہ اس ملک کی بنیادوں میں افواج پاکستان کے ساتھ سب سے زیادہ لہو اسی جماعت کا ہے۔ آج بھی جب ہمارے ممدوحین پاکستان کے خلاف زبانیں دراز کرتے پائے جاتے ہیں اور وہ بھی پارلیمان کے اندر کھڑے ہو کر، تو ادھر بنگلہ دیش میں البدر کے شہداء ہیں جو پاکستان سے محبت میں جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ کیا محض نفرت اور عصبیت کی بنیاد پر اس سب کا ابطال کر دیا جائے، اور یہی پہیہ بار بار ایجاد کیا جاتا رہے کہ تم نے تو اس وقت قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی۔

2۔ ملک بن جاتا ہے۔ حضرت قائداعظم اس کے گورنر جنرل بن جاتے ہیں،گویا اقتدار انھی کے پاس ہے۔ اب اگر سید مودودی اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ حکمران جماعت ان وعدوں کو پورا کرنے میں تساہل کر رہی ہے جو تحریک پاکستان کے دوران عوام سے کیے گئے تھے تو کیا ایک جمہوری معاشرے میں سید مودودی کو اس کا حق تھا یا نہیں؟ کیا جدید جمہوری ریاست کے تصور پر مبنی کوئی ایک بیانیہ بھی ایسا ہے کہ جو ایک جمہوری ریاست میں ایک صاحب دانش کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے سے روکے۔ یہ تنقید قائد اعظم علیہ الرحمہ سے دشمنی کیسے قرار دی جا سکتی ہے؟ یہ تو فکری اور جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ کیا ہمارے سیکولر احباب کی حریت فکر کی حقیقت بس اتنی ہی ہے کہ جس میں وہ ایک علمی و فکری تنقید کی گستاخی کو بھی غداری کے باب میں درج فرماتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستانی ''طیب اردوان'' - ارشد زمان

3۔ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم کے تین مناصب تھے۔ ایک بابائے قوم کا، دوسرا سربراہ حکومت کا، تیسرا مسلم لیگ کے سربراہ کا۔ پہلا منصب احترام کا تقاضا کرتا تھا، دوسرا منصب تنقید کی گنجائش بھی دیتا تھا کہ حاکم پر تنقید تو ہو گی، اور تیسرا منصب ایسا تھا کہ جسے بہرحال ایک تقابل کا سامنا کرنا تھا۔ مسلم لیگ ایک جماعت تھی اور جماعت اسلامی سمیت دیگر کئی جماعتیں بھی موجود تھیں۔ یہ ہر جماعت اور اس کے قائد کا حق ہوتا ہے کہ وہ دوسری جماعت پر نقد کرے اور خود کو متبادل کے طور پر پیش کرے۔ اب اگر سید مودودی نے لکھ دیا کہ حکمران ملک کو ان خطوط پر لے کر چلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے جن کا وعدہ کیا گیا تھا اور اب قوم ان سے رجوع کر کے دیکھے تو اس میں کیا برائی تھی؟ اس پر اگر کسی اخبار نے طنز فرما دیا کہ مودودی قائد اعظم بننا چاہ رہے ہیں تو اس کا طنز ہی کہلائے گا حقیقت نہیں۔ کیا ہم نے ایک ایسی جمہوری ریاست بنائی تھی کہ جس میں کسی سیاسی جماعت کو اپنا پروگرام پیش کرنے اور حکمران جماعت پر نقد کی بھی اجازت نہ ہو۔ تنقید بھی ہونا تھی اور سیاسی جماعتوں نے خود کو متبادل بنا کر بھی پیش کرنا تھا۔ ہاں اتنا تھا کہ بطور بابائےقوم حضرت قائد اعظم کے منصب کا خیال رکھا جاتا اور سید مودودی نے یہ خیال ملحوظ خاطر رکھا۔ ان کے خیالات سے اگر آ پ اپنی شرح کے مطابق سرخی منسوب کر دیں کہ قائداعظم اسلام سے دور اور قتل عام کے ذمہ دار ہیں تو سوال اٹھے گا کہ سید نے یہ کہاں کہا؟اس کا جواب اب اگر آپ یوں دیں گے کہ سید نے جو کہا اس سے نوائے وقت تو یہی سمجھا تھا تو جناب یہ نوائے وقت کی تفہیم تو کہلا سکتی ہے سید کا مؤقف نہیں۔ قائد کی توہین کا تاثر دیا ہی اس لیے جا رہا ہے کہ نئی نسل کو بتایا جائے کہ دیکھو سید مودودی نے ہمارے بابائے قوم کی یونہی توہین کی تھی، جیسے شیخ رشید نوازشریف کی یا دانیال عزیز اور عابد شیر علی عمران خان کی کرتے ہیں۔

4. شبیر احمد عثمانی مرحوم اگر یہ کہیں کہ ہم نہ ہوتے تو پاکستان نہ بنتا تو سیکولر حضرات اسے بھی اچھا نہیں سمجھتے، اور سید صاحب اگر فکری تنقید کرتے ہیں تو وہ اسے بھی برا سمجھتے ہیں۔ کیا یہ تضاد نہیں۔ شبیر احمد عثمانی صاحب تو مسلم لیگ سے بھی آگے بڑھ کر اس عمل کو اون کر رہے ہیں، اور یہ بھی آپ کو پسند نہیں۔ کہیں مسئلہ یہ تو نہیں کہ اہل مذہب کی کوئی بھی شکل آپ کے لیے قابل قبول نہیں۔

5. سید مودودی ہوں یا شبیر احمد عثمانی، ان کو ہمارے دوست قبضہ گروپ کا طعنہ دیتے ہیں کہ ملک بنایا کسی اور نے اور اس پر قبضہ کسی اور نے کر لیا۔ جب یہ احباب قبضہ کی بات کرتے ہیں تو ان کا اشارہ قرارداد مقاصد کی طرف ہوتا ہے۔ قراردادِ مقاصد کا شمار پاکستان کے جمہوری، پارلیمانی اور آئینی تحرک کے اولین نقوش میں ہوتا ہے۔ اس قرارداد کے ذریعے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے ایک جمہوری طریقے سے طے کیا کہ پاکستان کا دستور یورپی طرز پر نہیں ہو گا بلکہ اسلام اور جمہوری اصولوں کے تحت وضع کیا جائے گا، حاکمیت اعلی اللہ کی ہوگی، اور منتخب نمائندے ایک مقدس امانت کی طرح اپنے اختیارات بروئے کار لائیں گے۔ اقلیتوں کے بارے میں کہا گیا کہ انہیں نہ صرف اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی مکمل آزادی ہوگی بلکہ انہیں اپنے کلچر کے فروغ کا بھی حق ہوگا۔ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں خود وزیراعظم نے اس قرارداد کو پیش کیا، اس پر جمہوری روایات کے مطابق بحث ہوئی۔ اپوزیشن رہنما سریس چندرا چٹوپا دھیا نے کھل کر اس کے متن پر تنقید کی، ان کا کہنا تھا کہ حاکمیت اعلی اللہ کے پاس نہیں صرف عوام کے پاس ہونی چاہیے، کسی نے ان کو اختلاف کے حق سے محروم نہیں کیا، وہ اور ان کے رفقائے کار مکمل آزادی فکر کے ساتھ بولے لیکن آخر کار ایک جمہوری عمل میں فیصلہ اکثریت رائے سے ہوتا ہے اور اکثریت کا فیصلہ قرارداد مقاصد کے حق میں تھا۔ جمہوریت سے وابستگی کی بہت بات کی جاتی ہے لیکن جب جمہوری عمل اسلام کی بات کرتا ہے تو سیکولر احباب اس عمل کو مشکوک قرار دے دیتے ہیں، ان کے نزدیک یہ فکر قائد سے انحراف اور غداری ہے اور وہ اسے ریاست کی فکری بنیاد میں لگائی جانے والی پہلی ٹیڑھی اینٹ کا درجہ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان کا یہ رویہ جمہوریت دوست کہلایا جا سکتا ہے؟ دنیا بھر کو آپ یہ حق دیتے ہیں کہ وہ جمہوری طریقے سے اپنے لیے نظام چن لے لیکن مسلمانوں کو آپ یہ حق نہیں دیتے، کیا یہ رویہ جمہوریت دوستی کے باب میں درج کیا جا سکتا ہے؟ کیا اللہ کی حاکمیت کا اصول طے کرنا ایک خالصتا جمہوری عمل نہ تھا؟ کیا دستورساز اسمبلی کے باہر سید مودودی خود کش جیکٹ پہن کر کھڑے تھے کہ قرارداد مقاصد پاس نہ کی گئی تو اسمبلی کو اڑا دیں گے؟ آپ بجا کہتے ہیں کہ بندوق کے زور پر شریعت نافذ نہیں کی جا سکتی لیکن ہم آپ سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا جمہوری طریقے سے اس کے نفاذ کی اجازت ہے؟ ایسا تو نہیں آپ کا مسئلہ بندوق یا جمہوریت ہے ہی نہیں، آپ کو کد صرف اسلام سے ہے، اور مسلمانوں کا نظم اجتماعی جمہوری طریقے سے اسلام کی بات کرے تو آپ اسے بھی مان کر نہیں دیتے؟
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں:   غیرت کے نام پر انوکھا قتل، خبردار ہوجائیں! - ڈاکٹر شفق حرا

پہلی قسط یہاں ملاحظہ کریں

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!