کوئی تو ہو جو بات کرے - رضوان الرحمن رضی

گذشتہ دنوں پاکستان کی وزارتِ تجارت کے وفد کی ایران روانگی ایک ماہ کے لیے موخر کر دی گئی۔ یہ اعلیٰ سطحی وفد ایران پر سے اقتصادی پابندیاں اٹھنے کے بعد پیدا ہونے والے مجوزہ باہمی تجارتی امکانات کو تلاش کرنے اور ایک ’’ترجیحی تجارت‘‘ کے معاہدے پرگفت و شنید کے لیے ایران روانہ ہونا تھا۔ وفد کی روانگی ایران کی طرف سے اس سرکاری اطلاع کے بعد مؤخر کی گئی کہ ایران نے پاکستان کے ساتھ گیس کی قیمتوں کے فروخت کے معاہدے پر نظر ثانی کے لیے کسی بھی قسم کی گفتگو سے انکاری ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایران نے ایسا کیا ہو بلکہ اس سے قبل بھی اس معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد سے ایسا کرتا آرہا ہے، جبکہ پاکستان کی طرف سے اس بارے میں کوئی ٹھوس پالیسی عنقا ہے۔

یادش بخیر زرادری صاحب نے اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں جلدی جلدی میں جو فیصلے کیے تھے، ان میں سے ایک ایران کے ساتھ گیس کی قیمت کے معاہدے پر دستخط کرنا بھی شامل تھا۔ جس طرح انہوں نے عدالت کی طرف سے بدعنوانی کے مجرم قرار دیے گئے شخص کو وفاقی محتسب مقرر کیا تو کچھ ایسا ہی فیصلہ انہوں نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے حوالے سے بھی کیا۔ پاکستان کی طرف سے زرداری صاحب کی فرمائش پر اس معاہدے پر دستخط کرنے والے، شوکت ترین، پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ سے ایک اور مقدمے میں بدعنوانی کے مجرم قرار دیے جا چکے ہیں، تو کیا ہمیں ایک ایسے مجرم کی طرف سے کسی بھی معاہدے پر دستخط کا احترام کر نا چاہیے؟ اس لیے بھی اس معاہدے پر نظرثانی یا اس کا ابطال ضروری ہے جو جتنی جلدی کر لیا جائے مناسب ہوگا۔

دراصل اس معاہدے میں ایران سے گیس خریدنے کے لیے بارہ ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت طے کی گئی اور اگر اس میں پائپ لائن کا کرایہ ڈال لیا جائے تو یہ قیمت چودہ ڈالر ہو جاتی ہے۔ ان قیمتوں کو اُس وقت ایندھن کی ’’عالمی باسکٹ‘‘ کے اسی فی صد پر طے کیا گیا تھا اور یوں اگر تیل کی موجودہ قیمتوں کو بھی مدنظر رکھا جائے تو یہ قیمت آج کے دن دس ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے کسی طور کم نہیں پڑتی۔ ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں ایل این جی گیس کا سیلاب امڈا پڑا ہے اور وہ تین ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے دستیاب ہے، یہ معاہدہ تو پاکستان کے پورے ایندھن کے نظام کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دے گا، اور اسے محض لوٹ مار ہی کہا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اس لوٹ مار سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے اور اس کا اعتماد اس لیے بھی ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ پاکستان کے حکومتی نظام میں موجود عناصر، جن کی ساری ہمدردیاں پاکستان سے زیادہ ایران کے ساتھ ہیں، وہ اسے مدد کریں گے اور کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان عناصر نے اب تک اس پہلو کو زیر بحث ہی نہیں آنے دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   مذہبی کارڈ ہی کیوں؟ حبیب الرحمن

ویسے بھی اس معاہدے پر دستخط ہم نے بھارت کی دیکھا دیکھی کیے تھے کیوں کہ اُس وقت بھارت جو پاک ایران بھارت (آئی پی آئی) گیس پائپ لائن معاہدے کا ایک فریق تھا، اور اسے اسی پائپ لائن سے گیس بھی لینا تھا، اس نے پاکستان کو ایک ارب ڈالر سالانہ کرایہ دینا تھا۔ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر کے دستخط کروا دیے گئے کہ بھارت سے پائپ لائن کا کرایہ لے کر ہم ایران کو ادا کریں گے، اور یوں ہم پر گیس کی ان ہوشربا حد تک زیادہ قیمتوں کا مالیاتی اثر نہیں ہوگا۔ لیکن بھارت نے اس پھسڈی گاہک کی طرح جو دکان میں صرف قیمت پوچھنے آتا ہے، ایرانی گیس کی قیمت بڑھائی اور پھر اس معاہدے سے الگ ہو گیا۔ اب چوں کہ یہ معاہدہ سہ فریقی کی بجائے دو فریقی رہ گیا ہے، تو ضروری ہے کہ اس پر نئے معروضی حالات کے مطابق پھر سے مذاکرات کیے جائیں، ایران اس سے بھاگ رہا ہے، حالاں کہ قیمتوں پر نظرثانی کی شق معاہدے کے اندر موجود ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ جب خادم علی شاہ بخاری (کے اے ایس بی ) بینک اور اس سے جڑے مالیاتی اداروں پر بین الاقوامی اداروں کی طرف سے، ایرانی سرمائے کو سفید کرنے کا الزام لگا اور سٹیٹ بینک کو راتوں رات یہ مدعا غائب کرنے کے لیے یہ بینک اپنے قبضے میں لے کر محض ’’ایک روپے‘‘ کی نام نہاد قیمت پر بینک اسلامی کے سپرد کرنا پڑا تو اس وقت بھی ایران کے نائب وزیر خزانہ تشریف لائے تھے، اور ایران کی طرف سے اس بینک میں رکھے گئے بائیس ارب روپے کی بہ حفاظت واپسی کی گذارش کی تھی۔ ہمارے وزیر خزانہ نے اس خواہش کا احترام کرتے ہوئے یہ رقم جس واسطے سے پاکستان لائی گئی تھی، اسی واسطے سے واپس بھجوادی تھی۔ حالاں کہ ایسے وقت میں ایرانی گیس کی قیمتوں پر نظر ثانی کے حوالے سے سودا بازی بھی کی جا سکتی تھی۔

اب ایک مرتبہ پھر ایرانی حکومت کو ہماری ضرورت پڑ گئی ہے۔ جہاں ایک طرف کرک (کے پی کے) کی آئل فیلڈ سے چوری ہونے والے تیل کی مالیت ستر ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے (اور اس پر لگنے والے ٹیکسز اور دوسرے محاصل اس کے سوا ہیں)، وہیں ایران سے تیل کے سمگلروں نے پاکستان کے اندر ایک آئل مارکیٹنگ کمپنی بھی خرید لی ہے، اور ایران سے غیر قانونی سمگل شدہ تیل کھلے عام نہیں بلکہ پٹرول پمپوں پر دھڑلے سے بک رہا ہے۔ کسٹمز انٹیلی جنس نے اس ادارے کا سراغ بھی لگا لیا ہے، اور کوئی وقت جاتا تھا کہ اس ادارے کے ڈائریکٹرز کو پکڑ کر حوالہ زنداں کردیاجاتا، ایران کے ایک اور وزیر تشریف لائے، اور گذارش کی کہ جیسے پاکستان اپنے ہمسایہ ایران کی غیر قانونی اقتصادی اور مالیاتی سرگرمیوں کو پہلے نظر انداز کرتا رہا ہے، ویسے کچھ اور عرصے کے لیے اس سے صرفِ نظر کر لے۔ جیسے ہی ایران کے ساتھ تجارتی پابندیاں کھلیں گی تو پاکستان سے اربوں روپے کے خمس کی ترسیل کے ساتھ ساتھ اس تجارت کو قانونی ٹوپی پہنا لی جائے گی، کیونکہ پاکستان کا کوئی والی وارث نہیں، اس لیے امید ہے کہ اس گزارش کو بھی شرفِ بازیابی بخش دیا جائے گا اور وہ کمپنی اسی طرح ایرانی سمگل شدہ تیل بیچ بیچ کر ہماری گاڑیوں کا بیڑہ غرق کرتی رہے گی، ہم خواہ اپنے تیل کے جتنے مرضی رنگ بدل لیں۔

یہ بھی پڑھیں:   جنرل اسمبلی میں حسینہ واجد کے الزامات، حقیقت کیا ہے؟ آصف محمود

ایسے میں کیا ہی خوب ہوتا کہ ہم بھی ایران کے ساتھ اس گیس کی فروختگی کے معاہدے پر نظرثانی کا معاملہ اٹھا لیتے۔ لیکن بوجوہ ایسا نہیں کیا جا رہا، جو کہ ناقابلِ فہم بات ہے. کیا پتہ یہ چوری شدہ ٹیکس پاکستان میں دہشت گردی کی فنانسنگ کے لیے استعمال ہو رہا ہو، ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟
کوئی تو ہو جو پاکستان کے مفادات کی بات کرے، کوئی تو ہو، آخر کو جمہوریت کے نام پر اس قوم پر مسلط گروہ کو کسی بات تو سٹینڈ لینا چاہیے۔ کوئی تو ہو جو بلاول بھٹو زرداری جیسی مخلوق کو ایران سے گیس کی درآمد کی بات دہرانے پر شٹ اپ کال دے۔ جس طرح موصوف کے والد نے پاکستان کے مفادات کا جنازہ نکالا ہے تو ہمیں تو پاکستان کے تین دریا بھارت کو بیچنے کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔ کوئی تو ہو جو اس موضوع پر قومی اسمبلی میں کھڑا ہو کر اسی طرح کی دریدہ دہنی کرے جیسی سعودی عرب کے خلاف کی گئی تھی؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت کے اس پائپ لائن منصوبے میں سے نکل جانے کے بعد ایران کو باہر کی راہ دکھا کر اس معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا جائے کیونکہ سہ فریقی معاہدہ میں سے ایک فریق کے ’’مکر‘‘جانے کے بعد یہ معاہدہ عملاً ختم ہو چکا ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب مذاکرات کی میز پر پاکستان کی طرف سے کوئی ’’پاکستانی‘‘ اس معاہدے پر مذاکرات کرنے بیٹھے ہوں۔ جب تک ولایت فقیہ کو ماننے والے پاکستان کی طرف سے مذاکرات کرتے رہیں گے، اس وقت تک پاکستان کے وسائل کی یہ لوٹ مار جاری رہے گی اور ہمارے مفادات کا جنازہ اسی طرح نکلتا رہے گا۔