کون کون حیران ہوا؟ شاہد اقبال خان

اگر آپ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی میلبورن ٹیسٹ میں کارکردگی پر حیران ہیں تو پھر آپ پاکستانی کرکٹ کو نہیں سمجھتے۔ پاکستان دنیا کی واحد ٹیم ہے جو ایک سیشن میں مچ ہارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دورہ انگلینڈ کے تیسرے میچ میں پاکستان نے چار دن تک جیتا ہوا میچ پانچویں دن کھانے کے وقفے کے بعد ہارا۔ نیوزی لینڈ میں پانچویں دن کے چائے کے وقفے تک میچ جیتتی نظر آتی پاکستانی ٹیم میچ ختم ہونے کے دس اوورز پہلے ہار چکی تھی۔ میلبورن ٹیسٹ نے ایک بار پھر سے ان میچوں کی یاد کو تازہ کر دیا۔

سب حیران ہیں کہ آخر غلطی کہاں ہوئی؟
مصباح الحق اور یونس خان نے پاکستان کرکٹ کے لیے جتنا کچھ کیا ہے، اگر وہ اگلا پورا سال صفر پر بھی آؤٹ ہوتے رہیں، تو بھی میں ان پر تنقید کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ کہاں سے شروع کریں؟ چلیں ایک بار پھر داستان مایوسی بیٹنگ سے شروع کرتے ہیں۔ پاکستانی بیٹنگ نے شاید تہیہ کیا ہوا ہے کہ دو اچھی اننگز کھیلنے کے بعد ایک دفعہ بطور صدقہ ضرور ناکام ہونا ہے۔ دنیا میں کتنی ٹیمیں ایسی ہیں جو پہلی اننگز میں ساڑھے چار سو رنز بنانے کے بعد دوسری اننگز میں ایک سو پچاس رنز پر ڈھیر ہو جائیں؟؟ غیر ایشیائی ٹیمیں ایشیا میں ایسی صورتحال سے دوچار ہوتی رہی ہیں مگر اس کی وجہ وکٹ کی ٹوٹ پھوٹ ہوتی تھی۔ انگلینڈ والے میچ میں تو ریورس سوئنگ پر سارا ملبہ ڈال کر عزت بچانے کی کوشش کی مگر نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا والے میچز کے بعد تو یہ بہانہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستانی باؤلنگ پر بہت دنوں سے غیرضروری تنقید ہو رہی تھی مگر میں اس سے متفق نہیں تھا کیونکہ باؤلرز اس وقت تک جذبے سے باؤلنگ نہیں کر سکتے جب تک سکور بورڈ پر مناسب سکور نہ ہو۔ اس میچ میں پاکستانی بیٹنگ نے اچھا پرفارم کیا تو باؤلنگ نے سخت مالوس کیا۔ محمد عامر نے جو پریشر بنایا، وہ باقی باؤلرز نے اتار دیا۔ محمد عامر کو ایک اچھے باؤلنگ پارٹنر کی ضرورت ہے جس کے لیے محمد آصف سے بہتر باؤلر موجود نہیں ہے۔ سہیل خان سوئنگ کر سکتا ہے مگر اس کے پاس نہ تو اب رفتار رہی ہے اور نہ ہی وہ فٹنس کی وجہ سے ٹیسٹ میچ میں لمبے سپیل کر سکتا ہے۔ وہاب رہاض کو نیا گیند نہ کروانے کی منطق مجھے سمجھ نہیں آتی۔ اگر ایک باؤلر ایک سو پچاس کی رفتار سے باؤلنگ کر سکتا ہے تو اسے نیا بال کرواتے ہوئے سوئنگ کی بھی خاص ضرورت نہیں رہتی۔ دنیا بھر میں تیز رفتار باؤلر کو نیا بال دیا جاتا ہے جبکہ ہم نے اسے محض پارٹنرشپ توڑنے کے لیے رکھا ہوا ہے۔ یہ وہاب ریاض جیسے باؤلر کی توہین ہے۔ دورہ آسٹریلیا یاسر شاہ کا بھی امتحان تھا جس میں وہ اب تک ناکام رہا ہے۔ سڈنی ٹیسٹ اس کے پاس آخری موقع ہے۔ اس کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ آؤٹ کرنے کے ذہن سے آئے نہ کہ سکور روکنے کے لیے۔ مصباح کو بھی اسے لیگ فیلڈ پلان دینے کے بجائے آف کا فیلڈ پلان دینا چاہیے تاکہ وہ فلائٹ پر بیٹسمین کو آؤٹ کر سکے۔

دورہ آسٹریلیا ہمیشہ اینڈ گیم ثابت ہوا ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہونے جا رہا ہے۔ اگرچہ ابھی سیریز کا آخری میچ ہونا باقی ہے مگر اس کے بعد مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ یقینی ہے۔ یونس خان پر بھی خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں حالانکہ یہ فیصلہ یونس خان پر نہ چھوڑنا اس کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ سمیع اسلم کی جگہ سلمان بٹ لے سکتا ہے۔ محمد آصف کی شمولیت بھی زیر غور ہے۔ ابھی تک دورہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کا سب سے اہم اور مثبت پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ اظہر علی اب بطور بلے باز اس مقام پر پہنچتا نظر آ رہا ہے کہ وہ پاکستانی بیٹنگ کی کمان سنبھالے۔ اسد شفیق نے جنوبی افریقہ، انگلینڈ اور اب آسٹریلیا میں بھی ٹیسٹ سنچری سکور کر کے اگلے کچھ سالوں کے لیے مڈل آرڈر کی مضبوطی کا اشارہ دے دیا ہے۔ بابراعظم نے اگرچہ صرف ایک بار نوے رنز کی اننگز کھیلی مگر باقی تمام اننگز میں اس کے فٹ ورک اور اعتماد کو دیکھتے ہوئے اس کے روشن مستقبل کی نوید بھی سنائی جا سکتی ہے۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam