گمراہ - سلسلہ وار کہانی (آخری قسط) - ریحان اصغر سید

اخلاق کی آواز نے میرے نیم مردہ جسم میں نئی زندگی دوڑا دی تھی۔ وہ مجھے ہی پکار رہا تھا۔
میں گھپ اندھیرے میں ٹھوکریں کھاتا ہوا دروازے کی طرف لپکا۔
اخلاق میں یہاں ہوں۔ اس کمرے میں۔
میں نے بندھے اور سن ہاتھوں سے بمشکل لکڑی کا دروازہ بجایا۔
فکر نہ کرو میری جان۔ حالات مکمل طور پر ہمارے قابو میں ہیں۔ مجھے بتاؤ، کیا تم کمرے میں اکیلے ہو؟
اخلاق شاید دو پٹ والے لکڑی کے دروازے کی کنڈی اور تالے کے ساتھ الجھا ہوا تھا۔
نہیں میرے ساتھ کمرے میں کچھ ٹوٹی پھوٹی کرسیاں، ایک کھٹملوں سے بھرا ہوا جھولا نما پلنگ بھی ہے۔ میں نے بیزاری سے کہا۔
اتنی دیر میں اخلاق تالا یا کنڈا کاٹ چکا تھا۔ میں دروزے سے پیچھے ہٹ گیا۔ پٹ کھلتے ہی ایک ٹارچ کی تیز روشنی میری آنکھوں میں پڑی۔ میں نے تھکن سے آنکھوں موُند لیں۔ اخلاق نے دوڑ کے مجھے بازو کے گھیرے میں لے کر اٹھایا اور دو تین چکر دیے۔
یار ادھر بھوک پیاس سے میری جان نکل رہی ہے۔ تمھیں اٹکھیلیاں سوجھ رہی ہیں۔ مجھے پانی پلاؤ بلکہ پہلے یہ بتاؤ کہ این محفوظ ہے۔
ہاں سوائے دہشت گردوں کے سب محفوظ ہیں۔
اخلاق نے میرے ہاتھوں کی رسی کاٹی۔ مجھے اپنے بیگ میں موجود بوتل سے پانی پلایا اور ہاتھ پکڑ کے باہر لے جانے لگا۔
فائرنگ مکمل طور پر رک چکی تھی۔ حویلی میں ہر طرف بُلٹ پروف جیکٹس پہنے کمانڈوز پھیلے تھے۔

ایک ہال نما کمرے میں دہشت گردوں کی لاشیں اکھٹی کی گئی تھیں میں نے ان کی تعداد گنی، وہ نو تھے۔ دو کمانڈوز بھی شہید ہوئے تھے اور چند زخمی تھے۔ یہ دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی کہ شازی ہلاک شدہ دہشت گردوں میں شامل نہیں، شاید اسے رات کو ہی یہاں سے بھیج دیا گیا تھا۔ ان میں وہ خوفناک چہروں والے دہشت گرد بھی تھے جنھوں نے کل سارا دن ہمیں یرغمال بنائے رکھا تھا۔ اب وہ نشانہ عبرت بنے گرد آلود فرش پر پڑے تھے۔ میں جلد سے جلد این سے ملنا چاہتا تھا۔ اخلاق کے لیے میری بےتابی حیران کن تھی، وہ مجھے حویلی کے صحن میں لے آیا جہاں دوسری گاڑیوں کے ساتھ کالے شیشوں والی سفید لینڈ روور بھی کھڑی تھی، جو کل ہمارے ساتھ چلتی رہی تھی۔ این اس میں کسی آفیسر نظر آنے والے آدمی کے ساتھ بیٹھی سوالوں کے جواب دے رہی تھی۔ اس کے ایک ہاتھ میں پانی کی ایک بوتل اور دوسرے میں بسکٹوں کا ایک ڈبہ تھا جس میں سے وہ بات کرتے ہوئے بسکٹ نکال نکال کر کھا رہی تھی۔ ایسا ہی ایک ڈبہ میرے ہاتھ میں بھی تھا، لیکن میری بھوک تو یہ سنتے ہی مر گئی تھی کہ این کو سیدھا اسلام آباد ائیرپورٹ بھیجا جا رہا ہے، جہاں کچھ سرکاری آفشیلز کے ساتھ ملاقات کے بعد اسے فوراً امریکہ روانہ کر دیا جائے گا۔ میں خود بھی یہی چاہتا تھا، لیکن پھر بھی یہ جان کر میرا دل افسردہ ہو گیا تھا۔

ائیرپورٹ یہاں سے کتنی دور ہے؟ ویسے ہم کون سے شہر میں ہیں؟
میں نے این کو دیکھتے ہوئے اخلاق سے پوچھا۔ وہ ابھی تک اسی سفید شرٹ اور نیلی جینز میں ملبوس تھی۔ اس کے کپڑے اور سر کے بال مٹی میں اٹے ہوئے تھے۔
ادھر دیکھو، اخلاق نے میرے گال پر ہاتھ رکھ کر میرا منہ گھمایا اور انگلی سے ایک جانب اشارہ کیا۔
وہ سامنے ائیرپورٹ کی روشنیاں ہیں۔
کیا ہم راولپنڈی میں ہیں؟
میں نے حیرت سے کہا۔
این گاڑی سے نکل آئی تھی، اور اب میری جانب آ رہی تھی۔ میرے پاس آتے ہی وہ خوش دلی سے میرے ساتھ لپٹ گئی۔
استغفراللہ۔ اخلاق شرارت سے بول کے دور چلا گیا۔

میں تو یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ تمھارے بالوں کی مہک نے مجھے دیوانہ بنا دیا ہے، کیونکہ تمھارے بالوں سے مٹی کی عجیب سی بو آ رہی ہے۔
میں نے اپنے بازوؤں کی گرفت این کی کمر کی گرد مضبوط کرتے ہوئے کہا۔
این بے اختیار ہنس پڑی، اور جدا ہو کر اس نے میرے سینہ پر تھپکی دیتے ہوئے کہا۔
ویری ہینڈسم اینڈ بریو مین۔ میں تمھیں کبھی نہیں بھولوں گی۔
میں نے اپنے گلے میں سے سونے کی چین اتار کے اس کے گلے میں پہنائی۔
اگر تم بھول بھی گئی تو یہ تمھیں میری یاد دلاتی رہے گی۔ میں نے چین کی طرف اشارہ کیا۔
چین پا کے این کا چہرہ خوشی سے جگمگانے لگا تھا۔ ہم نے فون نمبروں کا تبادلہ کیا۔ این نے میری کچھ تصویریں اور اپنے ساتھ ایک سیلفی بنائی اور پھر ہاتھ ملا کر سفید لینڈ روور میں بیٹھ کر روانہ ہو گئی۔

مجھے ایک دم سے ہی ساری دنیا خالی خالی اور بے رنگ لگنے لگی تھی۔ کچھ دیر بعد میں اخلاق کی کار میں لاہور واپس جا رہا تھا۔ اخلاق نے میرا سیل واپس کر دیا تھا۔ سیل آن کیا تو وہ رومی کے وائس اور ٹیکسٹ مسیجز سے بھرا ہوا تھا۔ بیشتر میسجز میں مجھے گندی گالیاں اور واہیات دھمکیوں سے نوازا گیا تھا جو میرے زندہ واپس ملنے کے موقع پر (جس کی رومی کو بقول اس کے کوئی امید بھی نہیں تھی) میرے ساتھ روا رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ میں ایک تھکاوٹ زدہ مسکراہٹ کے ساتھ میسجز سنتا رہا۔ میں رومی کو کال کرنا چاہتا تھا لیکن مجھے یقین تھا وہ اس وقت سویا ہوگا کیونکہ صبح کے چار بج رہے تھے۔

اخلاق نے مجھے بتایا کہ عبداللہ جس نمبر سے مجھ سے رابطہ کرتا رہا تھا، وہ نمبر اور سیل ابھی تک مری میں ہی موجود ہے۔ دراصل اخلاق چاہتا تھا کہ ہم مری میں عبداللہ کے پیچھے جائیں، اور اسے قابو کریں کہ ایسا خطرناک آدمی مسلسل مری میں بیٹھا کیا کر رہا ہے۔
تمھارے اپنے شہر میں بڑے خان اور سبل جیسے زہریلے سانپ رینگ رہے ہیں اور تم مری کی فکر میں دبلے ہو رہے ہو۔ میں نے منہ بناتے ہوئے سیٹ کی پشت کو سٹریچ کیا۔
بڑے خان کا وہ ٹھکانہ جس میں این اور تمھیں رکھا گیا تھا، اس پر ٹھیک اسی وقت ریڈ کیا گیا تھا جس وقت ہم نے حویلی پر حملہ کیا تھا۔ بڑے خان کے بنگلے سے کچھ خاص نہیں ملا۔ وہ بہت بڑا بزنس مین ہے، دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔ بہت عرصے سے اس پر ہماری نظر تھی، لیکن الٹا اب وہ ہمارے لیے مصیبت کھڑی کر سکتا ہے کیونکہ اس کے خلاف ہمارے ہاتھ کوئی ثبوت نہیں لگا۔

ایک منٹ ایک منٹ۔
تم لوگوں کو کیسے پتہ چلا کہ ہم لوگوں کو بڑے خان کےگھر پر رکھا گیا تھا؟
میں نے چونک کر سیٹ سیدھی کی۔
مجھے لگا کہ اخلاق تھوڑا سا کنفیوز ہوا ہے۔
وہ دراصل سُبل ہمارے لیے بھی کام کرتا ہے۔ وہ امریکہ سے پڑھ کر آیا ہے۔
سُبل تم لوگوں کا آدمی ہے؟
میں حیرت سے چلایا۔
اگر سبل تمھارا آدمی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ تم پہلے سے جانتے تھے کہ این کو بڑے خان نے اغوا کیا ہے اور وہ اس کے گھر میں ہے۔ جب میں نے تم سے بات کی تو تم نے یہ بات مجھ سے چھپائی۔
میں حیران ہوں، تم لوگوں نے اس وقت بڑے خان کے بنگلے پر ریڈ کیوں نہیں کیا جب این بنگلے کے تہہ خانے میں تھی، تاکہ بڑے خان کو رنگے ہاتھوں پکڑا جاتا اور این محفوظ طریقے سے بازیاب کروا لی جاتی۔

میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں اخلاق کا منہ نوچ لوں. میرے پاس سوالوں کا ایک دفتر تھا اور اخلاق کے ہر گول مول جواب سے نئے سوال جنم لے رہے تھے۔ اخلاق مجھے واضح طور پر اس سوال کا جواب بھی نہیں دے پا رہا تھا کہ اس نے پنڈی والی حویلی میں ہمیں ٹریس کیسے کیا؟ بقول اس کے یہ دہشت گرد کے اس فون اور سم کی بدولت ہوا تھا جس سے وہ ایس ایس جی کے کیپٹن بابر سے بات کرتا رہا تھا۔ لیکن میں جانتا تھا کہ وہ فون اس نے جی ٹی روڈ پر آتے ہی سڑک پر مار کے توڑ دیا تھا اور سم اس کے اندر ہی تھی۔ پھر اس نے یہ بہانہ گھڑا کہ جہاں ہمیں روکا گیا تھا، وہاں ہم نے راستے میں میگنٹ ٹریکر پھینک دیے تھے، جیسے ہی ہماری پراڈو ان کے اوپر سے گرزی، وہ گاڑی کے ساتھ چپک گئے ہوں گے۔ لیکن میں نے یہ بتا کر اخلاق کو دوبارہ لاجواب کر دیا کہ ہم نے راستے میں دو دفعہ گاڑی بدلی تھی۔ پھر اس نے بتایا کہ میری لوکشین کی اطلاع ہمیں سبل نے دی تھی، دراصل میں پہلے تمھیں سبل کے بارے میں بتانا نہیں چاہتا تھا، اب جب ہ بات کھل گئی ہے کہ سُبل ہمارا آدمی ہے تو تمھیں اب یہ بتانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
اس کا کہنا تھا کہ ہمارا کام کرنے کا ایک طریقہ ہے ہماری کچھ حدود اور مجبوریاں ہیں۔ ہم ایک پلاننگ لے کر چلتے ہیں۔

لعنت ہے تمھارے ایسے طریقے، پلاننگ اور مجبوریوں پر۔ تمھاری وجہ سے پاک آرمی کا ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا۔ پائلٹ اور کئی کمانڈوز شہید ہوئے۔ تمھارے کھیل کی وجہ سے کل سارا دن میں اور این زندگی اور موت کے درمیان لٹکتے رہے۔ اور آج تم نے جن دو کمانڈوز کی لاشیں اٹھائی ہیں، ان کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟
میری آواز غصے سے پھٹ گئی تھی۔
اور لعنت ہے مجھ پر جو تم جیسے بندے کے لیے کام کرتا رہا ہے۔ گاڑی روکو۔
اخلاق گاڑی روکو۔
آئی سے سٹاپ دی کار۔
میرے لہجے میں ایسا کچھ تھا کہ اخلاق نے چپ چاپ روڈ کی ایک سائیڈ پر کار روک دی۔
پلیز آئندہ کبھی میرے سامنے مت آنا۔

میں نے جلتی آنکھوں سے اخلاق پر آخری نظر ڈالی جس کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات تھے۔ شاید وہ سمجھ رہا تھا کہ میں وقتی طور پر غصے میں ہوں اور کچھ دن بعد مان جاؤں گا۔ مگر میں ایسے فراڈ کرنے، میری زندگی داؤ پر لگانے اور این کی زندگی سے کھیلنے والوں کو کیسے معاف کر سکتا تھا۔
اس کے فوراً بعد میں کار سے اتر گیا۔ کار وہیں کھڑی رہی، میں چپ چاپ پینٹ کی دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے آگے کو چل پڑا۔ صبح ہونے والی تھی، ہر طرف روشنی پھیل رہی تھی۔ میں اس وقت موٹر وے پر کلرکہار کے نزدیک تھا۔ مجھے کسی پیٹرول پمپ اور ریفرشمنٹ پوائنٹ کی تلاش تھی، جو خوش قسمتی سے یہاں سے صرف دو کلومیٹر آگے تھا، مجھے وہاں سے لفٹ یا سواری مل سکتی تھی۔

اخلاق کی کار میرے پیچھے رینگ رہی تھی۔ شاید وہ مجھے کوئی سواری ملنے تک یہاں سے جانا نہیں چاہتا تھا۔ پوائنٹ پر پہنچ کر میں نے ریسٹورنٹ سے ناشتہ کیا۔ وہاں مجھے ایک ٹیکسی ڈرائیور مل گیا جو اسلام آباد سواری اتار کر خالی واپس لاہور جا رہا تھا۔ میں نے اس سے بات کی اور چائے لے کر اس کی گاڑی میں آ بیٹھا۔ اخلاق کی کار ابھی تک باہر ہی کھڑی تھی، اس نے کار میں سے نکلنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ مجھے ٹیکسی میں بیٹھتا دیکھ کر وہ کار لے کر چلا گیا۔ وہ آخری بار تھا جب میں نے اسے دیکھا۔

لاہور واپس آ کر کچھ دن سخت بیزاری میں کٹے۔ ابھی تک میری آنکھوں میں این کی من موہنی صورت چھائی ہوئی تھی۔ میرے پاس اس کا امریکہ کا سیل نمبر تھا، لیکن میں خود اس سے رابطہ نہیں کرنا چاہتا تھا، میں صرف یہ چاہتا تھا کہ این کے عشق کا یہ عارضی بھوت جلد سے جلد میرے سر سے اتر جائے۔ اور میں اُسے بھول جاؤں۔

رومی بھی میرا دل بہلانے کی کوششوں میں مصروف رہتا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ آج کل امریکی میڈیا میں این کے اغوا کو لے کر بہت لے دے ہو رہی ہے۔ اور اس میں پاکستان اور ایجنسی کو بھی کافی رگڑا لگایا جا رہا ہے۔ این مختلف چینلوں پر بیٹھی انٹریو دیتی نظر آ رہی ہے، اور امریکی چینلوں پر میری تصویریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ این نے اس معاملے میں کسی کو تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔ وہ اپنی آنے والی کتاب میں اس واقعے کا تفصیلی ذکر کرے گی۔

میڈیا پنڈتوں کا خیال ہے کہ عراق، شام میں رپوٹنگ کے علاوہ اپنے اغوا اور بازیابی کی سنسنی خیز داستان کی وجہ سے یہ کتاب بیسٹ سیلنگ کتابوں کی فہرست میں جگہ بنا سکتی ہے۔ این نے کسی مشہور و معروف پبلشر سے اس کا لاکھوں ڈالر کا معاہدہ بھی سائن کر لیا ہے۔

این کو لوٹے تین ماہ ہو چکے تھے۔ میں ان دنوں کراچی میں تھا جب ایک دن ساحل سمندر پر بیٹھا ہوا تھا کہ این کی کال آ گئی۔
وہ بہت فریش اور خوش لگ رہی تھی۔ اس نے مجھے بتایا کہ کچھ دن تک اس کی کتاب مارکیٹ میں آ رہی ہے جس میں میری تصویروں کے علاوہ اغوا والے واقعے کا تفصیلی ذکر بھی ہے۔ اکثر جگہوں پر میرے کردار کے معاملے میں بہت مبالغے سے کام لیا گیا ہے اور واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی میڈیا میں کسی بات کی تردید نہیں کرنی ہے۔
میں نے جواب دیا کہ اگر تم نے اپنی کتاب میں نائن الیون کے علاوہ ممبئی حملہ بھی میرے نام سے ڈال دیا ہے تو بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے، اور نہ ہی میں اس کی تردید کروں گا.
وہ بات بات پر قہقے لگاتے ہوئے مجھ سے باتیں کرتی رہی، اس نے آفر کی کہ وہ مجھے امریکہ بلوا سکتی ہے، اگر میں چاہوں تو۔
میں نے جواب دیا کہ یقیناً تمھارا کوئی نہ کوئی بوائے فرینڈ بھی ہو گا۔ اگر ہے تو تم کیوں اسے میرے ہاتھوں قتل کروانا چاہتی ہو۔ ویسے بھی میں لندن جا رہا ہوں۔
ہاہاہا۔۔ تم مجھے انسٹاگرام پر فالو کرتے ہو نا؟
میرے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی کہ انسٹا گرام کیا بلا ہے۔ مگر میں نے این کی دلجوئی کے خیال سے زور و شور سے تصدیق کر دی کہ میں انسٹاگرام کے علاوہ بھی ہر جگہ اسے فالو کرتا ہوں۔

کچھ دن بعد میں واقعی ہی لندن شفٹ ہو گیا، مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ این کی کتاب پاکستان میں میرے لیے مسائل کھڑے کرے گی۔ اور کتاب کو پڑھنے کے بعد میرے خیالات کی تصدیق ہو گئی۔

مجھے لندن آئے ہوئے چھ مہینے سے زائد ہو گئے تھے۔ اس کے بعد میری کبھی این سے بات نہیں ہو سکی تھی۔ یہاں میں رزق حلال کمانے کے چکر میں ایک ریسٹورنٹ میں شیف کا کام کر رہا تھا۔ ایک دن ڈیوٹی آف کر کے میں پیدل اپنے فلیٹ کی طرف جا رہا تھا کہ ایک اوپن ائیر کافی شاپ پر بیٹھے ایک شخص نے مجھے ٹھٹک کر رکنے پر مجبور کر دیا۔ وہ سُبل تھا، جو کافی پیتے ہوئے اخبار پڑھ رہا تھا۔

پہلےمیں نے سوچا کہ سبُل کو نظرانداز کر کے چپکے سے گزر جاؤں، لیکن این اور اس کی ذات سے جڑے کچھ سوالوں کی کسک ابھی میرے دل میں باقی تھی۔ سبل حسب سابق بڑی خوش خُلقی سے ملا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ میں یہاں کیا کر رہا ہوں۔ میں نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے بتایا کہ میں ادھر ایک چھوٹے سے پاکستانی ہوٹل پر کھانا بناتا ہوں۔ اس کے بعد میں نے سبل سے دریافت کیا کہ وہ یہاں کیا کر رہا ہے؟ سبل نے مجھے یہ بتا کر حیران کر دیا کہ وہ کاروباری ٹرپ پر ہے۔ اس دن سُبل سے کافی شاپ پر ہونے والی ملاقات ایک گھنٹے سے زائد تک چلتی رہی۔ سبل نے بہت خوش اخلاقی اور نرمی سے میرے ہر سوال کا جواب دیا، اور اس دوران کئی دفعہ میرے پیروں کے نیچے سے زمین کھسکائی۔ جب میں سُبل کے پاس سے اُٹھا تو مجھے حقیقتاً اپنے سر پر موجود آسمان گھومتا ہوا محسوس ہوا۔

سبل نے میرے سوال در سوال کے جو جوابات دیے تھے، ان کا خلاصہ یہ تھا کہ سُبل دراصل بڑے خان کا سگا بیٹا ہے۔ اس کی ساری تعلیم امریکہ کی ہے۔ وہ ایجنسی یا اس کے کسی آدمی سے کبھی رابطے میں نہیں رہا۔ این ٹامسن سبل کی نہ صرف دوست تھی بلکہ دوست سے بھی کچھ بڑھ کر تھی۔ عراق شام سے لوٹنے کے بعد این کو جوے اور کثرت شراب نوشی کی لت لگ چکی تھی۔ اس کا قرضہ اور پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔ صفتین عرف سبل اس کا کچھ قرضہ اتارتا اور اس کی وصولی این کے جسم سے کر لیتا۔ این کے لیے یہ ایک معمول کی بات تھی، اس کے تعلقات درجنوں مردوں سے رہ چکے تھے۔ جب این کے پاس بیچنے کے لیے اور کچھ نہیں رہا تو اس نے ایک کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن کوئی پبلشر صرف عراق اور شام کی باسی سٹوریز کے پس منظر کی کہانی شائع کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا، ان کو کچھ نیا چاہیے تھا۔ تب این نے ایک کیلکولیٹڈ رسک لینے کا فیصلہ کیا، اس کام کے لیے اس کا پرانا دوست سبل اس کے کام آ سکتا تھا، جس کا باپ پاکستان میں عسکریت پسندوں کے لیے نرم گوشہ رکھتا تھا۔ این نے چینل کو یقین دلایا کہ وہ اپنے سورسز کے ذریعے پاکستانی وزیراعظم کے انٹرویو کے لیے وقت لے سکتی ہے۔ اس کے بعد اصل ڈرامے کا آغاز ہوا۔ سبل بھی اس مشن کے لیے پاکستان آ چکا تھا، اس نے باپ کو رضامند کیا کہ وہ اس ڈرامے میں رنگ بھرنے کے لیے اپنے کرم فرماؤں کو زحمت دے، لیکن انھیں پوری کہانی سے آگاہ کرنے سے روک دیا۔ بڑے خان کے کہنے پر دہشت گردوں نے بظاہر این کو ایک سڑک سے اٹھایا اور بڑے خان کے بنگلے پر پہنچا دیا، وہ بڑے خوش تھے کہ ایک بڑا شکار ہاتھ لگا ہے، لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ شکار ان کو شکار کرنے کی فکر میں ہے۔ پروگرام یہ تھا کہ سبل کو پشاور پہنچایا جائے گا، یہاں سے سبل فرار ہو کر اسلام آباد اور وہاں سے امریکہ پہنچ جائے گی۔ تب تک اس کا میڈیا گروپ اتنی ہائپ پیدا کر چکا ہوگا کہ امریکہ میں این کا استقبال کسی بہادر ہیروئن کی طرح کیا جائے گا۔ اور پھر کتاب کے بھی پبلشر سے بہت اچھے دام مل جائیں گے۔ مسئلہ تب بنا جب این نے قبائلیوں کے ساتھ پشاور جانے سے انکار کر دیا۔ اسے کوئی مہذب اور ہینڈسم لڑکا درکار تھا، جو بدقسمتی سے میری صورت میں انھیں مل گیا۔ سارا ڈرامہ کامیابی سے چل رہا تھا کہ ان کی بدقسمتی سے میرا تعلق ایجنسی والوں سے نکل آیا۔ تھوڑی سی گڑبڑ کے بعد بظاہر سارا سکرپٹ توقع سے بھی زیادہ کامیاب رہا تھا اور اس کی ہیپی اینڈنگ بھی ہوگئی تھی۔
اس ڈرامے میں بظاہر میں ہی ایک لوزر رہا تھا یا مجھے رہ رہ کر اس ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کا چہرہ یاد آ جاتا تھا۔

سبل کے ساتھ ملاقات نے مجھے شدید ذہنی کوفت میں گرفتار کر دیا تھا، بظاہر وہ سچ بول رہا تھا، مگر اس کے جوابات نے کئی نئے سوال کھڑے کر دیے تھے، مثلاً اخلاق نے مجھے بتایا تھا کہ وہ بڑے صاحب کے ٹھکانے پر سبل کی وجہ سے پہنچے تھے۔ پھر اس نے راولپنڈی میں ہماری قیام گاہ والی حویلی کا پتہ بتانے کا کریڈٹ بھی سبل کو دیا تھا، اور سبل اس بات سے انکاری تھا کہ اس کا ایجنسی یا اخلاق کے ساتھ کوئی رابطہ تھا بلکہ وہ اخلاق کے نام سے بھی واقف نہیں تھا۔ پھر اخلاق نے مجھ سے اتنے بڑے جھوٹ کیوں بولے؟ آخر کس طرح اخلاق اس حویلی تک پہنچا تھا؟

مجھے ان سوالوں کے جواب کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ قدرت کے کام بھی نرالے ہوتے ہیں۔ سُبل سے ملاقات کے قریباً ایک ہفتے بعد میں سائیکل پر کہیں جا رہا تھا کہ بےخیالی میں ایک تیز رفتار کار کے سامنے آ گیا جس نے مجھے اُٹھا کے دور پھینک دیا۔ میری دائیں ٹانگ کی ہڈی میں فریکچر ہو گیا تھا۔ راڈ ڈالنے کے لیے سرجری کی ضرورت تھی۔ سرجری کے بعد ڈاکٹر نے مجھے ایک چپ سی تھمائی۔
یہ تمھاری ٹانگ سے نکلی ہے؟ کیا تم کوئی مجرم ہو جو تمھاری نگرانی کی جا رہی تھی؟
میں حیرت بھری نظروں سے اس ٹریکر کو دیکھتا رہا۔
اف خدایا!
میں لوگوں کو کیا سمجھتا رہا اور وہ کیا نکلتے رہے۔ جانے یہ ٹریکر کب سے اخلاق نے میری ٹانگ میں لگا رکھا تھا۔ اب مجھے بھولی ہوئی اور بہت سی باتیں بھی یاد آنے لگی تھیں۔ یہ ایسے دن تھے جب مجھے خود سے اور سب انسانوں سے شدید نفرت ہو گئی تھی۔ یہ میری زندگی کا بہت مشکل دور تھا. میری ٹانگ پلاستر میں لپٹی رہتی اور میں پاگلوں کی طرح گھنٹوں کھڑکی پر برستی بارش کی بوندوں کو تکتا رہتا۔

آخر یہ مشکل دن بھی گزر گئے، لیکن میری آزمائش ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ ٹانگ ٹھیک ہونے کے بعد مجھے دوبارہ کام پر جاتے کچھ دن ہی ہوئے تھے کہ ایک دن رومی کی کال آ گئی۔
وہ رو رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ میرے ابو اچانک ہارٹ اٹیک سے فوت ہو گئے ہیں۔
میں بے حس کھڑا سنتا رہا۔
میں نے فون بند کر دیا اور لڑکھڑاتا ہوا کچن سے نکلا۔
یہ رومی بھی پاگل ہے۔ پتہ نہیں کس کے انتقال کی اطلاع دے رہا تھا۔ جو شخص آج فوت ہوا تھا، وہ میری ماں کا شوہر ضرور ہوگا پر میرا باپ نہیں ہو سکتا۔ کیا باپ اس طرح کے ہوتے ہیں؟ اپنے معصوم بچوں کے نازک جسموں کو ربڑ کے پائپ اور بجلی کی تار سے پیٹتے ہیں۔ کیا باپ ایسے ہوتے ہیں کہ ناسمجھ بچوں کو ہاتھ پکڑ سے گھر سے نکال دیتے ہیں کہ جاؤ زمانے کی ٹھوکریں کھاؤ۔ بارہ سال ہوگئے ہیں ہمیں ایک دوسرے کی شکل دیکھے۔ اور رومی کہہ رہا تھا کہ میرا باپ مر گیا ہے۔

میں پاگلوں کی طرح خود سے اونچی اونچی آواز میں باتیں کرتا اپنے فلیٹ کی طرف چلتا جا رہا تھا، مجھے سر سے ٹوپی اتارنا یاد رہا تھا نہ ایپرن اتارنے کا ہوش۔ شاید میں واقعی ہی پاگل ہو گیا تھا۔ اتنے صدمے سہنے کے بعد کوئی اپنے حواس کس طرح قائم رکھ سکتا ہے؟
اب لندن میں ایک ایک سانس بھی مجھ پر بھاری تھی۔
جانے کیسے فلیٹ پر پہنچا، اپنا پاسپورٹ اٹھایا اور اسی حالت میں ائیرپورٹ آ گیا۔
ایک فلائٹ پاکستان جا رہی تھی مگر اس میں کوئی سیٹ خالی نہیں تھی۔ میں نے ایک مسافر کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔
میرا باپ مر گیا ہے۔ تمھارا بھی تو کوئی باپ ہوگا۔ تمھیں پتہ ہے جب باپ مرتا ہے تو یہاں سینے میں بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ اگر تم اپنی ٹکٹ مجھے دے دو تو میں بارہ سال بعد اپنے باپ کا منہ دیکھ لوں گا۔ میں ساری عمر تمھاری غلامی کروں گا میں اس کے پیروں میں لیٹ گیا اور اپنا منہ اس کے بوٹوں پر رکھ دیا۔ میں بالکل پاگل ہو چکا تھا۔
اور اگر تم نے مجھے ٹکٹ نہیں دی تو میں یہ طیارہ اغوا کر کے لے جاؤں گا۔ تم مجھے جانتے نہیں ہو، میں بہت خطرناک آدمی ہوں۔

پتہ نہیں میں جنون میں کیا کیا بک رہا تھا۔ پھر کسی مسافر نے ترس کھا کر اپنا ٹکٹ مجھے دے دیا۔ جہاز پتہ نہیں کب لاہور پہنچا۔ ائیرپورٹ سے نکلا تو رومی میرا انتظار کر رہا تھا۔
تو اپنی اصلیت کب دکھائے گا مجھے۔
کچھ بھی نہیں ہے میرے پاس۔
جا دفعہ ہو جا۔ میں نے رومی کو دھکے دیے۔
رومی مجھ سے لپٹ کر روتا رہا، لیکن میری آنکھ سے ایک آنسو بھی نہیں ٹپکا۔ پتہ نہیں لوگ کیسے رو لیتے ہیں۔ رومی مجھے کار میں قبرستان لے گیا، جنازہ ہو چکا تھا، کسی نے بھی میرا انتظار نہیں کیا تھا۔ میری اہمیت ہی کیا تھی کہ میرا انتظار کیا جاتا۔
ابو کی قبر دیکھتے ہی میرے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے اور میں قبر سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کے رویا۔
ابو جی! آپ نے کبھی مجھے بولنے نہیں دیا۔ ساری زندگی کی باتیں جمع ہیں جو آپ سے کرنی ہیں ۔ابو جی! میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کبھی آپ کو مجھ پر پیار اور ترس نہیں آیا؟
میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے سگریٹ، شراب اور لڑکیوں سے نفرت ہے۔ آپ غصہ ہوتے تھے کہ میں نماز نہیں پڑھتا لیکن اب تو میں پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہوں۔ رزق حلال کما کر کھاتا ہوں پر آپ اب بھی مجھ سے پیار نہیں کرتے؟
میں ساری زندگی آپ کی کال کا انتظار کرتا رہا، لیکن آپ نے پلٹ کے میری خبر نہیں لی۔
آپ نے اپنے دوسرے بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بنایا اور مجھے زمانے کی ٹھوکریں کھانے اور مجرم بننے کے لیے آزاد چھوڑ دیا۔ ابو جی جیل بہت بری اور گندی جگہ ہوتی ہے۔ اور میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ والدین کی ذمہ داری صرف بچے پیدا کرنا نہیں ہوتی۔ بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت بھی والدین پر فرض ہوتی ہے۔ آپ جیسے والد تو بچے سے اعلان لاتعلقی کا اشتہار چھپوا کر فارغ ہو جاتے ہیں مگر یہ بچے ذہنی مریض اور درندے بن کر دوسروں کی جان و مال کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔
میں روتا رہا اور بےمقصد چلاتا رہا۔ رومی میرے پیچھے کھڑا بےآواز رو رہا تھا۔
کافی دیر بعد میرا سینے کا غبار دھلا اور میں بالکل ہلکا پھکا ہو گیا۔ فاتحہ پڑھی اور بارہ سال بعد گھر چلا گیا۔

ابو کی وفات کو کافی دن گزر گئے تھے۔ میں روز قبرستان جاتا اور قبر کے سرہانے بیٹھ کر سورۃ یاسین کی تلاوت کرتا۔ ایک دن رومی نے بتایا کہ سیٹھ حمید کا اکلوتا بیٹا فوت ہو گیا ہے۔ اس سانحے نے شیخ کے دل کی دنیا ہی بدل دی ہے۔ میں شیخ سے ملنے گیا، وہ واقعی ہی بدل گیا تھا۔ اس نے سب ناجائز دھندے چھوڑ دیے تھے اور گوشہ نشین ہو گیا تھا۔

میں نے شیخ کو بتایا کہ میری عرصے سے خواہش ہے کہ میں گھر سے بھاگے ہوئے اور بےگھر بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک ادراہ بناؤں تاکہ جو عذاب میں نے جھیلے ہیں، دوسروں کو ان سے بچا سکوں۔ میں خود حلال کے کبھی اتنے جوڑ ہی نہیں پایا اور حرام کے میں ایسے کام پر لگا نہیں سکتا تھا۔ آپ کی بےانتہا دولت اگر اس نیک کام پر لگ جائے تو شاید یہ ہمارے گناہوں کا کفارہ اور آخرت میں ہم دونوں کی بخشش کا سبب بن جائے۔
شیخ صاحب خاموشی سے اٹھے اور اندر جا کے مختلف بینکوں کی چیک بکس اٹھا لائے۔ انھوں نے مجھے مجموعی طور پر کروڑوں کے چیک تھما دیے۔
شیخ صاحب آپ ایک نوسرباز کو اپنی جمع پونجی تھما رہے ہیں۔ میں نے چیک دیکھتے ہوئے کہا۔
شیخ صاحب کے چہرے پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ دوڑ گئی۔
میں جانتا ہوں تو چور نہیں ہے۔ تو تو بڑا نیک لڑکا ہے، بس کچھ ڈنگا ہے۔ کسی نے کبھی تجھے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے ہمیشہ اپنے آپ سے زیادہ تجھ پر اعتبار رہا ہے۔
میں شیخ صاحب کے پاس سے اٹھا تو مجھے اپنی بےمصرف زندگی کا مقصد مل چکا تھا۔

آج میں لاہور میں ہی یتیم، بےآسرا اور گھر سے بھاگے بچوں کی بہبود کا ایک بڑا ادارہ چلا رہا ہوں۔ اور میری ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ باپ کی جس شفقت سے میں محروم رہا، وہ ان بچوں کو میری شکل میں ملتی رہے۔
ہاں! شادی ابھی میں نے نہیں کی۔ شاید میں ابھی تک این کو پوری طرح بھول ہی نہیں پایا۔
مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیےگا۔
ختم شد

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!