آخری دن – محمد عامر خاکوانی

آج سال کا آخری دن ہے۔ گزرے دنوں کے جائزے اور احتساب کادن۔ ہر سال کے آغاز میں بہت سے لوگ نئے عہد کرتے ہیں، آنے والے مہینوں میں کچھ کام کرنے، کچھ نہ کرنے کی کمٹمنٹ۔ سال کے بعد پتہ لگتا ہے کہ ان میں سے بیشتر عہد ادھورے، ناتمام رہ گئے۔

اکتیس دسمبر کا یہ دن اپنی غلطیوں، ناکامیوں کا تجزیہ کرنے کے لیے ہے۔ کہاں کہاں بھول ہوئی، کیا وجوہ تھیں، جن کے باعث نیو ائیر ریزولوشن کامیاب نہ ہوسکے۔اس کے ساتھ ایک بار پھر نئے سال کے لئے نئے جذبے کے ساتھ نئے عہد کرنے کابھی یہی دن ہے۔ایک بار میںنے لکھا تھا کہ ہمارے ہاں نئے سال کی ڈائری عام طور پر شعر، کوٹیشن وغیرہ نوٹ کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے یا پھر بعض مصروف لوگ اسے اپنی اپائنمنٹس کے لئے برتتے ہیں۔ اس کا ایک اہم استعمال اور بھی ہے، وہ نئے سال کی مکمل پلاننگ سال شروع ہونے سے پہلے کر لینا ۔ اپنی زندگی میں نظم وضبط رکھنے والے لوگ اکتیس دسمبر ہی کو اگلے سال کی پوری پلاننگ کر کے اسے ڈائری میں نوٹ کر لیتے ہیں۔ان پر واضح ہوتا ہے کہ اگلے سال جنوری میں یہ کرنا ہے، مارچ میں فلاں کام، جون ، جولائی یا ستمبر میں کون کون سے ٹاسک مکمل کرنے ہیں ۔دنیا کے ٹاپ ٹین بہترین مقررین اور موٹی ویشنل سپیکرز میں سے ایک ٹونی بوزان ہیں، ٹونی مائنڈ میپ جیسی شہرہ آفاق تکنیک کے بانی ہیں۔ ٹونی بوزان اس وقت چھہتر سال کے ہیں، مگر ٹونی نے اگلے تیس برسوں کی مکمل پلاننگ کر کے لکھ رکھی ہے۔ فلاں فلاں ممالک کے وزٹس کرنے ہیں، کون سی نئی چیزیں سیکھنا اور اپنی شخصیت میں کیا مزید مثبت تبدیلیاں کرنا ہیں۔

بات نیو ائیر ریزولوشن کی ہو رہی تھی، ایک دوست نے آرٹیکل بھیجا۔ نئے سال کے عہد کے حوالے سے ایک سٹڈی رپورٹ ہے، جس کے مطابق ناکام ترین نیو ائیر کمٹمنٹس میں سے ٹاپ پر وزن کم کرنے کا عہد ہے۔ ہر سال دنیا بھر میںکروڑوں لوگ اپنا وزن گھٹانے اور فٹ رہنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، سال ختم ہونے پر پتہ چلتا ہے کہ وزن میں الٹا دو چار کلو کا اضافہ ہوگیا۔ دیگر پورے نہ ہونے والے وعدوں میں سگریٹ چھوڑنا، کچھ نیا سیکھنا، صحت مند غذا کھانا، قرضہ اتار کر کچھ بچت کرنا اور گھر والوں کے ساتھ مزید وقت گزارنا ہے۔ یہ تمام بہت اہم باتیں ہیں۔ سگریٹ کی تباہ کاری کے بارے میں کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔ صحت مند غذا انسان کی صحت کے لئے لازمی ہے، آمدنی بڑھانے اور اخراجات میںکمی کرنے سے بہت سے مسائل دور ہوجاتے ہیں۔ فیملی کے ساتھ وقت گزارنا ذہنی اور جسمانی صحت کے لئے ضروری ہے اور اس سے شادی شدہ جوڑوں کا باہمی تعلق بھی زیادہ اچھے طریقے سے آگے بڑھتا ہے۔نیا ہنر، زبان یاکچھ اور سیکھنا دراصل شخصیت کے ارتقا کے لئے مفید ہے۔

سوال ایسے میں یہی ہے کہ آخر ہم ان تمام کاموں کو اچھا مانتے ، سمجھتے ہوئے کر کیوں نہیں پاتے؟اس حوالے سے ایک ریسرچ پڑھی کہ ہمارا دماغ کیوں ہمیںناکام کر دیتا ہے؟دراصل یہ عہد کرنا ہمیںبہت خوشگوارلگتا ہے ،مگر جب ان پر عمل کرنا شروع کریں تو وہ سب اتنا خوشگوار اور فرحت بخش نہیں رہتا۔ وزن کم کرنے کا خیال خوش آئند ہے، مگر اس کے لئے روزانہ پون گھنٹہ تیز واک اور کھانے پینے کی بگڑی عادتیں سنوارنا، کیلوریز میں کمی کرنا اور اپنا دن بھر کا شیڈول منظم کرنا قطعی طور پر آسان نہیں۔ اسی وجہ سے چند دن بعد ہم اپنا ردھم کھو بیٹھتے ہیں۔ یہی حال باقی عادتوں کا ہے۔ چند دن سگریٹ نہ پینے یا کم سگریٹ پینے کے بعد دوبارہ سے وہی روٹین لوٹ آتی ہے۔ ایک اور وجہ جو میری سمجھ میں آئی، وہ ہمارا تیزرفتار زندگی کا معمول ہے۔ ہم میں سے بیشتر لوگ وقت کے تیز رفتار ریلے پر تنکے کی طرح بہتے چلے جاتے ہیں۔اتنا وقت ہی نہیں نکال پاتے کہ رک کر جائزہ لیا جائے۔ اسی وجہ سے بیشتر نیو ائیر ریزولوشن کامیاب نہیں ہوپاتے۔ اس کا علاج مایوسی یا دل شکستگی نہیں بلکہ اگلے سال کے لئے زیادہ سمارٹ انداز سے سرگرم رہنا ہے۔ یہی زندگی ہے۔ ہم سب چلتے، بھاگتے ، گرتے اور پھر اٹھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اگر ہم ہر مہینے نہ سہی، تین ماہ کے بعد ہی فالو اپ کی عادت ڈال لیں تو سال کے آخر میں پتہ چلے گا کہ پچھلے سال کی نسبت کامیابیوں کی شرح خاصی زیادہ رہی۔ جسے یقین نہ ہو، اس بار آزما کر دیکھ لے۔

یہ کالم لکھتے ہوئے میں نے پچھلے سال اکتیس دسمبر والے اپنے کالم کو نکال کر دوبارہ پڑھا۔ کئی عہد ناتمام رہے، بہت سے خواب تشنہ اور کچھ منصوبے شروع ہی نہ ہوسکے۔ بہت سا وقت سوشل میڈیا پر صرف ہوگیا۔ فیس بک کے مثبت منفی دونوں پہلو ہیں ، بہتر استعمال کیا جائے تو فائدہ بھی مل سکتا ہے، نقصان یہ ہے کہ فیس بک ایک نشے کی طرح لگ جاتی ہے۔ اس کی عادت پڑجاتی ہے اور پھر چاہتے ہوئے بھی اس سے الگ رہنا ممکن نہیں رہتا۔ گھنٹوں سوشل میڈیا پر ضائع ہوجائیں تو آدمی کتابوں کے لئے وقت نہیں نکال پاتا۔ جیسے تیسے کچھ کتابیں پڑھنے کے لئے وقت نکال پایا، اگرچہ تشنگی باقی رہی۔ میرے لئے دو ہزار سولہ میں ایک بڑی کامیابی یہ ہوئی کہ میرے کالموں کے انتخاب پر مبنی کتاب آخر کار فائنل ہوگئی ۔ پچھلے چا ر پانچ برسوں سے اس پر کام چل رہا تھا، اب کتاب آخری شکل میں پبلشر کے پاس ہے اور انشااللہ جنوری میں ”زنگار ‘‘کے نام سے میرے پچھلے بارہ برسوں کے کالموں کا انتخاب شائع ہوجائے گا۔اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ بے رحمانہ انتخاب کیا جائے اورصرف وہی تحریریں لی جائیں جو مستقل اہمیت کی حامل ہوں اور وقت گزرنے کے ساتھ جو باسی نہ ہوپائیں۔رواں سال چند دوستوں کے ساتھ مل کر ایک ویب سائٹ دلیل ڈاٹ پی کے لانچ کی ۔ ستائیس رمضان کو یہ ویب سائٹ ایک خاص ایجنڈے کے تحت شروع کی ۔ دلیل ڈاٹ پی کے کو رب تعالیٰ نے غیرمعمولی کامیابی عطا کی، صرف تین چار ماہ کے اندر یہ خالص مضامین اور بلاگ شائع کرنے والی ٹاپ دو ویب سائٹس میں شامل ہوگئی۔ دلیل شروع کرنے کا مقصدایک نظریاتی پلیٹ فارم کا اجرا تھا، جہاںدائیں بازو کے دینی ، فکری ایشوز پر اپنا نقطہ نظر دلیل کے ساتھ پیش کیا جائے۔ دلیل ڈاٹ پی کے نے اپنی جگہ بنا لی توپھر اس کی ادارتی ٹیم سے الگ ہوگیا ۔ پہلے سے یہی سوچا تھا کہ کچھ عرصہ کے لئے ساتھ دیا جائے اور پھر ان جھمیلوں سے دور رہ کر اپنی کتابوں پر کا م کیا جائے۔ اب ارادہ ہے کہ دینی، فکری ، نظریاتی موضوعات پر لکھی اپنی تحریریں اکٹھی کر کے ، کچھ اضافہ کے ساتھ ایک کتاب بنائی جائے، اگلے سال انشااللہ انٹرویوز پر مبنی کتاب بھی مارکیٹ میں لے آئوں گا۔ سال کے آخری مہینوںمیں جناب شکیل عادل زادہ کی جانب سے سب رنگ کے پرانے شماروں اور خاص نمبر ز پر مشتمل ایک ایسا تحفہ موصول ہوا،جس نے سرشار کر دیا۔ شکیل بھائی کا میں بہت بڑا مداح ہوں۔ سب رنگ نے ہماری زندگی میں بہت سے خوبصورت رنگ شامل کئے۔ سب رنگ کے ان شماروں کو دوبارہ سے پڑھنا ایک شاندار تجربہ رہا۔

کتابوں کی فہرست بنائی تھی، ان پر تو عمل نہ ہوسکا، البتہ بہت سی شاندار فلمیں دیکھنے کو ملیں۔ فلموں اور ٹی وی سیزن دیکھنے کا موقعہ ملا۔ نیٹ فلیکس کی دنیا سے بھی تعارف ہوا۔ گیم آف تھرون ، ہائوس آف کارڈز اور دیگر شاندار شوز نے متحیر کر دیا۔ یہ ایک نئی دنیا تھی، جس سے اسی سال متعارف ہوا۔ اس پر الگ سے بھی لکھوں گا۔ اگلے سال کے پلانز میں صحت اور فٹنس سرفہرست ہیں۔ وزن کم نہ کیا تو شائد اب زندگی کیلئے خطرناک ثابت ہوگا۔ فیملی کے ساتھ مزید وقت گزارنا بھی میری ترجیحی فہرست میں شامل ہے۔بیوی جتنی بھی اچھی ہو، اس کو زیادہ آزمائش میں ڈالناانصاف نہیں۔ نئے سال کے لئے چاہ رہا ہوں کہ لکھنے کا کام زیادہ کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ مثبت تخلیقی تحریریں وجود میں آئیں، جنہیں چھوٹی چھوٹی کتابوں کی شکل میں شائع کیا جائے۔ پچھلے سال پشتو سیکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا، الحمدللہ ‘ ‘ دو جملے‘‘ سیکھنے میں کامیاب رہا۔ اس سال ارادہ ہے کہ پشتو سیکھی جائے۔ لاہور میںمقیم پشتون دوستوں پر ”ذمہ داری‘‘ عائد ہوتی ہے کہ وہ رضاکارانہ بنیاد پر یہ بوجھ اٹھائیں۔ ہر سال یہ سوچتا ہوں کہ پہلے سے بہتر انسان کے طور پر زندگی شروع کی جائے، رب تعالیٰ سے توفیق اور مدد کی دعا ہے ۔

Comments

FB Login Required

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ دنیا میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے سابق مدیر رہ چکے ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

Protected by WP Anti Spam