پاکستان کا سال 2016ء کیسا گزرا؟ عابد محمود عزام

2016ء اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ یہ سال دنیا بھر میں کہیں دھماکے کی گونج سے سہما ہوا دکھائی دیتا ہے تو کہیں زخمیوں کی چیخ و پکار سے کراہ رہا ہے۔ کہیں پناہ گزینوں کے کیمپوں سے درد بھری آواز بن کے ابھرتا ہے تو کہیں روشن مستقبل کی تلاش میں تارکین وطن کو سمندر کے بیچوں بیچ ڈوبتا دیکھتا ہے۔ کہیں قدرتی آفات اپنی دھاک بٹھاتی نظر آتی ہیں تو کہیں انسانی غلطیاں فضاء سے زمین بوس ہوتے دکھائی دیتی ہیں۔ کہیں روایتی سیاست کے بوسیدہ لباس کی جگہ نئی پوشاک اوڑھی مسکراتی ہے تو کہیں سکڑتی دنیا میں تہذیب و تمدن کے انضمام سے سماجیات کے بدلتے ڈھنگ جگمگ کرتے ہیں۔

تضادات کا مجموعہ 2016ء جہاں دنیا بھر میں بہت سے اہم واقعات کو لے کر اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، وہیں پاکستان میں بھی بہت سے اہم واقعات و سانحات رونما ہوئے۔ گزرا ہوا سال پاکستان کے لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ وطن عزیز کے حوالے سے اگر سال رفتہ کا جائزہ لیا جائے تو مایوس کن ماضی کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ 2016ء میں حکومتی دعوے و اعلانات کا سلسلہ جاری رہا۔ عوام سیاست دانوں کے مفادات کی چکی میں پستے رہے۔ اپوزیشن اور حکومت عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلتے رہے۔ دونوں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے اور الزامات کی بوچھاڑ کرتے رہے، لیکن کسی نے عوام کے حقوق کی بات نہ کی۔ عوام کو 2016ء میں بھی لوڈشیڈنگ، بدامنی، غربت، مہنگائی، بےروزگاری اور کرپشن سے نجات نہ مل سکی اور ضروریات زندگی بھی مسیر نہ آسکیں۔ سال 2016ء میں پاناما پیپرز کیس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا۔ دنیا کی نامور شخصیات کو آف شور کمپنیاں بنانے پر عوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض ممالک کی اہم شخصیات کو اپنے عہدوں سے استعفیٰ بھی دینا پڑا۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف کی فیملی کا نام بھی پاناما پیپرز میں آیا، جس کے بعد عوام اور اپوزیشن نے ان کے احتساب کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے خلاف دھرنا اور احتجاج بھی کیا گیا۔ معاملہ پارلیمنٹ میں بار بار زیر بحث رہا۔ سپریم کورٹ میں بھی گیا، لیکن تاحال میاں نواز شریف اپنی فیملی کے احتساب کی راہ میں رکاوٹ بنے کھڑے ہیں اور معاملے کو مزید طول دیے جارہے ہیں۔ لگتا ہے آئندہ الیکشن تک یہ معاملہ یوں ہی چلتا رہے گا۔

2016ء میں جنرل راحیل شریف ملک میں امن کے قیام اور تعمیر و ترقی کے حوالے سے کیے گئے اہم اقدامات کی وجہ سے میڈیا پر چھائے رہے اور شاندار انداز میں رخصت ہوئے۔ 29 نومبر کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو کر فوج کی کمان جنرل قمر جاوید باجوہ کے سپرد کر دی۔ جنرل راحیل شریف کی خصوصی توجہ سے 2016ء اس اعتبار سے پاکستان کے لیے بہتر رہا کہ نومبر میں سی پیک منصوبے کے تحت گوادر پورٹ کا افتتاح اور پہلا قافلہ روانہ کیا گیا۔ یہ ایک بہت بڑا تجارتی منصوبہ ہے، جس کا مقصد جنوب مغربی پاکستان سے چین کے شمال مغربی خود مختار علاقے سنکیانگ تک گوادر بندرگاہ، ریلوے اور موٹروے کے ذریعے تیل اور گیس کی کم وقت میں ترسیل کرنا ہے۔ اقتصادی راہداری پاک چین تعلقات میں مرکزی اہمیت کی حامل تصور کی جاتی ہے، گوادر سے کاشغر تک تقریباً 2442 کلومیٹر طویل ہے۔ اس پر کل 46 بلین ڈالر لاگت کا اندازا کیا گیا ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف پاکستان کو دنیا بھر میں اعلیٰ مقام ملے گا، بلکہ ٹیکس کی مد میں ہونے والی آمدن پاکستان کی معیشت پر شاندار اثرات بھی ڈالے گی۔ پاکستان میں معاشی انقلاب برپا کرنے والا یہ منصوبہ نہ صرف ایک اور شاہراہ ریشم کو جنم دے گا جو تجارت کو محفوظ، آسان اور مختصر بنائے گی، بلکہ اس کے ساتھ ہی گوادر کو ایک انتہائی اہم مقام میں تبدیل کر دے گا، جس کی جستجو ترقی یافتہ ممالک کرتے ہیں۔ پاک چین راہداری منصوبہ پاکستان کی ترقی کے لیے اہم سنگ میل ہے۔ بھارت و امریکا سمیت تمام دشمنان پاکستان نے اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے بہت سازشیں کیں، جبکہ بھارت نے اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان میں اپنے ایجنٹوں کو جال بچھا دیے، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمام دشمنوں کو ناکام و نامراد لوٹایا اور نومبر میں اس منصوبے کا افتتاح کر دیا گیا۔

2016ء میں بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کا سلسلہ حسب معمول جاری رہا، جس کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ بھی ہوتا رہا۔ بھارت کی جانب سے سرحدی گولہ باری کی وجہ سے پاک فوج کے متعدد جوان اور سویلین شہید بھی ہوئے۔ 2016ء میں بھارت نے سو سے زائد بار لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی، پاکستان نے کئی بار بھارتی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا اور یہ معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھایا، لیکن بھارت اپنے جارحانہ رویے کو تبدیل کرنے پر تاحال راضی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   جمہوریت کا دوسرا نام - علامہ تصور عنایت

2016ء کشمیری عوام کے لیے بھی کافی سخت ثابت ہوا۔ 8جولائی کو مظفر برہان وانی کو بھارتی فوج نے شہید کیا، جس کے بعد کشمیری عوام نے بھارتی فورسز کے سامنے ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا۔ بھارت کے خلاف مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ شروع کیا، جسے روکنے کے لیے بھارتی فورسز نے مظالم کا ہر طریقہ آزما یا۔ کشمیریوں کے چہروں پر پیلٹ گن سے فائر کیے۔ تعلیم ادارے بند، ہسپتال بند، بازار، موبائل سروس بند اور کرفیو نافذ کردیا گیا۔ کشمیری عوام اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے۔ کشمیر میں جولائی سے بھارتی مظالم کی وجہ سے سو سے زائد کشمیر شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ پیلٹ گن کا نشانہ بننے کی وجہ سے ہزار سے زائد کشمیری آنکھوں کی بینائی سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوگئے۔

2016ء میں دہشت گردی میں اگرچہ کافی حد تک کمی واقع ہوئی، لیکن مکمل طور پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ دہشتگردی کے کئی واقعات رونما ہوئے، لیکن چند بڑے واقعات کو یہاں ذکر کرتے ہیں، جن میں سیکڑوں افراد جاں بحق اور سیکڑوں ہی زخمی ہوئے۔ 20 جنوری بروز بدھ 2016ء کو چارسدہ کے علاقے میں قائم جامعہ باچاخان پر صبح نو بجے کے قریب چار مسلح حملہ آوروں نے حملہ کیا، جس میں ابتدائی طور پر 21 افراد ہلاک ہوئے اور 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں جامعہ کے شعبہ کیمیا کا ایک پروفیسر بھی شامل تھا۔ 200 سے زائد طلبہ کو یونیورسٹی کے احاطہ سے بچا کر نکال لیا گیا، جبکہ 4 بندوق بردار مارے گئے۔ 27 مارچ کو گلشن اقبال پارک لاہور میں خودکش دھماکا ہوا، جس میں 72 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ یہ حملہ لاہور میں ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک تھا۔ حملے کا نشانہ تفریحی مرکز میں موجود ایسٹر کا تہوار منانے والے مسیحی تھے، جن میں سے بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی تھی۔ مرنے والوں میں 29 بچے شامل تھے۔ 8 اگست کو دہشتگردوں نے کوئٹہ کے سرکاری ہسپتال پر خود کش بم حملہ کیا اور گولیاں برسائیں، جس کے نتیجے میں 77 افراد جاں بحق، جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ متاثرین کی بڑی تعداد میں وکلا شامل تھے، جو ہسپتال میں وکیل بلال انور کاسی کی میت پر جمع ہوئے تھے۔ بلال انور، بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر تھے جنھیں نامعلوم شخص نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ 24 اکتوبر 2016ء کو کوئٹہ کے سراب روڈ پر واقع پولیس تربیتی مرکز میں رات کو ایک خودکش حملہ ہوا۔ اس دوران تین خودکش حملہ آوروں نے تابڑ توڑ فائرنگ کی۔ اس دہشت گرد حملے میں 60 کیڈٹوں کی موت ہوگئی اور 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ تینوں خودکش حملہ آوروں کو حفاظتی افواج نے مار گرایا۔ پولیس کے مطابق پانچ سے چھ مسلح افراد نے حملہ کیا تھا اور حملہ میں دھماکا خیز مواد کا بھی استعمال کیا گیا تھا۔

رواں سال جہاں کئی اور افسوسناک واقعات رونما ہوئے وہیں یہ سال فضائی حادثات کے حوالے سے بھی کافی خوفناک ثابت ہوا۔ اس سال جہاں کولمبیا، انڈونیشیا اور روس کے طیاروں کو حادثات پیش آنے سے سیکڑوں مسافر لقمہ اجل بنے، وہیں 2016ء پاکستان کو بھی ایک المناک فضائی حادثے سے دوچار کر گیا۔ یہ المناک حادثہ 7 دسمبر کو اس وقت پیش آیا جب پی آئی اے کا طیارہ چترال سے اسلام آباد کی جانب سے سفر کرتے ہوئے ایبٹ آباد کے علاقے حویلیاں کے نزدیک واقع پہاڑیوں کے درمیان گر کر تباہ ہوگیا۔ اس افسوسناک حادثے میں عملے کے 6 افراد کے سمیت طیارے میں سوار تمام 48 مسافر اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے، جن میں معروف نعت خواں اور مبلغ جنید جمشید اور ڈی سی چترال اسامہ احمد وڑائچ بھی شامل تھے۔

سال 2016ءمیں کئی اہم اور نامور شخصیات ہم سے جدا ہوگئیں۔ ان میں بعض تو طبعی موت کاشکار ہوئیں، جبکہ بعض اچانک کسی نہ کسی حادثے کی نظر ہوگئیں۔ دنیا بھر میں اپنے سماجی کاموں سے جانے پہچانے جانے والے ممتاز سماجی کارکن اور ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی 8 جولائی 2016ء کو طویل بیماری میں مبتلا رہنے کے بعد انتقال کر گئے تھے۔ عبدالستار ایدھی ذیابیطس اور بلند فشار خون کے مرض میں مبتلا تھے، جس کی وجہ سے ان کے گردے فیل ہو گئے تھے اور وہ ڈائلائسز کے لیے ہسپتال میں داخل تھے۔ عبدالستار ایدھی نے اپنی تمام عمر انسانیت کی خدمت میں وقف کر دی تھی، انسانیت کے لیے بے لوث خدمات پر انہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا۔ خادم انسانیت عبدالستار ایدھی کے انتقال کی خبر نے پورے ملک کی فضا کو سوگوار کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   جناح کا پاکستان اور قائد کی تصویر - فیاض راجہ

پاکستان کے معروف افسانہ اور ناول نگار انتظار حسین 2 فروری 2016ء کو 92 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کا شمار موجودہ عہد میں پاکستان ہی کے نہیں، بلکہ اردو فکشن، خاص طور پر افسانے یا کہانی کے اہم ترین ادیبوں میں کیا جاتا تھا۔ انتظار حسین پاکستان کے پہلے ادیب تھے، جن کا نام مین بکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔ انھیں حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز اور اکادمی ادبیات پاکستان نے پاکستان کے سب سے بڑ ے ادبی اعزاز کمال فن ایوارڈ سے نوازا تھا۔

معروف ڈرامہ نگار اور ادیبہ فاطمہ ثریا بجیا 10فروری 2016ء میں 85 سال کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئی تھیں۔ فاطمہ ثریا بجیا طویل عرصے سے گلے کے کینسر میں مبتلا تھیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے صلے میں انھیں تمغہ حسن کارکردگی اور ہلال امتیاز سے نوازا، جبکہ حکومت جاپان نے بھی انہیں اپنا اعلیٰ ترین شہری اعزاز عطا کیا۔ معروف قوال امجد صابری کو 22 جون 2016ء کو دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر قتل کردیا تھا۔ امجد صابری نجی ٹی وی کے پروگرام میں شرکت کے لیے اپنی رہائش گاہ سے نکلے تھے کہ لیاقت آباد 10 نمبرمیں گھات لگائے دہشت گردوں نے ٹریفک کے دباو¿ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی گاڑی کی رفتار کم ہونے پر انہیں نشانہ بنایا اور فرار ہوگئے تھے۔

سینئر سیاستدان معراج محمد خان 22 جولائی 2016ء کو طویل علالت کے بعد 77سال کی عمر میں رضائے الہٰی سے انتقال کرگئے تھے۔ معراج محمد خان ملکی سیاست میں معتبر مقام رکھتے تھے، وہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی تھے، انہوں نے جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کے زمانے میں طلبہ سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔

عالمی شہرت یافتہ پاکستانی کرکٹر اور قومی ٹیم کے سابق کپتان حنیف محمد 11 اگست 2016ء میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی عمر 81 برس تھی اور وہ سرطان کے مرض میں مبتلا تھے۔ حنیف محمد کا شمار ان کھلاڑیوں میں ہوتا ہے، جنھیں پاکستانی کرکٹ کا اولین سپر سٹار کہا جا سکتا ہے۔

سربراہ جماعت اہلسنت پاکستان کے سربراہ علامہ سید شاہ تراب الحق قادری 6 اکتوبر 2016ء کو طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے تھے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما جہانگیر بدر 11 نومبر 2016ء کو دل کا دورہ پڑنے سے لاہور میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی عمر 72 برس تھی، وہ گردوں کے عارضے میں بھی مبتلا تھے۔ جہانگیر بدر کا شمار سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا اور وہ پارٹی پر کڑے وقت میں اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے رہے اور جنرل ایوب، جنرل ضیاءاور جنرل مشرف کی آمریت جیل بھی کاٹی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینئر نائب صدرحاجی محمد عدیل 18 نومبر 2016ء میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔ حاجی محمد عدیل 1990ء، 1993ء اور 1997ء میں اے این پی کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے، 1993ء میں خیبرپختونخوا کے وزیرخزانہ اور 1997ء سے 1999ء تک ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی رہے، جبکہ 2009ء سے 2015ء تک وہ سینیٹر بھی رہے۔

دنیا کی بلند ترین اور قاتل برفانی چوٹیوں کو اپنے عزم و ہمت سے شکست دینے والے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما حسن سد پارہ 21 نومبر 2016ء کو موت سے شکست کھا گئے تھے، وہ خون کے سرطان میں مبتلا تھے۔ دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو بغیر مصنوعی آکسیجن کے سر کرنے کا منفرد اعزاز بھی حسن سد پارہ کو حاصل ہے۔ حسن سد پارہ پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے 8 ہزار میٹر سے بلند 6 چوٹیوں کو سر کیا ہے جن میں ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو سمیت براڈ پیک، گشابرم ون، ٹو اور نانگا پربت شامل ہیں۔

پاکستان کی معروف شخصیت جنید جمشید 7 دسمبر 2016 کو پی آئی اے کے چترال سے اسلام آباد آنے والے مسافر طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ اپنی زندگی اسلام کے لیے وقف کر دینے والے جنید جمشید کی ناگہانی موت نے دنیا بھر میں ان کے پرستاروں کو سوگوار کردیا تھا۔ جنید جمشید کو پاکستان میں پاپ میوزک کے بانیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ جنید جمشید نے گلوکاری کے شعبے سے آغاز کرکے پاکستان سمیت دنیا بھر میں شہرت حاصل کی اور بعد ازاں 2002 جنید جمشید نے میوزک میں اپنے کیریئر کو خیر آباد کہتے ہوئے تبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی تھی، جس کے بعد جنید جمشید نے نعتوں اور حمدیہ کلام پر مشتمل کئی البم ریلیز کیے اور اپنی زندگی دعوت دین کے لیے وقف کردی تھی۔

2016ء اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ اللہ سے دعا ہے کہ 2017ء پاکستانی قوم اور پوری امت مسلمہ کے لیے خیر و عافیت لے کر آئے۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں