تاج محل یا شوکت خانم؟ آصف محمود

کینسر کے موذی مرض سے نبرد آزما ایک ننھا جود، چہرے پر فرشتوں جیسی معصوم مسکراہٹ اور آنکھوں میں سپنوں کی حدت لیے عمران خان کے قدم سے قدم ملائے جب شوکت خانم ہسپتال کے افتتاح کو آ گے بڑھا تو ایک سوال نے اپنی گرفت میں لے لیا: محبت کی حقیقی یادگار کون سی ہے؟ شاہ جہاں کا تاج محل یا عمران خان کا شوکت خانم؟

تاج محل کا ایک عالم میں شہرہ ہے۔ لیکن اس کا شوکت خانم سے کیا مقابلہ؟ محبت سے اس کا کیا تعلق کہ وہ تو ایک شہنشاہ کی ہوس اور فکری افلاس کا نشان ہے۔ ممتاز محل زندگی کے انیس سال شاہجہاں کے ساتھ اس کی ملکہ بن کر رہی۔ ان انیس سالوں میں شاہجہاں نے اس سے چودہ بچے پیدا کیے۔یعنی قریب قریب ہر سال میں ایک بچہ۔ اس حسنِ سلوک کو ذہنی امراض کے باب میں تو درج کیا جا سکتا ہے، محبت نہیں کہا جا سکتا۔ شاہِ معظم کے چودھویں بچے کو جنم دیتے ہوئے خون کی کمی کا شکار ہو کر ممتاز محل مر گئی۔ مہذب دنیا ہوتی تو اس جہالت، ہوس اور درندگی پر شاہ معظم کو کسی نفسیاتی معالج کے پاس بھیجا جاتا لیکن اسے محبت کا نام دے دیا گیا۔ محبت کی کوئی ایک رمق بھی ہوتی تو شاہ جہاں صاحب دنیا بھر سے اطباء و حکماء کو اکٹھا کر کے حکم دیتے کہ جن حالات میں میری ممتاز محل مری، آئندہ کسی اور کی ممتاز اس طرح نہ مرے، اور یوں اپنی سلطنت میں خواتین کے لیے اعلی طبی سہولیات کا ایک جال بچھا دیتے۔ ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ انھی مہ و سال میں کچھ ایسے ہی حادثات سویڈن کی ملکہ الیکا الینورا کے ساتھ بھی پیش آئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ مڈ وائفری سکول کھولا جائے۔ ملکہ نے حکم دیا کہ ہر بستی سے کم از کم دو خواتین سٹاک ہوم مڈ وائفری سکول سے تربیت کے لیے بھیجی جائیں تاکہ بچے کی پیدائش کے عمل میں ہونے والی اموات کو روکا جا سکے۔ لیکن شاہ جہاں کا فکری افلاس ان خطوط پر نہ سوچ سکا، شاہ والا تبار نے مقبرہ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ جو آدمی اپنی محبوب بیوی کے اس طرح مر جانے پر ایک دردمند دل کے ساتھ سوچ بھی نہ سکے، محبت کو اس شخص سے منسوب کرنا تاریخ کے ساتھ کتنا بڑا مذاق ہے؟ شاہِ معظم کی سلطنت میں طبی سہولیات کا یہ عالم تھا کہ ملکہ کو بھی ڈھنگ سے دستیاب نہ تھیں، اور بادشاہ سلامت اس کم تر ذہنی سطح کے مالک تھے کہ ایک مقبرے پر آج کے حساب سے 827 ملین امریکی ڈالر خرچ کر دیے۔ عقل و شعور ہوتا تو اس رقم سے ہندوستان میں طبی سہولیات کا جال بچھایا جا سکتا تھا اور اس امر کو یقینی بنایا جا سکتا تھا کہ آئندہ کسی کی ممتاز محل یوں سسک سسک کر نہ مرے۔ محبت نہیں یہ جہالت، ہوس اور فکری افلاس تھا۔ محبت ہوتی تو کیا ممتاز محل کے مرنے کے بعد شاہِ ذی وقار اسی ممتاز محل کی بہن کے ساتھ شادی رچا تے؟ لیکن ہماری حالت بھی شاہ جہاں صاحب سے کم نہیں۔ جس عمارت کی ایک ایک اینٹ پر ہماری جہالت کے دیوان اور ہماری رسوائیوں کے اسباب تحریر ہیں، اس عمارت کو ہم گاہے محبت کی یادگار اور کبھی ’اسلامی طرزِ تعمیر کا نادر نمونہ‘ قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دلچسپ مرحلہ - رعایت اللہ فاروقی

عمران خان پر بھی ایک قیامت گزری، ان کی ماں کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو کر چل بسیں۔ عمران نے ان کی تکلیف دیکھی، دیکھی نہ گئی، اور فیصلہ کیا کہ اب کسی اور کی کائنات کو کینسر کے ہاتھوں نہیں اجڑنے دینا۔ یہ محبت انسانیت کے روپ میں عمران خان کا جنون بن گئی، ان کی طاقت بن گئی۔ وہ بھی چاہتے تو ماں کی قبر پر ایک عالی شان مقبرہ بنوا دیتے۔ لیکن انہوں نے دوسرا فیصلہ کیا۔ اتنی عقل کاش شاہ جہاں میں ہوتی اور اس نے بھی تعلیم اور صحت کے میدان میں پیسے لگائے ہوتے تو آج برصغیر کی تاریخ مختلف ہوتی۔ عمران باہر نکلے اور پھر اس قوم نے محبت کی یادگار قائم کر دی۔عمران جھولی پھیلا کے نکلے اور قوم نے ان کا مان ٹوٹنے نہیں دیا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ماؤں بہنوں بیٹیوں کو اپنے زیورات ان کی جھولی میں ڈالتے دیکھا۔ جن محبتوں کا میں عینی شاہد ہوں، خدا گواہ ہے بیان سے باہر ہیں۔ شوکت خانم ہسپتال کی چندہ مہم کے وہ ابتدائی دن، آنکھیں بند کر کے انہیں یاد کرتا ہوں تو وجود کی گہرائیوں تک شانت ہو جاتا ہوں۔

شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی، یہ اس سماج کی فکری بیداری کے اولین نقوش میں سے ہیں۔ یہ وہ کام ہیں جو عمران خان سے محبت کرنے پر اکساتے ہیں۔ یہ اس عمران کی آخری نشانیاں ہیں جسے ہم جیسوں نے چاہا تھا۔ عمران کی یہ کامیابیاں ان کی سیاست سے جدا ہیں۔ ابھی انہیں اقتدار نہیں ملا۔ اس سارے نیک کام میں ان کے اقتدار یا سیاسی جاہ و حشم کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ ان کا عزم و ہمت اور ان سے عوام کی محبت اور معاشرے میں خیر کی قوت جیسے عوامل ہیں جنہوں نے یہ کام کر دکھائے۔

یہاں آ کر اب ایک اور سوال پیدا ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے: کیا سماج میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے اقتدار میں آناضروری ہے؟ کتنے وزرائےاعظم اور آمر مطلق اس ملک میں آئے اور چلے گئے، انہوں نے سماج کے لیے کیا کیا؟ عمران ابھی وزیراعظم نہیں بنے اور وہ بہت کچھ کر چکے ہیں۔ مزید کچھ کرنے کے لیے حصولِ اقتدار کیا ضروری ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ عمران خان کا اصل میدان کوئی اور ہو اور وہ اپنی توانائیاں کہیں اور ضائع کر رہے ہوں؟ عمران خان کو اس ملک میں جو پیار محبت ملی، وہ غیر معمولی ہے، کبھی کبھی خیال آتا ہے اور پوری شدت کے ساتھ آتا ہے کہ کاش عمران خان نے سیاست کے بجائے سماج کا انتخاب کیا ہوتا۔ وہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے تھے جس کا اب تو خواب دیکھنا بھی چھوڑ چکے ہیں۔ وہ سب کے محبوب تھے۔ کشمکش اقتدار میں حریف نہ ہوتے تو جس میدان کا انتخاب کرتے، تمام سیاسی قوتیں بھی ان کے ساتھ ہوتیں اور اہلِ اقتدار بھی ان کے پیچھے کھڑے ہوتے۔ شوکت خانم ہسپتال لاہور بنانے کا جب انہوں نے فیصلہ کیا تو کیا ہوا؟ نواز شریف اقتدار میں تھے اور اقتدار نے عمران خان کو زمین پیش کر دی؟ اہل سیاست عومی جذبات سے بے نیاز نہیں ہو سکتے اور عوام عمران کو چاہتی تھی۔ ممکن ہی نہ تھا عمران کسی فلاحی یا علمی کام کا آغاز کرتے اور سیاست اور اقتدار ان کا ساتھ نہ دیتا۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک آنچ کی کسر - محمد عامر خاکوانی

تو کیا سیاست میں آ کر عمران خان نے درست فیصلہ کیا؟ یہ سوال اس وقت زیادہ اہم ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ غیر سیاسی عمران نے قوم کو شوکت خانم دیا، نمل جیسا تعلیمی ادارہ دیا۔ اور سیاسی عمران خان نے کیا دیا؟ علیم خان دیا؟جہانگیر ترین دیا؟ شیخ رشید دیا؟ خان سرور خان دیا؟ چودھری سرور دیا؟ سیاست میں آنے کے حق میں صرف ایک دلیل ہو سکتی تھی کہ اس میدان میں حقیقی تبدیلی لائے بغیر معاشرہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔ اور سچ بات تو یہ ہے کہ بہت امید تھی کہ عمران خان یہ کام بھی کر گزریں گے۔ لیکن غلط یہ بھی نہیں کہ وہ ایسا نہیں کر سکے۔ ان کی سیا ست کا حال ہمارے سامنے ہے۔ کم و بیش وہ ایسی ہی ہے جیسے دیگر جماعتوں کی سیاست۔ ایک احساس زیاں ہے، جسے قدرت نے یہ غیر معمولی موقع دیا تھا کہ چاہتا تو سماج بدل دیتا، وہ اپنی توانائیاں وزیراعظم کے نسبتا معمولی منصب کے حصول میں صرف کر رہا ہے۔ واپسی کا بھی اب راستہ نہیں ہے۔ اخلاقی برتری بھی لمحہ لمحہ ختم ہو رہی ہے۔ تاہم پرانے عمران خان کی نشانیاں آج بھی دل میں ایک کسک پیدا کر دیتی ہیں۔ اور شوکت خانم ہسپتال انھی نشانیوں میں سے ایک تابندہ نشانی ہے۔ جہانگیر ترین، علیم خان اور شیخ رشید والے نہیں، ہمارے والے عمران کی آخری نشانیوں میں سے ایک۔ خدا اس نشانی کو قائم رکھے۔ آمین

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!