اے عورت اے عورت - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

مسز فلاں، بنت فلاں، ام فلاں، اخت فلاں!
کیا تمہاری خود کی کوئی پہچان نہیں؟
تم خود کچھ نہیں؟ تم آپ اپنی پہچان نہیں جانتی تو کوئی کیا جانے گا؟

تم نے اپنی قدر چند آسائشات کے عوض گروی رکھ دی ہے.
درست ہے کہ کل کی فکر سے آزادی اچھی لگتی ہے.
درست ہے کہ چار دیواری کا تحفظ اہم ہے، بہت اہم، معاشرے میں عزت کا ضامن..
درست ہے کہ روٹی کپڑا اور مکان کی بے فکری بڑی نعمت ہے.
لیکن کیا ان آسائشات کو ذاتی انا یا آزادی کی قیمت پر قبول کیا جانا چاہیے؟
کیا زندگی کا مقصد محض چند سہولیات کا حصول ہے؟
کیا اپنی ذات کے لیے فیصلہ لینے کی قوت بھی کسی دوسرے کے ہاتھ میں دے دینی چاہیے؟
چار دیواری کے تقدس کا پاس ضرور رکھو، لیکن ایک جانور کی سی زندگی مت گزارو. .
تم خود آپ اپنی قدر نہیں کرتی..

اے عورت! اے عورت! اے عورت!
تو بھی ایک انسان ہے. جیتی جاگتی، سانس لیتی، سوچتی سمجھتی، عقل و شعور رکھتی ہے.
تیرے لیے بھی وہی اجر و ثواب ہے جو مرد کے لیے ہے. ویسے ہی عذاب کی وعید ہے جیسے مرد کے لیے ہے.
تو تیری ذات کے فیصلے کوئی اور کیوں کرے؟
تم نے اپنی عقل سے، اپنی صوابدید پر کبھی کوئی فیصلہ کیا ہی نہیں، تم تو ہمیشہ کسی اور کی متعین کردہ راہ کی مسافر رہیں. جنت اور جہنم بھی تمھیں کسی اور کے فیصلے سے مل جائے گی، تو تم نے کیا زندگی گزاری؟
تمھارا خود کا کیا ہے؟
تم اپنی زندگی میں کدھر ہو. کدھر ہو تم؟

تم نے خود اپنے وجود کو اپنی زندگی سے منفی کر دیا ہے،
کھانا تم شوہر اور بچوں کی پسند کا کھاتی ہو،
کپڑے شوہر کی پسند کے پہنتی ہو،
ملنا ملانا اور آنا جانا گھر کے مرد کی مرضی سے طے ہوتا ہے،
سونے جاگنے کے اوقات تک اس مرد کے گرد گھومتے ہیں.
اس روٹین میں تم خود کہاں ہو؟

یہ بھی پڑھیں:   عورت اور ہمارے سطحی زاویے - عاطف الیاس

ایک بات بتاؤ!
کتنے دن ہوگئے تم نے اپنی پسند کا کھانا نہیں کھایا،
اپنی مرضی کا رنگ نہیں پہنا،
اپنی آزادی اور خوشی سے کسی سہیلی سے نہیں ملیں،
پہلے باپ بھائی، پھر شوہر اور بیٹے تمہاری زندگی کے فیصلے کرتے رہے.
تم نے خود اپنی زندگی کا کوئی سا فیصلہ کبھی خود کیا؟
کیوں؟
کیوں نہیں؟
کیوں نہیں کیا ؟

بے شک تمھارا کام انسان اور انسانیت کی تخلیق ہے، ضرور کرو، بہترین تر کرو، مگر کس قیمت پر؟
کیا رضائے الہی، تمھارا دین، کیا تمھاری یہ سب آزادیاں سلب کرتا ہے؟
نہیں نا.
تو پھر تم نے خود کیوں قربان کر دیں؟
کیوں مظلوم بن گئیں؟ کیوں محکوم بن گئیں؟
کیا تم تعلیم یافتہ نہیں؟
کیا باشعور نہیں؟
کیا ہنر مند نہیں؟
اگر نہیں ہو تو کیوں نہیں ہو؟

اگر عورت کا اپنا نام استعمال کرنا یا کام کرنا، اپنی پہچان بنانا، عیب یا گناہ ہوتا تو دنیا امہات المؤمنین کا نام تک نہ جانتی.
بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہا تاجرہ نہ ہوتیں.
بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا استاد اور راوی نہ ہوتیں.
بی بی فاطمتہ الزہرہ رضی اللہ عنہا کا نام ہم تک کبھی نہ پہنچ پاتا.
تاریخ پاکستان بھی محترمہ فاطمہ جناح کے نام سے ناواقف رہتی.

جاگو عورت!
اٹھو، آگے بڑھو! آج کی عورت ہو تم!
آج حاصل کرو ہنر بھی، اور تعلیم بھی،
یہ مت بھولو کہ تم عورت ہو اور عورت ہی رہو گی.
پھر تمھارے نسائی معیار کا پیمانہ کبھی نہیں ٹوٹے گا، اور تمہارا نام تاریخ میں شامل ہوگا.
دیر نہیں ہوئی، دیر کبھی نہیں ہوتی،
بس آج سے آغاز کرو.

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں