آمین بالشر – قاضی محمد حارث

میری عادت یہ ہے کہ اگر نماز کا وقت ہو تو راستے میں کوئی سی بھی مسجد ملے، میں رک جاتا ہوں اور امام کی پگڑی چاہے کالی ہو، سفید ہو یا ہری نظر انداز کرکے امام کے دل کا رنگ دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ کہیں وہ تو سیاہ نہیں؟ اور عمومی طور پر دل کی سیاہی مسجد کی کسی نہ کسی دیوار پر موجود ایک تحریر، نعرے یا فتویٰ سے عیاں ہوجاتی ہے۔
اُس دن ایک مسجد میں نمازِ مغرب کیلئے رُکا۔ دوسری رکعت چل رہی تھی اُس میں شامل ہوگیا۔ مسجد اہل سنت والوں کی تھی۔ امام صاحب نے سورہ فاتحہ ختم کی تو ایک مقتدی نے باآواز بلند آمین کہا جو پوری مسجد میں گونج اٹھا۔
نماز ختم ہوئی تو میں اپنی چھوٹی ہوئی رکعت پوری کرنے کیلیئے کھڑا ہوگیا اور ادھر امام صاحب نے سلام پھیرتے ہی مائیک میں کہا: “جس نے زور سے آمین کہا تھا وہ کھڑا ہوجائے۔”
انداز ایسا تھا جیسے کسی شرارت کے بعد باپ سب بچوں کو لائن میں کھڑا کرکے اصل مجرم تلاشتا ہے۔
وہ مرد کا بچہ کھڑا بھی ہوگیا۔ اس کے بعد امام صاحب نے جو منہ کے فائر اس شخص پر کیئے وہ میرے لیئے نماز میں مُخل ہوگئے۔ جوابا اس نے دلائل دینے شروع کردیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میری رکعت پوری ہونے سے پہلے پہلے بات گالم گلوچ سے ہوتی ہوئی ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ میں نے جونہی نماز ختم کی تو وہاں سے بھاگنے کا سوچا کہ کہیں میں بھی وہابی شہابی سمجھ کر نہ کوٹ دیا جاؤں۔
اس وقت مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔ کسی کتاب میں پڑھا تھا ۔
جب پاکستان کی تقسیم نہ ہوئی تھی تو برصغیر کے کسی علاقے میں ایک عیسائی کلکٹر تھا اس کے سامنے ایک مقدمہ لایا گیا جس میں حنفی اور اہل حدیث لڑ پڑے تھے۔ آمین زور سے کہنے اور نہ کہنے پر باقاعدہ لاٹھیاں چل گئی تھیں۔ کلکٹر نے پوچھا کہ یہ “آمین” کوئی جائیداد ہے جس پر تم لوگ لڑ رہے ہو؟
جواب دیا : نہیں! بلکہ ایک قول ہے جو ہم منہ سے نکالتے ہیں۔
وہ کہنے لگا: تو اس میں لڑائی کیسے ہوگئی؟
جواب دیا: کہ دونوں اپنی اپنی دلیلیں دیتے ہیں۔
اس نے کہا: جس کے پاس جو دلیل ہے اس پر عمل کرو۔ لڑتے کیوں ہو؟
پھر حیران ہو کر کہنے لگا کہ اس میں لڑنے کی تو کوئی بات نہیں۔ لیکن میں جس نتیجے پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ
“آمین” کی تین قسمیں ہیں:
آمین بالجہر، آمین بالسر اور آمین بالشر۔
یہ تمہارا آمین تیسرا آمین تھا۔
بعینہ یہی مسئلہ ہمارا ہے۔ یہ تیسرا آمین ہماری سب سےبڑی “ہوبی” بن چکی ہے یعنی نان ایشوز کو ایشو بنانا۔
مصروفیت بھی تو چاہیئے نا “فارغ” قوم کو۔
جیسے بھی اور جہاں بھی ملے۔

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam