گمراہ - سلسلہ وار کہانی (4) - ریحان اصغر سید

میرے پاس بمشکل چند سکینڈز تھے۔ میری انگلی اپنی سائیڈ کے شیشے والے بٹن پر تھی۔ شیشہ نیچے ہوتے ہی میں چلایا۔
جلدی کرو۔ گاڑی میں بیٹھو۔

گن بردار کے چہرے پر کچھ کنفیوژن کے تاثرات نمودار ہوئے، اس نے گردن موڑ کر اپنے دوسرے ساتھی کو دیکھا۔ میرے لیے اتنی مہلت کافی تھی۔ پراڈو جمپ لگا کے سڑک پر آئی۔ میرے پیچھے کچھ گاڑیوں کے ٹائر چرچرائے، اور ہارن چیخ اُٹھے. لوگوں نے یقیناً گالیاں بھی دی ہوں گی، لیکن ایکسیلٹر پر میرے پیر کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ چند سیکنڈز میں ہی پراڈو ہوا سے باتیں کرنے لگی۔ گاڑی روڈ پر آتے ہی میں نے شازی سے سیل فون چھین کے بند کر دیا تھا۔

میرے ہاتھ میں موجود سبل کے ہی فراہم کردہ سمتھ ویسن پسٹل نے اسے خاموش کر رکھا تھا۔ میری خوشی اس وقت غارت ہو گئی جب میں نے بیک ویو مرر میں نیلی بی ایم ڈبلیو کی جھلک دیکھی۔ وہ لوگ اسے ڈیوائیڈر کے پار لانے میں کامیاب رہے تھے۔

جو لوگ اس علاقے میں سفر کر چکے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ نیم میدانی علاقہ ہے، یہاں کی سڑک پر کئی خطرناک موڑ بھی ہیں۔ بی ایم ڈبلیو کا طاقتور انجن واقعی ہی میری گاڑی کا پیچھا کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ یقیناً این حالات کی تبدیلی سے آگا تھی کیوں کہ وہ بار بار سر موڑ کے پیچھے دیکھ رہی تھی۔

سنو این! میں ایک پولیس والا ہوں جو تمھیں بچانے آیا ہوں۔ میرے ساتھی غلطی سے آگے چلے گئے ہیں۔ اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ ایک تیز رفتار کار ہمارا پیچھا کر رہی ہے، جس میں جدید اسلحے سے لیس خطرناک دہشت گرد موجود ہیں۔ تمھیں میرا ساتھ دینا ہو گا این۔
کیا تم مجھ سن رہی ہو؟
برقع میں جنبش پیدا ہوئی۔ میں نے شازی کی طرف پسٹل کا رخ پھیرا۔
پیچھے جا کر این کے ہاتھ کھولو۔ اور کوئی گڑبڑ نہ کرنا۔ میں درندگی میں بڑے خان جیسے لوگوں سے کم نہیں ہوں۔
میری آواز خود مجھے اجنبی لگی۔
شازی چپ چاپ پیچھے سرک گئی۔ اس نے این کے منہ سے پٹی اتاری، اور اس کے ہاتھ کھولے۔ این نے برقع سمیٹ کے ایک سائیڈ پر پھینکا۔ اور میری ہدایت پر شازی کا منہ اور ہاتھ انھی پٹیوں کے ساتھ باندھ کے برقع اوڑھا دیا۔ کچھ دیر بعد این شازی کی جگہ پر میرے ساتھ بیٹھی تھی اور شازی این کی جگہ پر پیچھے سیٹ بلیٹ کے ساتھ جکڑی ہوئی تھی۔

میں ابھی تک پیچھا کرنے والی گاڑی سے ایک معقول فاصلہ بنائے رکھنے میں کامیاب رہا تھا۔ لیکن ہر دم دھڑکا لگا ہوا تھا کہ ابھی گاڑی کا انجن بند ہو جائے گا۔ میں ایک پسٹل اور چند میگزینز کے ساتھ جدید اسلحے سے لیس چار دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ این بڑے چوکنا انداز میں بیٹھی مجھ پر سوال پر سوال داغے جا رہی تھی۔ میں نے اسے بمشکل چپ کروایا، اور اس سے یہ ڈائیلاگ بولنا ضروری سمجھا جو فلموں میں ایسے ہر موقع پر ہیرو، ہیروئن سے بولتا ہے۔
مجھ پر یقین رکھو این! جب تک میں زندہ ہوں، یہ لوگ تمھارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

میرے پاس فیصلے کے لیے زیادہ وقت نہیں تھا۔ گاڑی کا انجن بند ہونے سے پہلے پہلے مجھے کچھ کرنا تھا۔ میرے پاس ایک ایڈوانٹیج ایسا تھا جو بی ایم ڈبلیو والوں کے پاس نہیں تھا۔ اس لیے جیسے ہی مجھے ایسی جگہ نظر آئی، میں نے پراڈو کو انتہائی تیز بریک لگا کر سڑک کے بائیں جانب لے گیا اور گاڑی کو نیچے کچی زمین پر پھینک دیا۔ پراڈو ایک زور دار جھٹکے سے نیچے گری، این کا سر زور سے سائیڈ شیشے سے ٹکرایا۔ میں پراڈو کو فور بائی فور پر کر چکا تھا۔ اب پراڈو دھول اڑاتی اونچے نیچے کچے راستوں پر دوڑ رہی تھی اور بی ایم ڈبلیو کا ڈرائیور کار کو نیچے اتارنے کے لیے کوئی مناسب جگہ ڈھونڈ رہا تھا۔

یہ جگہ کھاریاں کے قریب تھی۔ میں کھیتوں، درخت کے جھنڈ اور جھاڑیوں کو روندتا ہوا جنوب مشرق کی طرف اپنا سفر جاری رکھے ہوئے تھا۔ فی الحال نیلی کار کے کہیں کوئی آثار نہیں تھے۔ شازی کا فون میرے پاس تھا۔ میں اخلاق کو کال کر سکتا تھا لیکن نہیں کی۔ میں اس وقت این کے معاملے میں اپنے باپ پر بھی اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھا۔ میں جانتا تھا کہ ایجنسیز کی اپنی پراکسی وارز اور پلاننگز ہوتی ہیں۔ یہ عین ممکن تھا کہ میں این کو ایجنسی کے حوالے کروں اور وہ اس کے نیوز نیٹ ورک سے اپنا کوئی بدلہ چکانے یا ان پر دباؤ ڈالنے کی فکر میں ہوں، وہ این کو مجھ سے لے کر کسی نیک دہشت گرد گروپ کے حوالے کر دیں. میں انھی سوچوں میں گم تھا کہ ایک جُھنڈ سے گزرتے ہوئے اچانک پراڈو کا انجن بے جان ہو گیا۔ میں نے اگنیشن میں چابی کو گھمایا لیکن سیلف کھانس کے رہ گیا، انجن کی آواز سے ہی اندازہ ہوگیا کہ اسے ٹریکر سے بند کر دیا گیا ہے۔ میں نے شازی کا سیل جیب میں ڈالا۔ اپنی گن کوٹ کے نیچے بیلٹ کے ساتھ لگائی۔
بے فکر رہنا شازی! تمھارے ساتھی ٹریکر کی مدد سے جلد ہی یہاں پہنچ جائیں گے۔ اور مجھے معاف کر دینا، اگر ہمارے بیچ یہ گوری این نہ آ جاتی تو میں ضرور تمھارے ساتھ ڈیٹ پر جاتا۔
میں نے نیچے اتر کر گاڑی لاک کرتے ہوئے شازی سے کہا۔ شازی بچاری او اواں اور سر ہلانے کے علاوہ کیا کر سکتی تھی۔

اب میں این کا ہاتھ پکڑے جھاڑیوں کو ہٹاتا ایک طرف دوڑ رہا تھا۔
تمھارے ساتھی کہاں ہیں؟ تم انھیں کال کیوں نہیں کرتے؟
این نے دوڑتے ہوئے مجھ سے پوچھا۔
یہاں سیل فون کے سگنلز نہیں ہیں۔
میں نے بہانہ پہلے ہی سوچ رکھا تھا۔

ہمھیں دوڑتے ہوئے پون گھنٹہ ہو چکا تھا۔ این کا سانس بری طرح پھول چکا تھا۔ ابھی تک کہیں آبادی کے کوئی آثار نہیں تھے۔ اچانک میں نے اپنے پیچھے ایک گاڑی کے انجن کی جانی پہچانی آواز سنی۔ یہ وہی پراڈو تھی جسے ہم درختوں کے جھنڈ میں چھوڑ آئے تھے۔ مجھے شدت سے اپنی بے بسی کا احساس ستا رہا تھا، آس پاس چھپنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ این نے بھی وہ آواز سن لی تھی۔ اس کے ساتھ ہی میرے کانوں نے ہیلی کاپٹر کی آواز سنی۔

اب ہمیں دور سے وائٹ پراڈو آتی بھی نظر آ رہی تھی۔ میں نے دعا کی کہ ہیلی کاپٹر والے ہمیں دیکھ لیں۔ اس لیے اب ہم بالکل کھلے میں دوڑ رہے تھے۔ میں نے اضطراری طور پر ایک دو دفعہ ہوائی فائر بھی کیا۔ ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے یقینا ہمیں دیکھ لیا تھا۔ وہ بڑی تیزی سے بلندی کم کرتا ہوا ہماری طرف آ رہا تھا۔ دوسری طرف سفید پراڈو بھی تیزی سے ہم سے اپنا فاصلہ کم کر رہی تھی۔ تب وہ ہوا جس کی کم سے کم مجھے کوئی توقع نہیں تھی۔

میں نے دوڑتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پانچ سو گز دور پراڈو کے سن روف میں سے مجھے ایک خطرناک چہرے والا دہشت گرد کھڑا نظر آیا، اس کے ہاتھ میں ایل ایم جی تھی، اس نے بے دھڑک ہیلی کاپٹر پر برسٹ فائر کیا۔ کچھ گولیاں یقیناً ہیلی کاپڑ کی باڈی سے ٹکرائی تھیں، ایک مہیب آواز کے ساتھ ہیلی کاپٹر بری طرح ڈولا، اور ایک طرف جھک کر نیچے آنے لگا۔ پائلٹ اسے سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اس کی بلندی اتنی کم ہو چکی تھی کہ مجھے پائلٹ کی یونیفارم کے بیج نظر آئے، کچھ لمحوں میں ہی ہیلی کاپٹر ہم سے چھ سات سو گز دور ایک زوردار دھماکے سے زمین پر گرا، اور اس میں آگ لگ گئی۔ پائلٹ کی آخری کوشش اسے ہم سے زیادہ سے زیادہ دور لے جانے کی تھی۔ یہ سارا عمل شاید تیس سکینڈ میں مکمل ہو گیا تھا۔

دکھ اور اشتعال کی ایک شدید لہر نے مجھے اپنی لیپٹ میں لے لیا۔ میں نے دوڑنا ترک کر دیا تھا۔ این نیچے گری ہانپ رہی تھی۔ پراٖڈو ایک عفریت کی طرح ہم پر چڑھی آ رہی تھی۔ میں نے اسے پاس آنے دیا، دو سو گز دور آنے پر میں نے اس کی ونڈ سکرین پر پہلا فائر کیا۔ پھر پورا میگزین اس پر خالی کر دیا، میرا نشانہ سامنے بیٹھے دو لوگ تھے، دونوں یقینی طور پر ہٹ ہو چکے تھے۔ لینڈ کروزر بری طرح ڈولتی ہوئی ہمارے پاس سے گزری، میں نے این کو کھینچ کے بمشکل اس کی زد سے بچایا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ پراڈو والوں کو مجھ سے جوابی حملے کی توقع ہی نہیں تھی۔ شاید وہ سمجھ رہے تھے کہ میں دہشت زدہ سا سن کھڑا ہوں۔ پراڈو ایک زور دار دھماکے سے ایک بڑے درخت سے ٹکرائی، اور رک گئی۔ ڈرائیور یقیناً شدید زخمی یا ہلاک ہو چکا تھا۔ اتنی دیر میں، میں گن کا میگزین بدل چکا تھا۔ میں چاہتا تو پچھلی سکرین کو نشانہ بنا کر پورا میگزین اس پر بھی خالی کر سکتا تھا لیکن مجھے پتہ تھا کہ پچھلی سیٹ پر شازی بھی بیٹھی ہے۔ میں اپنے ہاتھ اس نوعمر خوبصورت لڑکی کے خون سے رنگنا نہیں چاہتا تھا، جانے اس کی کون سے مجبوری اسے ان درندوں میں لے آئی تھی۔ میں این کو لے کر واپس بھاگا۔ پراڈو میں سے دو لوگ نکل کر ہمارا پیچھا کر رہے تھے۔ میرا اور ان کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ ان کے پاس آٹو میٹک رائفلیں تھیں، اور میرا پاس صرف ایک شارٹ رینج پسٹل، اور ایک اس کا اضافی میگزین۔ ایک گھنٹے کی بھاگ دوڑ نے ہمیں اور خاص طور پر این کو بری طرح تھکا دیا تھا۔ لگ رہا تھا کہ ہیلی کاپٹر کے گرنے کے دھماکے نے اس کے اعصاب پر گہرا اثر ڈالا ہے، اس کا رنگ بالکل زرد ہو رہا تھا، اور وہ بالکل نیم جان لگ رہی تھی۔ مجھے اس حالت میں بھی اس پر بےانتہا ترس اور پیار آ رہا تھا۔ اگر یہ کوئی فلم کا سین ہوتا تو میں اس کو کندھوں پر اٹھا لیتا لیکن عملی طور پر پونے چھ فٹ قد کی حامل ڈیڑھ سو پونڈ کے لگ بھگ وزنی لڑکی کو کندھوں پر اٹھا کر بھاگنا مشکل تھا۔

ہمارا پیچھا کرنے والے ہوائی فائرنگ کرتے، گالیاں اور دھمکیاں دیتے ہمارے نزدیک تر پہنچتے جا رہے تھے۔ میں ایک موہوم سے امید پر لاحاصل دوڑ رہا تھا۔ اس لیے جب انھوں نے پہلی دفعہ ہمارے قدموں پر فائرنگ کی اور دھول اڑی تو میں نے این کی سلامتی کے لیے سرنڈر کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اب مزید کوئی ایڈونچر این کو یا مجھے شدید زخمی کر سکتا تھا۔ میں نے این کو زمین پرگر کر لیٹنے کا حکم دیا۔ اور اپنا ہاتھ فضا میں بلند کرتے ہوئے نمایاں انداز میں پسٹل پھینک کے بازو سر سے بلند کر الٹا لیٹ گیا۔ این فوراً گھیسٹ کر میرے پاس آئی اور میرے اوپر لیٹ گئی۔ اس نے یہ اقدام وقتی طور پر میری جان بچانے کے لیے کیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی جان ان لوگوں کے لیے کتنی قیمتی ہے۔ چند لمحوں میں دہشت گرد ہمارے سر پر پہنچ گئے، وہ بہت غصے میں تھے۔ انھوں نے آتے ہی مجھے ٹھوکروں پر رکھ لیا، ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مجھے گولیوں سے بھون دیں لیکن این بری طرح مجھ سے چمٹی ہوئی تھی۔ اور روتے ہوئے ان سے میری جان بخشی کی اپیل کر رہی تھی۔

اسی اثنا میں ایک دہشت گرد کا فون بجا۔ دوسری طرف شاید سبل تھا۔ کچھ دیر ہدایات لینے کے بعد اس نے کال بند کی اور مجھے کہا کہ میم سے بولو کہ تمھیں چھوڑ دے۔ سبل صاحب نے وقتی طور پر تمھیں مارنے سے منع کیا ہے، اور جلدی اُٹھو، کوئی شرارت نہ کرنا، ورنہ پورا چھلنی کر دیں گے۔ اب میں اور این ہاتھ پکڑے دوبارہ پراڈو کی طرف دوڑ رہے تھے، دہشت گرد ہمارے پیچھے تھے، وہ بہت جلدی میں لگ رہے تھے۔ فوج کا ایک ہیلی کاپٹر تباہ کر دیا گیا تھا، ہم جس جگہ پر تھے، یہاں سے کھاریاں چھاؤنی بالکل نزدیک تھی۔ یقیناً سیکورٹی فورسز اس جگہ کو گھیر رہی ہوں گی۔ پانچ منٹ بعد ہم دوبارہ پراڈو میں تھے۔ پراڈو کا ڈرائیور مر چکا تھا۔ اس کو کھینچ کر نیچے پھینکا گیا، اس کے ساتھی کے جسم میں ابھی جان باقی تھی، یہ وہی شخص تھا جس نے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی تھی۔ دوسرے دہشت گرد نے بے رحمی سے اسے بالوں سے پکڑ کر نیچے پھینکا، اور میرے والے پسٹل سے اس کے سر میں گولی مار دی۔

تھوڑی دیر بعد میں دوبارہ پراڈو کی ڈرائیونگ سیٹ پر تھا۔ پراڈو کے بمپر اور بونٹ کو نقصان پہنچا تھا، باقی وہ رننگ کنڈیشن میں تھی۔گاڑی فور بائی فور پر اونچے نیچے راستوں پر بھاگ رہی تھی۔ سن روف کھلا ہوا تھا۔ میرے ساتھ ایک کرخت چہرے والا دہشت گرد بیٹھا، فضا میں منڈلاتے دو ہیلی کاپٹروں کو میں دیکھ رہا تھا لیکن اب وہ نیچے نہیں آ رہے تھے۔

کچھ فوجی نشان والی گاڑیاں بھی کچھ فاصلوں پر ہمارے ساتھ دوڑ رہی تھیں۔ ایک داڑھی والا دہشت گرد پیچھے بیٹھا تھا۔ دوسری طرف شازی بیٹھی تھی۔ بیچ میں این سینڈوچ بنی ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ دوبارہ باندھ دیے گئے تھے۔ اچانک ہی سامنے سے چند بکتربند گاڑیاں آئیں، اور انھوں نے ہمارا راستہ روک لیا۔ میں نے بیک ویو مرر میں سے اپنے پیچھے آتے فوجی ٹرک میں سے کمانڈوز کو چھلانگیں لگاتے دیکھا۔ میں نے پسنجر سیٹ والے دہشت گرد کی ہدایت پر گاڑی کے گئیر لیور کو پارک پر کر دیا۔ فضا میں کچھ لمحے ایک مہیب خاموشی کا راج رہا، جس میں گاڑیوں کے انجنوں کی مدھم آوازیں اور دور فضا میں اڑتے ہیلی کاپٹروں کا ہلکا سا شور تھا۔

پھر میگا فون پر ایک بھاری آواز نےخاموشی کو توڑا۔ دہشت گردوں کو اطلاع دی گئی کہ وہ گھیرے میں آ چکے ہیں، بھاگنے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے۔ کسی بھی ایڈونچر کی سزا دردناک موت ہے۔ اس لیے وہ ہتھیار پھینک کے گاڑی سے باہر آ جائیں اور زمین پر الٹا لیٹ جائیں۔ یہ اعلان تین دفعہ دہرایا گیا۔ اس اعلان سے میرے ساتھ بیٹھے دہشت گرد کے سکون میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اعلان ختم ہوتے ہی سامنے والی بکتر بند گاڑیاں کچھ فٹ مزید ہماری جانب آ گئیں۔ اگلی سیٹ والے دہشت گرد نے مجھے سیٹ پر کھڑے ہو کر گاڑی کے سن روف سے باہر نکلنے کا حکم دیا۔ تعمیل کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

میں ہاتھ سر سے بلند کیے سیٹ پر کھڑا ہو گیا۔ اب میر آدھا دھڑ گاڑی کی چھت سے باہر تھا۔ باہر نکل کر مجھے مزید فوجی گاڑیاں نظر آئیں جو ابھی کچھ دور کھڑی تھیں۔ دہشت گرد کی ہدایت پر میں نے چلا کر بتایا کہ میرا نام زبیر ملک ہے۔ میں لاہور کا رہنے والا ہوں اور میں دہشت گردوں کا ساتھی نہیں ہوں۔ میں نے مزید بتایا کہ گاڑی میں مشہور امریکی صحافی این ٹامسن بھی موجود ہے، اور ہماری جان تین انتہائی تربیت یافتہ دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہے، جن میں سے کم سے کم دو نے خود کش جیکٹس بھی پہن رکھی ہیں۔ پوری گاڑی اسلحہ و بارود سے بھری ہوئی ہے۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ یہ لوگ موت سے نہیں ڈرتے۔ بحیثیت پاکستانی شہری میں درخواست کرتا ہوں کہ میری جان کی خاطر اور ایک معزز غیر ملکی مہمان کی جان کے واسطے ہمیں راستہ دیا جائے، ورنہ یہ لوگ ہمیں قتل کر دیں گے۔
دہشت گرد جو جو بولتا رہا میں اسے دہراتا رہا۔ بات ختم کر کے میں نیچے بیٹھ گیا۔
کچھ دیر خاموشی کے بعد دوبارہ بکتر بند سے پہلا والا اعلان دہرایا گیا۔

وقت گزرتا جا رہا تھا۔ ہم لوگوں کی گاڑی کھلے میں کھڑی تھی، اے سی چل رہا تھا، اس وقت دوپہر ڈھل رہی تھی۔ میرے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے اور پیاس سے گلے میں کانٹے پڑ رہے تھے۔ میری وساطت سے دہشت گردوں کا ملٹری والوں سے فون پر رابطہ ہو چکا تھا، وہ کسی قیمت پر ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہیں تھے۔ دو گھنٹے کے بعد ان کے مؤقف میں صرف اتنی نرمی آئی تھی کہ وہ کسی محفوظ ٹھکانے پر پہنچنے کی صورت میں مجھے اور این کو رہا کرنے کا وعدہ کر رہے تھے لیکن اس کی گارنٹی ان کے پاس کوئی نہیں تھی۔

ایک دو دفعہ ایک نے گن باہر نکال کے بلا اشتعال فائرنگ بھی کی۔ وہ قطعاً خوفزدہ نہیں تھے، ایسا لگ رہا تھا کہ انھوں نے مجھے ہی نہیں کئی درجن کمانڈوز کو بھی یرغمال بنا رکھا ہے۔ میرا خیال تھا کہ کمانڈوز رات ہونے کا انتظار کر رہے ہیں لیکن دہشت گرد بھی صورتحال کو پوری طرح پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے شازی کو کھلے والی سائیڈ کی کھڑکی میں بٹھائے رکھا، جبکہ دوسرے شیشے کے ساتھ این تھی۔ ایسا یقیناً سنائپرز کو کھیل سے باہر کرنے کے لیے کیا گیا تھا، دونوں دہشت گرد اس طرح بیٹھے تھے کہ ہمیں نقصان پہنچائے بغیر باہر سے انھیں نشانہ بنانا آسان نہیں تھا۔ جیسے جیسے سورج مغرب میں اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا تھا، ویسے ویسے ان کے لہجے میں تلخی بڑھتی جا رہی تھی۔ پانچ بجے ایک دہشت گرد نے کیپٹن بابر کو راستہ چھوڑنے کے لیے تیس منٹ کی مہلت دی۔ اور دھمکی دی کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں اکتیس منٹ پر میری لاش گاڑی سے گرا دی جائے گی۔ اور ٹھیک دس منٹ بعد این کو قتل کر دیا جائے گا۔

میں خود بےبس تھا۔ گاڑی روکنے کے کچھ دیر بعد ہی میرے ہاتھ بھی باندھ دیے گئے تھے۔ اس دوران پچھلے دہشت گرد کی رائفل کی نال میرے سر کو لگی رہی تھی۔ وقت ایک ایک سیکنڈ کر کے گزر رہا تھا۔ مجھے اس بات میں ذرا سا بھی شک نہیں تھا کہ مجھے اکتیس منٹ میں گولی مارنے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر کی جائے گی۔ میں اپنے آپشنز پر غور کر رہا تھا، پچیس منٹ گزر چکے تھے، پانچ منٹ باقی تھے کہ میگا فون دوبارہ جاگا۔ اس دفعہ آواز بدلی ہوئی تھی، لیکن میرے لیے اجنبی نہیں تھی۔ یہ میرا دوست اخلاق تھا۔ اس نے مجھے اور این کو انگلش میں مخاطب کرتے ہوئے تسلی دی کہ ہم وقتی طور پر پیچھے ہٹ رہے ہیں، اور یہ قدم ہماری جان کی حفاظت کے لیے اٹھایا جا رہا ہے، لیکن ہم لوگ بےفکر کریں، ہمیں بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جائے گا۔ اس کے فوراً بعد کیپٹن بابر نے ایک دہشت گرد سے فون پر بات کی اور اس سے کہا کہ وہ جہاں چاہے جا سکتا ہے، اس کا راستہ نہیں روکا جائے گا، اور ہم امید رکھتے ہیں کہ تم مردوں کی طرح اپنی زبان کا پاس رکھو گے اور مغویوں کو چھوڑ دو گے۔

دہشت گرد نے کپیٹن کو وارن کیا کہ اگر کسی ڈرون، چاپر یا کسی اور طرح سے اس کا پیچھا یا نگرانی کی کوشش کی گئی تو وہ ہمیں زندہ نہیں چھوڑے گا۔ کافی دیر بات کرنے کے بعد بکتر بند گاڑیاں ہمارے راستے سے ہٹ گئیں۔

کچھ دیر بعد ہم دوبارہ جی ٹی روڈ پر تھے۔ ایک دفعہ پھر ہمارا رخ پشاور کی طرف تھا. یہ ایک عجیب مزاحیہ سی صورتحال بن گئی تھی۔ ہمارا پیچھا واقعی ہی نہیں کیا جا رہا تھا۔ دہشت گرد نے کئی دفعہ سن روف سے دوربین کے ذریعے آسمان پر کسی ڈرون کو ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کی۔ دینہ کے قریب اچانک ہی مجھے پراڈو کو شہر میں لے جانے کا حکم ملا۔ وہاں ہم نے تیزی سے چند گلیاں بدلیں، اور ایک جگہ گاڑی روک دی۔ وہاں ہمیں ایک سیاہ رنگ کی ٹیوٹا ڈبل کیبن میں سوار کیا گیا۔ اس میں تین اضافی سیٹیں تھیں۔ دو اضافی دہشت گرد بھی ہمارے ساتھ سوار ہوئے۔ اب ہم ایک ذیلی سڑک سے سفر کر رہے تھے۔ وہاں سے ہم مختلف چھوٹی سڑکوں سے ہوتے چکوال پہنچے۔ یہاں سے دوبارہ گاڑی بدلی گئی۔ اب این کے ساتھ میرے ہاتھ بھی باندھ دیے گئے اور مجھے پچھلی سیٹ کے درمیان پھینک دیا گیا۔ گاڑی مزید دو تین گھنٹے چلتی رہی۔ پھر ایک جگہ جا کر رک گئی۔ اس وقت تک رات گہری ہو چکی تھی۔

یہ کوئی حویلی نما مکان تھا۔ میں علاقے کا اندازہ لگانے سے قطعاً قاصر تھا۔ یہاں مجھے این سے جدا کر کے ایک اندرونی کمرے میں لے جا کے بند کر دیا گیا۔ میرے ہاتھ اس سختی سے باندھےگئے تھے کہ رسی گوشت میں اترتی محسوس ہو رہی تھی۔ سارے دن کی بھاگ دوڑ اور اعصاب شکن ماحول میں رہنے کی وجہ سے میرا جسم ٹوٹ رہا تھا، اور بھوک پیاس سے میرا دم نکل رہا تھا، لیکن اس حال میں بھی میں این کے لیے فکرمند تھا۔ اس نے جس طرح مجھ سے لپٹ کر میری جان بچائی تھی، اور وہ جتنی امید بھری نظروں سے مجھے دیکھتی رہی تھی۔ یہ مناظر بار بار میری آنکھوں میں گھوم رہے تھے۔ میرے کمرے میں اندھیرا تھا۔ مجھے لاشعوری طور پر کھانے یا کسی کی آمد کا انتظار تھا۔ یہ انتظار اتنا طویل ہوا کہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی۔

پھر میری آنکھ فائرنگ اور دھماکوں کی زوردار آوازوں سے کھلی۔ میں چونک کر اٹھ بیٹھا۔ میرے ہاتھ بدستور بندھے تھے۔ باہر شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔ پھر اچانک ہی میں نے کمرے کے باہر بھاری قدموں کی آہٹ اور ایک جانی پہچانی آواز سنی۔
یہ میرے یار اخلاق کی آواز تھی۔
(جاری ہے)

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!