ہٹلر کا آخری سچ – ناصر فاروق

’’میں برلن چھوڑ نہیں سکتا، اپنی خوشی سے جان دے رہا ہوں۔ یہ غلط ہے کہ سن 39 کی جنگ میری خواہش تھی۔ یہ جنگ اُن بین الاقوامی مدبروں کی خواہش اور انگیخت سے ہوئی، جو یا تو یہودی النسل تھے یا یہودیوں کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے تھے۔‘‘

انتہائی تباہ کُن جنگ کا فیصلہ کُن روز تھا، شکست مقدر ہو چکی تھی۔ اُس نے محبوبہ ایوا براؤن کے ساتھ شادی رچائی، اور اگلی سہ پہر دلہا دلہن کے کمرے سے گولی چلنے کی آواز سنائی دی، اور ایڈولف ہٹلر قصہ پارینہ ہوگیا، مگر چند سطر کا وصیتی نوٹ چھوڑ گیا، جو آج تک انسانی دنیا میں وجہ فساد کی نشاندہی کر رہا ہے۔ اگر ہٹلر کی موت سے لمحہ موجود تک یہ چند سطریں سچ سمجھ لی جاتیں، تو انسانی معاشرے تباہ کُن حالات کا سامنا نہ کرتے۔ مگر یہ ہو نہ سکا۔ کیوں نہ ہوسکا؟ اور آج تک کیوں نہیں ہو پا رہا؟ جواب تک جانے سے پہلے عالمی جنگوں پر، اور ان سے فائدہ سمیٹنے والوں پر ایک نظر ناگزیر ہے۔ ہٹلر کا وصیتی نوٹ زمینی حقیقت بن کر حال پر صادق نظر آئے گا۔

بیسویں صدی کے اوائل میں یورپ کا مرد بیمار دم توڑ رہا تھا اور یورپ کے سامراجی گدھ بلقان پرجھپٹ پڑے تھے۔ پہلی عالمی جنگ محض سلطنت عثمانیہ کی بندر بانٹ ہی کا سامان نہ تھا، بلکہ یورپ کی بڑی طاقتوں کا زور بھی توڑا گیا۔ جرمن، رشین، اور ہیبسبرگ کی سلطنتیں نقشے سے غائب ہوگئیں۔ تین کروڑ اسی لاکھ انسان پہلی عالمی جنگ کا شکار بنے۔ ایک کروڑ ستر لاکھ ہلاک اور دو کروڑ زخمی ہوئے۔ 28 جولائی 1914ء سے 11 نومبر 1918ء تک یورپ ادھ موا ہو چکا تھا۔ جرمنی پراشتعال انگیز اور شرانگیز پابندیاں لگا کر دوسری عالمی جنگ کا ماحول پیدا کیا گیا۔ ہٹلر کے عروج کے لیے وال اسٹریٹ نے سرمایہ لگایا۔ جنگ ساز جُت گئے۔

دوسری عالمی جنگ ستمبر 1939ء سے نومبر 1945ء تک رہی۔ 30 لاکھ جرمن فوجی ہلاک اور 70 لاکھ زخمی ہوئے۔ اٹلی کے ڈیڑھ لاکھ فوجی اور روس کے 62 لاکھ فوجی لقمہ اجل بنے۔ لاکھوں عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوئے۔ لاکھوں مربع میل تک میدان کے میدان ویران ہوگئے، دور تک انسان نظر نہ آتے تھے۔ برطانیہ کے بھی لاکھوں فوجی موت کے منہ میں جا چکے تھے۔ برطانیہ، فرانس، اٹلی، اور جرمنی کوڑی کوڑی کے لیے امریکہ کے محتاج ہو چکے تھے۔عالمی جنگوں پر تحقیق اور کتابوں سے لائبریریاں بوجھل ہیں۔ معلومات کی کثافت اور کہانیوں کی المناکیاں بےشمار ڈراموں اور فلموں کی وجہ شہرت بن چکی ہیں۔ ہٹلر کے مظالم کی وہ وہ دہشت ناک منظرکشی کی گئی کہ جرمن آج تک ماضی میں جھانکنے کی جرات نہیں کرتے (حالیہ تاریخ میں صدام حسین کے ساتھ بھی کم و بیش یہی ہوا، پہلے خوب بڑھاوا دیا گیا، پھر صدام کو عراقی ہٹلر بنا کر ناجائز جنگ کا جواز پیدا کیا گیا)۔

غرض سب کچھ ہوا، مگر ہٹلر کی آخری وصیت کی سچی سطریں یا تو سطحی نظر تک سے محروم رہیں، یا کئی پردوں کے پیچھے چھپا دی گئیں، نمایاں نہ ہو سکیں۔ یہ سطریں صاف صاف بتا رہی ہیں کہ عالمی جنگیں صہیونی ساہوکاروں کا منصوبہ تھیں۔ وہ کس طرح؟ عالمی جنگوں کے محرکات اور تفصیلات میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صرف نتائج اور فائدے سمیٹنے والوں پر ایک نظر کافی ہے۔ پہلی عالمی جنگ کے اہم نتائج میں سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ سب سے نمایاں تھا۔ بالفور اعلامیہ یعنی سرزمین فلسطین کا سودا طے پاگیا تھا۔ صہیوني نواب لائنل والٹر راتھ شیلڈ نے فلسطینیوں کی موت پر دستخط کر دیے تھے۔ یہ دو ہی ایسے نتائج تھے، جو تاحال خوفناک اثرات مرتب کرنے والے تھے، اور جنگ کے مرکزی اہداف تھے۔ دوسری عالمی جنگ کے نتائج میں یہ اہداف کچھ اور منزلیں طے کرگئے۔ اعلان بالفور اسرائیل کا قیام بن گیا۔ یورپی قوم پرستی اور فسطائیت کی جگہ امریکی سامراجیت نے لے لی۔ اب عالمی حالات پر وال اسٹریٹ کی گرفت مزید مستحکم ہوگئی۔ نو آبادیاتی نظام کی جگہ تیسری دنیا کی بالواسطہ منظم محکومیت نے لے لی۔

انیسویں صدی کے اواخر تک صہیونی راتھ شیلڈ خاندان دنیا کی آدھی دولت کا مالک بن چکا تھا۔ بینک آف انگلینڈ، بینک آف امریکہ، وال اسٹریٹ، اور دیگر مالیاتی ادارے، اور ذرائع ابلاغ صہیونی ساہوکاروں کی مٹھی میں تھے۔ یہ ممکن ہی نہ تھا کہ یہودی آشیرباد بنا یورپ کی سامراجی، فسطائی، نازی، اور اشتراکی سلطنتیں درہم برہم ہوجاتیں، سلطنت عثمانیہ کی بندر بانٹ ہو جاتی، اور برطانیہ اعلان بالفور پر دستخط کر جاتا۔ یورپ اور امریکہ کی معیشتوں پر یہودی گرفت بےحد مظبوط تھی۔ یہ ممکن ہی نہ تھا کہ ادھ موئے جرمنی کا ہٹلر وال اسٹریٹ کی مالی معاونت کے بغیر نازی ہٹلراعظم بن پاتا، لاکھوں یہودی یورپ کی پرسکون زندگی ترک کرکے ارض فلسطین کے بیابانوں کا رخ کر پاتے، اور مسلمان دنیا پر عثمانی ترکوں کی جگہ غدار اور امریکہ نواز اقتدار کی بو بھی سونگھ پاتے۔

ہٹلر کی خواہشات اور مجبوریوں سے قطع نظر، وصیتی نوٹ کی آخری سطر پر ایک سچي نظر آج کی صورتحال واضح کرتی ہے۔ آج کی تیسری، مگر یک طرفہ عالمی جنگ صہیونی سرمایہ کاری ہی ہے۔ اس بار بھی اہداف صہیونی ہیں، فائدہ سمیٹنے والے بھی صہیونی ہیں۔ پہلی عالمی جنگ سے اعلان بالفور برآمد ہوا۔ دوسری عالمی جنگ سے اسرائیل برآمد ہوا۔ تیسری عالمي جنگ Promised Land سرزمین اسرائیل ہاشلیمہ کی جغرافیائی و سیاسی حاکمیت کا ہدف حاصل کر رہی ہے۔ ان تینوں جنگوں میں بنی اسرائیل نے تین بڑے دشمنوں کی سیاسی و نظریاتی حاکمیت لہو لہو کر دی۔ یورپ، عیسائیت، اور مسلم دنیا نادار و ناتواں ہوئے۔ یورپ سے صدیوں پر پھیلے مظالم کا انتقام لیا گیا۔ عیسائیت مکمل طور پر متروک بنا دی گئی۔ اب مسلم دنیا کی دجل سازی اور خون ریزی جاری ہے۔

یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ سادہ سی وجہ ہے۔ یہودیوں کا معیار کفر مسلمان کے اخلاص ایمان پر حاوی رہا۔ بنی اسرائیل ابلیسیت سے مخلص، اور دجل و فریب پر ایمان و اعتماد سے عامل رہے۔ جبکہ یورپ کی عیسائیت عیب زدہ اور مسلم دنیا کا ایمان سے اخلاص کمزور رہا۔

اب صورتحال مگر قدرے مختلف ہے۔ اسلامی دنیا کا مرد بیمار پھر لذت ایمان سے آشنا ہوا ہے۔ جہاد افغانستان کي روح بیدار ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب ہٹلر کی وصیت کے سچ کوسچ کا سامنا ہوگا، اور فتح سچ کا مقدر ہوگی۔

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam