گمراہ – سلسلہ وار کہانی (3) – ریحان اصغر سید

اس کمرے کا سائز بارہ بائی چودہ فٹ سے زیادہ نہیں تھا۔ ایک طرف ایک چھوٹا سا اٹیچ باتھ بنا ہوا تھا۔ کمرے کی ایک دیوار کے ساتھ سنگل بیڈ لگا ہوا تھا. این کے کمرے کا سائز اور ساخت بھی بالکل میرے کمرے جیسی ہی تھی۔ این نے نیلی جینز کے اوپر کاٹن کی بڑی بڑی جیبوں والی سفید شرٹ پہن رکھی تھی، جو قدرے میلی ہو رہی تھی، شاید اسے انہی کپڑوں میں اغوا کیا گیا تھا۔ این نے بیڈ سے اتر کے ایک سیب کھایا، کمرے میں ہی کچھ ایکسرسائز کی اور پھر اس شیشے کے پاس آئی جس سے میں اسے دیکھ رہا تھا۔ پہلے مجھے یوں لگا جیسے وہ مجھے ہی دیکھ رہی ہے، پھر اندازہ ہوا کہ اس کی جانب کا گلاس آئینہ ہے، اس نے اپنے سرخ بالوں میں برش کیا۔ ان کا جوڑا بنایا اور بیڈ پر الٹا گر کے لیٹ گئی۔ وہ بالکل پرسکون لگ رہی تھی۔ شاید جنگ زدہ ملکوں میں رپوٹنگ نے اس کے اعصاب کو آہنی بنا دیا تھا۔

میں نے وال کلاک پر وقت دیکھا، رات کے بارہ بج چکے تھے۔ اسی اثنا میں انٹر کام کی بیل بجی۔ میں نے ریسور اٹھایا۔
این کو دیکھنا بند کرو۔ اب تو وہ سو گئی ہے۔ تم بھی سو جاؤ۔ تمھیں صبح چار بجے نکلنا ہے، اور سارا دن ڈرائیو کرنی ہے، اس لیے تھوڑی نیند لے لو۔
دوسری طرف نرم آواز والا سبل تھا۔ میرے جواب دینے سے پہلے ہی رابطہ کاٹ دیا گیا۔ مجھے پہلے سے ہی خدشہ تھا کہ ہمیں مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

میں سونے کے لیے بیڈ پر لیٹ گیا۔ مجھے روشنی ڈسٹرب کر رہی تھی لیکن کمرے میں بظاہر کہیں بھی لائٹس کو بند کرنے کا سوئچ نہیں تھا۔ آنے والے دن کے بارے میں سوچتے ہوئے جانے کب میری آنکھ لگ گئی۔ پھر مجھے کسی نے جھنجھوڑ کر جگایا۔ وہ سبل تھا۔ گھڑی پر صبح کے ساڑھے تین بج رہے تھے۔ میں نے باتھ روم جانے سے پہلے این کے کمرے کی جانب دیکھا، وہ کمرے میں نظر نہیں آ رہی تھی، البتہ اس کے کمرے میں شلوار قمیض میں ملبوس ایک غیر معمولی سفید رنگت کی میانہ قامت لڑکی کھڑی تھی۔ بیڈ پر کھانے کے برتن پڑے تھے۔ میں جمائی روکتا ہوا باتھ روم میں گھس گیا۔ ٹھنڈے پانی سے نہا کے میری کسل مندی دور ہو گئی۔ میرے لیے ایک برانڈڈ سوٹ لا کے بیڈ پر رکھ دیا گیا تھا۔ نرم خو سبل نے اپنے ہاتھوں سے میری ٹائی باندھی۔ میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ سبل خطرناک آدمی ہے۔ اس کے بعد مجھے بھی تگڑا ناشتہ کروایا گیا۔ سبل میرے پاس کرسی پر بیٹھا مجھے ہدایات دیتا رہا۔

اس نے مجھے بتایا کہ ایک دفعہ چلنے کے بعد مجھے کہیں بھی رکنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ گاڑی میں ٹریکر لگا ہے جس کا مکمل کنٹرول اس کے پاس ہوگا۔ وہ منزل پر پہنچنے تک خود مشن کی نگرانی کرےگا۔ شازی میری بیوی کی حثیت سے پیسنجر سیٹ پر بیٹھے گی۔ این کے ہاتھ باندھ دیے جائیں گے اور منہ پر ٹیپ لگا کے پیچھلی سیٹ پر بٹھایا جائے گا۔ اس کی شناخت شازی کی بڑی گونگی بہن کی ہوگی اور ہم شازی کے میکے پشاور جا رہے ہیں۔ مجھے بذریعہ این فائیو پشاور پہنچنا تھا اس کی وجہ سبل نے یہ بتائی کہ میں موٹر وے پر لاک ہو سکتا ہوں۔ کوئی مخبری ہوگئی تو میرا بچنا ناممکن ہوگا، جبکہ جی ٹی روڈ پر میرے پاس آپشن کھلے ہوں گے۔ میں خود بھی جی ٹی روڈ سے ہی جانا چاہتا تھا۔ شازی وہی لڑکی تھی جسے میں نے ساتھ والے کمرے میں دیکھا تھا۔ میری گاڑی میں اسلحہ اور کچھ کھانے پینے کا سامان رکھا جا چکا تھا۔ اور کہیں روکے جانے کی صورت میں مجھے مقابلہ کرنا تھا اور ہر صورت این کو سیکورٹی فورسز سے بچا کے پشاور یا کسی محفوظ مقام تک پہنچانا تھا۔

ناشتے کے بعد میری آنکھوں پر وہی پٹی کس کے باندھ دی گئی۔ اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے گیراج میں لے جا کے ایک گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بٹھا دیا گیا۔ بیٹھتے ہوئےگاڑی کی اونچائی سے میں نے اندازہ لگایا کہ یہ کوئی ایس یو وی ہے۔ شائد ٹویاٹا پراڈو یا لینڈ کروزر۔ میرے بیٹھنے کے دوران ہی دوسرے دروازے سے کسی نرم سے وجود کو میرے پاس بٹھایا گیا۔ ایک بھینی سی جسمانی مہک میرے نتھنوں سے ٹکرائی۔ میرا اندازہ تھا کہ یہ این ہے۔ گاڑی کے اگلے دونوں دروازے کھلے، پھر بند ہوئے۔ پھر گاڑی سٹارٹ ہو کر چل پڑی۔گاڑی قریباً پندرہ منٹ چلتی رہی، پھر روک دی گئی۔ کسی نے پیچھے آ کر میری آنکھوں سے پٹی اتاری۔ میں نے دیکھا کہ یہ ان دو لوگوں میں سے ایک تھا جو مجھے ریسٹورنٹ سے لے کر آئے تھے۔ میرے ساتھ واقعی ہی این بیٹھی تھی، اسے ٹوپی والے برقع میں اچھی طرح لپیٹ دیا گیا تھا، اور یقیناً منہ پر پٹی بھی بندھی تھی۔ وہ گردن موڑے مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔ میں نے نیچے اتر کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔ یہ ٹویوٹا پراڈو ٹی ایکس فور کا بالکل نیا ماڈل تھا۔ ساتھ والی سیٹ پر بنی ٹھنی شازی بیٹھی تھی۔ ہمیں لانے والا ڈرائیور ادھر ہی رہ گیا تھا۔ بیس منٹ بعد میں دریائے راوی کے اوپر سے گزر رہا تھا۔ مجھے پتہ چل چکا تھا کہ میرا پیچھا کیا جا رہا ہے، پیچھا کرنے والی ایک بی ایم ڈبلیو تھی جس میں تین سے چار مشٹنڈے بیٹھے تھے۔

افق پر اب سفیدی کے آثار نمایاں تھے۔ گاڑی ایک رفتار پر دوڑتی چلی جا رہی تھی۔ اس سے زیادہ تیز میرا ذہن دوڑ رہا تھا۔ میں اپنے آپشنز پر غور کر رہا تھا۔ این کو پشاور لے جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ مجھے اور کچھ نہ سوجھتا تو گاڑی کسی رش والی جگہ میں کہیں ٹھوک دیتا یا پیچھے والی گاڑی کو چکمہ دے کر بھاگنے کی کوشش کرتا۔ میری اصل پریشانی گاڑی کا ٹریکر تھا۔ سبل کسی وقت بھی میری گاڑی کا انجن بند کرنے پر قادر تھا۔ اس نے مجھے ہدایت کی تھی کہ مجھے ہر جگہ سپیڈ لمٹ کا خیال رکھنا ہے۔ ٹریفک کے کسی قانون کو نہیں توڑنا۔ ایکسیڈنٹ سے ہر صورت بچنا ہے۔

اب ہم گوجرانوالہ شہر سے گزر رہے تھے۔ این چپ چاپ بیٹھی تھی جبکہ شازی کی زبان قینچی کی طرح چل رہی تھی۔ وہ پوٹوہار کے کسی علاقے کی بہت کھلی ڈلی لڑکی تھی جو مسلسل مجھ پر ڈورے ڈالنے کی کوششوں میں مصروف تھی، لیکن میرا ذہن اخلاق میں اٹکا ہوا تھا۔ مجھے رہ رہ کر اس کی لاعلمی پر حیرت اور غصہ آ رہا تھا کہ اتنی بڑی اور مشہور صحافی اغوا ہو چکی تھی اور اسے خبر ہی نہیں تھی۔ یا کسی وقت مجھے شک گزرتا کہ اس نے جان بوجھ کر مجھ سے یہ بات چھپائی ہے، شاید پروفیشنل سیکرٹ ہونے کی وجہ سے۔ مجھے کوشش کے باوجود اخلاق سے رابطے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ شازی کے پاس سیل فون تھا، سبل نے اسے کال کر کے کہا تھا کہ مجھے کہے کہ میں بلاوجہ گاڑی آہستہ کیوں چلا رہا ہوں؟ وہ واقعی ہی ٹریکر پر مجھے مانیٹر کر رہا تھا۔ مجھے یہ بھی خدشہ تھا کہ گاڑی میں کوئی مائیک اور کیمرہ نہ لگا ہو۔ پھر بھی میں نے خطرہ مول لینے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت ہم گھکڑ منڈی کے قریب تھے۔

شازی یار! ایک کال تو کروا دو مجھے۔ بہت ضروری کام ہے۔ سبل صاحب تو بلاوجہ زیادہ ہی محتاط ہو رہے ہیں۔
میں نے شازی کو متوجہ کیا۔ جو کسی چیختی ہوئی آواز والی پوٹوہاری گلوکارہ کے گانے سن رہی تھی۔
میں صدقے جاواں ایس سوہنے منہ تے جدے توں تسی ساڈا ناں لیا۔ پر میرے فون وچ بیلنس کوئی نئی۔
شازی نے ٹکا سا جواب دیتے ہوئے کہا۔
میں کوشش کرکے دیکھتا ہوں،
شاید ہو جائے۔
میں نے فون لینے کے لیے ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
آوٹ گوئنگ ای بند اے باؤ جی۔
شازی فون بیگ میں رکھتے ہوئے ڈھٹائی سے مسکرائی۔
ویسے باؤ جی۔ آپ کو تو فلموں شلموں میں ہونا چاہیے۔
ہائے اللہ کنے سوہنے او تسی۔ تسی اے کیڑے کمماں وچ پے ہوئے او۔
شازی نے اپنا ٹھرک پروگرام وہیں سے شروع کرتے ہوئے کہا۔
دل تو میرا بھی یہی چاہتا ہے کہ فلموں میں کام کروں لیکن جب تک شان زندہ ہے کسی اور کی باری آتی نظر نہیں آ رہی۔
شازی کھلکھلا کے ہنس پڑی۔

آگے چناب ٹول پلازہ آرہا تھا۔ میں نے گاڑی کی رفتار آہستہ کی اور ایک لائن کے پیچھے روک دی۔ ٹول پلازے کا جائزہ لیا۔ سب کچھ معمول کے مطابق لگ رہا تھا۔ پتہ نہیں وہ ریڈ الرٹ کہاں تھا جس کا ذکر سبل کر رہا تھا۔ اچانک ایک ایسے چہرے پر میری نظر پڑی جس نے مجھے بری طرح سے چونکا دیا تھا۔
وہ ذاکر عباس تھا۔ اخلاق کا قریبی ساتھی۔ میں اسے کئی دفعہ اخلاق کے ساتھ دیکھ چکا تھا۔ میرے جسم میں توانائی بھرگئی۔ مجھے دوزخ میں دھکیل کے اخلاق مجھے بھول نہیں گیا تھا۔ میں نے غیر محسوس انداز میں لائن بدلنا چاہی۔
ادھر ہی رہو اس طرف رش زیادہ ہے۔
شازی نے فوراً اعترض جڑا۔ میں نے بیک ویو سے پیچھے آتی نیلی بی ایم ڈبلیو کو دیکھا۔ وہ چار پانچ گاڑیاں دور تھی۔
میں تھوڑی سی کوشش سے اس لائن میں داخل ہونے میں کامیاب رہا جس کے کیبن کے پاس ذاکر کھڑا تھا۔ میں نے کئی دفعہ غیر محسوس انداز میں ہیڈ لائٹ کے ڈپر سے اشارہ دیا، اور دعا کی کہ چلاک شازی نے میری یہ حرکت نوٹ نہ کی ہو۔ مجھ سے آگے تین کاریں تھیں، پراڈو ان کے مقابلے میں بلند تھی۔ اس لیے ہیڈ لائٹس کی روشنی نے فوراً ذاکر کو متوجہ کر لیا۔ میں نے اپنی سائیڈ والا شیشہ پورا نیچے کر رکھا تھا، میں نے بازو باہر لٹکایا۔ اور انگلی سے ایک طرف پڑے ایک پیلے رنگ کے بورڈ کی طرف اشارہ کیا جس پر سرخ رنگ سے سٹاپ لکھا تھا۔ پتہ نہیں ذاکر میرا اشارہ سمجھا یا نہیں۔ آخر میری باری بھی آ گئی۔ میں نے کیبن میں بیٹھے لڑکے کو ٹول کی رقم ادا کرنے کے لیے جان بوجھ کے تاخیر کی۔ اس دوران سیاہ چشمہ لگائے چالیس سالہ ذاکر بالکل میرے قریب آ گیا۔
سر میری گاڑی خراب ہو گئی ہے۔ ذاکر نے ایک سائیڈ پر کھڑی ایک کار کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے مجھے بتایا۔
اگر آپ اسلام آباد کی طرف جا رہے ہیں تو کیا آپ مجھے جہلم تک لفٹ دے سکتے ہیں۔ آپ کی بہت نوازش ہوگی۔
میں نے شازی کو دیکھا جو قدرے حیران نظروں سے ذاکر کو دیکھ رہی تھی۔
میں معذرت چاہتا ہوں جناب! میرے ساتھ میری فیملی ہے اور پچھلی سیٹ پر ہماری ایک انتہائی معزز مہمان بیٹھی ہیں، میں آپ کو لفٹ نہیں دے سکتا۔

یہ کہہ کر میں نےگاڑی آگے بڑھا دی. فوراً ہی سبل کی کال آ گئی، وہ جاننا چاہتا تھا کہ ہمیں ٹول پلازے پر اتنا وقت کیوں لگا۔ اور وہ شخص ہم سے کیا بات کر رہا تھا۔ شازی نے جلد ہی اسے مطمئن کر دیا لیکن اب شازی بالکل خاموش ہو گئی تھی۔ میں ذاکر کے انداز اور الفاظ پر غور کر رہا تھا۔ اس نے جہلم کا لفظ بڑا زور دے کر بولا تھا۔ تو کیا ہمیں جہلم کے پل پر روکا جائے گا؟ وہ ایک رش والی جگہ تھی۔ سڑک کے درمیان ڈیوائیڈر چھوٹا تھا۔ میری گاڑی آسانی سے دوسری سڑک پر آ سکتی تھی۔ وہاں اگر فائرنگ شروع ہو جاتی تو کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ میں دعا ہی کر سکتا تھا کہ مجھے روکنے والے لوگ پچھلی کار کے متعلق بھی آگاہ ہوں۔ پچھلی سیٹ پر بیٹھی این بھی اب بے چین ہو رہی تھی۔ وہ سر کو گھمانے کے علاوہ منہ سے لایعنی آوازیں بھی نکال رہی تھی۔
میرا خیال ہے این کو باتھ روم کی حاجت ہو رہی ہے۔ ہمیں رکنا ہوگا۔
میں نے بیک ویو مرر سے این کو دیکھتے ہوئے شازی سے کہا۔
گاڑی روکنے کی اجازت نہیں ہے۔ میں پیچھے جا کر اس سے پوچھتی ہوں، اسے کیا تکلیف ہے۔
شازی نےگاڑی کے اندر سے ہی پچھلی سیٹ پر جاتے ہوئے کہا۔ اس نے این کے چہرے سے برقع اتارا۔ این کا چہرہ خاص طور پر منہ پر لگی پٹی کے اردگرد کا حصہ بالکل سرخ ہو رہا تھا۔ وہ کچھ کہنے کی کوشش کر رہی تھی۔
اس کی پٹی کھولو۔
پٹی کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔
شازی نے رٹے رٹائے انداز میں کہا۔
شٹ اپ شازی۔
میں چنگھاڑا تو شازی کچھ سہم گئی۔
تم حالت دیکھ رہی ہو اس کی۔ یہ مر گئی تو بڑا خان ہماری کھال اتروا لے گا۔ پٹی اتارو اس کے منہ سے۔
گاڑی کے پچھلے شیشے قدرے گہرے رنگ کے تھے، اس لیے میں قدرے بے فکر تھا۔ شازی نے این کے منہ سے پٹی اتاری تو وہ زور زور سے سانس لینے لگی۔
یوں جانوروں کی طرح باندھ کر کہاں لے جا رہے ہو مجھے۔ تمھیں ایک عورت سے اس طرح کا سلوک کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ ڈوب مرو شرم سے۔
این پھٹ پڑی.
اس نے برقع کے نیچے سے مجھے اپنے بندھے ہاتھ دکھائے، جہاں سے لگتا تھا کہ خون کی گردش رک گئی ہے۔
میں تم سے معافی مانگتا ہوں این۔ ہم مجبور تھے تمھیں ایسے لانے کے لیے۔ زیادہ سفر کٹ گیا ہے، بس کچھ باقی ہے۔
میں نے نہایت نرمی سے جواب دیا۔ این کی حالت نے واقعی ہی میرے دل پر اثر کیا تھا۔ میں نے شازی سے این کی ہاتھوں کی پٹی نرم کرنے کا کہا۔ میں این کو تسلی دیتا رہا لیکن اس کی شکل سے لگ رہا تھا کہ اسے میری کسی بات پر اعتبار نہیں۔ میں نہیں جانتا تھا کہ بظاہر انجان بننے کے باوجود شازی انگلش زبان سے کس حد تک آگاہی رکھتی ہے، مجھے دوسرا خطرہ گاڑی میں لگے کسی خفیہ مائیک سے تھا۔ میرے کہنے پر شازی نے اسے پانی پلایا۔
دیکھو این! ہم بہت جلد منزل پر پہنچنے والے ہیں۔ مشکل وقت کٹ گیا۔ پلیز میرا اعتبار کرو۔ مجھ سے تعاون کرو پلیز۔

میں بیک ویو مرر سے این کی گہری نیلی آنکھیں دیکھ رہا تھا، جن میں مجھے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ این نے کچھ دیر غور سے میرا چہرہ دیکھا، جس میں اسے جانے کیا نظر آیا کہ وہ قدرے پرسکون ہو گئی۔ شازی نے مخصوص پٹی دوبارہ این کے منہ پر چڑھائی اور اس کے منہ پر برقع ڈال کر آگے آ گئی۔ جیسے جیسے جہلم قریب آ رہا تھا، میرے اعصاب کشیدہ ہو رہے تھے۔ میں اس بات سے پریشان تھا کہ این کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ کھاریاں کے قریب سے گزرتے ہوئے مجھے ایک سفید رنگ کی لینڈ روور نے اوور ٹیک کیا۔ گاڑی کچھ پرانی تھی اور اس پر لاہور کا نمبر تھا۔ مجھے جس بات نے چونکایا، وہ گاڑی کے کالے شیشے تھے۔ کچھ دیر ہمارے آگے چلنے کے بعد وہ گاڑی بائیں لائن میں چلی گئی اور ہم نے اسے آسانی سے اوور ٹیک کر لیا۔ میں پرامید تھا کہ وہ مجھے دوبارہ کراس کریں گے، چند کلومیٹر کے بعد میں نے اپنے دائیں جانب پیچھے اسی گاڑی کی ہیڈ لائٹس کی روشنی دیکھی لیکن اس دفعہ میں نے اسے راستہ نہیں دیا، وہ بالکل میرے پیچھے تھے۔ ڈرائیور سائیڈ پر دو لوگ بیٹھے تھے۔ میں سائیڈ مرر سے ان کو دیکھ رہا تھا، ایک نے میرے دیکھتے دیکھتے مارکر سے کار کی ونڈ سکرین کے اندرونی جانب لکھا۔
ڈونٹ وری، جہلم۔
میں نے کن اکھیوں سے شازی کو دیکھا لیکن وہ دوسری طرف متوجہ تھی۔
پیغام پڑھتے ہی میں نے گاڑی کو راستہ دے دیا، جب وہ ہمارے پاس سے گزرے تو پیغام سکرین سے مٹ چکا تھا۔

سرائے عالمگیر تک میں نے ایک اور ٹیوٹا کرولا کو مارک کیا جو مسلسل ہمارے ساتھ چل رہی تھی۔ نیلی بی ایم ڈبیلو بھی ایک مخصوص فاصلہ رکھے مسلسل میرے پیچھے تھی، اس نے ایک دفعہ بھی مجھے اوور ٹیک کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ دریائے جہلم کے پل کے پاس پہنچتے ہی مجھے گاڑیوں کی طویل قطاریں نظر آئیں۔ جانے والی ٹریفک کو پل پر سخت چیکنگ کے بعد جانے دیا جا رہا تھا۔ سفید لینڈ روور اور دوسری کار مجھ سے پندرہ بیس گاڑیاں آگے جا چکے تھے۔ مجھے اسی وقت ان کی بے وقوفی کا احساس ہوگیا تھا۔ میں گاڑی کو انتہائی دائیں لائن میں لے گیا اور اسے ڈیوائیڈر کے بالکل پاس رکھا۔ میرے پیچھے گاڑیوں کی لائینں لگنا شروع ہو گئی تھیں، اب میں خود بھی چاہتا تو پیچھے نہیں جا سکتا تھا۔ نیلی کار ہم سے پچاس ساٹھ میٹر پیچھے کھڑی تھی۔ اچانک ہی شازی بہت پریشان نظر آنے لگی تھی۔ میں نے بیک ویو مرر سے وہ منکر نکیر دیکھے جو مجھے ریسٹورنٹ سے لائے تھے۔ وہ نیلی کار سے نکل کر بڑی تیزی سےگاڑیوں کے بیچ میں سے راستہ بناتے میری گاڑی کی طرف آ رہے تھے۔ مجھے ساری گیم الٹتی نظر آرہی تھی. ایک دفعہ وہ میری گاڑی میں پہنچ جاتے تو پھر وہ مجبور کر سکتے تھے کہ میں گاڑی کو ڈیوائیڈر کے پار لے جا کر دوسری طرف واپس جانے والی سڑک پر لے جاؤں، جہاں ٹریفک رواں دواں تھی۔ میری حمایتی گاڑیاں مجھے کہیں نظر نہیں آرہی تھیں، یہ سارا لمحوں کا کھیل تھا۔ میں نے پراڈو کا سٹیئرنگ پورا دائیں کاٹا اور ایکسلیٹر پر دباؤ بڑھایا۔ چار ہزار سی سی انجن چنگھاڑ کر ڈیوائیڈر پر چڑھ گیا۔ شازی کے منہ سے ایک چیخ نکلی۔ میں نے دائیں جانب دیکھا، مجھے صبح ٹھکانے سے لانے والے شخص کے ہاتھ میں موجود گن کا رخ میرے سر کی طرف تھا، وہ مجھ سے صرف چند فٹ دور تھا۔ بائیں جانب سڑک پر گاڑیوں کا ایک ریلا گزر رہا تھا، جو مجھے دوسری طرف سڑک پر اترنے نہیں دے رہا تھا۔ یہ چند لمحے میرے لیے قیامت سے بھی بھاری تھے۔

(جاری ہے۔)

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam