قرارداد 2334 اور مستقبل کا منظرنامہ – ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

امریکہ کے وزیرخارجہ جان کیری نے کل اسرائیل اور مسئلہ فلسطین کے حوالہ سے اپنے خطاب کے دوران فرمایا کہ آنجہانی اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے ایک ملاقات میں ان سے کہا: اسرائیل کے قیام کے وقت فلسطین کو %48 خطہ زمین آفر کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا. آج وہ %22 کے لیے بھی راضی ہیں. اسرائیل کے لیے یہ ایک اطمینان بخش پیش رفت ہے.

اس بات کے تناظر میں یہ اہم اصول ذہن میں مزید راسخ ہوا کہ جب آپ محکوم یا قریباً محکوم ہوں، جیسا کہ تمام مسلم دنیا ہے، تو دو غلطیاں کبھی نہ کریں:
1. بین الاقوامی تنازعات میں عجلت یا جذباتی فیصلہ کے تحت کسی مجوزہ حل کو کبھی مسترد نہ کریں، کیونکہ اس کے بعد پوزیشن مستحکم ہونے سے زیادہ کمزور ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اب بات منوانے کے لیے جس جارحانہ قوت کی ضرورت ہوتی ہے، وہ آپ کے پاس موجود نہیں اور پھر معاملہ التوا کا شکار بھی ہو جاتا ہے، اور رفتہ رفتہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے.

اس ضمن میں قائداعظم کی بصیرت کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی جنہوں نے کابینہ مشن پلان بھی مان لیا اور پھر جب تقسیم کی بات ہوئی اور بعض حلقوں کی جانب سے اس کے جغرافیائی خدوخال پر اعتراض ہوا تو اس پر یہ کہا کہ اگر ماچس کی ڈبیا جتنا پاکستان بھی ملتا تو میں وہ بھی مان لیتا. آج پاکستان ایک حقیقت ہے اور فلسطین ہنوز ایک مسئلہ. پاکستان، دو قومی نظریہ اور پھر دو ریاستی حل کا ایک جیتا جاگتا نمونہ ہے اور فلسطین کے لیے دو ریاستی حل ابھی صرف میز پر گفتگو کا موضوع.

2. کسی جنگ میں شامل ہونے سے پہلے دس دفعہ سوچیں، خاص کر کثیر القومی جنگ، اور خود تو بھول کر بھی جنگ کا آغاز نہ کریں، الا یہ کہ آپ پر جنگ ٹھونس ہی دی جائے. جنگ دراصل آپ کو مزید کمزور کرنے کا ایک ہتھیار ہوتی ہے، بالخصوص جب آپ عالمی برادری کے فیصلوں میں دخیل نہ ہوں اور نہ ان پر اثرانداز ہو سکیں.

آپ دیکھ لیجیے کہ 1920 کے بعد کسی مسلم ملک نے کسی بھی جنگ میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کی؟ جس نے جنگ کا آغاز کیا اس کا مزید ستیاناس ہو گیا.

اس وقت اندرونی استحکام اور بیرونی محاذ پر مضبوط سفارتکاری، بقاء کے سب سے اہم وسائل ہیں. اس سفارتکاری کے لیے اتحادوں کی تشکیل اور مشترکہ مفادات کا تعین اہم ہے. موجودہ حالات میں باہمی تجارت اس کے لیے بنیادی فریم ورک مہیا کر سکتی ہے۔ باضابطہ و بلاضابطہ مشاورت کے فورم اس کو مزید استوار کر سکتے ہیں۔

تاہم اس کے لیے پاکستان، ترکی ایران اور مشرق وسطی کے ممالک کو جنگوں اور پراکسی جنگوں کی نفسیات سے نکل کر پر امن بقائے باہمی کے امکانات کو از سر نو دیکھنا ہوگا ورنہ افراتفری اور توڑ پھوڑ کے خدشات مزید بڑھ جائیں گے.
——————————————-

اس بات کی فوری وضاحت دی جائے کہ اس قرارداد کو ویٹو کیوں نہیں کیا گیا ؟؟؟ سوال کرنے والے نے امریکی سفیر ڈان شیپیرو سے پوچھا۔
جواب جو بھی دیا گیا، اہم بات یہ ہے کہ سوال پوچھنے والا امریکی انتظامیہ کا کوئی عہدیدار نہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کا نمائندہ ہے۔

اس گفتگو کا تناظر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 ہے جس میں اسرائیل سے کہا گیا کہ دریائے اردن کے مغربی کنارے پر یہودی بستیاں غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں جس کی وجہ سے دو ریاستی حل کے تصور کو زک پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ یہ قرارداد سلامتی کونسل کے 14 اراکین کے ووٹ سے منظور ہوئی۔ امریکہ اس ووٹنگ سے غیر حاضر رہا۔

اسرائیل کی ناراضی دیدنی تھی اور اس نے امریکی سفیر کو بلا کر اپنی شدید خفگی کا اظہار کیا۔ جو سوال سفیر سے پوچھا گیا وہ اس امر کی غماضی کرتا ہے گویا اسرائیل کے حوالہ سے ہر قرارداد کو ویٹو کرنا نہ صرف امریکہ کی “ذمہ داری ” ہے بلکہ ایسا نہ کرنے کی صورت اسے کڑی جواب طلبی کا سامنا بھی کرنا ہوگا۔

واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر رون ڈَرمَر نے فرمایا کہ یہ اوبامہ انتظامیہ کی کارستانی ہے اور اس نے جان بوجھ کر نہ صرف یہ ہونے دیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سب کی محرک بھی وہی ہے۔ اسرائیل کے پاس “عرب ذرائع” سے مہیا کردہ ٹھوس ثبوت ہیں جن سے اوبامہ انتظامیہ شریک جرم ثابت ہوتی ہے (یعنی عرب ذرائع فلسطینیوں کے بجائے دراصل اسرائیل کے ساتھ ہیں)۔ نیز یہ کہ اسرائیل ضرورت پڑنے پر یہ سب ثبوت آئیندہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی دے گا (تاکہ وہ بارک اوبامہ کے خلاف کاروائی کریں)۔ گویا بارک اوبامہ انتظامیہ نے امریکہ سے غداری کا ارتکاب کیا۔

یہی نہیں۔ اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ ان تمام 12 ممالک سے تعلقات پر نظر ثانی کرے گا جو اس قرارداد کی منظوری کا سبب بنے۔ یاد رہے اس میں برطانیہ اور فرانس بھی شامل ہیں، چین جاپان روس بھی اور مصر و سینیگال جیسے مسلم ممالک بھی۔ نیو زی لینڈ ، یوراگوئے اور انگولا بھی اس فہرست میں شامل ہیں ۔

غور کیجیے کہ اسرائیل کو دنیا کے کسی خطہ میں واقع کسی بھی ملک سے کوئی جھجھک نہیں۔ وہ سب کو “لائن حاضر” کرنے کو تیار ہے ۔ اس کی ابتدا اسرئیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے سے جنوری میں متوقع ملاقات کی منسوخی سے کی ہے۔ مزید برآں، تمام بارہ ممالک کو یہ بتا دیا گیا ہے کہ نیتن یاہو ان کے وزرائے خارجہ سے مستقبل قریب میں کوئی ملاقات نہیں کریں گے۔ ان ممالک کے سفراء کو اسرائیلی وزارت خارجہ میں خوش امدید نہیں کہا جایے گا اور ان سفارت خانوں کے ساتھ معمول کے تعلقات برقرار نہیں رہیں گے۔

اس سارے منظرنامہ میں آپ کو ایک نئے اسرائیل کے ظہور کے آثار بخوبی نظر آ جانے چاہیئں۔ ایک ایسا اسرائیل جسے دنیا کی واحد سپر پاور بھی جوابدہ ہے ۔ یہ بات بغیر لگی لپٹی رکھے باور کروا دی گئی ہے۔ اس اسرائیل کو مشرق وسطی کے مسلم ممالک کی درپردہ حمایت بھی حاصل ہے اور وہ کرہ ارض کے کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات کو جب چاہے اپنی مرضی کی سطح پر نیچے لا سکتا ہے۔ مشرق وسطی اور عالمی سیاست کے آئندہ خدوخال اور واضح ہونے لگے ہیں۔

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam