مسلم لیگ ن پر اصل اعتراض کیا ہے؟ محمد عامر خاکوانی

میرے ایک قریبی عزیز مسلم لیگ ن کے زبردست حامی ہیں۔ ہرہفتہ دس دن کے بعد ان سے جب ملاقات ہوئی، نصف وقت مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی بحث میں گزر جاتا ہے۔ وہ خاکسار کو پی ٹی آئی کا حامی ہونے کا طعنہ دیتے ہیں اور جواباً نون لیگی کا ٹائٹل خوشی خوشی قبول کرتے ہیں۔ انہیں ہر بار دو باتیں کہتا ہوں، اگرچہ مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ اس محنت کا فائدہ کچھ نہیں ہونا۔ پہلی یہ کہ میں ایک اخبارنویس ہوں اور اخبارنویس کسی پارٹی کا کارکن نہیں ہوتا، جیسا کہ گجرخان کے صوفی پروفیسر نے کہا تھا، اخبارنویس کو چاہیے کہ وہ دربار سے منہ پھیر لے،خلق خدا کی جانب رخ کر کے کھڑا ہوجائے اور کھڑا رہے ۔صحافی کا کام سوال اٹھانا اورعوام کی آواز بننا ہے۔ دوسرا یہ کہ لکھنے والوں کو عدالت کی طرح ایشو ٹو ایشو رائے دینی چاہیے۔ آپ کا پسندیدہ لیڈر غلطی کرے تو اس پر گرفت کی جائے اور جس سے کوئی امید نہیں ، وہ بھی کوئی اچھاکام کرے تو سراہنے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ پی ٹی آئی جب سسٹم میںاصلاحات کی بات کرتی ہے تو میرے جیسے لوگ اس نکتے پر اس کو سپورٹ کرتے ہیں، مگر جہاں غیر جمہوری پالیسیاں بنائی جائیں یا دھرنوں جیسی غلطیاں سرزد ہوں، ان پر تنقید کرتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے حوالے سے کنفیوژن صرف عوامی حلقوں میں نہیں بلکہ اہل دانش وقلم بھی ان کے اسیر ہیں۔ اگلے رو ز ایک نکتہ اٹھایا گیا کہ پاکستانی معاشرے میں مسلم لیگ ن ایک دعویٰ ہے تو اس کا جواب دعویٰ کیوں موجود نہیں۔ یہ دعویٰ اور جواب دعویٰ کی اصطلاح دراصل ہیگل کی مشہور اصطلاح تھیسس ، اینٹی تھیسس کا ترجمہ ہیں۔جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ ہیگل کے مطابق ہر تھیسس (نظریہ)کے جواب میں ایک اینٹی تھیسس (جوابی نظریہ)وجود میںآتا ہے ، بعد میں ان دونوں کے امتزاج سے ایک تیسری شکل سینتھسس (امتزاجی نظریہ) بن جاتی ہے، کچھ عرصہ کے بعد وہ سینتھسس خود ایک نظریہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے،جس کے جواب میں ایک اور جوابی نظریہ آتا ہے اور پھر ایک اور سینتھسس بن جائے گا، یوں وقت کے سفر کے ساتھ یہ فکری سفر بھی جاری رہتا ہے۔ اس پس منظر میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ پاکستانی سیاست میںپیپلزپارٹی ایک دعویٰ(تھیسس یا نظریہ)تھی، اس کے جواب میں اینٹی تھیسس یا جواب دعویٰ اسلامی جمہوری اتحاد (مسلم لیگ، جماعت اسلامی وغیرہ)کی صورت میں آیا۔ بعد میںمسلم لیگ ن ہی جواب دعویٰ بن گئی ۔ نکتہ اصل یہ اٹھایا گیا کہ مسلم لیگ ن کے جوا ب میں کوئی جواب دعویٰ کیوں نہیں آ سکا؟ یہ سوال اٹھانے والے تحریک انصاف کو جواب دعویٰ تصور نہیں کرتے اور اسے مسلم لیگ ن جیسی ہی روایتی جماعت قرار دیتے ہیں۔ یہ سوال بہت اہم ہے اور اس کا سنجیدگی سے تجزیہ کرنا چاہیے کہ پاکستان سیاست میں کیا واقعی صرف ایک ہی قوت مسلم لیگ ن کی صورت میں موجود ہے جس کا کوئی جواب دعویٰ یا اینٹی تھیسس عملی طور پرموجود نہیں ؟ےا پھر یہ وہی مغالطہ ہے جس کا عوامی سطح پرمسلم لیگ ن کے کارکن اور ووٹرز شکار ہیں ؟میرے نزدیک یہ نہ صرف فکری مغالطہ ہے بلکہ یہ سوال اور تجزیہ بھی غلط مفروضوں کے سینگوں پر استوار ہے۔

میرے جیسے لوگ مسلم لیگ ن کے اسی بنیاد پر ناقد ہیں کہ اس جماعت نے ملک سے فکری اور نظریاتی سیاست کا نہ صرف خاتمہ کر دیا بلکہ اسے ماضی کا ایک بھولا بسرا باب بنا دیا۔ آج ہم پوسٹ مسلم لیگ ن یا پوسٹ نواز شریف دور میں جی رہے ہیں، جس کے اپنے عملی تقاضے ہیں ، دعویٰ،جواب دعویٰ جیسے فکری سوال اب غیر اہم، غیر متعلق ہوچکے۔کہاں کا نظریہ اور کہاں کا جواب نظریہ ؟ دو ہزا ر آٹھ کے بعدہمارے سیاستدانوں نے ایک نیا فیصلہ کیا۔ انہوں نے یہ طے کیا کہ ہر ایک کو اپنی باری لینے دی جائے، کوئی حکمران جماعت ملک لوٹ کر کھاجائے، قومی ادارے برباد ہوجائیں، ریاست اربوںڈالر کے قرضوں کے بوجھ تلے دب جائے اور حال یہ ہوجائے کہ سال بھر میں جتنے ٹیکس وصول کئے جائیں، اس کا نصف کے قریب قرضوں کی ادائیگی پر صرف ہوجائے ، کئی ارب ڈالر کا خسارے کا بجٹ بنے اور پھر ملک چلانے، تنخواہیں وغیرہ دینے کےلیے بھی نئے قرضے لیے جائیں، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اسے اتارے گا کون ؟یہ سب کچھ ہوتا رہے، مگر حکمران جماعت کو قطعی ٹف ٹائم نہ دیاجائے، فرینڈلی اپوزیشن کی جائے، ہر ایک کو کیک کو کچھ نہ کچھ حصہ دیا جائے اور وہ مزے لے کر اسے کھاتا رہے۔ دوہزار آٹھ سے آج تک ہم یہی دیکھ رہے ہیں۔ یہ مسلم لیگ ن نے پیپلزپارٹی کے ساتھ کیا اور اب اپنی باری پر پیپلزپارٹی ن لیگ کو وہی فیور لوٹا رہی ہے۔ پنجاب کو پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ ن کے لئے چھوڑے رکھا اور میاں نواز شریف نے اپنی سندھ مسلم برباد کرا لی ، تمام اہم لیڈر پارٹی چھوڑ گئے، مگر انہوںنے سندھ جا کر مسلم لیگ کو منظم کرنے اور صوبائی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی قطعی کوشش نہیں کی۔

بدقسمتی سے یہ آج کی عملی سیاست ہے ۔ مسلم لیگ ن کوئی نظریہ نہیں۔ نظریاتی سیاست سے دور دور تک اس کا کوئی تعلق نہیں۔ بے رحم عملیت پسندی، سٹیٹس کو کی روایتی سیاست ، طاقتور الیکٹ ایبلز کو اپنی جماعت کا حصہ بننے پر مجبور کر دینا اور ایک ایک کر کے تمام اہم اداروں کو ہائی جیک کرلینا ہی ان کا سٹائل اور ٹریڈ مارک بن چکا ہے۔ یہی کچھ پیپلزپارٹی سندھ میں کر رہی ہے۔پیپلزپارٹی نے وہاں امیدکی کرن ہی غائب کردی، جولوگ ہمیشہ اینٹی پیپلزپارٹی رہے، وہ بھی اپنے سرواوئیل کے لئے ساتھ ملنے پر مجبور ہیں۔ مولانا فضل الرحمن ہر دور میںا پنی بہتر سیاسی قیمت لگوانے کے چکر میں رہتے ہیں، اس بار بھی وہ دربار شاہی کا حصہ ہیں۔ ماضی میں بلو چ پشتون قوم پرست جماعتیں کسی حد تک غیر روایتی سیاست کرنے کا تاثر دیتی ہیں۔ اب لگتا ہے وہ بھی تھک ہار چکی ہیں۔ محمود اچکزئی جو چادرکندھے پر ڈال کربزعم خود رومی فلسفی سسر و بن کر جوشیلی تقریریں کرنا پسند فرماتے ہیں، انہوں نے بھی جی بھر کر اقتدار کے تالاب میں غوطے لگائے ہیں، یہی حال حاصل بزنجو، ڈاکٹر عبدالمالک اور کے پی کے میں اے این پی کا ہے۔ پورے ملک میں دو جماعتیں ایسی ہیں جنہوں نے یہ سیٹ اپ یا ایک طرح کا عملی نظریہ (دعویٰ)قبول نہیں کیا۔تحریک انصاف اور جماعت اسلامی ۔جماعت اسلامی کی مجبوری یہ ہے کہ اس کی تشکیل ایک نظریاتی جماعت کے طور پر ہوئی، وہ ایک حد سے زیادہ عملیت پسند نہیں ہوسکتی، اس کے اندر سے شعلے اٹھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے الیکٹ ایبلز پر مبنی سیاست کوایک غیر رسمی قانون یا ضابطہ بنا دیا ہے۔

یہ رِنگ میں لڑنے کے نئے آداب ہیں۔ جسے سیاست کرنا ہے، اسی انداز سے کرے، ورنہ سیاست سے اصغر خان اور ان کی تحریک استقلال کی طرح آﺅٹ ہوجائے۔کرکٹ کی اصطلاح میں یوں سمجھیں کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے اپنے تقاضے ہیں، جن کو فالو کئے بغیر بڑے سے بڑاکھلاڑی نہیں چل سکتا۔ جیف بائیکاٹ ، گواسکر جیسے عظیم بلے باز دنیا کی کسی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں شامل ہی نہیں ہوسکتے، اچھا پرفارم کرنا تو دور کی بات ہے۔ ن لیگ کا دوسرا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے ان تمام بیرئرز کوختم یا مفلو ج کر دیا ہے جو پرانی سیاسی قدروں اور ضابطوں کو نافذ کرسکتے تھے۔ آج ملک میں کوئی عقل و فہم رکھنے والاشخص ایسا ہے جو ہمارے الیکشن کمیشن سے یہ امیدرکھے کہ وہ فیئر اینڈ فری الیکشن تو دور کی بات ہے، صرف انتخابی اخراجات کی قانونی پابندی پر ہی عمل کرا سکے؟ جب انتظامیہ،نیب، ایف بی آر، الیکشن کمیشن ، میڈیا کا بڑا حصہ اور دیگر اہم ادارے عملاًمفلوج بناد ئیے گئے ہوں، پھر کیا ہوگا؟ وہی ہوگا جو تحریک انصاف کو مجبوراًکرنا پڑ رہا ہے۔ کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت جو سنجیدگی سے الیکشن لڑنا چاہتی ہے، وہ سیاسی رِ نگ کے نئے قوانین کے مطابق ہی فائٹ کرنے پر مجبور ہوجائےگی۔ تحریک انصاف کو البتہ جو چیز دوسروں سے ممتاز اور منفرد بناتی ہے، وہ اس کا اصلاحات کا حامی ہونا، الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کے منفی کردار کو بدلنے کا عزم اور فرینڈلی اپوزیشن نہ کرنا ہے۔سٹیٹس کو کو چیلنج کرنے کا عزم اورسسٹم میں بنیادی تبدیلیاں لانے کا عزم ہی تحریک انصاف کو ایک لحاظ سے مسلم لیگ ن کا جوا ب دعویٰ یا جوابی نظریہ بناتا ہے۔ یاد رہے کہ میں نے ”ایک لحاظ سے“ کے الفاظ استعمال کئے ہیں ، کیونکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہماری سیاست سے نظریہ ختم کر دیا گیا ہے۔

Comments

FB Login Required

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے سابق مدیر رہ چکے ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

Protected by WP Anti Spam