سقوطِ حلب اور شام کامستقبل! غلام نبی مدنی

مشرق وسطیٰ میں خانہ جنگی کی آگ پہلی جنگ عظیم کےو قت استعماری دور میں بڑھکادی گئی تھی، جس پر باقاعدہ مئی 1916 میں سائیکس پیکونامی معاہدے کے ذریعے تیل چھڑکا گیا۔ اس معاہدے کی رو سے امریکا، برطانیہ اور پھر روس اور اٹلی نے مل کر دنیا کے معدنی وسائل سے مالامال خطے پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے خلافت ِعثمانیہ کے ماتحت بحراسود اور بحر قزوین سے لے کر بحر متوسط اور بحیرہ عرب کے درمیان واقع خطے کو تقسیم کر کے اپنے ماتحت رکھنے پر اتفاق کیا۔ چنانچہ اس پر رفتہ رفتہ عمل ہونا شروع ہوا اور خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد عراق، کویت، قطر، بحرین، امارات، سعودی عرب، شام، اردن، لبنان، فلسطین، اسرائیل، ترکی، مصر، لیبیا، تیونس ایسی علیحدہ ریاستیں وجود میں آئیں، جن پر فرانس، برطانیہ جیسی استعماری قوتوں نے ایک عرصے تک قبضہ برقرار رکھا۔ خلافت عثمانیہ کے ماتحت ا س خطے کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے پیچھے ایک ہی سوچ کارفرما تھی کہ کس طرح ان کے وسائل پر قبضہ کیا جائے، کیوں کہ دنیا اُس وقت اس خطے میں پائے جانے والی تیل اور دیگر معدنیات سے نہ صرف واقف ہوچکی تھی بلکہ مستقبل میں دنیا میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیےاس خطے کی اہمیت کو اچھی طرح جان چکی تھی۔ بعدازاں دوسری جنگ عظیم میں دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں بےپناہ نقصانات سے دوچار ہوئیں۔ براہ راست جنگ کے تجربے سے ان کی کمر ٹوٹ گئی تو سرد جنگ اور پراکسی وار کے ذریعے دنیا کے امن کو برباد کرنے کے لیے ان طاقتوں میں رسہ کشی شروع ہوگئی جواب تک جاری ہے بلکہ نائن الیون کے بعد اس میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری خانہ جنگی کے پیچھے ان طاقتوں کی یہی رسہ کشی اصل سبب ہے،جس میں پہلے عراق کو تباہ کیا گیا،پھر عرب بہار کے نام سے مصر،لیبیا،تیونس کو بدامنی سے دوچار کیا اور اب شام ،یمن کی خانہ جنگی کے ذریعے سعودی عرب،ترکی اور دیگر ملکوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔

شام میں خانہ جنگی کی آگ 2011ء میں بھڑکائی گئی۔ عرب بہار کے تحت شامی صدر بشارالاسد کے مظالم کے خلاف اٹھنے والی تحریک بظاہر پرامن اور برحق تھی، لیکن پھر رفتہ رفتہ اس میں داعش ایسے دہشت گردوں اور لالچ و حرص کے نام پر اسلام کا نام لے کر گمراہ کرنے والوں کے ٹولے وجود میں آتے گئے اور حق و باطل میں ایسی تلبیس ہوئی کہ نہ مارنے والے کو پتہ ہے کہ وہ حق پر ہے اور نہ مرنے والے کو یہ پتہ چل پاتا ہے کہ وہ کیوں ماراگیا ہے۔ اگر شام میں لڑنے والے گروہوں کا مطالعہ کیا جائے تو ایک ہزار کے قریب جماعتیں ملیں گی، ہرکسی کا اپنا جھنڈا اور اپنا ہدف ہے۔ جبکہ ہزاروں ایسے جنگجو ملیں گے جن کا شام سے کوئی تعلق ہے، نہ شامی عوام سے انہیں کوئی ہمدردی ہے۔ اس میں روس اور ایران کے ملیشیا بھی شامل ہیں۔ البتہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ شام میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو صرف مظلوموں کی حمایت اور اپنے حق کے لیے جہاد کر رہے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کے علاوہ بےشمار فتنہ پرور ہیں جو مفادات کے لیے نہ صرف شامی عوام کا قتل عام کروا رہے ہیں، بلکہ حق کی خاطر لڑنے والوں کو بھی بدنام کر رہے ہیں۔ انہی گروہوں کی وجہ سے شامی خانہ جنگی کی آگ بجھنے کے بجائے مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ جس کا اندازہ حلب میں بشارالاسد کی طرف سے کی جانے والی حالیہ بمباری سے لگایا جا سکتا ہے۔ پچھلے چار سالوں سے حلب پر اپوزیشن جماعتوں کا کنٹرول تھا لیکن ان گروہوں کے عدم اتفاق کی وجہ سے وہ کنڑول اب ختم ہوگیا ہے۔ ایک مرتبہ پھر بشارالاسد حلب پر قابض ہو گیا ہے۔ بشارالاسد کے اس قبضے کے بعد حلب میں ظلم و بربریت کی نئی داستان رقم ہونے والی ہے، جیسا کہ دیگر شہروں میں بشار کے ملیشیائی دہشت گردوں نے مظالم ڈھا کر رقم کی تھی۔

سقوطِ حلب اور بشارالاسد کو اب تک ہٹائے نہ جانے کے پیچھے بہت سے عوامل کار فرما ہیں۔ بنیادی طور پر بشار کے خلاف لڑنے والی اپوزیشن جماعتوں کا منتشرہونا اور ان کے درمیان باہمی اتفاق کا نہ ہونا ہے۔ اگرچہ شامی اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کے لیے پانچ سالوں میں کئی کوششیں ہوچکی ہیں، لیکن اب تک کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بار انہیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے پاس ایک ہی حل باقی ہے یا تو وہ متحد ہو کر بشارالاسد کا محاسبہ کریں یا پھر خاموشی سے بیٹھ جائیں۔ ورنہ ان کے باہمی اختلافات سے ایک طرف شامی عوام کا نقصان ہو رہا ہے، دوسری طرف داعش اور اس جیسے دیگر دہشت گردوں کو مضبوط ہونے کا موقع مل رہا ہے۔ حلب پر بشار کے کنٹرول کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بشارالاسد دیگر شامی علاقوں پر داعش اور اپوزیشن جماعتوں سے قبضہ چھڑا پائیں گے؟

جواب سے پہلے شام کی موجودہ صورتحال کو سامنے رکھنا بہت ضروری ہے۔ اس وقت شام کے اکثریتی حصے پر الشرق الاوسط کی رپورٹ کے مطابق داعش کا کنٹرول ہے، جبکہ 25 فیصد پر بشارالاسد کی گورنمنٹ کا جبکہ باقی کے حصے پر اپوزیشن جماعتوں اور دیگرگروہوں کا کنٹرول ہے۔ دمشق جو کہ بشارالاسد کے کنٹرول میں ہے، وہاں بھی داعش بعض جگہ پر قابض ہے۔ حلب میں اپوزیشن جماعتوں سے قبضہ چھڑانے اور پچھلے چارسالوں سے داعش کے خلاف کوئی بڑا اقدام نہ اٹھانے سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ بشار الاسد کی اصل لڑائی اپوزیشن جماعتوں سے ہے اور اب تک بشار کی ساری توانائی ان کے خلاف ہی استعمال ہوتی رہی ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ آئندہ بشارالاسد شام کے بقیہ علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں کتنا کامیاب ہوسکے گا۔ بظاہرحلب پر کنٹرول کا بشار حکومت نے اعلان کیا ہے، لیکن حلب کے ساتھ ملے ہوئے شام کے تیسرے بڑے شہر ادلب میں ابھی تک اپوزیشن جماعتوں کا کنٹرول ہے اور خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ حلب کے بعد ادلب میں بھی خطرناک خانہ جنگی کا امکان ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں بظاہر حلب میں عام لوگوں پر بمباری کی وجہ سے نکل گئی ہیں لیکن ان کی طرف سے دوبارہ حلب پر قبضہ کرنے کا عندیہ بھی سامنے آیا ہے۔ اس صورتحال میں یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ بشارالاسد دیگر شامی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرسکے گا۔ البتہ حلب میں اپوزیشن جماعتوں کی ناکامی کے بعد ادلب شہر میں خانہ جنگی کا نیا محاذ کھلنے والا ہے، جس کا اندیشہ شام میں اقوام متحدہ کے سفیر مسیٹورا نے بھی ظاہر کیا ہے۔

دوسری طرف بشار الاسد کی شامی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مڈبھیڑ سے فائدہ داعش کو ہو رہا ہے، جو رقہ شہر سے نکل کر حلب، ادلب اور ترکی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ حیرت انگیز طور پر بشارالاسد اور ان کے حلفاء کی توجہ ان کی طرف نہیں ہے۔ جس کا واضح مطلب ہے کہ داعش اور بشارالاسد کے درمیان خفیہ مفاہمت ہے یا پھر ان کا مقصد شام کے اصلی باشندوں کو جو بشار کے خلاف ہیں، ان کے خلاف مل کر لڑنا ہے۔ بشارالاسد کے اس دوہرے رویے اور عالمی طاقتوں کی شام میں بڑھتی ہوئی داعش کی قوت کے خلاف مجرمانہ خاموشی سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ شامی خانہ جنگی کے حل کے لیے یہ طاقتیں سنجیدہ نہیں ہیں، بلکہ ان کی خواہش ہے کہ یہ خانہ جنگی مزید جاری رہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس اور ایران بشارالاسد کے ساتھ مل کر شامی اپوزیشن جماعتوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر تو بمباری کر رہے ہیں لیکن رقہ، حمص اور دیگر داعشی علاقوں پر ابھی تک کوئی خاص کاروائی نہیں کی گئی۔ ان علاقوں میں روس داعش کو امریکہ کے ساتھ الجھتا ہوا دیکھ کر شاید اپنا بدلہ لے رہا ہے۔ لیکن بہرحال ایک دوسرے کو نیچا دکھانے سے نقصان شامی عوام کا ہو رہا ہے اور شام کا مستقبل بھی تاریک نظر آ رہا ہے۔

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، ایم اے اسلامیات اور ماس کمیونیکیشن میں گریجوایٹ ہیں۔ 2011 سے قومی اخبارات میں معاشرتی، قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کے لیے خصوصی بلاگ اور رپورٹ بھی لکھتے ہیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam