مذہب سے الحاد تک کا سفر - محمد نعمان

تاریخ گواہ ہے کہ کسی زمانے میں یورپ ایک مذہبی معاشرے کی شکل میں موجود تھا، جہاں چرچ کے جابرانہ اختیارات بغاوت کے آغاز کا سبب بنے. پادری کے الفاظ کے ساتھ عدم اتفاق کو کفر سمجھا جاتا تھا اور اس کا ارتکاب کرنے والے کو ان تمام جابرانہ سزاؤں سے گزرنے کے بعد موت کے گھاٹ اتارا جاتا تھا، اور یہی ارتکاب جرم کرنے والے کے لیے اپنی روح کو بچانے کا واحد راستہ تھا۔ جبکہ تمام ان کتابوں کو جلا دیا جاتا تھا جو چرچ کے نظریے کے متضاد نظریے کو آگے لاتی تھیں۔ انھی نظریات میں ایک گلیلیو کا طبیعات کا مشہور نظریہ ’شمس مرکزی (Heliocentric)‘ بھی تھا جو چرچ کے ’ارض مرکزی (Geocentric)‘ نظریے کے بالکل متضاد تھا۔ اسی نظریے کی بنیاد پر گلیلیو کو گیارہ سال تک تدریس اور تحقیق سے ہٹا کر نظر بند رکھا گیا۔ کیتھولک نظریہ اپنے پورے زور کے ساتھ عملی شکل میں معاشرے کے ہر شعبے کے اندر لاگو تھا، جس نظریے کے نزدیک یہ دنیا انسان کے لیے مصائب کا گڑھ ہے اور انسان کو سزا کے طور پر زمین کے اوپر بھیجا گیا ہے۔

اس جابرانہ معاشرے اور قوانین نے دو تحریکوں کو وجود بخشا، جس میں ایک تحریک تو مشہور زمانہ ’پروٹسٹنٹ ریفارمیشن (Protestant reformation)‘ جب کہ دوسری تحریک ’انقلاب فرانس (French Revolution)‘ کی شکل میں سامنے آئی۔ اول الذکر تحریک کے ذریعے اس تصور کو ختم کیا گیا کہ بائبل پڑھنے کا اختیار صرف پادری کے پاس ہوگا بلکہ عام آدمی بھی اس کی تشریح و ترویج کا اہل ہوگا۔ انقلاب فرانس کے ذریعے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ چرچ کا نظریہ کوئی خاص نظریہ نہیں کیونکہ منطقی اور سائنسی نقطۂ نظر سے اس کی کوئی دلیل نہیں، اور یہ تمام خیالی باتیں ہیں۔ دنیا کی تاریخ کے اس خونی انقلاب نے نئے یورپ کو جنم دیا اور نت نئے نظریے متعارف کروائے گئے۔ ان میں بعض نظریات ایک دوسرے کے متضاد تو ضرور تھے لیکن مخصوص نکات پر سب کے درمیان اتفاق تھا۔

جدید معاشرے سے قبل مذہب کا تصور ہر معاشرے کے اندر کسی نہ کسی شکل میں ضرور ملتا ہے اور ہر مذہبی معاشرے کے اندر مذہب کو اہم سند تصور کیا جاتا تھا، جبکہ امام و عالم یا پادری کو معاشرے کا معزز فرد مانا جاتا تھا۔ تمام مذاہب کے اندر کسی نہ کسی صورت میں تین چیزوں یعنی خدا کا وجود، روح اور حیات بعد الموت کا تصور بھی ضرور ملتا تھا۔ انقلاب فرانس نے بڑے تکنیکی انداز سے ان تین تصورات کو بدل کر خدا کے وجود کو کائنات کے وجود سے، روح کو جسم سے اور حیات بعد الموت کو مکمل طور پر اس دنیا کی زندگی سے تبدیل کر دیا۔ لوگوں کو بتایا گیا کہ تم خدا کو تو مانتے ہو لیکن تمہاری موجودہ زندگی عذاب بن گئی ہے، اور ثبوت کے طور پر چرچ کے جابرانہ اختیارات کو پیش کیا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   جبر و قدر، تقدیر اور لوحِ محفوظ کے سائنسی رخ - مجیب الحق حقی

طبعی کائنات کے اندر تحقیق کے نتیجے میں ایجادات کو دلیل بنا کر سمجھایا گیا کہ خدا کے تصور سے انسان کو کچھ نہیں ملا لیکن کائنات کے اندر تحقیق سے زندگی عیش و عشرت سے مالا مال اور کمال بن گئی ہے۔ انسان کا یقین روح سے ہٹا کر زندگی کے اندر لگانے کے کامیاب تجربے کا مشاہدہ قلیل وقت میں جسم سے متعلق علوم کے اندرتیز ترین ترقی سے کیا جا سکتا ہے اور روحانی مسائل کو بھی ہارمونز کے عدم توازن کے ساتھ جوڑ کر جسمانی طریق علاج کی روشنی میں حل کرنے کے مناظر سامنے آئے۔ جبکہ حیات بعد الموت کی منصوبہ بندی کے بجائے اس زندگی کو بہترین بنانے کے لیے عمرانیات (Sociology)، سیاسیات، نفسیات اور بشریات (Anthropology) کو وجود بخشا گیا۔

یہ نظریات اور افکار صرف یورپ تک محدود نہیں رہے بلکہ مسلمان ملکوں کے اندر بھی ان کو خوب پذیرائی ملی۔ موجودہ نظام تعلیم بھی اسی کا شاخسانہ ہے۔ یہ نئی یورپین سوچ خدا کے وجود کی قطعاً انکاری نہیں ہے بلکہ اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ اس سوچ والوں کے نزدیک یہ کوئی اہم بات ہی نہیں۔ ان کے بقول ہر کسی کو آزادی حاصل ہے کہ وہ خدا کو مانے یا نہ مانے یا زندگی بعد الموت پر یقین رکھے یا نہ رکھے۔ اس کے بر عکس پروٹسٹنٹ تحریک ایک نئی عیسائیت کو بیان کرتی ہے جس کے مطابق اگر کوئی بندہ زیادہ دنیا کماتا ہے تو اتنا ہی وہ خدا کو زیادہ محبوب ہے۔ لہذا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جدید عیسائیت مادہ پرستی کی طرف ایک راستہ ہے۔

اس سب کے نتیجے میں آج کا جدید تعلیم یافتہ متاثرہ مسلمان کھلے عام مذہب سے باغی یا انکاری تو نہیں لیکن اس کا رویہ واضح طور پر یورپین سوچ کی ترجمانی کرتا ہے، جیسے اگر کوئی مسلمان نماز پڑھے یا نہ پڑھے لیکن نئی گاڑی یا نیا گھر لینے پر الحمدللہ ضرور پڑھتا ہے۔ کچھ مسلمان گھرانوں میں آنکھیں کھولنے والے متاثرہ حضرات کے بقول اس نو آبادیاتی نظام کے بعد انسانی زندگی کے اندر مذہب کا کردار بہت معمولی رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آج کا مسلمان بہت منظم طریقے سے اس شکنجے کے اندر آ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم کہاں کے دانا تھے؟ - سلیم سرمد

اگر تجزیہ کیا جائے کہ ان نئے نظریات نے انسان کو کیا دیا؟ عملی طور پر دیکھنے کو ملتا ہے کہ مادی ترقی کرنے کے بعد بھی خود کشی کی شرح میں بےتحاشا اضافہ ہوا ہے۔ اور یورپ اس دوڑ میں سب سے آگے ہے۔

اللہ نے انسان کو احساس جرم (نفس لوامہ) سے نوازا۔ اور یہی احساس ہے جو انسا ن کو معاشرتی برائیوں کے ساتھ ساتھ بگاڑ کے تمام افعال سے روکے رکھتا ہے۔ لیکن دوسری طرف نفسیات کے ماہرین کے نزدیک ماضی پر سوچنا فضول ہے۔ اور احساس جرم انسانی سوچ کا منفی پہلو ہے جو کہ انسان کی شخصیت کو متاثر کرتا ہے کیوں کہ انسان کو ہر وقت خوش رہنا چاہیے لہذا اس منفی پہلو کو ختم کرنے کے لیے مختلف مشورے دیے جاتے ہیں۔

ایک طرف نظریے ( کیتھولک)نے دنیا کو انسان کے لیے مصائب کا گڑھ سمجھا جبکہ اس کے مخالف (پروٹسٹنٹ) نظریے نے مادی ترقی کو ہی خوشی کا واحد حل سجھا اور دونوں کے اثرات و نتائج دنیا نے دیکھے۔ ملحد حیات بعد الموت سے انکاری ہے تو سیکولر اور لبرل سوچ اس دنیا کو کل اثاثہ سمجھتی ہے۔ اس کے مقابلے میں قرآن ہے جو طبعی دنیا کے اندر رہ کر حیات بعد الموت کو پورے زور کے ساتھ بیان کر کے توازن برقرار رکھنے کا سامان مہیا کرتا ہے، جو کہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔

انتشار اور انارکی پھیلنے کی واحد وجہ وہ فیس بک مفتیان ہیں کہ جن حضرات کو سورۃ فاتحہ کا ترجمہ تو نہیں پتہ لیکن دین کی تشریح ان کا حق ہے اور چاہے کسی بات کا علم ہو یا نہ ہو لیکن اظہار رائے کو آزادی سمجھ کر ہر معاملے کو اپنی فلسفیانہ سوچ سے اخلاقیات کے حدود و قیود سے آزاد اور مبراء ہو کر حل کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔

Comments

محمد نعمان کاکاخیل

محمد نعمان کاکاخیل

محمد نعمان کاکا خیل بنیادی طور پر شعبہ طبیعات سے وابستہ ہیں. نوجوان نسل کی تربیت اور معاشرے و نظام کے اندر خرابیوں کا بذریعہ سنجیدہ قلم نگاری قلع قمع کرنے کے اندر دلچسپی رکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں