سید مودودی، قائد اعظم اور سیکولر بیانیے کے فکری تضادات - آصف محمود

سید مودودی اوتار تھے نہ ہی غلطیوں سے پاک اور خطاؤں سے مبرا۔ تنقید سے ماورا ہرگز وہ نہ تھے۔ تقلید محض کے قابل بھی انہیں قرار نہیں دیا جا سکتا کہ ان کی رائے بہر حال ایک رائے ہی ہے اور رائے میں غلطی اور صحت ہر دو امکان موجود ہوتے ہیں۔ یہ علم و فکر کی دنیا کا تقاضا بھی یہی ہے کہ سید کی فکر کو حجت نہ مانا جائے بلکہ اس پر تنقید کو نہ صرف برداشت کیا جائے بلکہ ہو سکے تو اس ناقدانہ عمل کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔ فکر کی دنیا میں تنقیدی عمل منجمد ہو جائے تو وہ کوئی تحریک ہو یا سماج، شعوری طور پر بانجھ ہو جاتے ہیں۔

سید پر ہونے والا نقد کوئی ایسا معاملہ نہیں جس نے تازہ ظہور کیا ہو۔ یہ عمل ایک عرصے سے جاری ہے اور کم از کم میں اس سے کبھی بدمزہ نہیں ہوا۔سوال یہ ہے کہ پھر میں برادرم وجاہت مسعود اور ہم سب کے فورم سے سید مودودی پر ہونے والی تازہ تنقید پر معترض کیوں ہوں؟ اور اس کا جواب دینا ضروری کیوں سمجھتا ہوں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تنقید اگر سید کی ذات یا فکر تک محدود رہتی تو ہرگز اس کا جواب نہ دیتا کیونکہ شخصی عیوب و محاسن پر بحث میں الجھنا بھی شعوری بانجھ پن ہی کی ایک شکل ہوتی ہے۔ میری رائے میں اس تنقید تازہ کے نشانے پر سید مودودی ہی نہیں بلکہ ہمارا پورا سماج ہے اور اگر اس مشق ستم کا تنقیدی جائزہ نہ لیا گیا تو یہ عمل اس سماج کی بنیادوں میں بارود بھر دے گا۔ تواتر کے ساتھ کہا جا رہا ہے کہ سید مودوی ریاست پاکستان کے قیام کے مخالف تھے، وہ قائد اعظم کو قاتل سمجھتے تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں قائداعظم بنایا جائے۔ یہ نفرت ہے جسے احباب خبر بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ اس مشق ستم کے نشانے پر صرف سید مودودی نہیں علامہ شبیر احمد عثمانی بھی ہیں، اور اس کے مقاصد دو ہیں.

پہلا یہ کہ جماعت اسلامی سمیت اس ملک میں اسلام کا نام لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کو ولن بنا کر پیش کیا جائے، جو ایسی تاریک قوتیں ہیں کہ قائداعظم کو گالی دیتی ہیں، اس ملک کی روز اول سے دشمن ہیں، ملک بنانے والے اور تھے، یہ آ کر اس ملک کو قبضے میں لے کر بیٹھ گئیں اور ان کی حیثیت ایک قبضہ گروپ کی ہے۔ قائداعظم کی فکر کے وارث تو وہ ہیں جنہیں یہ قبضہ گروپ دیسی لبرل ہونے کا طعنہ دیتا ہے یا لبرل فاشسٹ کہتا ہے۔بدلتے عالمی بیانیے میں بعید نہیں کہ ان قوتوں کو داعش قرار دے کر ان کا ناطقہ بند کرنے کے لیے نئی نسل کی ذہن سازی کی جائے۔ اور اسلام کا نام کوئی مسلح فرد نہیں بلکہ کوئی نہتا شخص اگر جمہوری طریقے سے بھی لے تو اسے قابل نفرت قرار دے دیا جائے کہ یہ سب تو قائد کے دشمن تھے اور ملک کے مخالف.
دوسرا مقصد اس سے بھی خطرناک ہے۔ شاید یہ مقصود ہے کہ جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں کے وابستگان کو اس تواتر سے اشتعال دلایا جائے کہ وہ جواب میں کہہ دیں، ہاں ہاں! سید مودودی نے ایسا کہا تھا اور ٹھیک کہا تھا کہ قائد اعظم تو تھے ہی ایسے اور قیام پاکستان تو تھا ہی سادہ لوح مسلمانوں سے ایک دھوکہ۔ میرا یہ خدشہ بلاوجہ نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسے نادان موجود ہیں جو رد عمل میں جہالت کا ابلاغ فرما رہے ہیں۔ اگر مذہبی طبقے میں سے ایسا ردعمل آگے جا کر آتا ہے تو سیکولر احباب کے لیے تو یہ شادی مرگ کی کیفیت ہو گی۔ پاکستان کے سماج کو تقسیم در تقسیم اور نفرت اور عصبیت نے پہلے ہی گھائل کر رکھا ہے، اب اگر مذہبی طبقے کو غلط اور ناقص تاویلات کے ذریعے آپ ملک دشمن، قائد دشمن اور قبضہ گروپ کا طعنہ دے رہے ہیں، تو آپ سماج کی تعمیر کر رہے ہیں یا اس کی بنیادوں میں بارود بھر رہے ہیں۔

یہ تھا وہ پس منظر جس میں یہ ضروری ہوگیا کہ سید مودودی اور مذہبی طبقے پر جن ناکردہ غلطیوں کا بوجھ ڈال کر ان کی مذمت ہو رہی ہے، اس پر جوابی معروضات پیش کی جائیں کیونکہ یہاں حقائق کا ابطال ہو رہا تھا۔ خواہش خبر اور نفرت تجزیہ بن رہی تھی۔

اس تمہید کے بعد اب آئیے موضوع کی طرف بڑھتے ہیں۔( جاری ہے)

دوسری قسط یہاں ملاحظہ کریں

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!