سید مودودی کا مقدمہ، ایک تھوڑی دیر - آصف محمود

سید مودودی سیکولر احباب کے نشانے پر ہیں. افتخار عارف یاد آ گئے : تیر کا مشکیزے سے رشتہ بہت پرانا ہے. سوچتا ہوں کاش اس رشتے کے تقاضے دلیل سے نباہے جاتے.

سید مودودی سے منسوب چند ناتراشیدہ جملے شائع ہوئے تو عرض کی کہ دل ہم سب سے انصاف طلب ہے. رات کے آخری پہر برادر مکرم جناب وجاہت مسعود سے بات ہوئی تو انہوں نے اپنی ایک تحریر سے فیض یاب فرمایا. کھولا تو عنوان تھا: پاکستان کے بانی کون تھے اور قبضہ گروپ کون تھا؟ تحریر کیا تھی، سید مودودی پر عائد فرد جرم تھی. ان جرائم میں جو نفیس و نستعلیق صاحب علم نے کیے ہی نہ تھے.

وجاہت خود علم کی دنیا کے آدمی ہیں. لکھتے ہیں اور کمال لکھتے ہیں. ان کے لکھے کو نظرانداز کرنا اس طالب علم کے لیے ممکن ہی نہیں. چنانچہ ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور اس کا حاصل نمایاں عدم اتفاق تھا. دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس تحریر کو شائع ہوئے مہینے سے اوپر ہو گیا. حیرت ہوئی کہ کسی نے جوابا اپنی معروضات پیش نہیں کیں. تنقید سے بالاتر کوئی نہیں. یہ تو ایک بنیادی اصول ہے، لیکن یہ بھی غلط نہیں کہ تنقید کی بنیاد اگر دلیل کی جگہ خلط مبحث یا نفرت اور بے زاری ہو تو بہت سی فکری الجھنیں پیدا ہو جاتی ہیں.

سوچا کہ بھائی وجاہت مسعود کی خدمت میں کچھ سوالات رکھوں. ان کے اٹھائے نکات پر تفصیل سے بات کروں، اور پھر صدا لگاؤں کہ صاحب یہ دل ایک بار پھر انصاف طلب ہے. پھر خیال آیا کہ پہلا حق ان کا ہے جو مارکیٹ میں فکر مودودی کے وارث ہونے کے دعویدار ہیں. یہ سوچ کر قلم رکھ دیا کہ صالحین اسے اپنی حق تلفی سمجھ کر بد مزہ نہ ہو جائیں.

منتظر ہوں کہ کوئی آگے بڑھے اور اس نجیب آدمی کا مقدمہ پیش کرے. وجاہت کو دشنام کی سان پر لے کر نہیں، تہذیب و دلیل کا بھاری پتھر اٹھا کر جو گمان ہے کہ صلحائے رائج الوقت کے لیے کچھ زیادہ بھاری ہو چکا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   کیا جماعت اسلامی بدل گئی ہے؟ احسن سرفراز

عالم شوق ہے اور میں. پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ. مایوسی ہوئی تو پھر میں ہی کچھ عرض کروں گا. اور تفصیل کے ساتھ. سید مودودی ابھی اتنے لاوارث نہیں ہوئے کہ ان کا مقدمہ ہی پیش نہ کیا جاسکے. یہ ضرور پیش کیا جائے گا.

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں