لبرل ازم کے فرقے اور تضادات – ڈاکٹر رضوان اسد خان

”دینِ“ لبرل ازم (1) کی بنیاد اس عقیدے پر ہے کہ ایک انسان کا زندگی، آزادی اور جائیداد پر فطری اور پیدائشی حق ہے اور ”کسی دوسرے“ کو اسے اس حق کے آزادانہ استعمال سے منع کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے. (2)

لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب اس ”حق آزادی“ کی حدود متعین کرنے کی بات آتی ہے. اور یہیں سے لبرل ازم کے ”فرقے“ جنم لیتے ہیں.

”کلاسیکل لبرل ازم“ آزادی پر زیادہ زور دیتا ہے اور ”سوشل لبرل ازم“ برابری پر. لیکن دونوں قانون کی بالادستی کے قائل ہیں. یعنی ریاست کا قانون شخصی آزادی پر فوقیت کا حامل ہوگا. البتہ شخصی آزادی کو قانون کے تحت کرنے کے فلسفے کی مخالفت میں بہت سے فرقے پیدا ہوئے. ان سب کا بنیادی فرق سیاسی، معاشی اور معاشرتی معاملات میں اس آزادی کی حدود کے تعین پر ہے.

اسی بنیاد پر لبرل ازم میں ایک ”بدعت“، ”لبرٹیرئین ازم“ (Libertarianism) کے نام سے پیدا ہوئی، اور پھر اسلام کے بہتر بدعتی فرقوں کی طرح اب اس میں تقسیم در تقسیم کے بعد بیسویں اقسام اور فلسفے جڑ پکڑ چکے ہیں. ان میں ایک انتہا پر لبرٹیرئین ازم کی ایک شاخ ”اینارک ازم“ (Anarchism) ہے، جو فرد کے معاملات میں ریاست کی کسی بھی قسم کی دخل اندازی کی قائل نہیں. تو دوسری انتہا پر ”لبرٹیرئین سوشلزم“ ہے، جس کا مارکس ازم سے واحد فرق یہ ہے کہ معاشی اعتبار سے یہ کیپٹل ازم کا حامی ہے.

معاشرتی اعتبار سے لبرٹیرئین ازم کے اثرات سب سے تباہ کن ہیں. اس کے مطابق شہری حقوق یعنی ”سول رائٹس“ کے تحت،
”فری لو“ (Free Love)
اور
”فری تھنکنگ“ (Free Thinking)
اس ”فری لو“ کا مقصد
ہم جنس پرستی،
خود ساختہ جنسی تبدیلی (بغیر کسی طبی ضرورت کے)،
دونوں جنسوں سے جنسی تعلق،
اسقاط حمل،
پورنوگرافی،
وغیرہ جیسی قبیح ترین حرکتوں کو بنیادی انسانی حقوق باور کروانا اور ریاستی قوانین سے مستثنٰی قرار دلوانا ہے. اس مقصد کے لیے ”ایل، جی، بی، ٹی رائٹس“ (LGBT Rights) کے نام سے باقاعدہ تحریک اس وقت عروج پر ہے. یہ لوگ فیملی سسٹم کے بھی خلاف ہیں.

اسی طرح ”فری تھنکنگ“ کے نام پر دہریت اور الحاد کی باقاعدہ نرسریاں قائم کی گئیں، جہاں بوئے گئے مادہ پرستی کے بیج اب تناور درخت بن چکے ہیں.
اسکے علاوہ ”برابری“ کے نعرے کے تحت ”فیمن ازم“ (Feminism) (3) بھی لبرٹیرئین ازم کی ہی ایک اختراع ہے جس کا بنیادی مقصد عورت کو ”ہر لحاظ سے“ مرد کے برابر قرار دینے کے ”دھوکے“ میں مبتلا کر کےگھر سے نکالنا، کمانے کا ذریعہ بنانا اور مرد کے کندھوں سے معاشی ذمہ داری کے بوجھ کو نہایت مکاری سے کم کرنا ہے.

اسی طرح معاشی اور سیاسی لحاظ سے لبرل ازم اور لبرٹیرئین ازم کے اطلاق میں بھی اتنی کنفیوژن ہے کہ آج تک یہ لوگ کسی ایک تعریف یا نظام پر متفق نہیں ہو سکے. ہر ملک کا لبرل ازم کا اپنا ہی ورژن ہے.
اب اسلام اور لبرل ازم کے تقابل کے حوالے سے ایک سادہ سی گزارش اپنے ”دیسی لبرلز“ (4) سے:
ہم کہہ سکتے ہیں کہ:
.. یا تو بطور ”کلاسیکل لبرل“، آپ ریاست کے قانون کو ماننے کے پابند ہیں اور اسے لبرل ازم کی روح کے خلاف نہیں سمجھتے.
.. یا پھر آپ لبرٹیرئین انارکسٹ ہیں، جو ریاست کے کردار کو بالکل ہی نہیں مانتے.
.. یا پھر آپ ”مِن آرکسٹ“ (Minarchist) ہیں جو ریاست کے کردار کو صرف دفاع، پولیس اور عدالت (یا کچھ دیگر اداروں) تک محدود سمجھتے ہیں.

اب اگر آپ پہلی قسم سے تعلق رکھتے ہیں، تو اسلامی قوانین کو بلا چون و چرا ماننا آپ پر آپ کے اپنے عقیدے کے تحت بھی فرض ہے.
اگر آپ کا تعلق دوسری قسم سے ہے تو یہ تو عین اسلام کے متضاد فلسفہ ہے جس پر چل کر ایک عقل مند شخص کبھی بھی یہ دعوٰی نہیں کر سکتا کہ وہ اسلام کے آفاقی اور بنیادی اصولوں کو بھی مانتا ہے.
اور اگر آپ کا تعلق تیسرے، یعنی ”میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو“ والے فلسفے سے ہے تو بھی عرض ہے کہ اسلام کی بنیادی شرط ہے، ”ادخلوا فی السلم کافّۃ“، یعنی”پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جاؤ“. لہٰذا یہ قسم بھی اسلام کے ساتھ مطابقت سے عاری ہے.

اب درخواست یہ ہے کہ کلاسیکل لبرلز، برائے مہربانی اسلامی احکامات اور قوانین کا احترام کریں اور ان کے خلاف وقتاً فوقتاً چونچ کھول کر اپنے ہی نظریے کو ٹھیس نہ پہنچائیں.
اور دوسری اور تیسری قسم کے لبرلز سے سوال یہ ہے کہ
”بھائی آپ کو مسلمان کہلوانے کی مجبوری ہی کیا ہے؟“
………..
1. ”دین“ سے مراد مکمل نظام زندگی ہے. اور چونکہ لبرل ازم زندگی گزارنے کے بنیادی فلسفے کا نام ہے جو کہ سیاست، معاشرت، معیشت وغیرہ جیسے انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے، لہٰذا اسے دین کہنے میں قطعاً کوئی مضائقہ نہیں
2. The 17th-century philosopher John Locke is often credited with founding liberalism as a distinct philosophical tradition. Locke argued that each man has a natural right to life, liberty and property,while adding that governments must not violate these rights based on the social contract.
3. عورت کا جس قدر عظیم استحصال فیمن ازم کے نام پر مرد نے کیا ہے، اسے دیکھ کر پردے کی پابندی کو حقوق نسواں کے خلاف سمجھنے والوں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے.
4. پاکستان میں لبرل ازم کے داعی …. امید ہے اسے جلد ہی دینِ لبرل ازم کے ”رجسٹرڈ“ بدعتی فرقوں میں باقاعدہ شامل کروا دیا جائے گا… 😊

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam