آگ سے بچاؤ کے طریقے – ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

میں گھر میں داخل ہوئی تو ایک ناگوار بو نے موڈ خراب کر دیا. فورا کچن میں جا کر چولہے کی نابز چیک کیں، ایک ناب مکمل طور پر کھلی تھی جو دیکھنے میں بند لگتی تھی. کیونکہ آج کل کے آٹو میک چولہے کی ناب مکمل بند ہو یا مکمل کھلی، ایک ہی اینگل پر ایڈجسٹ نظر آتی ہیں. صرف اس پر موجود نشان سے پتا چلتا ہے کہ یہ اوپن ہے یا لاک. چولہا پرانا ہو جائے تو نشان گھس کر مٹ جاتا ہے، ایسی صورتحال میں صرف ہاتھ سے گھما کر چیک کیے جانے کی صورت میں واضح طور پر کنفرم ہوتا ہے کہ گیس کا اخراج رک چکا.

گھر کی ملازمہ سے پوچھا کہ بھئی چولہا کیوں کھلا تھا، جب آگ بھی نہیں چل رہی تھی تو اس نے بتایا کہ گیس کی لوڈشیڈنگ کے دوران گیس آئی یا نہیں، یہ چیک کرنے کے لیے چولہا آن کیا، پھر بند کرنا بھول کر دوسرے کاموں میں لگ گئی، اسی دوران گیس آ گئی اور گھر گیس سے بھر گیا.

ہمارے گھریلو استعمال کی عام گیس جسے عرف عام میں سوئی گیس کہا جاتا ہے، دراصل بے رنگ اور بے بو ہوتی ہے، اور حفاظتی نکتہ نظر سے اس میں یہ مخصوص بو شامل کی جاتی ہے تا کہ بھول چوک سے اخراج کی صورت میں کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے. لیکن ہر ناک اسے محسوس نہیں کر سکتی.

ہمارے گھروں میں عام خواتین اور میڈز کا چولہا جلانے کا ایک غلط العام طریقہ یہ ہے کہ وہ پہلے گیس آن کرتی ہیں، اس کے بعد دیا سلائی ڈھونڈ کر تیلی نکالتی اور جلاتی ہیں، اتنی دیر میں برنر کے آس پاس کافی مقدار میں گیس جمع ہو چکی ہوتی ہے، جس کے قریب جلتی تیلی کے جاتے ہی چولہے میں آگ بھڑک اٹھتی ہے. کبھی کبھار یہ آگ اتنی بھڑکتی ہے کہ چولہے کے قریب موجود خاتون کے بالوں پلکوں ہاتھ اور کبھی کبھار ڈھیلی آستین یا لٹکتے ڈوپٹے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے.

کوشش کیجیے کی دیا سلائی ہاتھ میں ہو، تیلی جلانے کے بعد گیس کھولیں اور برنر کو آگ دکھائیں، اس طرح گیس ضائع بھی نہ ہوگی اور آگ بھڑکنے سے ہو سکنے والے حادثے سے بچاؤ بھی ممکن رہے گا. کوشش کیجیے کہ کچن میں کھانا پکانے کے دوران ایگزاسٹ فین مسلسل چلتا رہے یا کم از کم کوئی باہر کی طرف کھلنے والی کھڑکی یا جالی دار دروازہ کھلا رہے.

گیس ہیٹرز کے استعمال کا طریق کار بھی اسی طرح ہے، جلانے اور بجھانے میں حد درجہ احتیاط کیجیے. ہیٹر کے بالکل قریب بیٹھ کر آگ مت تاپیں. بلکہ ہیٹر سے ایک محفوظ فاصلہ از بس ضروری ہے. اسے آپ سیفٹی ڈسٹینس (حفاظتی فاصلہ) کا نام دے سکتے ہیں. یہ فاصلہ نہ صرف آپ کی جلد اور جلد میں موجود باریک خون کی نالیوں کو شدید حرارت کے مضر اثرات سے بچنے میں مدد گار ہوگا بلکہ آپ کی چادر ڈوپٹے یا کھلے گھیر کے کپڑوں، بیڈ شیٹس اور پردوں کو آگ لگنے سے بھی بچائے گا.

کوشش کیجیے کہ فرش پر رکھے جانے والے ہیٹرز کے بجائے دیوار میں، پردوں اور بیڈز سے دور، آتش دان کے لیے ایک محفوظ جگہ، مخصوص کر کے اس میں ہیٹر فٹ کروائیے. جس کا ایگزاسٹ اسی کے ساتھ موجود ہو. ہیٹر میں استعمال کیا جانے والا پائپ اسٹیل یا ایسے میٹیریل کا ہو جو بآسانی ٹوٹتا یا کریک نہ ہوتا ہو، جیسا کہ عام طور پر ربر یا پلاسٹک پائپ لگائے جاتے ہیں جو بآسانی گرم ہو کر یا مڑتڑ کر لیک ہو جاتے ہیں. ہر سیزن کے آغاز میں استعمال سے پہلےگیس ہیٹرز اور گیس یا الیکٹرک ہیٹرز اور گیزرز کی سیلز اور والوز چیک کر لیجیے، کسی لیکیج یا کریک کے شبے کی صورت میں اسے ریپئیر یا ری پلیس کیے بغیر استعمال مت کیجیے.

الیکٹرک یا گیس گیزرز جو باتھ رومز کے اندر لگائے جاتے ہیں. ان کے استعمال کے دوران ایگزاسٹ فین چلا کر رکھیں یا روشندان کھلا رکھیں تا کہ جلنے کے عمل میں پیدا ہونے والی گیسز (کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائڈ) کے مضر و مہلک اثرات سے بچا جا سکے. ان گیزرز کی خریداری سے پہلے ان پر سیفٹی سیل کی اسٹیمپ (GU) ضرور چیک کیجیے. اور پرانے گیزر کو بھی ہیٹرز اور برنر کی طرز پر استعمال سے پہلے لیکیج پروف کیجیے.

انگیٹھی استعمال کرنے والے حضرات بھی کمرہ گرم کرنے کے لیے ہر ہوا دان بند کر کے کوئلے یا اپلے سلگاتے ہیں، پھر رضائی میں گھس جاتے ہیں. انگیٹھی میں سلگتے لال انگاروں سے نکلتی نادیدہ زہریلی گیسیں نرم گرم حرارت سے مل کر ائیر ٹائٹ کمرے میں موت کی میٹھی نیند سلا دیتی ہیں. دوران استعمال ہوا کا کوئی ایک روزن کھلا رہنے دیں اور سونے سے پہلے انگیٹھی بجھا کر کمرے سے باہر نکال دیں. کیا خبر اس راکھ میں کوئی چنگاری ہنوز سلگ رہی ہو. جلتی انگیٹھی نہ صرف گیسز سے مارتی ہے بلکہ بستر کی لٹکتی چادر یا کمبل کو آگ لگا کر آپ کا ”روسٹڈ باربی کیو“ بھی بنا سکتی ہے.

مٹی کے تیل کے چولہے، لالٹین، موم بتی اور چراغوں کا استعمال بہت کم سہی لیکن ہنوز جاری ہے. مٹی کے تیل کے چولہے میں بتی کی لمبائی بہت اہم ہے، بتی تیل اور آگ کے درمیان رابطے قائم کرتی ہے، اس کا ایک سرا تیل میں ڈوبتا ہے اور دوسرا سرا چولہے کے اوپر سوراخ سے نکالا جاتا ہے. یہ تیل جذب کر کے اوپر پہنچاتی ہے اور تیل میں بھیگی بتی جلتی ہے. جب اس بتی کی لمبائی کم رہ جائے تو کبھی کبھار جلتی بتی اپنے سوراخ سے نیچے موجود تیل میں جا گرتی ہے، نتیجتا مٹی کے تیل کا چولہا پھٹ جاتا ہے اور کھانا پکاتی بہو جل مرتی ہے. ہمیشہ چولہا سسرال والے نہیں پھاڑتے، کبھی کبھی بہو کی ناتجربہ کاری بھی اسے لے ڈوبتی ہے. جس کا کام اسی کو ساجھے کے مصداق پہلے مٹی کے تیل کا چولہا جلانا بند کرنا اور سنبھالنا سیکھ کر اس پر کام شروع کیا جانا چاہیے. یہی احتیاط لالٹین کی بھی ہے. موم بتی کو اس کے اسٹینڈ میں استعمال کریں اور بچوں کی پہنچ سے دور اونچی جگہ پر رکھیں تاکہ محفوظ رہیں.

ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا؛
برتنوں کو ڈھک کر رکھو، دروازے بند رکھو، (سوتے وقت) چراغ بجھا دیا کرو، ایسا نہ ہو کہ چوہیا اس کی بتّی کھینچ لے جائے جس سے گھر میں آگ لگ جائے. (بخاری :3280، مسلم: 2012)

آگ لگنے کی ماڈرن وجوہات میں شارٹ سرکٹ، دوران چارجنگ موبائل اور لیپ ٹاپ کا استعمال شامل ہیں. یہ الیکٹرک ایپلائنسز انتہائی گرم ہو کر آگ کا باعث بن جاتی ہیں.

شارٹ سرکٹ سے بچنے کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے، سوائے خراب وائرنگ کو بدلنے کے. اچھی کمپنی کی عمدہ وائرنگ نہ صرف بجلی کا بل بچاتی ہے بلکہ جان و مال کی حفاظت کی ضامن بھی ہے. یو نو ”کم خرچ بالا نشین“

● لیپ ٹاپ کو بیڈ پر رکھ کر استعمال مت کیجیے. یہ نیچے سے گرم ہو جاتا ہے، اسے استعمال کے دوران سخت سطح مثلا میز پر رکھیں اور وقفے وقفے سے آف کریں.
● چارج کرتے وقت موبائل یا لیپ ٹاپ آف کر دیں. اس طرح وہ کم وقت میں چارج ہوں گے اور ریسٹ ملنے کی وجہ سے سپیڈ بھی سلو نہیں ہوگی. اور ہینگ بھی نہیں ہوگا. فالتو ایپس نکال دیں تو جلدی گرم بھی نہیں ہوگا.
● خاتون خانہ ہر کھانا پکانے کے بعد چولہے کی نابز کو ہاتھ سے گھما کر آف ہونے کا یقین کرے.
● واش روم میں گرم پانی کا نل کھلا مت چھوڑیں.
● کچن میں چولہے پر پریشر ککر،گرم تیل سے بھری کڑاھی، دودھ یا پانی ابلتا چھوڑ کر غیر حاضر مت ہوں، خصوصا اگر گھر میں چھوٹے بچے موجود ہوں جن کے لیے پریشر ککر کی سیٹی میں بہت اٹریکشن ہوتی ہے، اور ان میں تجسس کا مادہ بھی زیادہ ہوتا ہے. عموما چھوٹے بچے ابلتے دودھ یا گرم تیل سے جھلس کر اسپتال لائے جاتے ہیں، ایسا تب ہی ہوتا ہے جب بچہ کسی بڑے کی عدم موجودگی میں چولہے پر موجود برتن اپنی طرف کھینچ کر اپنے اوپر گرا لیتا ہے.
● ہیٹرز کو سونے سے پہلے ہر صورت نہ صرف ناب سے بلکہ پیچھے موجود لیور سے بھی بند کیا جائے.
● ایل پی جی سلنڈرز استعمال کرنے والی فیملیز سلنڈرز اور چولہے کے درمیان پریشر والو لگائیں اور پائپ کے زریعے سلنڈرز کو برنر /چولہے سے جوڑیں
● برنر(چولہا /ہیٹر) کو ڈائریکٹ ایل پی جی سلنڈر پر مت لگائیں . یہ نرا بم ہے کبھی بھی دھماکہ ہو سکتا ہے.
● گھر کا مین بڑا روشندان یا کھڑکی کسی بھی صورت بند نہ کیا جائے .
● اگر اندھیرے بند گھر میں گیس پھیلی ہوئی محسوس ہو تو لائٹ کے لیے سوئچ آن مت کریں نا ہی موبائل آن کریں بلکہ پہلے ٹٹول کھڑکی دروازے کھولیں اور لیکنگ چولہا یا ہیٹر بند کریں. کچھ وقفے کے بعد سوئچ آن کریں. سوئچ آن کرنے کے لیے جو خفیف سا کرنٹ پاس ہوتا ہے، وہ گیس سے بھرے گھر میں آگ لگا سکتا ہے.
● گیس لیک کے شبے کو معمولی سمجھ کر ذہن سے مت جھٹکیں، اسے ہمیشہ اہمیت دیں اور چیک کریں.
● گھر میں سات سے دس کلو والا ڈرائی پاوڈر کا فائر سلینڈر ہونا چاہیے۔ اور فائر بلینکٹ۔ خواتین کو ان کا استعمال آنا چاہیے۔ یہ دونوں زندگی بچانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ، جو انسانوں کے لیے بے انتہا رحیم اور شفیق تھے، اس معاملے میں بہت احتیاط برتنے کی تلقین کی ہے. ایک مرتبہ مدینہ کے ایک گھر میں آگ لگ گئی، جس کی وجہ سے پورا گھر جل گیا. نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آگ تمھاری دشمن ہے، اس لیے سوتے وقت اسے بجھا دیا کرو.“ (بخاری :1294،مسلم :2016)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ارشاد کتنی حکمت پر مبنی ہے. آگ سے اسی طرح احتیاط برتنی چاہیے اور اسی طرح چوکنّا رہنا چاہیے جس طرح دشمن سے چوکنّا رہا جاتا ہے.

(اس تحریر کو لکھنے کی تحریک دینے کے لیے رعنائی خیال کے ممبر محترم طارق رمضان صاحب کا خصوصی شکریہ. ان کے اصرار اور معاونت سے یہ آرٹیکل لکھا جا سکا. جزاک اللہ خیر

Comments

FB Login Required

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

Protected by WP Anti Spam