محمدبن عبداللہ سے محمد الرسول اللہﷺ تک – ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

اللہ تعالیٰ کو اپنی اور اپنے محبوب کی محبت کے لیے نظریاتی مسلمان درکار ہیں۔ اسلام میں کسی راہنما کی شخصی خوبیوں اور اوصاف کے گن گانے کی کوئی حیثیت نہیں اور نہ ہی اسے کسی قبیلے، گروہ، رنگ ونسل اور قومیت یا وراثت سے کوئی سروکار ہے۔ اسے نہ تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی الوہیت اور ربوبیت کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی شرک فی الرسالت ﷺ کے مرتکبین کی۔ یہ نظریاتی صفت اگر چپٹی ناک والے، کالے رنگ والے، پست قد والے حبشی النسل بلال ؓکے ہاں موجود ہے تو اس کی عظمت دیکھیے کہ وہ زمین پر چلتا ہے تو آواز آسمان پر سنائی دیتی ہے اور اگر یہ نظریاتی صفت حضور ﷺ کے اپنے سگے چچا میں موجود نہیں تو اس کی دنیا وآخرت میں کوئی عزت نہیں۔

مشرکین مکہ اور سرداران قریش تو آپ ﷺ کو عطائے نبوت سے پہلے صادق وامین کا لقب دے چکے تھے۔ آپ کی دنیا پر تشریف لانے پر خوشی کا اظہار بھی کرچکے تھے۔ آپ کے چہرہ انور، آپ کی زلفیں، آپ کے جمالیاتی حسن اور شخصی اوصاف کی تعریفیں کرتے تو تھکتے ہی نہیں تھے۔ مگر جب وہی محمد بن عبداللہ کوہ صفا پر مکہ کے لوگوں کے مجمع سے اپنے خطاب میں کہتا ہے کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے ایک لشکر آرہا ہے اور تم پر حملہ کردے گا تو کیا تم میری بات پر یقین کرلوگے؟ تو لوگوں نے کہا کہ آپ تو صادق ہیں، آپ نے تو کبھی جھوٹ بولا ہی نہیں۔ پھر کیا ہوا؟ جب آپ ﷺ نے کہا کہ ”قولولاالہ الا اللہ تفلحوا ”کہ تم کہہ دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ تو وہ سب تعریفیں کرنے والے بدترین مخالف ہوجاتے ہیں۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی پر اترآتے ہیں۔

یہاں سے شروع ہوتی ہے نظریاتی لڑائی۔ اب انہیں وہی محمد بن عبداللہ جب محمد الرسول اللہ بن کر توحید کی دعوت دیتا ہے تو تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو نے ہمارا وقت ضائع کیا۔ حبیب کبریا ﷺ کی بعثت کا بنیادی مقصد جہالت اور ظلمات کا شکار بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ راست پر لانا تھا۔ آپﷺ کی دنیا میں تشریف آوری انسانیت پر عظیم الشان احسان الٰہی اور نعمت عظمیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو مقصود اطاعت واتباع محمد الرسول اللہ کی ہے محمد بن عبداللہ کی نہیں ہے۔ اس لیے کہ محمد بن عبداللہ کی حیثیت سے تو آپ متنازع تھے ہی نہیں۔ ساری جنگ تو بعثت کے بعد شروع ہوتی ہے۔

ربیع الاول میں مسلمانوں کی حضور سے محبت کا اظہار بہت والہانہ ہوتا ہے۔ کسی کے محبت کے انداز پر بدگمانی کرنا یا کسی کی نیت پر شک کرنابھی مناسب نہیں تاہم میرے نزدیک دن منانے یا نہ منانے کی بحث میں اصل پیغام پس منظر میں چلا جاتا ہے اور وہ ہے مقصد بعثت نبویﷺ اور سیرت پر عمل پیرا ہونے کا جذبہ اور وہ محبت جس کا اظہار اللہ تعالی کرتا ہے کہ ”آپ فرمادیجیے اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔“
چھٹ جائے اگر دولتِ کونین تو کیا غم
چھوٹے نہ مگر ہاتھ سے دامانِ محمدﷺ

الہامی مذاہب میں یہودیت بھی ہے مگر عیسائیوں اور مسلمانوں کی نسبت آج کے یہودی اپنے پیغمبر حضرت موسی علیہ السلام کی پیدائش یا آمد پر کوئی تقریب نہیں کرتے اور نہ دن مناتے ہیں۔ ہمیں بھی ان کی تاریخ پیدائش یاد نہیں جبکہ موسیٰ علیہ السلام خدا کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک تھے۔ تمام پیغمبروں کی نسبت قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ زیادہ آیا ہے۔ تیس سے زیادہ سورتوں میں موسیٰ علیہ السلام و فرعون اور بنی اسرائیل کے واقعہ کی طرف سومرتبہ سے زیادہ اشارہ ہوا ہے۔ سب سے زیادہ تعصب اور احساس تفاخر بھی یہودیت میں ہے یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے بیٹے سمجھتے۔ مگر کس قدر عجیب بات ہے کہ وہ اپنے پیغمبرکے بارے میں نہ کوئی تقریب مناتے ہیں اور نہ کوئی جشن ؟

Comments

FB Login Required

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے اسلامک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، مذاہب ثلاثہ میں امن اور جنگ کے تصورات کے موضوع پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، تدریسی و صحافتی شعبوں سے برابر وابستہ ہیں، ایک ٹی وی چینل میں بطور اینکر بھی کام کررہے ہیں۔

Protected by WP Anti Spam