آسٹریلیا کے خلاف دوسرا ٹیسٹ میچ، کیا کرنا چاہیے؟ محسن حدید

پاکستان نے 33 میچز آسٹریلیا میں کھیلے ہیں جن میں سے صرف 4 ٹیسٹ میچز جیتے ہیں، 2 ٹیسٹ میچز میلبورن میں اور 2 ہی سڈنی میں۔ کل پھر میلبورن میں ہی میچ کھیلا جا رہا ہے. آخری دفعہ 1995ء میں سڈنی میں پاکستان ٹیسٹ میچ جیتا تھا۔ سمیع اسلم اس فتح کے 8 دن بعد پیدا ہوئے تھے۔ پاکستان نے آخری بار 1990ء کی سیریز میں یہاں 2 ٹیسٹ میچ ڈرا کیے تھے، (ٹوٹل 7 میچز ڈرا کیے ہیں)، مزے کی بات ہے، اس میں بھی وسیم اکرم اور عمران خان کی مسلسل اچھی پرفارمنس کا کمال تھا. سیریز میں وسیم اکرم ٹاپ وکٹ ٹیکر تھے اور عمران خان ٹاپ رن سکورر تھے.

عام طور پر میلبورن میں اچھی وکٹ بنتی ہے، ٹاس جیت کر پہلے کھیلنا کافی سودمند رہے گا۔ کیوریٹر کے مطابق شروع کے کھیل میں بیٹسمینوں کو کافی محتاط کھیلنے کی ضرورت ہوگی۔ پچ پر باؤنس میں بھی کافی اتار چڑھاو دیکھنے کو مل سکتا ہے اور آخری اننگز میں سپنرز کے لیے بھی کچھ مدد ہو سکتی ہے۔ پہلی اننگز میں اچھا کھیلے بغیر ٹیسٹ میچ جیتنا بہت مشکل ہوتا ہے. یہ چیز ہمارے بیٹسمینوں کے ذہن میں رہنی چاہیے۔ راحت علی کی جگہ ایک رائٹ آرم فاسٹ باؤلر بہت اہم ہے. سہیل خان کی دوسری اننگز میں بری فٹنس اور خراب باؤلنگ دیکھنے کے بعد عمران خان کی طرف خیال جاتا ہے. ویسے بھی یہاں ٹیسٹ عام طور پر لمبا چلتا ہے، سو مکمل فٹ اور پورے 5 دن اچھی باؤلنگ کرنے والے کو ہی ترجیح دینی چاہیے.

آسٹریلیا کی ٹیم میں 7 کھبے ہیں، اگر ہمارے پاس ایک اچھا آف سپنر ہوتا تو کمال ہو جاتا. یہ کھبے یاسر شاہ کو پریشان کر رہے ہیں۔ یاسر شاہ کو اگر آسٹریلیا میں کامیاب ہونا ہے تو کچھ ویری ایشن لانا ہوگی ورنہ کام نہیں چلے گا، اچھی گگلی کے بغیر آسٹریلین انہیں وکٹیں نہیں دینے والے۔ ایک تو کپتان کو انہیں اتنی جلدی باؤلنگ پر نہیں لانا چاہیے، دوسرا لیگ سپنر کی کامیابی ہمیشہ اس کے اٹیک میں ہوتی ہے۔ میرے خیال سے یاسر شاہ فیلڈنگ لگانے کی مہارت سے محروم ہیں۔ یاد رکھیں جب ایک باؤلر کے لیے فیلڈنگ کپتان خود لگائے گا تو باؤلر کا آدھا اثر کم ہو جائے گا۔ پھر باؤلر اپنی مرضی سے نہیں بلکہ کپتان کی مرضی پر باؤلنگ کر رہا ہوگا۔ یاسر شاہ نے گزشتہ میچ میں بھی بہت آگے گیندیں پھینکی ہیں جس کی وجہ سے ان کی کاٹ بہت کم رہ گئی تھی اور بیٹسمین انہیں آسانی سے سکور کرتے رہے، شاید یاسر شاہ ایکسٹرا باؤنس کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کر پا رہے، اگر وہ گیند تھوڑا پیچھے رکھتے ہیں تو زیادہ باؤنس کی وجہ سے گیند بلے پر زیادہ بہتر انداز میں آجاتی ہے، اور بیٹسمین آرام سے اٹھا کر باہر پھینک دیتا ہے. یہ دیکھنا بہت ضروری ہے. ایشین پچز کے بادشاہ سپنرز اسی فرق کی وجہ سے آسٹریلیا میں ناکام رہتے ہیں.

مصباح الحق بہت دفاعی فیلڈ لگاتے ہیں جس سے گیم ہاتھ سے نکل جاتا ہے. ٹیسٹ میچ میں پہلے ہی دن سے دفاع کی حکمت علی ہمیں بہت بار تباہ کر چکی ہے، اس چیز سے اب نکلنا ہوگا. یہ آسٹریلیا ہے، یہاں خود کچھ نہیں ہونے والا، پچ نارمل ہی برتاؤ رکھے گی. یہاں آپ کو بیٹسمین کو غلطی پر مجبور کرکے ہی وکٹ مل سکتی ہے.

سمیع اسلم ویسے تو ٹھیک کھیل رہے ہیں لیکن انہیں بری گیند کو باہر پھینکنے کا ہنر دکھانا ہوگا ورنہ مسلسل دفاع سے آپ خود پر غیر ضروری پریشر لے لیتے ہیں، اس سے مخالف ٹیم کو بھی آپ پر حاوی ہونے کا موقع ملتا ہے. پہلے ٹیسٹ میں ان کا کھیل بہت سست رہا جو آخر میں ٹیم کے کسی کام نہیں آسکا، انہیں اسد شفیق کی اننگز بغور دیکھنا ہوگی، اسد نے اس اننگز میں بری گیند نہیں چھوڑی، جس کی وجہ سے ایک تاریخ ساز اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے.

کل ملا کہ پہلے ٹیسٹ میں کافی چیزیں مثبت تھیں. دیکھتے ہیں کہ ٹیم دوسرے ٹیسٹ میں ان سے کتنا فائدہ اٹھا سکتی ہے. یاد رہے کہ ڈراپ کیچز اور بری فیلڈنگ نے بھی بہت نقصان پہنچایا تھا. اب کم از کم یہ نہیں ہونا چاہیے. میرے خیال سے 21 سال بعد ہم کچھ مثبت خبروں کے حقدار ہیں، اس سے کمزور آسٹریلوی ٹیم ہمیں دوبارہ نہیں ملنے والی.

محسن حدید

محسن حدید میڈیکل پروفیشنل ہیں، لاہور میں میڈیکل لیب چلاتے ہیں۔ کھیلوں سے انتہا درجے کی دلچسپی ہے۔ روزنامہ دنیا اور دلیل کے لیے کھیل پر مستقل لکھتے ہیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam