”قصہ چار کروڑ کے ولیمے اور ایک پاجامے کا“ – احسان کوہاٹی

خوشی کے موقع پر رونا دھونا کسی کو بھی اچھا نہیں لگتا۔ بے موقع بے محل آنسو ویسے بھی پلاسٹک کے موتیوں کی طرح بے وقعت ہی ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنے سوہنے پاکستان میں تو خون کے آنسو بھی بے مول ہی قرار پاتے ہیں، لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ دل کا بھر آنا کسی کے اختیار میں نہیں۔

وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ سیلانی رقیق القلب ہوتا جارہا ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر اس کا جی بھر آتا ہے۔ خاص کرجب کبھی وہ تاریخ کے جھروکے سے پنجوں پر کھڑا ہو ہوکر اپنا شاندار ماضی دیکھنے کی کو شش کرتا ہے۔ یہ لمحے بڑے ہی خوبصورت ہوتے ہیں، لیکن ان لمحوں سے حال میں واپسی بڑی ہی تکلیف دہ ہوتی ہے۔

آج بھی ایسا ہی ہوا۔ شہر قائد میں سنگ مرمر کے اس خوبصورت اور پرشکوہ مزار پر ملٹری اکیڈمی کاکول کے اسمارٹ کیڈٹس کو فوجی انداز میں خراج تحسین پیش کرتا ہوا دیکھنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔ چاق و چوبند کیڈٹس خوبصورت یونی فارم اور سنجیدہ سپاٹ چہروں کے ساتھ ابدی نیند سوئے اس شخص کوکو سلیوٹ کر رہے تھے جس کی بصیرت، دانش مندی، خودداری اور اصول پسندی نے جہاں اسے ایک وکیل سے قائد اعظم بنایا۔ وہیں دنیا کو اپنے نقشے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خدوخال کھینچنے پر مجبور کیا۔

سیلانی اپنے لیپ ٹاپ پر مزار قائد میں گارڈز کی تبدیلی کی یہ پروقار تقریب دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کاش اللہ تعالیٰ ہمارے قائد کو ہمارے در میان چند برس کی اور زندگی دے دیتا تو شاید آج ہم اس طرح بھٹکتی ہوئی قوم نہ ہوتے۔ آج ہمارے پاس سب کچھ ہے لیکن ہم تہی دست ہیں۔ ہم وہ عجیب قوم ہیں جو ایک ہاتھ میں نیوکلیئر وار ہیڈ اور دوسرے میں کشکول لیے پھرتی ہے۔

سیلانی اسی سوچ میں تھا کہ لیپ ٹاپ پر نیوز چینل کی اسکرین کا منظر بدل گیا۔ سابق صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری مزارقائد آ چکے تھے۔ ملیشیاکی سی رنگت کی قمیض شلوار اور سندھی ٹوپی میں آصف علی زرداری نے مزار قائد پر حاضری دی۔ ہالہ گل پیش کرکے محبت و عقیدت کا اظہار کیا اور فاتحہ خوانی کے بعدوہاں موجود میڈیا کے سامنے آکھڑے ہوئے۔ انہوں نے قوم کوقائد کی سالگرہ کی مبارک باد دی۔ میڈیا کے سوالوں کے مسکرامسکرا کر جواب دیئے اور ستائیس دسمبر کو بے نظیر بھٹو کی برسی پر چند اہم اعلانات کا سسپنس برقرار رکھ کر واپس لوٹ گئے۔

سیلانی یہ سب دیکھ کر پہلو بدل کر رہ گیا۔ اسے افسوس ہونے لگا کہ آج وہ گھر پر کیوں ہے۔ وہ مزار قائد میں ان رپورٹروں کے درمیان موجود کیوں نہیں جو آصف علی زرداری صاحب سے سوال کررہے تھے۔ کاش وہ وہاں ہوتا تو آصف زرداری اور وہاں آنے والے سیاست دانوں سے پوچھتا کہ ایک سیاست دان کی حیثیت سے یہاں آتے ہوئے ان کے قدموں میں لرزش پیدا ہوتی ہے؟ وہ لحد قائد پر نظر ڈالنے کے لیے اتنی ہمت اور حوصلہ کہاں سے لاتے ہیں؟ مزار پر پھولوں سے گوندھے ہوئے ہالہ گل کو رکھتے ہوئے ان کے ہاتھ کیوں نہیں کانپتے؟ ان کی دل کی دھڑکن تیز اور پیشانی عرق آلود کیوں نہیں ہوتی؟ ان کے مسام پسینہ کیوں نہیں اگلتے؟ وہ قائد کا سامنا آخر کس طرح سے کر لیتے ہیں؟

آج اپنے اردگرد پھیلی بدبو دار تلخ تاریک سچائیوں اور روشن، شفاف معطر ماضی کا موازنہ کرتے ہوئے سیلانی کی نظر دھندلا گئی۔ اس کی آنکھوں میں نمی آچکی تھی، لیکن اس دھندلی ہوئی نظر کے باوجود جمعہ 23 دسمبر کی دوپہر کا وہ منظر بالکل صاف اور واضح تھا جب دبئی سے پرواز کرنے والے نجی طیارے نے ائیر پورٹ کے گرد چکر لگائے۔ رن وے پر آکر ترچھا ہوا۔ پروں کے نیچے سے اس کے پہئے کھلے اور چند لمحوں میں وہ رن وے پر حرکت کرتے ہوئے وزنی طیارے میں سوار وی وی آئی پی مسافر کو بحفاظت کراچی لے آیا۔ آصف علی زرداری اٹھارہ ماہ کی جلاوطنی کاٹنے کے بعد شاہانہ انداز میں وطن واپس آچکے تھے۔

خصوصی طیارے کی خصوصی پرواز کے بعد اس کالیپ ٹاپ اسے دبئی کے مہنگے ترین علاقے جمیرہ کے ایک ریزارٹ میں لے گیا جہاں سابق گورنر سندھ عشرت العباد خان کے صاحبزادے کا ولیمہ تھا۔ ولیمے کی یہ تقریب کسی شہزادے اور ولی عہد کے ولیمے سے کیا کم ہوگی۔ کہتے ہیںAsateer Atlantis,The Palm Dubai UAE میں ہونے والی اس تقریب میں غریب قرضدار پاکستان کے ایک صوبے کے سابق گورنر نے اس شاہانہ تقریب میں چار کروڑ روپے لٹائے۔ یہ وہی گورنر سندھ ہیں جو چودہ برس تک ٹھاٹ باٹھ اور ٹھسے سے رہنے کے بعدسابق ہوئے تو اس دھرتی پر چودہ گھنٹے بھی نہیں رہے اوردبئی کے لیے پرواز بھر گئے۔

ایسی ہی ہوش ربا داستانوں کے مرکزی کردار رائے ونڈ محل کے وہ غریب مکین بھی ہیں جن کی اولاد بیرون ملک اسٹیل ملیں لگائے بیٹھی ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس کا سالانہ بجٹ 2014-15 کے لیے 779 ملین روپے تھا۔ ظاہر ہے ان تھوڑے سے پیسوں میں وزیر اعظم ہاؤس کیسے چلتا، سو 2015-16 میں غریب ملک کے مسکین وزیر اعظم ہاؤس کا سالانہ خرچ ’’کچھ‘‘ بڑھاکر 881.6 ملین کردیا گیا۔

سیلانی کو یہ سب یاد آیا تو اسے وہ کمزور سا نحیف ضعیف بھی یاد آگیا جو رئیسوں کی سی زندگی گزار رہا تھا۔ اس خوش لباس شخص کے تھری پیس سوٹ آج سے ستر برس پہلے پیرس کے درزی سے سل کر آتے تھے۔ کسی کو جھوٹ لگے توسیلانی نے پیرس کے درزی کے سلے ہوئے وہ ملبوسات اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ یہ مالدار شخص وہ تھا جسے انگریزوں کی حکومت نے اس وقت پندرہ سو روپے ماہانہ تنخواہ کی پرکشش پیشکش کی جسے دراز قامت پتلے دبلے وکیل نے خوداعتمادی سے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ اتنے پیسے تو میں ایک دن میں کماسکتا ہوں اور اس نے یہ ثابت بھی کیا۔

یہ اسی مالدار رئیس وکیل کے آخری ایام کی بات ہے کہ جب ٹی بی کا مرض اس کے پھیپھڑوں کو سیاہ کرچکا تھا، زندگی کے گنے چنے دن ہی رہ گئے تھے۔ معالجین کے مشورے پر انہیں پرفضا مقام پر بھیج دیا گیا کہ شاید صاف ستھری فضا سے اس نحیف جسم سے لپٹے عارضے دور کرنے میں معاون ہو اور گرتی ہوئی صحت سنبھل جائے، لیکن نہیں، اس شخص کی صحت دن بدن گرتی ہی چلی گئی جس پر ایک فوجی کرنل ڈاکٹر کو ان کے علاج کے لیے بھیجا گیا۔ اسی کرنل نے اس بزرگ کا معاینہ کیا اور مایوسی کے انداز میں گردن ہلا دی۔ دیر نہیں، کافی دیر ہوچکی تھی لیکن کرنل نے اپنی سی کوشش تو کرنی تھی۔ یہ شخص قیمتی نہیں، بہت ہی قیمتی تھا۔ اس معالج نے اس شخص کے آخری ایام پر ایک کتاب بھی تحریر کی۔

سیلانی کو اسی کتاب میں درج وہ واقعہ نہیں بھولتا جب کرنل نے اپنے بوڑھے بیمار مریض کی بہن سے شکایت کی کہ وہ گرم کپڑے نہیں پہن رہے۔ ان کو سردی لگ سکتی ہے۔ ایسا ہوا تو ساری محنت اکارت جائے گی۔ کرنل نے یہ سوچ کرفوراً ہی کراچی سے کچھ گرم کپڑے منگوا لیے اور اگلے دن اپنے مریض کے پاس پہنچ کرمودبانہ انداز میں کہنے لگا ’’سر! آپ نے جو پتلا ریشمی پاجامہ پہن رکھا ہے، یہ سردی سے بچاؤ کے لیے ناکافی ہے، آپ کو کہیں ٹھنڈ نہ لگ جائے؟“

ڈاکٹر کی بات سن کربوڑھے مریض نے سر اٹھاکر اس کی طرف دیکھا اور کمزور سی آواز میں جواب دیا ’’میرے پاس سلک کا ایک ہی پاجامہ ہے۔ سوچ رہا ہوں کہ میں ہینڈلوم کپڑے سے مزید کچھ بنوالوں۔‘‘

جس پر کرنل نے کہا ’’سر! کاٹن سے بھی کام نہیں چلے گا آپ کو وولن کپڑوں کی ضرورت ہے۔‘‘

اس پرمریض نے کہا ’’لیکن میں نے آپ کو بتادیا کہ وہ ابھی میرے پاس نہیں ہیں۔‘‘

مریض خاموش ہوا تو کرنل الٰہی بخش نے مودبانہ انداز میں کہا ’’میرے خیال میںآپ کے پاس ہونے چاہئیں اور اسی لیے میں نے کراچی سے منگوا لیے ہیں۔‘‘

اس بات پر مریض نے اپنی عقابی آنکھوں سے ڈاکٹر کو تکتے ہوئے قدرے سخت لہجے میں کہا ’’سنو ڈاکٹر! میری بھی ایک تجویز لے لوجب بھی پیسے خرچ کرو تو ایک نہیں دو بار سوچا کرو۔ یہ رقم اس چیز پر خرچ کرنا ضروری بھی ہے کہ نہیں بلکہ یہ سوچو کہ کیا یہ واقعی بہت ضروری ہیں۔‘‘

ڈاکٹر نے نرمی سے کہا ’’سر! میں آپ کے کیس میں جب بھی کوئی فیصلہ کرتا ہوں دو بار سوچ کر ہی فیصلہ کرتا ہوں۔ آپ کے لیے یہ وولن کے پاجامے لینا بہت ضروری ہیں‘‘۔ جس پر اس بوڑھے نے خاموش ہوکر رضامندی کا اظہار کردیا۔

جاننا چاہیں گے سیلانی کس رئیس مریض کی بات کررہا ہے؟ سیلانی قائد اعظم محمد علی جناح کی بات کررہا ہے۔ اس قائد اعظم کی جب وہ محمد علی جناح تھا تو اس کے کپڑے بھی پیرس سے سل کر آتے تھے۔ وزیر مینشن میں قائد اعظم کے سوٹ پر پیرس کے درزی کا ٹیگ آج بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ واقعہ ان کے معالج کرنل ڈاکٹر الٰہی بخش نے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ انہوں نے With Quaid Azam…During his last daysلکھ کراس قوم پر احسان اور اس قوم کے سیاستدانوں کے سامنے آئینہ رکھ دیا ہے کہ اس میں اپنا چہرہ تکتے جاؤ اور شرماتے جاؤ۔

سیلانی حیران ہوتا ہے کہ منی لانڈرنگ کرکر کے جائیدادیں بنانے والے کرپٹ لیڈر کس منہ سے اس اجلے لیڈر کے مزار پر حاضری دیتے ہیں؟ انہیں میرے قائد اعظم کی لحد پر اپنے بدبودار ہاتھوں سے ہالہ گل رکھتے ہوئے کس قدر بے شرمی اور بے حمیتی کی ضرورت پڑتی ہوگی؟ وہ کس جرت سے ہاتھ اٹھا کر باہر آتے ہوں گے اور کس بے ضمیری سے پاکستان کی باتیں کرکے بلٹ پروف گاڑیوں میں جا چڑھتے ہیں۔۔۔ قائد کی روح کو ان کی آنیوں جا نیوں سے کتنی تکلیف ہوتی ہوگی۔ وہ کس کرب میں مبتلا ہوجاتے ہوں گے اور خدا جانتا ہے کہ یہ سلسلہ کب تھمے گا۔ پاکستان کو چراگاہ سمجھ کر اپنے گھوڑوں کے شکم بھرنے والے کب تک اس طرح نازل ہوتے رہیں گے؟ ان کی اولادیں باہر پلتی ہیں۔ ان کے بچے باہر پڑھتے ہیں۔ ان کی جائیدادیں املاک لندن دبئی امریکا میں ہیں۔ ان کے دوست ملک سے باہر ہیں۔ ان کے بچوں کے ولیمے اس ملک کی حدود سے باہر ہوتے ہیں جہاں سے یہ اربوں کی جائیدادیں بنک بیلنس بنا اڑانیں بھر جاتے ہیں۔ ان کے لیے پاکستان ایک بزنس ڈیل سے زیادہ کیا ہے۔

ایک کرنل الٰہی بخش کیا سو الٰہی بخش بھی کتابیں لکھ ڈالیں اور یہ ہزار بار بھی پڑھ لیں تو ان کے سینوں میں وینٹی لیٹر پر پڑے ضمیروں کی پلکوں کو جنبش تک نہیں ہونی۔۔۔ سیلانی نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور لیپ ٹاپ کی اسکرین پر اجلے قائد کے اجلے مزار پر دبئی سے آنے والوں کو میڈیا کے کیمروں کے سامنے مسکرا مسکراکر بھاشن دیتا دیکھنے لگا اور افسردگی سے دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

FB Login Required

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

Protected by WP Anti Spam