کیا مولانا آزاد واقعی امام الہند تھے؟ عارف گل

تاریخ انسانی میں بےشمار ایسی شخصیات گزری ہیں جو عظمت کی بلندیوں پر نظر آتی ہیں، یہ تمام شخصیات اپنے علم و عمل کے مختلف میدانوں میں اپنے کردار، اپنی خصوصیات یا پھر اپنی خدمات کی بدولت عظمت کی مستحق ٹھہرتی ہیں، اس کے بالمقابل تاریخ اسلام بھی عالی مرتبت و مقربان خدا حضرات اور مفکروں کے تذکروں سے بھری پڑی ہے۔ تاریخ انسانی نے مل کر بھی ایسے اشخاص پیدا نہیں کیے ہوں گے جیسے صرف تاریخ اسلام نے پچھلے ساڑھے چودہ سو سالوں میں مختلف علوم و فنون کے حوالوں سے دنیا کو عطا کیے۔

انبیا و رسل علیہم السلام کی مثال تو جداگانہ ہے چونکہ وہ خداوند کے منتخب کردہ و فرستادہ ہیں جن کی نہ کوئی نظیر ہے اور نہ مثل، یہاں بات عام انسانوں کی ہے اور ان میں سے بھی صرف ان اصحاب فضیلت کی جنہیں ان کے پیروکاروں اور چاہنے والوں نے ان کے کردار، کام یا خدمات کے بدلے کسی مخصوص لقب یا خطاب سے سرفراز کیا۔ بعض مثالوں میں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ خطاب کا یہ لفظ کب کس نے اس محترم ہستی کے لیے پہلی بار استعمال کیا، مگر وہ کانوں میں پہنچتے ہی زبان زد عام ہوگیا۔ پھر وہ لقب یا خطاب اس شخصیت کے نام کا حصہ بن گیا یہاں تک کہ اکثر صورتوں میں خطاب کے بغیر اصل شخصیت کا سراغ لگانا مشکل ہوجاتا ہے یا پھر بعض صورتوں میں اصل نام پردہ اخفا میں چلا گیا اور وہی خطاب اس شخصیت کی پہچان بن گئی۔

یہ القاب اور خطاب بھی اپنی کہانی رکھتے ہیں، سب سے اہم وہ ہیں جو نبی مکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے لیے استعمال کیے جو صحابہ کرام کے لیے ان کے اپنے ناموں سے بھی بڑھ کر تھے۔ جناب ابوبکرؓ کے لیے صدیق ، جناب عمر بن خطابؓ کے لیے فاروق، جناب علی کرم اللہ وجہہ کےلیے ابو تراب اور اس طرح سیف اللہ، ابوہریرہ، ذوالنورین وغیرہ چند مثالیں ہیں۔ اس کے بعد خطاب کی وہ قسم ہے جو حاکمان وقت دیا کرتے تھے مگر یہ خطاب ایسے تھے جو جتنی جلد ملتے تھے اس سے بھی جلد عوام کے ذہنوں سے اتر جاتے تھے۔ یہاں ہم صرف ان خطابات اور القابات کا ذکر کر رہے ہیں جو کسی محترم ہستی کے پیروکاروں اور چاہنے والوں نے ان ہستیوں کو دیے ہیں، پھر وہ خطاب ان اصحابِ محترم کے ناموں کا جزو لاینفک بن گئے۔ ان محترم ہستیوں میں علماء بھی ہیں فضلاء بھی، محدثین بھی ہیں اور فقہاء بھی، مشائخ بھی ہیں اور صوفیاء بھی، مفکرین بھی ہیں اورادباء بھی، فاتحین بھی ہیں اورحکماء بھی۔ غرض زندگی کے ہر شعبہ سے ان اصحاب کا تعلق ہے، امامِ اعظم، صاحبین، محدثِ اعظم، فاتحِ مصر، فاتحِ بیت المقدس، شمس الائمہ، شیخِ اعظم، فقیہ اعظم، شیخ الاسلام، امام التاریخ، سید الطائفہ، معلمِ ثانی، طیبِ اکبر، شیخِ اکبر، مولوی روم ۔ اور پھر سفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لیے۔

تاریخ اسلام کے ساتھ تاریخِ ملتِ اسلامیہ پاک و ہند بھی ایسی نامور و نادر ہستیوں سے خالی نہیں۔ یہاں بھی ایسے فقہاء، محدثین، فاتح، مشائخ، صوفیاء، خطباء اور منصفین موجود ہیں جنہیں مخصوص القاب و خطابات سے نوازا گیا اور وہی خطاب ان ہستیوں کے ناموں کا حصہ بن گیا، فاتحِ سندھ، فاتحِ ہند، گنج بخش،گنج شکر، قطب الاقطاب، مجدد الف ثانی، مجاہدِ ملت، سراج الامت، شہیدِ اعظم، حکیم الامت، تاج الاولیا، امامِ سخن، خدائے سخن، شاعرِ مشرق، قائدِاعظم، امیرِ ملت، قائدِ ملت، امیرِ شریعت، رئیس الاحرار، شیخ الہند، امام العرب و العجم، اعلی حضرت، علامۃ الہند، الغرض کہاں تک گِنوائیں، ہر فرد اپنے فن میں یکتائے روزگار، محمد بن قاسم تو بہت ہوں گے مگر فاتحِ سندھ صرف ایک ہے، غزنی کے محمود تو کئی ہوں گے مگر فاتحِ ہند ایک ہے، ہجویر کے علی تو بہت ہوں گے مگر گنج بخش صرف ایک ہے، فرید نام کے تو بہت ہوں گے مگر گنج شکر ایک ہے، سرہند کے احمد تو بہت ہوں گے مگر مجدد الف ثانی صرف ایک ہے، ٹیپو تو بہت سارے ہوں گے مگر شہید اعظم ایک ہے، شاعر تو بہت ہوں گے مگر خدائے سخن اکیلا، اقبال نام کے افراد تو بہت سارے مگر شاعرِمشرق ایک، محمد علی بہت مگر قائداعظم صرف ایک، عطاءاللہ بہت ہوں گے مگر امیر شریعت صرف ایک، پھر محمود حسن نام والے بےشمار مگر شیخ الہند صرف ایک۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا آزاد، ترجمان القرآن کا انتساب اور مزید کچھ باتیں - نایاب حسن

یہ برصغیر پاک و ہند کی ملت اسلامیہ کی مشتے نمونے از خروارے کے مصداق چند نمایاں شخصیات تھیں جنہیں ان کے پیروکاروں اور چاہنے والوں نے خاص خطابات سے نوازا، اور وہ خطاب ان کے ناموں کی پہچان بن گئے اور پھر ان کے نام ان کے خطابوں کے بغیر ادھورے نظر آتے ہیں. سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان شخصیات نے یہ خطاب پانے کی خواہش کی نہ کسی سے سفارش کروائی، اور نہ ہی یہ خطاب حاصل کرنے کے لیے مریدوں کے ذریعہ کوئی مہم۔ نہ وہ خود ان خطابات و القابات کے متمنی تھے اور نہ دوسرون کو قائل کرنے لیے اپنے کارندے نامزد کیے۔ مگر ان خطابوں میں ایک خطاب ایسا بھی ہے جو میری ان گزارشات کا سرنامہ ہے. ”امام الہند“ اس خطاب کو پانے کے نہ صرف خواہش مند مولانا ابوالکلام آزاد تھے بلکہ یہ خطاب پانے کے لیے انہوں نے مہم بھی چلائی اور مریدوں کی مدد سے دوسرے علماء کو قائل کرنے بھی کوشش کی۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ، نہ علمائے وقت نے مولانا آزاد کو اس خطاب سے نوازا اور نہ عامۃ الناس نے شرفِ قبولیت بخشا، پھر بھی چند فیس بکیے، چند صحافی اور چند نیم ملا ایسے ہیں جو آج بھی مولانا آزاد کے نام کے ساتھ یہ خطاب لکھ کر سینکڑوں علمائے ہند کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

اس خطاب کے اجمال کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ 1919ء میں برصغیر کے اکثریتی علماء نے جمعیت علمائے ہند کی بنیاد رکھی، جس کا پہلا سالانہ اجلاس نومبر 1919ء میں ہوا. اس کے کچھ عرصہ بعد شیخ الہند مولانا محمود الحسن مالٹا کی اسیری کے دن پورے کرکے ہندوستان تشریف لائے، اس وقت ان کی صحت کافی خراب تھی، انہی دنوں انہوں نے اپنے حلقے کے مریدوں سے کہا کہ میرا کام مکمل ہوچکا ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانان ہند ایک جھنڈے تلے جمع ہو کر انگریز سے آزادی کی جدوجہد کریں اور اس مقصد کے حصول کے ”امام الہند“ کا انتخاب کریں. یہ خبر جب مولانا ابوالکلام آزاد تک پہنچی تو ان کے دل میں پہلے سے چھپی ہوئی خواہش نے انگڑائی لی اور وہ سمجھے کہ ان کی مراد برآئی، چونکہ اس سے پہلے وہ حزب اللہ کے نام سے ایک تنظیم بنا چکے تھے، جس کے لیے وہ اپنی بیعت بھی لیا کرتے تھے ، اپنے لیے بیعت کا مقصد ان کے مقرر کردہ خلیفہ مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کے بقول یہی تھا کہ جب ہندوستانی مسلمان اور علماء کے سامنے آزادی کی جدوجہد میں امامت کا مسئلہ پیدا ہوگا تو ان کے لیے راہ پہلے سے ہموار ہوچکی ہوگی ۔

شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی طرف سے امام الہند کا تذکرہ سن کر مولانا کے خلیفہ عبدالرزاق ملیح آبادی مولانا آزاد کے لیے راستہ صاف کرنے نکل کھڑے ہوئے، پہلے پہل وہ خود شیخ الہند سے ملے، ان کے سامنے دو تین ناموں کا تذکرہ کرنے اور ان کے کردار کی کمزوریاں بیان کرنے کے بعد مولانا آزاد کی خوبیاں بیان کرکے ان کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اگلا مرحلہ کچھ دوسرے علماء کو بھی ہم نوا بنانے کا تھا، جس کے لیے مولانا رزاق ملیح آبادی کو مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید کو ساتھ ملانے میں کامیابی حاصل ہوگئی۔ ان حالات میں جمعیت علمائے ہند کا دوسرا سالانہ اجلاس نومبر 1920ء میں منعقد ہوا، جس میں مولانا محمود الحسن بھی شریک تھے، بلکہ انھی کی صدارت میں ہوا۔ اس اجلاس سے پہلے کچھ علماء کے درمیان ہونے والی خط و کتابت سے بھی عیاں ہے کہ اس اجلاس میں مسئلہ امامت زیر غور آنا تھا، اور ہوسکتا تھا کسی کو ”امام الہند“ منتخب کیا جاتا، مگر چند سرکردہ علماء جن میں علامۃ الہند مولانا معین الدین اجمیری اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی کا خیال تھا کہ ایسے اہم مسئلہ کو جلد بازی میں نہ نمٹایا جائے، اگرچہ مسئلہ امامت سے مولانا آزاد کو بڑی امیدیں تھیں، مگر مذکورہ اجلاس میں مسئلہ امامت اور امام الہند کے انتخاب کے صورت پیدا نہ ہوسکی. اس اجلاس کے دس دن بعد شیخ الہند مولانا محمود الحسن کا انتقال ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا آزاد، ترجمان القرآن کا انتساب اور مزید کچھ باتیں - نایاب حسن

تاہم مولانا آزاد اور ان کے لواحقین کی کوششیں برابر جاری رہیں، اس سلسلے میں خط و کتابت بھی ہوتی رہی اور ملاقاتیں بھی۔ جمعیت علمائے ہند کا تیسرا سالانہ اجلاس اپریل 1921ء میں بریڈ ہال لاہور میں ہونا طے پایا، جس کی صدارت کے لیے منتظمین نے پیشگی مولانا آزاد کا نام اس امید میں طے کر دیا کہ اب ”امام الہند“ کی تجویز منظور ہوجائے گی، جسے امام الہند بننا ہے اسے ہی اجلاس کا صدر ہونا چاہیے مگر ایسا نہ ہوسکا۔ مذکورہ اجلاس میں جب یہ تجویز زیرِ غور آئی تو پہلے خود مولانا آزاد نے اور بعد میں مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید نے اس کی حمایت کی لیکن اس کے بعد پہلے تو مولانا معین الدین اجمیری نے تقریر کی اور کہا ”ایاز قدر خود بشناس، کہاں تم اور کہاں یہ رفیع و عالی منصب، تم ایسے نوعمر کو تو اکابر علماء کی موجودگی میں زبان کھولنا بھی مناسب نہیں.“ ان کے بعد مولانا انور شاہ کشمیری اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے بھی مخالفت میں تقریریں کی، اسی طرح مولانا عبدالباری فرنگی محلی اور علی برادران بھی مولانا آزاد کے لیے اس خطاب کے مخالف تھے. اس موقع پر سینکڑوں علماء موجود تھے مگر مولانا آزاد کے حق میں کہیں سے بھی کوئی آواز نہ اٹھی، اور یہ قصہ ہمیشہ کے لیے یہیں دفن ہوگیا۔

یہ وہ پہلا موقع ہے جس کے بعد مولانا آزاد کی قلب ماہیت ہوتی ہے اور وہ مایوس ہو کر ضد کے طور پر کانگریس میں چلے جاتے ہیں۔ اسی لیے محققین مولانا آزاد کی زندگی کو دو ادوار میں تقسیم کرتے ہیں، 1922ء سے پہلے کا دور اور 1922ء کے بعد کا دور۔ 1922ء سے پہلے کا دور الہلال اور البلاغ کا دور ہے جس میں مولانا آزاد نے ہزاروں لوگوں کو اپنا گرویدہ بنایا اور انہیں قرآن کی دعوت کا علم تھام کر عمل پر ابھارا، مگر جب قوم ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کے لیے کمربستہ ہوگئی تو مولانا خود اس راہ کی مخالف سمت میں چل پڑے. اس مخالف سمت میں چلنے کے پیچھے مولانا کی علماء سے مایوسی اور انہیں ”امام الہند“ منتخب نہ کرنے کا غصہ یقینا بہت بڑا عامل ہے۔