وہ جس کے نامؐ پہ نبض حیات چلتی ہے – ہمایوں مجاہد تارڑ

واہ! دور کسی مسجد کے مینار سے بلند ہوتی یہ سطر مجھ گنہگار کی سماعتوں سے لمس پذیر ہوئی ہے۔ مشامِ جاں میں عجیب رس گھولے دیتی ہے:
’’وہ سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند۔۔۔‘‘
آواز ایسی سریلی اور رسیلی، رقّتِ قلب سے پھوٹتی ہوئی سی پُردرد— کہ دل نکال لیا ظالم نے۔
’’مصطفٰے جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام !۔۔۔۔۔‘‘

سینٹ آگسٹائن بارے سنا ہے، زندگی کی دھوپ چھاؤں سے ہوگزر نے، شیریں اور تلخ ذائقوں کی حقیقت سے آشنا ہو چکنے، اور نوع بہ نوع اخلاقی برائیوں کو تجربہ و مشاہدہ کر چکنے کے بعد بالآخر جب وہ فلاح کی طرف پلٹا تو عقیدہِ تثلیث سے انکاری ہو بیٹھا۔ وہ خدائے واحد کا پرستار بن چکا تھا۔ بہت دن گزرے، احمد رفیق اختر صاحب نے اپنے ایک لیکچر میں اس کا ذکر چھیڑ دیا۔ کہا:
’’سینٹ آگسٹائن نے حسن بارے ایک خوبصورت بیان دیا، کہ کائنات کا حسن توازن اور ہم آہنگی سے ہے۔ جو اس کے خلاف ہے، وہ بے توازن ہے۔‘‘

پورا توازن کسی بھی شے یا شخصیت میں نہ سمٹ سکا۔ کچھ نہ کچھ ادھورا رہ جاتا ہے کہ ایسا ہونا نا ممکن ہے۔ عرب کے صحرا نشین کا معاملہ البتہ دگر ہے۔ انؐ سے محبّت کا یہ احساس اگر کوئی قوی ترین جواز اور دلیل رکھتا ہے تو وہ یہی کرامت ہے:
توازن!
اگر سچ کہیں توگلزارِ ہست و بود میں رسالت مآبؐ کی ذاتِ گرامی ہی میں وہ کائناتی توازن پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہوا۔ تاریخ کے صفحات میں جلی لفظوں سے لکھا یہ مشاہدہ آج بھی دعوتِ نظارہ دے رہا ہے۔ وہ ایک نادان اور سادہ مزاج بڑھیا جس سے اللہ کے رسولؐ کے دشمنوں نے پوچھا تھا کہ کیا یہاں سے محمّد (علیہ الصلٰوۃ والسلام) گزرے ہیں؟ تو اُمّ معبد نے کہا:
’’ہاں۔ وہ جو پاکیزہ روح، کشادہ رو، پسندیدہ خو، زیبا صاحبِ جمال،آنکھیں سیاہ اور فراخ، بال لمبے اور گھنے، آواز میں بھاری پن، بلند گردن، سرمگیں چشم، باریک و پیوستہ ابرو، سیاہ گھنگریالے بال،خاموش وقار کے ساتھ چال گویا دلبستگی لیے ہوئے۔ دور سے دلفریب، قریب سے کمال ِحسن۔ شیریں کلام، اورکلام کمی بیشی سے معرا۔تمام گفتگو موتیوں کی لڑی جیسی پروئی ہوئی۔ میانہ قد کہ کوتاہی سے حقیر نظر نہیں آتے۔ نہ اتنے طویل کہ آنکھ اس سے نفرت کرے۔ والا قدر، رفیق ایسے کہ اس کے دائیں بائیں رہتے ہیں۔ جب وہ کچھ کہتا ہے تو چپ چاپ سنتے ہیں۔مخدوم اور مطاع۔ وہ جو حکم دیتا ہے، اس کے رفیق تعمیل کے لیے جھپٹتے ہیں۔۔۔‘‘

کیا عمدہ تصویر کشی کی۔ اور جب ایسی تصویر نہاں خانہ دل میں بسی ہو تو پرخلوص، سریلی آواز میں تلاوت کی گئی یہ سطریں اس ذاتِ اقدس سے قائم انسیت کو سوا نہ کریں گی کیا؟

مجھے ایسی محفل کا حصہ بننے کا ’’حسن اتفاق‘‘ متعدد مرتبہ نصیب ہوا۔ کچھ لوگ ، ثنا خوانِ رسولؐ ، دائرے میں بیٹھے باری باری نعت پڑھیں اور بس! اس کے علاوہ اس محفل کا کوئی کام نہ ہو۔ نہ درس و تدریس نہ کوئی مولانا ۔۔۔ یقین جانیں، کسی ماورائی تاثیر اور لطف کا احساس ملا۔ یعنی کوئی بات ضرور ہے، صاحب!

سرکارؐ کا ذکر ایک غیرمعمولی شے ہے۔ الگ سے، قائم بالذات، ایک عبادت — اللہ نے واضح ترین الفاظ میں جس کا حکم دے رکھا ہے:
’’اللہ اور اس کے فرشتے نبیؐ پر درور بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو۔۔۔۔‘‘
تو ایسی محفل میں کیفیات نری نور ہی نور ہو گئیں۔ یوں جیسے قطار اندر قطار فرشتے اترے ہوں۔ رسالتمآبؐ کے ذکر سے بڑھ کر کوئی شے نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ جو درود شریف پڑھنے کا باقاعدہ اہتمام کیا کرتے ہیں۔
وہ جس کے نامؐ پہ نبض حیات چلتی ہے
زمیں کا ذکر ہی کیا کائنات چلتی ہے

Comments

FB Login Required

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں پاک ترک انٹرنیشنل سکول، اسلام آباد کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

Protected by WP Anti Spam