کیا اسلام پر تحقیقی کام نہیں ہو رہا؟ وسیم گل

گزشتہ ایک سو سال کے عرصے میں تقریباً ایک سو تفاسیر لکھی گئیں۔

یہ تفاسیر دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف زبانوں میں لکھی گئیں۔ صرف اردو میں ھی تقریباً چالیس تفاسیر لکھی گئیں۔ ان میں سے زیادہ مشہور درج ذیل ہیں:

۱- ترجمان القرآن از ابوالکلام آزاد رح
۲- بیان القرآن از اشرف علی تھانوی رح
۳- کنزالایمان از احمد رضا خان بریلوی رح
۴- تفہیم القرآن از ابو الاعلیٰ مودودی رح
۵- تدبر قرآن از امین احسن اصلاحی رح
۶- معارف القرآن از مفتی محمد شفیع رح

اس کے علاوہ عربی و انگریزی اور کئی دوسری زبانوں میں بھی تفاسیر لکھی گئیں۔ مزید برآں ترجمہ و اصول التفسیر کے سلسلے میں نئی تحقیق ہوئی اور نئی تکنیک سامنے آئی جن کے استعمال سے فہم قرآن کے کئی نئے گوشے وا ہوئے۔ حمید الدین فراہی کا نظریہ نظام القرآن، ابوالکلام کا آہنگ، مفتی محمد شفیع کے فہم کے جواہر پارے’ سید مودودی کا ترجمہ کے بجائے ترجمانی کا اسلوب، حافظ نذر احمد کا لفظ بہ لفظ ترجمہ، سید شبیر احمد کا آیات کے ترجمے کو رنگوں کے استعمال آسان بنانا، قرآنی عربی کے فروغ کی کوششیں وغیرہ۔

یہ ساری کوششیں غیر سرکاری سطح پر ہوئی ہیں جبکہ ستر کی دہائی میں شروع ہونے والی ”علوم کی اسلامائزیشن“ کی تحریک کے تحت پاکستان کے سرکاری اداروں میں قرات و تجوید، نصاب میں قرآن کی شمولیت، یونیورسٹیز میں اسلامک سینٹرز کا قیام جہاں علوم قرآنی کی تعلیم خاصا مناسب انتظام موجود ہے۔

عربی زبان میں لکھی گئی ”فی ظلال القرآن“ کا اردو ترجمہ سید معروف شاہ شیرازی کر چکے ہیں۔ یہ ایسی تفسیر ہے جو پڑھنے والے کو کسی اور ہی دنیا سے روشناس کراتی ہے۔

عربی، انگریزی اور دیگر زبانوں میں لکھی گئی دیگر تفاسیر بھی کوئی کم قدر و قیمت نہیں رکھتیں لیکن فی الحال اتنا ہی۔

اب سوال یہ ہے کہ لوگ اس تفسیری سرمائے سے فائدہ اٹھانے اور دوسروں تک اسے پہنچانے کی بجائے ہمہ وقت یہ رونا کیوں روتے رہتے ہیں کہ:

”اب مسلمانوں میں اسلام پر کوئی تحقیقی کام نہیں ہو رہا۔“

اگر ان لوگوں کا یہ دعوی مان لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا بڑا تفسیری ذخیرہ کیسے وجود میں آ گیا؟

کہیں اس پروپیگینڈے کے پیچھے یہ مقصد تو پوشیدہ نہیں کہ اس طرح ایک عام مسلمان کو مایوسی کا شکار کر کے کسی اور طرف دھکیلا جائے؟؟

Comments

FB Login Required

وسیم گل

وسیم گل چین میں شعبہ اتصالات سے وابستہ ہیں اور ایریکسن کمپنی کی مختلف اسائنمنٹس کے سلسلے میں دنیا کے مختلف ممالک میں خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

Protected by WP Anti Spam