ہم اور پودے - نورین تبسم

زندگی دُنیا میں ملنے والا ہمارا گھر ہے جس میں مقدر کی قیمت پر رشتے اور تعلق ملتے اور بنتے ہیں۔ ہمارے رشتے اس گھر کی مٹی میں نمو پاتے پودے اور پھل دار درخت ہیں جبکہ تعلق اُن پودوں کی طرح ہیں جو گملوں میں ہم خود بڑے شوق سے لگاتے ہیں یہ اِن ڈور بھی ہوتے ہیں اور آؤٹ ڈور بھی۔ سرِ راہ پسند آجاتے ہیں تو کبھی کوئی از راہِ عنایت ارسال کر دیتا ہے۔ کبھی ہم بڑے شوق سے نرسریوں سے لے کر آتے ہیں۔ شروع شروع میں بڑی لگن سے دیکھ بھال کرتے ہیں۔ پھر وقت گُزرنے کے ساتھ اِن کو اپنی زندگی کا حصہ جان کر بھول جاتے ہیں، یہ جانے بنا کہ ہماری بےخبری کی تپش اِن کو کُملا رہی ہے تو ہماری نظر کی پھوار سے محروم ہوتے ہوئے پیاس اِن کی رگوں میں سرایت کرتی جارہی ہے۔

اصل میں اُن کا اور ہمارا تعلق براہ ِراست ہوتا ہے، کوئی اور اُن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہوتا، اس لیے ہمارے تعلق کے پودے تنہائی کے احساس سے مُرجھا جاتے ہیں، جبکہ ہمارے رشتے گھر کی زرخیز مٹی میں نمو پاتے ہیں۔ اُن کی موجودگی بھرپور، شخصیت مکمل، رنگ خوشبو اور تازگی ہر وقت نظروں کے سامنے رہتی ہے۔ اُن کے پھل ہمیں زندگی میں اُن کی اہمیت کا احساس دلائے رکھتے ہیں۔ اُن کو بنانا سنوارنا، خیال رکھنا روزمرہ کی وہ ذمہ داریاں ہیں جس میں بھول چُوک بھی ہو جائے تو کوئی اور ہماری جگہ یہ سب کر سکتا ہے یا کر دیتا ہے. دوسری طرف ہمارے تعلق وہ لے پالک بچے ہوتے ہیں جن کی ایک بھرے پُرے خاندان میں برابری کی جگہ کبھی نہیں بنتی۔ وہ صرف ہمارے بھروسے پر ہمارے ساتھ ہوتے ہیں۔ ہم سے کچھ نہیں مانگتے، صرف سوچ کا لمس اور خیال کی پھوار مل جائے تو پھر سے تروتازہ ہو جاتے ہیں۔

ماں باپ اور اولاد کا تعلق مَٹّی، بیج اور پودے کا ہے۔ بیج کیسا ہی ہو، کہیں سے بھی آیا ہو، جب مٹی کی کوکھ میں پروان چڑھتا ہے تومٹی بانہیں پھیلا کر اُسے اپنی حفاظت اور نِگہداشت میں لے لیتی ہے۔ اپنے وجود کی پوری توانائی دے کر اندھیرے سے روشنی میں لاتی ہے اور ساتھ کبھی نہیں چھوڑتی۔ زمانے کے سرد وگرم اور تیز و تُند آندھیوں کے مقابل اُسے سر اُٹھا کر جینے کاعزم عطا کرتی ہے۔ جوں جوں پودا پروان چڑھتا ہے، اُس میں بیج کے خصائل نمودار ہوتے جاتے ہیں۔ مٹّی ہر چیز سے بےنیاز اپنے پورے اخلاص کے ساتھ اُس میں مضبُوطی اور برداشت کا جوہر ڈالتی جاتی ہے لیکن کب تک! پودا جب اپنے آپ کو سنبھالنے کے قابل ہو جاتا ہے تو اُس کی خوبیاں اور خامیاں نمایاں ہوتی ہیں۔ یہ اُس کی وراثت ہے جس سے فرارممکن نہیں۔ اگر اچھی قسم کا اور صحت مند بیج ہو تو خوشبُودار پھول اور پھر عُمدہ پھل اُسے ایک مقام عطا کرتے ہیں۔ اگر قسم تو اچھی ہو لیکن اُس کی تخلیق میں کچھ کمی رہ گئی تو پھولوں اور پھلوں میں بھی وہ ذائقہ اور وہ لُطف نہیں ملتا، لیکن اگر قسم ہی ناقص ہو تو جتنا مرضی عمدہ بیج ہو، اُس کے پھول تو دل آویز ہو سکتے ہیں لیکن پھل کبھی افادیت نہیں دے سکتے۔ مٹی کےساتھ لمس کا، وجود کا رشتہ ہوتا ہے جبکہ بیج اور پودے کے مابین کوئی قریبی رشتہ نہیں ہوتا۔ جب بیج ہوتا ہے تو پودا نہیں ہوتا اور جب پودا تناور ہوتا ہے تو بیج پروازکے لیے تیار ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   انسان کے ہاتھوں برپا ہونے والا ارتقاء، جہانِ حیرت - ادریس آزاد

جس نے اپنی ماں کی زندگی سے سبق نہیں سیکھا اور باپ کے نقشِ قدم پر چلتے کے ساتھ ساتھ اپنا راستہ خود نہیں چُنا، وہ اپنی محنت، صلاحیت اور عقل و شعور کے بل بوتے پر آگے سے آگے تو جا سکتا ہے، اپنی کامیابی کا پھل اپنی زندگی میں تو کھا سکتا ہے لیکن! شجرِسایہ دار کی صورت جاوداں نہیں ہو سکتا۔

انسان کہانی بھی پیڑ کی طرح ہے۔ پیڑ کی افادیت اس کے بلند ہونے میں نہیں گھنا ہونے میں ہے۔ جتنا اُونچا ہوگا تنہا ہوتا جائے گا۔ بلند ہو کر نظروں میں تو آیا جا سکتا ہے لیکن نظر میں سمایا نہیں جا سکتا۔

دُنیا کا سب سے خوبصورت احساس اپنے لگائے ہوئے پودے کا پھل کھانا ہے۔ وہ پودا جسے محنت سے سنوارا جائے، مشقت سے دیکھ بھال کی جائے اور فکر سے بیرونی و اندرونی حملہ آوروں سے بچایا جائے۔ دُنیا کی بدترین محرومی اپنی محنت کی کمائی کو پل میں ہاتھوں سے سرکتے دیکھنا ہےجیسے کھڑی فصل کو آگ لگ جائے یا کوئی آفتِ ناگہانی لمحوں میں سب جلا کر خاک کر ڈالے اور نعمتِ اِلہی کا ایک دانہ تک نصیب نہ ہو۔ زندگی کہانی میں خوابوں، خواہشوں اور خوشیوں کے لہلہاتے باغ تلاشتے یوں بھی ہوتا ہے کہ کبھی پھل رہ جاتے ہیں اور کھانے والے چلے جاتے ہیں، کبھی پھل نہایت خوشبودار اور بھرپور خوبصورتی سے دل موہ لیتا ہے تو کوئی معمولی کیڑا اپنے زہر سے یوں رس نچوڑتا ہے کہ پہلی نظر کے بعد دوسری نظر سے پہلے ہی بےحیثیت ہو کر رہ جاتا ہے۔

حرفِ آخر!

وہ ساتھ جو جسم کی ضرورت بن جاتے ہیں بانس کے درخت کی طرح ہوتے ہیں۔ سربلند، کارآمد اور اندر سے خالی اور روح میں جنم لینے والی قربتیں ”بون سائیا“ کی مانند دل کی نرم و نازک مٹی میں پنپتی ہیں، اُن کو بےمحابا پھیلنے سے روکنے کے لیے اگر شاخوں کو تراش خراش کی سختی سہنا پڑتی ہے تو اُن کی جڑوں کو بھی ایک خاص حد سے آگے سفر کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وقت گزرتا ہے تو ہمارے ظاہری رشتے روح کے بوجھ سنبھال کر اسے شانت کر دیتے ہیں جبکہ دل کے تعلق دیمک کی طرح جسم چاٹ جاتے ہیں اور ہم نادان خسارۂ زندگی جان کر بھی ان جان بنتے گزر جاتے ہیں۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں