وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا – نازش اسلام

اللہ نے حضرت محمد ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ کی آمد سے قبل دنیا تاریکی اور جہالت میں ڈوبی ہوئی تھی. آپ نے اپنی تعلیمات اور اخلاق سے اسلام کا پرچم دنیا میں بلند کیا۔ آپﷺ سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا تقاضہ ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دور کا انسان محبت کی روح سے انکاری ہو کر صرف ظاہری نمائش کو مقصد بنا بیٹھا ہے۔

آپﷺ کی شان بیان کرنے کے لیے ویسے تو کوئی وقت اور دن مہینہ مقرر نہیں مگر ربیع الاول میں آپﷺ کی ولادت باسعادت کا مہینہ ہونے کی وجہ سے درود و سلام کی محافل میں اضافہ ہوجاتا ہے، جو سرورِکائناتﷺ سے عقیدت کے اظہار کا ذریعہ ہے۔ پہلے سننے میں آتا تھا کہ فلاں جگہ درود کی محفل سجائی گئی تو فلاں جگہ سیرت طیبہ ﷺپر روشنی ڈالی گئی مگر اب خبریں آتی ہیں کہ فیصل آباد میں 60 من وزنی کیک کاٹا گیا، ملتان میں 10 منزلہ کیک کرین کے ذر یعے کاٹا گیا، دھن پر ناچتےگاتے جلوس بر آمد ہوئے۔ غرض اپنے آقا ﷺ کے لیے سب کچھ کرنا ہے، بس نہیں کرنا تو ان کے بتائے ہوئے راستے پر نہیں چلنا۔

آج کے دور میں جہاں انسان جدید ہورہا ہے، پاکستان میں بسنے والے مسلمان پستی کی طرف دھکیلتے جا رہے ہیں۔ میرے سرکار ﷺکا طرزعمل تھا کہ غیر مسلم آپ کے اخلاق کی وجہ سے اسلام سے متاثر ہوتے تھے اور آج یہاں ان کے امتی اسلام کے قلعے میں انسانیت کے بنیادی نقطے سے بھی غافل ہیں۔ ہم اس ذات پاک کے امتی ہیں جو یہودی کا جنازہ دیکھ کر تعظیم میں کھڑے ہوجاتے تھے، کچرا پھینکنے والی غیر مسلم عورت کی عیا دت کے لیے جاتے، انھوں نے تو ہمیں ساری انسانیت سے محبت کا درس دیا تھا، رنگ، نسل، مذہب، زبان سے عاری ہو کر صرف انسان سے محبت، اس کی خدمت کی تلقین کی تو ہم آج کس کی پیر وی میں لگے ہیں؟

ہم کبھی اپنے مسلک سے اختلاف رکھنے والے کافر کا لقب دیتے ہیں، جو پسند نہ آئے اسے دائرہ اسلام سے خارج کر دیتے ہیں، ہم کبھی گستاخی کی آڑ میں شمع اور شہزاد کو زندہ جلا دیتے ہیں تو کبھی مرنے کے بعد بھی جنید جمشید کو مردود قرار دیتے ہیں۔ ہمارے نبی نے تو امن محبت سلامتی ایثار کا عملی نمونہ پیش کیا، ہم کیسی امت ہیں جو جہالت کی ساری حدیں پار کر جاتے ہیں؟

ہم بنیادی طور پر مذہبی جنونیت کا شکار ہوتے جارہے ہیں جس میں مذہب کم اور جنونیت زیادہ ہے۔ شاید لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ ہماری عبادت اس وقت تک قبول نہیں سمجھی جائے گی جب تک ہم کسی کو تکلیف میں مبتلا نہ کریں، کسی کے اوپر فتوی نہ لگائیں، کسی کا راستہ نہ روکیں اور کسی زبردستی اپنی خوشی غمی میں شریک نہ کریں۔

سرکار ﷺ سے محبت کے اظہار کا بہترین طریقہ ان کی سنت کو زندہ کرنا ہے، اسوہ حسنہ پر عمل کرنا ہے، ان کے بلند اخلاق کو اپنانا ہے، ان کے تحمل اور صبر کواپنی زندگی میں شامل کرنا ہے۔ اگر ہم نے رحمت العالمین سے برداشت اور رواداری کا سبق نہیں سیکھا تو کچھ نہیں کیا۔ اگر ہم صرف اور صرف حیات طیبہ ﷺ کا خود مطالعہ کرلیں اور سرکار کاینات ﷺ کے بتائے ہوئے سیدھے اور آسان راستے پر چلیں تو اپنی اور دوسروں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔ اس طرح پل صراط پر ہمیں آقاﷺ کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا پڑے گا۔

نازش اسلام

نازش اسلام میڈیا گریجویٹ ہیں، جنگ گروپ میں بطور کنٹنٹ رائٹر وابستہ ہیں۔ مذہب، سیاست اور کھیل ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam