پاکستان میں فٹ بال کا مستقبل تاریک نہیں – ناصر تیموری

مالی مشکلات کی وجہ سے سینکڑوں کھلاڑی شوق اور ٹیلنٹ کے باوجود فٹ بال کو اپنا پیشہ بنانے کے لیے تیار نہیں، اگر مالی حوالے سے معاملات طے ہوجائیں تو پاکستان کو جلد بہترین کھلاڑی ملنا شروع ہوجائیں گے۔

آنکھیں بند کرکے جب بھی 90ء کی دہائی کے بارے میں سوچتا ہوں تو یادگار اور خوشگوار یادیں جھٹ سے میرے سامنے آجاتی ہیں۔ کبھی جہانگیر اور جان شیر خان جیت کے نہ ختم ہونے والے سفر پر گامزن نظر آتے ہیں تو کبھی شہباز شینئر، سمیع اللہ، کلیم اللہ اور اصلاح الدین بار بار قومی پرچم فضا میں بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں اور کبھی عمران خان کی قیادت میں قومی کرکٹ ٹیم پہلی بار ورلڈ چیمپئن بنتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ یادیں مجھے اِس طرح اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں کہ واپس آنے کو دل ہی نہیں کرتا، اور دل کرے بھی تو کیسے کہ نہ اب اسکوائش کے کھیل میں ہمارا کوئی ترجمان ہے، نہ ہاکی کے میدان میں کوئی عزت و آبرو محفوظ ہے۔ ایک لے دیکر کر کرکٹ نے کچھ عزت رکھی ہے، لیکن جدید تقاضوں سے دوری کی وجہ سے خدشہ یہی ہے کہ اِس کھیل میں بھی دیگر کھیلوں کی طرح ہم مستقبل میں کہیں رسوا نہ ہوجائیں۔

لیکن آج میرا مقصد مندرجہ بالا کھیلوں پر بات کرنے کا نہیں ہے، بلکہ میں تو آج پاکستان سے فٹ بال جیسے عظیم کھیل کے رشتے اور تعلق پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ فٹ بال ایک ایسا کھیل ہے جس میں پاکستان باآسانی ترقی کرسکتا ہے، بس ضرورت اِس امر کی ہے کہ ریاست اِس کھیل کے فروغ میں سنجیدہ ہو۔ یہ دعوی ہوائی نہیں بلکہ میں یہ ساری باتیں ’فضل محمد‘ سے ملنے کے بعد انہتائی ٹھوس بنیادوں پر کررہا ہوں۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھلا یہ فضل کون ہے؟ تو جناب فضل بلوچستان کے علاقے خضدار کا ایک لڑکا ہے۔ میری ملاقات اُن سے ہرگز خضدار میں نہیں ہوئی بلکہ ملاقات کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں موبائل ٹیلی کام کمپنی کی جانب سے منعقد ایک پروگرام میں ہوئی۔

میں نے جب 21 سالہ فضل محمد کو بات کرتے سنا تو سوچتا رہا کہ اِس مٹی نے کتنے ہیرے اگلے ہیں، مگر اکثر کی قدر کرنے میں ہم بحثیت قوم سب ہی ناکام ثابت ہوئے۔ تقریب میں فضل محمد نے اپنی زندگی اور فٹ بال سے متعلق شوق کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔

فضل محمد بچپن سے ہی اپنے بھائی وسیم سے بہت متاثر تھے۔ ان کی زندگی سخت محنت سے عبارت ہے۔ وہ علی الصبح اٹھتے، فجر کی نماز پڑھتے اور نماز سے فارغ ہونے کے فوراً ہی بعد فٹ بال کی پریکٹس کے لئے دوڑ لگاتے ہوئے گراؤنڈ کی جانب روانہ ہوجاتے۔ لیکن دوڑ کر میدان کی جانب جانے کی بھی ایک دلچسپ وجہ ہے، اور وجہ یہ ہے کہ فضل گھر کا چولہا جلانے کے لیے ایک گیراج میں بطور میکنک کام کرتے ہیں اور اُن کو ڈیوٹی پر صبح ساڑھے 8 بجے ہر حال میں پہنچنا ہوتا تھا۔ تو وقت بچانے کے لیے وہ دوڑتے ہوئے میدان پہنچتے۔ دوڑ کر میدان جانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا کہ 3 کلومیٹر دور واقع میدان تک جب وہ پہنچتے تو انہیں وارم اپ کرنے کی ضرورت بالکل بھی محسوس نہیں ہوتی کیونکہ مسلسل دوڑ کی وجہ سے وہ سر سے پیر تک پسینے میں بھیگ چکے ہوتے تھے اور میدان میں وہ صرف بال کے ساتھ پریکٹس کرتے ہیں۔

وہ ماضی کے واقعات کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ سال 2007ء میں بلوچستان میں فٹ بال کے لئے انڈر 14 کے ٹرائل ہورہے تھے۔ ٹرائل میں 75 سے 80 لڑکوں نے حصہ لیا جن میں سے صرف 20 لڑکوں کا انتخاب ہونا تھا۔ ٹرائل کے موقع پر بتایا گیا کہ منتخب کھلاڑیوں کے نام تین روز بعد اخبار میں آجائیں گے۔ اِس حوالے سے فضل سے جب پوچھا گیا کہ وہ تین دن کیسے گزرے؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ مت پوچھیں۔ انہیں تین دن نیند ہی نہیں آئی کیونکہ انہیں شدید بے چینی ہورہی تھی کہ کیا ان کا نام حتمی فہرست میں آئے گا بھی کہ نہیں۔ جس دن اخبار میں نام آنا تھا، اُس دن خضدار میں شدید بارش ہورہی تھی جبکہ دور دراز کا شہر ہونے کے باعث وہاں اخبار بھی تاخیر سے آتے ہیں۔ اس دن وہ دو بار اخبار خریدنے کے لئے گئے لیکن شاید بارش کی وجہ سے اخبار معمول سے زیادہ تاخیر کا شکار ہوگیا۔ خیر جب وہ تیسری بار گئے تو اس وقت اخبار آچکا تھا۔ اس وقت بارش پھر شروع ہوگئی۔ عام طور پر لوگ بارش سے خود کو بچانے کے لیے اخبار کا سہارا لیتے ہیں، لیکن اُس دن فضل نے اخبار کو بچانے کے لئے اپنے کاندھوں کو سہارا بنایا۔ وہ ایک دکان میں داخل ہوگئے اور اپنا نام تلاش کرنے لگے اور یوں منتخب کھلاڑیوں کی فہرست میں انہیں اپنا نام مل گیا۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ فضل کے دو بھائی اور بھی ہیں اور تینوں بھائیوں کو قومی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔

فضل اپنی محنت اور جستجو کے بارے میں مزید بتاتے ہیں کہ اسکول میں فٹ بال کھیلنے کا کوئی خاص انتظام نہیں تھا۔ کچھ لڑکے اپنے طور پر ہی اسکول سے فارغ ہونے کے بعد فٹ بال کھیلتے تھے۔ ابتداء میں والدین نے اُن کے اِس شوق پر بہت زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی، بلکہ فضل کی کوشش تھی کہ کھیل کی وجہ سے اُن کی ڈیوٹی پر فرق نہ پڑے تاکہ گھر کا خرچہ چلتا رہے، ورنہ اگر گھر میں پیسے کم دیئے تو کہیں والدین یہ دعا نہ کردیں کہ اُن کا یہ شوق ہی ختم ہوجائے۔ بس انہوں نے جب بھی فٹ بال کھیلی ڈیوٹی سے فارغ ہوکر کھیلی ہے۔ لیکن فضل نے اِس موقع پر یہ بتایا کہ جب اُن کا نام منتخب کھلاڑیوں کی فہرست میں آگیا تو والد صاحب نے فضل محمد کی حوصلہ افزائی کی۔

فضل کو اس کے حلقہ احباب کے لوگ پیار سے ٹی کے بولتے ہیں۔ جس کا مطلب ہے ٹیکا خان۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ فضل محمد کے ماتھے پر بہت بڑا تل ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ بلوچستان میں تو ویسے ہر شعبہ کی صورتحال ہی ابتر ہے مگر کھیلوں کے فروغ کے حوالے سے تو صوبے میں حالات بہت زیادہ خراب ہیں، جہاں نہ کھلاڑیوں کی فٹنس کے حوالے سے کوئی سہولیات موجود ہیں اور نہ ہی میدان کی صورتحال قابل ذکر ہیں۔ اِس حوالے سے فضل محمد نے بتایا کہ دیگر صوبوں میں ٹریننگ کی سہولت بہت بہتر ہیں، جس کی وجہ سے وہاں کے لڑکوں کی فٹنس بھی زیادہ اچھی ہوتی ہے جبکہ وہ تکنیکی طور پر زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔ ان کا بال کے ساتھ اچھا کمبینیشن ہوتا ہے۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ وہ میدان میں کس پوزیشن پر کھیلتے ہیں تو انہوں نے اپنی خصوصیت کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ فارورڈ پوزیشن پر کھیلتے ہیں۔ پروگرام کے دوران انہوں نے بتایا کہ ملائیشیا میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں وہ کویت اور افغانستان کے خلاف ایک ایک گول کرچکے ہیں۔ تاہم جب انہوں نے بتایا کہ گول کرنے کے باوجود قومی ٹیم کو دونوں ہی مقابلوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو حاضرین کے ساتھ ساتھ میزبان کی جانب سے بھی ایک بلند قہقہ بلند ہوا۔

تقریب میں اہم موقع اُس وقت آیا جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر وہ قومی و بین الاقوامی سطح پر مشہور ہوجائیں تو کہیں بدل تو نہیں جائیں گے۔ اِس سوال پر فضل محمد نے انتہائی بہترین اور یادگار جواب دیا کہ جو محنت اور ٹھوکر کھاکر آتے ہیں وہ کبھی نہیں بدلتے۔ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے اِس خواہش کا اظہار کیا کہ خضدار کے نوجوانوں کو اُن تمام مشکلات کا سامنا نہ ہو جس کا سامنا انہوں نے خود کیا ہے۔ خضدار میں پانی کی شدید قلت ہے جس کی وجہ سے وہاں میدانوں پر گھاس ختم ہوگئی ہے۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے گراؤنڈ بالکل چٹیل میدان بن چکے ہیں، جبکہ دوسری طرف بین الاقوامی فٹ بال گھاس والے گراؤنڈ میں کھیلی جاتی ہے اور اس پر کھیلنے میں مزہ بھی آتا ہے۔

پروگرام میں فضل نے اِس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ وہ نہ صرف پاکستان کے لئے کھیلیں بلکہ باہر جاکر غیر ملکی کلبوں کے لئے بھی کھیلیں۔ یہاں حکومت کی جانب سے قومی کھلاڑیوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ نہیں ملتا۔ اِن مالی مشکلات کی وجہ سے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں ایسے کھلاڑی ہیں جو شوق اور ٹیلنٹ کے باوجود اِس کھیل کو اپنا پیشہ بنانے کے لئے قطعی طور پر تیار نہیں ہیں۔ اگر مالی حوالے سے معاملات طے ہوجائیں تو پاکستان کو بہت جلد صلاحیتوں سے بھرپور کھلاڑی ملنا شروع ہوجائیں گے۔ فضل محمد نے شرکاء کی آگاہی کے لیے انتہائی افسوس کے ساتھ بتایا کہ گزشتہ تین سال سے قومی سطح کی پریمیئر لیگ (پی پی ایف چیلنج کپ) نہیں ہوئی، حالانکہ یہی وہ ایونٹ ہوتا ہے جس کی بدولت کھلاڑی ابھر کر آتے ہیں اور پھر قومی ٹیم کا حصہ بنتے ہیں۔ اگر اِسی طرح بڑے ایونٹس میں وقفہ آتا رہا تو آج قومی ٹیم انٹرنیشنل رینکنگ میں 200 نمبر ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اِس سے بھی صورتحال خراب ہوجائے۔

اِس افسوسناک صورتحال میں اگر حکومت کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو ماسوائے افسوس کہ اور کچھ کیا نہیں جاسکتا، لیکن نجی شعبوں نے اِس حوالے سے کچھ کام ضرور کیا ہے جیسے موبائل ٹیلی کام کمپنی نے فضل کو اپنا برانڈ ایمبیسڈر بنایا تو ایک کمپنی فضل کو ماہوار 15 ہزار روپے دے رہی ہے جس کی وجہ سے اب فضل گیراج پر جانے کے بجائے اپنی پوری توجہ فٹ بال پر دے رہا ہے تاکہ اپنے کھیل پر مزید بہتری لاسکے۔

آخر میں بس یہی کہنا چاہوں گا کہ اگر حکومت ہاکی، اسکواش اور فٹ بال کو بھی اُتنا ہی نوازے جتنا کرکٹ کو نوازا جارہا ہے تو مجھ جیسے ناچیز کو اپنے ہیروز کی جھلک دیکھنے کے لیے ماضی کے جھروکوں میں جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی بلکہ میرے ارد گرد جابجا ہیرو نظر آنا شروع ہوسکتے ہیں، لیکن یہ سب دیکھنے کے لیے حکومت کی سنجیدگی کی اشد ضرورت ہے۔

ویب ڈیسک

web.desk

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam