دلیل کا کینوس - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

حسن دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے. دیکھنے والا اپنے زاویہ نگاہ کو دوسرے تک کیسے منتقل کرتا ہے، یہ اس کی فیلڈ آف انٹرسٹ پر منحصر ہے. کوئی لکھ کر بات پہنچاتا ہے، کوئی گا کر، کوئی ہاتھ میں برش تھام کر کینوس پر اپنی نگاہ کا معیار حسن پینٹ کرتا ہے تو کوئی کیمرے کے کلک سے اپنی نگاہ جوہر شناس کا ثبوت پیش کرتا ہے.

مقصد سب کا ایک ہے، اپنی نثر، شاعری، سُر، ساز، مصوری و عکسبندی سے دنیا میں اپنی سوچ کا ابلاغ اور اس پر داد وصول کرنا.

سچ کہوں تو یہ سب آرٹ کی شاخیں ہیں اور ہم سب فنکار. کوئی الفاظ سے مصوری کرتا ہے اور کوئی رنگوں سے فضا میں ساز بکھیرتا ہے. کسی کا کیمرہ اعضا کی شاعری کو عکسبند کرتا ہے تو کوئی سر سنگیت کے رنگ کینوس کے سپرد کرتا ہے.

انسان ہمیشہ سے حسن پرست رہا ہے، جمال اس کی کمزوری رہی ہے، لیکن حسن کے ابلاغ کے ساتھ ساتھ ، لگے ہاتھوں معاشرے کا دوسرا رخ بھی دکھاتے چلیے. معاشرے کا میک اپ زدہ حسن جب برہنہ بھوک بن کر جھگیوں میں ناچتا ہے، سڑک کنارے ردی اخبار لپیٹ کر سردی کو دھوکا دیتا ہے، جب جب لال گلیوں کی عورت اپنے زخمی پندار اور سوجے ٹخنوں کو چند سکوں کے عوض دوبارہ مشقت پر اکساتی ہے، جب کبھی کوئی لڑکی اپنے باپ کا شملہ بچانے اور اپنی جان جانے کے خوف سے نوزائیدہ شیرخوار کو کوڑے کے ڈھیر کے سپرد کر آتی ہے، جب کوئی ضعیف والد اپنے بیٹے سے مایوس ہوتا ہے، جب کوئی بوڑھی لاچار ماں اپنی جوان اولاد کو اپنے فرائض سے پہلوتہی کرتے پا کر بھی اس کے لیے دست دعا بلند کرتی ہے، اس سب کو بھی اپنی حساس نظر سے دیکھیے اور اپنے اندر کے آرٹسٹ کے لیے موضوع اظہار بنائیے.

یہ بھی پڑھیں:   نصف صدی کی کہانی، ہارون الرشید کی زبانی - اہم انٹرویو کا آخری حصہ

اگر آپ کے اندر کا آرٹسٹ قلم و قرطاس سے تصویر کشی کرتا ہے تو ”دلیل“ آپ کے لیے کینوس مہیا کرے گا. کمر کس لیجیے اور اپنے خیالات کو دلیل کے ساتھ دنیا تک پہنچائیے.

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں