حلب کی باحجاب بیٹی – زبیر منصوری

حلب!
بمباری کے باعث عمارت کے ملبے سے زندہ بچنے والی اسلام کی باحجاب بیٹی جب باہر آئی تو جو الفاظ اس نے کہے، وہ اسلام کی ساری بیٹیوں کے لیے ایک پیغام ہیں-
”مجھے ہاتھ مت لگانا میں بالکل ٹھیک ہوں“
……………………………………..
اسلام کی بیٹیو!
تم شاید غلط دور میں غلط لوگوں کے ہاں پیدا ہو گئی ہو! تمہیں کسی محمد بن قاسم کے زمانے میں ہونا چاہیے تھا۔کاش تمہیں کوئی حجاج جیسا با حمیت ظالم ہی ملا ہوتا، تم نے کن حیا و شرم و غیرت سے محروم حکمرانوں کےدور میں جنم لیا ہے، جن کے غیرت کے پیمانے سنگ دلی سے بنے ہیں، جو ڈالروں کے عوض عافیائیں بیچ دیتے ہیں،
حمیت نام تھا جس کا
گئی تیمور کے گھر سے
تم میرے نبی کے دور میں ہوتیں تو نازک آبگینوں کی مانند رکھی جاتیں، تم عمر فاروق کا دور پاتیں تو خلیفہ وقت تمہاری ضرورت کا سامان اپنی پیٹھ پر لاد کر خود پہنچتا،
مگر ہاں!
اللہ نے تمہیں اس آزمائش کے دور میں پیدا کیا ہے توتمہیں یہ حوصلہ بھی عطا کیا ہے،
تم پر بم برسے!
طوفانوں سے بچانے والی چھتیں تم ہی پر الٹا دی گئیں،
تمہارے بچے تم سے چھین لیے گئے،
تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہارے شوہروں کو کچلا اور باپوں کو مسلا گیا مگر تم حیا و حجاب کا پیکر بنی رہیں، تمہارا گرد الود عبایا بتا رہا ہے کہ چوٹ تمہیں بھی آئی ہے مگر حیا تمہاری شناخت ہے.
میری عزیز بہنو
غم نہ کرنا مگر دھوکا بھی نہ کھانا، یہاں تمہارے اردگرد کوئی تمہارا محافظ نہیں!
وہ تو نہیں جو بمباری کر رہے ہیں اور وہ بھی نہیں جن کو نشانہ بنایا جارہا ہے، اور نہ ہی وہ جنہوں نے امت کو تر نوالہ بنانے کے لیے اسے سعودی اور ایرانی کیمپوں میں بانٹ دیا ہے، اور تم جیسی معصوم بیٹیوں کی تصویریں ٹشو پیپرز کی طرح اپنی اپنی پرسیپشن منیجمنٹ کے لیے استعمال کرنے میں لگے ہوئے ہیں.
عزیز بہنو!
تمہارا مسیحا آئے گا، مخلص سچا ُسچا اور اصل مسیحا! مگر اب شاید زمین والے بانجھ ہو چکے ہیں، اب وہ مسیحا آسمان سے اترے گا، ان شاء اللہ جلد اترے گا، اسٹیج تیار ہے، حالات سازگار ہیں، آسمان والے کو تم جیسے زمین والوں پر رحم آتا ہے.
ہاں بس! اپنے عبایا سنبھالے رکھنا!
ان پر مظلومیت کی گرد پڑے تو پڑے، زمانے کی گرد پڑنے نہ دینا.
بس اب قریب ہے وہ
بس اب آنے کو ہے!
اے صبح کے غم خوارو
اس رات سے مت ڈرنا!

Comments

FB Login Required

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

Protected by WP Anti Spam