حج - زبیر منصوری

اکثر ہاتھوں میں کتابیں ہیں!دعاو ں مناجاتوں کی کتابیں !ان میں مسنون مستحب مباح اعمال کی باریکیاں ہیں یہ ایک دوسرے کی عبادات پر گہری اور تفصیلی اصلاحی نظریں گاڑےہوئے ہیں توجہ اور انہماک سے ہر دعا کا ہر لفظ اٹک اٹک کر ہڑھتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں ان میں سے اکثر نہیں جانتےابھی انہوں نے کیا لفظ پڑھا ؟انھیں کچھ خاص اعمال ایک طے شدہ ترتیب سے کرنے ہیں اور بس ۔انہیں نہیں معلوم کیوں ؟

کس نے اور کب یہ کئے تھے اگرکسی کو پتہ بھی ہو تو اسے اس کے پیچھے موجود جذبے کی اس شدت ،حدت اور تپش کا اندازہ نہیں جو اس کا محرک بنا تھا یہ لاکھوں کا ہجوم مومنان ہے جو بس روایات کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھاہے اور اللہ کو خوش کر لینا چاہتا ہے۔ یہ اتنی عظیم عبادت یہ حج ! یہ اسلام کی قوت اور جا ہ و جلال کی نشانی  یہ بندہ مومن کے دل کو رعب سے بھر دینے والا عمل  یہ حاضری کا احساس اس بات کا شدت سے ادراک کہ بلاوہ آیا ہے پیشی ہے نہ جانے محبوب کا مزاج کیا ہو ؟ نہ جانے کیا راز و نیاز ہو جائیں نہ جانے کون سی باتیں ہوں کیسے کیسے معاملات ہوں حج وہ عمل جو مریض عشق کو خاص استانہ عشق پہ بلا کر معشوق کی توجہ کا شرف فراہم کر تا ہے حج کہ جس کی لذت بس صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جو کبھی محبت کی مٹھاس کو حلق میں محسوس کرنے کے تجربہ سے گزرا ہو میٹھی شیریں محبت شہد میں ڈوبی مستیوں میں ڈبو دینے والی محبت وہ کیفیت جس سے انسان پھر کبھی نکل ہی نہیں پاتا نہ ہی شاید نکلنا چا ہتا ہے

حج ایسی ہی ہستی کے قریب بہت قریب بہت زیادہ قریب ہونے کا موقعہ ملنے کا نام ہے اس کا در پکڑ کر اس کی پیار بھری چادر میں چھپ کر اس کے غلاف سے چمٹ کر اس سے ہم کلام ہونے کا احساس ہے حج اپنے پیار کرنے والے رب کے سامنے بیٹھ کر یہ ثابت کرنے کا نام ہے کہ "والذیں امنو اشد حب للہ" بندہ مومن تو اللہ سے شدید ترین محبت میں گرفتار شخص کو کہتے ہیں ویسا ہی گرفتار محبت جس کی ایک معمولی سی مثال مجنون نے پیش کی کہ اسے اندازہ ہی نہیں ہوا کب وہ نمازی کے سامنے سے گزر گیا اس کا اپنے محبوب میں انہماک سب سے بے نیازی اور بس اسی کے خیالوں میں گم نہ ارام نہ کھانا پینا نہ خریداری نہ کچھ اور بس تو ہی تو بھلابتائیے حج بھی جاری ہو اور سیلفیاں بھی ،حج بھی جاری ہو اور دل کے بت خانے بھی اباد ،توپھر یہ حج اجر بڑھائے گا یا غصہ بھڑکائے گا؟

میں تو بس اتنا سمجھا ہوں کہ جو دل کا برتن بھر کر اللہ کی میٹھی محبت لے کر لوٹا وہ تو حاجی باقی جس کی جو نیت جو مراد وہ جانے اس کا اندر جانا اور اس کے اندر باہر کو جاننے والا جانے۔۔۔۔اے اللہ بس تب ہی بلایو جب کاسہء دل اپنی محبت سے لبریز کر کے دینے کا فیصلہ کر چکا ہو ورنہ رسمی رواجی عبادتوں کے لئے تو تیری زمین بہت وسیع ہے۔۔۔(صرف سر ٹکا لینے جھکا لینے اور چند دعائیں پڑ ھ لینے ہی کو "عبادت " جاننے والے بھائیوں سے تلخ نوائی پر معذرت)

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں