تاریخ حلب کے مظلوم شہریوں کی ہے- اوریا مقبول جان

تاریخ کے صفحات میں جھانکیے اور عبرت کے طور پر اس کا مطالعہ کیجیے تو آپ کو تاریخ میں مردود اور قابل نفرت کرداروں کا نام اور حدود اربعہ بہت کم ملے گا لیکن ان کی غداری‘ دھوکے اور کردار کی ذلت کی کہانیاں بہت تفصیل سے ملیں گی۔ امت مسلمہ کی تاریخ میں قابل ستائش اور قابل نفرت دونوں کرداروں کا تذکرہ ہے۔ ایسے دو کردار جو حق و باطل کے درمیان ہونے والی جنگ میں آمنے سامنے تھے۔ اسی کیفیت کو اقبال نے کیا خوب بیان کیا ہے
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی

معرکہ کربلا میں سیدنا امام حسینؓ کا نام ہر کسی کی زبان پر حق و صداقت کی علامت کے طور پر زندہ ہے اور ان کے مقابل یزید نے بھی چودہ سو سال نفرتیں سمیٹی ہیں۔ ایسے تمام کردار جو کربلا میں مقابلے پر آئے سب کے تذکرے موجود ہیں اور شہیدان کربلا کا ذکر بھی عقیدت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ لیکن تاریخ کس قدر خاموش ہے کوفہ کے ان ہزاروں انسانوں کے بارے میں‘ جنہوں نے حضرت امام حسینؓ کو خطوط لکھے اور کہا کہ آئیں آپ ہمارے امام ہیں‘ تشریف لائیں اور مسند امامت سنبھالیں۔ انھی کے سامنے مظلوم مسلم بن عقیل اور ان کے بیٹوں کو شہید کیا گیا۔ کیا یہ ہزاروں کوفی چھوٹے مجرم ہیں۔ ہرگز نہیں‘ یہ تو وہ بدترین اور تاریخ کے نفرت زدہ کردار ہیں جو واقعہ کربلا کا اصل سبب بنے۔ وہ لوگ جن کا نام لے کر سیدنا امام حسینؓ بار بار پکارتے رہے اور یاد دلاتے رہے کہ کیا تم نے مجھے خط لکھ کر نہیں بلایا تھا۔

سانحہ کربلا کے بعد خانوادہ رسولﷺ کے امین امام زین العابدین علی بن حسینؓ تھے‘ جنہوں نے اپنی زندگی عبادت و ریاضت اور گریہ و زاری میں گزار دی۔ ان کی دعاؤں کا مجموعہ ملت اسلامیہ کا وہ اثاثہ ہے جس کی کوئی نظیر نہیں۔ امت نے انھیں زین العابدین یعنی پرہیز گاروں کی زینت قرار دیا۔ اپنے دور کے حالات کے بارے میں فرماتے ہیں ’’ہمارے زمانے کے لوگ چھ قسم کے ہیں۔ شیر‘ بھیڑیا‘ لومڑ‘ کتا‘ خنزیر اور بکری۔ شیر وہ بادشاہ ہے کہ جسے چاہتا ہے اسے قابو کر لیتا ہے۔

بھیڑیے تاجر ہیں‘ جب چیز خریدتے ہیں تو اس کی برائی کرتے ہیں اور جب فروخت کرتے ہیں تو اس کی تعریف بیان کرتے ہیں۔ لومڑ وہ ہیں جو دین کے نام پر روٹی کھاتے ہیں اور اس کو شریعت کا نام دیتے ہیں۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں ان کے دل میں نہیں ہوتا۔ کتے وہ ہیں جو بد زبان ہیں اور کتے کی طرح لوگوں کو زبان سے کاٹتے ہیں اور لوگ ان کے شر کی وجہ سے ان کی عزت کرتے ہیں۔

خنزیر وہ ہیں‘ جو ہیجڑے ہیں یا ان سے مشابہ‘ ان کو بدی کی دعوت دی جائے تو وہ قبول کرتے ہیں۔ بکری سے مراد مومن ہیں جن کے بال نوچے جاتے ہیں‘ ان کا گوشت کھایا جاتا ہے اور ان کی ہڈیاں توڑی جاتی ہیں۔ بھلا شیر‘ بھیڑئیے‘ لومڑ‘ کتے اور خنزیر کے درمیان رہ کر بکری کیا کر سکتی ہے (الخصال۔شیخ صدوق) لیکن اسی ماحول کے پروردہ زین العابدین کے فرزند حضرت زید بن علی نے حق و صداقت کے لیے میدان میں اترنے کا ارادہ کیا۔

آپ ہجرت کر کے مدینہ سے کوفہ آئے جہاںان کا معتمد خاص منصور بن معتمر بالکل ویسے ہی موجود تھا جیسے حضرت امام حسینؓ کے سفیر حضرت مسلم بن عقیل موجود تھے۔ کوفے سے چالیس ہزار کے قریب لوگوں نے حضور بن معتمر کے ہاتھ پر حضرت زید بن علی کے لیے بیعت کی تھی۔ اس کیفیت کے بعد کتنے اہل ایمان تھے جنھیں امید بندھ چلی تھی کہ اب حق کا بول بالا ہو جائے گا۔

حضرت امام ابوحنیفہ نے فتویٰ دیتے ہوئے کہا تھا۔ ’’خروجہ بضاہی خروج رسول اللہﷺ یوم بدر‘‘ (زید کا اس وقت اٹھ کھڑے ہونا‘ رسول اللہ ﷺ کی بدر میں تشریف آوری کے مشابہ ہے۔ کوفہ کے یہ چالیس ہزار لوگ عین اس وقت ساتھ چھوڑ گئے کہ جب آپ میدان میں نکلے۔ بہانہ حیران کن تھا۔ حضرت زید بن علی سے پوچھا تمہارا حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے بارے میں کیا خیال ہے۔

حضرت زید نے جواب دیا ’’میں نے اپنے گھرانے میں خیر کے سوا ان کے بارے میں کچھ نہیں سنا‘‘۔ چالیس ہزار ساتھ چھوڑکر علیحدہ ہو گئے اور حضرت زید بن علی کے ساتھ اتنے ہی لوگ میدان میں نکلے جتنے رسول اللہﷺ کے ساتھ بدر میں تھے‘ یعنی تین سو تیرہ۔ کیا یہ کوفہ کے چالیس ہزار لوگ کم مجرم ہیں جنہوں نے زید بن علی کو بلایا‘ بیعت کی اور پھر ساتھ چھوڑ گئے اور زید اپنے ساتھیوں سمیت شہید کر دیے گئے۔ لیکن تاریخ میں ان غداران امت کے نام نہیں ملتے۔ البتہ ان کے جرم کی داستان کھول کھول کر بیان کی گئی۔

سقوط بغداد وہ سانحہ ہے جو امت مسلمہ کی تاریخ میں خون سے لکھا ہوا ہے۔ اسلامی تہذیب و تمدن کا گہوارہ بغداد کس طرح تاتاریوں کے ہاتھوں تاراج ہوا یہ بہت بڑا سانحہ ہے۔ لیکن شاید ہی لوگوں کو یاد ہو کہ ہلاکو کو بغداد پر حملے کی دعوت عباسی خلیفہ کے وزیر ابن علقمی نے دی تھی بلکہ اسے آمادہ کرنے کے لیے تمام جاسوسی کی اور اپنے ساتھیوں کے ذریعے مدد بھی فراہم کی۔

ابن علقمی اس سازش پر تھا کہ تاتاری ملت اسلامیہ کو روند ڈالیں گے لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جیسے ہی فتح حاصل کرتا ہوا تاتاریوں کا لشکر حلب کے شہر کو روندتا ہوا فلسطین پہنچا تو مصر کے ایوبی سلاطین کے نائبین مملوک ان کے مقابل پر آئے اور تاتاری لشکر کو ذلت آمیز شکست سے ہمکنار کیا۔ تاریخ کو ہلاکو بھی یاد ہے اور عباسی خلیفہ بھی لیکن ابن علقمی کا ذکر مختصر ہے اور اس کے غدار ساتھیوں کے تو کوئی نام تک نہیں جانتا۔
تاریخ ظالم کو نفرت کے طور پر زندہ رکھتی ہے اور مظلوم کو عزت و توقیر کے ساتھ لیکن غداروں کا بھی معمولی سا تذکرہ کر کے گزر جاتی ہے۔ سقوط بغداد کے بعد سقوط حلب بہت بڑا المیہ ہے۔ یوں تو بغداد کا دوسری بار سقوط امریکیوں کے ہاتھوں ہو چکا‘ لیکن چونکہ صدام حسین کو ایک طویل عرصے سے ظالم و جابر مشہور کردیا گیا تھا اس لیے سقوط بغداد پر اسقدر آنسو نہ بہائے گئے‘ جس قدر حلب کے سقوط پر بہائے جا رہے ہیں۔

عرب دنیا کے جن آمروں اور جابروں کا تذکرہ کیا جاتا ہے ان میں صدام حسین کے ساتھ شام کے حافظ الاسد اور اس کے بیٹے بشارالاسد کا بھی نام آتا ہے۔ گزشتہ چالیس سال سے شام کے عوام ظلم کی چکی میں پس رہے تھے۔ عرب دنیا میں انقلاب کی لہر اٹھی تو شام بھی جاگا۔ لیکن شام پر حکمران بشارالاسد کی حمایت میں ایران اور حزب اللہ کود پڑے۔ چار لاکھ شہید کر دیے گئے‘ 30لاکھ مہاجر بنا دیے گئے۔ لیکن حلب پر فتح کا نشان دور دور تک نہ تھا۔ حلب میں لوگ چار سال سے خوف کے سائے میں تھے پھر بھی بشار کی فوج ان تک نہ پہنچ پائی تھی۔ آخر وہی ہوا‘ تاتاریوں کی طرح روس کو حملے کی دعوت دی گئی کہ وہ حلب کو تاراج کر دے۔

اللہ کا کس قدر احسان ہے ان مظلوم شہدائے حلب پر کہ انھیں موت سے پہلے اس بات کا مکمل یقین ہو گیا کہ ان کے مارنے والے‘ ان پر بم برسانے والے‘ ان کا شہر تباہ کرنے والے اصل میں روس کے بمبار طیارے اور افواج تھیں۔ وہ روسی جو گزشتہ 75سال تک ملحد رہے اور اب عیسائی یا نصاریٰ ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کا ساتھ اس امت کے غداروں نے بھی دیا۔ اپنے بھائیوں کو قتل کرنے کے لیے راستہ دیا‘ ساتھ دیا۔
تاریخ فاتح روس کو بھی زندہ رکھے گی اور مظلوم حلب کے شہریوں کو بھی‘ شاید بشارالاسد بھی اپنے ظلم کی وجہ سے زندہ رہ جائے لیکن وہ جو روس کو وہاں قتل و غارت کے لیے بلا کر لائے ان کا نام شاید تاریخ ویسے ہی بھلا دے جیسے کوفہ کے غداروں کو بھلا دیا گیا لیکن ان کی غداری کو یاد رکھا گیا۔ تاریخ حلب کے مظلوم شہریوں کی ہے۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam