کیا میاں نواز شریف ناقابل تسخیر ہوچکے؟ محمد عامر خاکوانی

پچھلے چند دنوں سے مسلم لیگ ن کے حامی حلقے یہ بات شدومد سے دہراتے نظر آ رہے ہیں کہ اب میاں نواز شریف کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں، ملکی معاملات پر ان کی گرفت زیادہ مضبوط ہوچکی اور پچھلے تین برسوں میں جن جگہوں سے انہیں کچھ مسائل درپیش رہے، اب وہاں حالات یکسر تبدیل ہوگئے ہیں۔ جس روز عسکری کمان تبدیل ہوئی اور نئے چیف نے اپنی نئی ٹیم کا اعلان کیا، اس روز سوشل میڈیا پر دلچسپ سماں تھا۔ تحریک انصاف کے حامیوں میں صف ماتم بچھی تھی، مورال انتہائی نچلی سطح کو چھو رہا تھا اور ان کی پوسٹوں میں حزن وملال کے رنگ گھلے تھے۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کے متوالوں کی باچھیں کھلی پڑی تھیں، مسکراہٹیں ان کے چہروں اور پوسٹوں سے عیاں اور خود اعتمادی چھلک رہی تھی۔ اگلے روز ایک صحافی دوست نے میسج بھیجا، ” پی ٹی آئی کے دوستوں کو کہہ دیں کہ وہ اگلے انتخاب میں عبرت ناک شکست کے لیے تیار ہوجائیں، میاں صاحب کے لیے 2023ء تک حکمران رہنے کا راستہ ہموار ہوگیا اور اب سب ملک کو تیزی سے ترقی کے منازل طے کرتا دیکھیں گے۔“ کیا وا قعی ایسا ہی ہے اور جیسا کہ مسلم لیگی حلقے سوچ رہے ہیں، میاں نواز شریف ناقابل تسخیر ہوچکے ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماﺅں، کارکنوں اور ووٹرز کی رائے اس سے مختلف ہوسکتی ہے، انہیں اس کا پورا حق حاصل ہے، سیاست چلتی ہی خوش گمانی اور پرامیدی پر ہے۔ یہ بات البتہ انہیں بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کو دو تین ایسے بڑے ایڈوانٹیج حاصل ہوچکے ہیں، جن کے بعد تحریک انصاف کو میدان مارنے کے لیے معمول سے ہٹ کر کچھ غیرمعمولی کر دکھانا پڑے گا۔ اسلام آباد کے فسوں ساز اخبارنویس نے لکھا، نون لیگ کی عمر پوری ہوچکی، جو دلائل انہوں نے دیے، ان میں وزن ہے، سوال مگر یہ ہے کہ اس کی جگہ کون لے گا؟ جب تک دوسری کوئی جماعت بھرپور تیاری کے ساتھ متبادل کے طور پر نہیں ابھرتی، تب تک اپنی کمزوریوں اور خامیوں کے باوجود حکمران جماعت کو ہٹانا آسان نہیں۔ بھارت میں کانگریس اپنی تمام تر نالائقیوں اور بری کارکردگی کے باوجود اقتدار پر قابض رہی، جب تک بی جے پی متبادل کے طور پر نہیں ابھری۔ پہلے واجپائی جیسے تجربہ کار سیاستدان کی زیرقیادت، مختلف علاقوں میں اچھے جوڑتوڑ اور مقامی سطح کے اتحاد بنا کر کانگریس کو شکست دی۔ اس بار نریندر مودی کی طاقتور شخصیت، کارپوریٹ ورلڈ کی بھرپور سپورٹ، عوام کی نظریں چندھیا دینے والے پرکشش اقتصادی ایجنڈے کے بل بوتے پر بی جے پی نے میدان مار لیا۔ مودی کا جادو کارگر نہیں ہو پا رہا، بڑے کرنسی نوٹوں کو اچانک ختم کر کے انہوں نے جوا کھیلا، وہ ان کے گلے پڑتا نظر آ رہا ہے۔ اس کے باوجود کانگریس کی داخلی کمزوریاں اس قدر زیادہ ہیں کہ وہ قومی سطح پر بی جے پی کا متبادل نہیں بن پا رہی۔ ووٹر کے سامنے متبادل آنا ضروری ہے، تب ہی وہ اپنی رائے پر نظرثانی کرتا ہے۔ متبادل سیاسی قوت کمزور، ناقابل اعتماد اور منتشر خیالی سے دوچار ہو، تب معجزے رونما نہیں ہوسکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   اسٹیبلشمنٹ کا مخمصہ - محمد اشفاق

بات مسلم لیگ ن کو تحریک انصاف پر حاصل ایڈوانٹیج کی ہوئی تھی۔ تین چار پہلو ایسے ہیں، جن میں میاں صاحب کو اپنے حریف پر برتری حاصل ہے۔ مسلم لیگ ن نے پچھلے انتخابات میں دو تین وعدوں پر خاص طور سے زور دیا تھا۔ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ، معاشی ترقی اور بڑے ترقیاتی منصوبے۔ اقتدار سنبھالتے ہی اس نے سب سے زیادہ توجہ بجلی کے منصوبوں پر دی۔ ان سے کئی غلطیاں ہوئیں، نندی پور پراجیکٹ ایک بلنڈر ثابت ہوا، چولستان کا سولر منصوبہ اپنے نتائج میں توقعات سے بہت کم تر نکلا، نیلم جہلم پراجیکٹ جلدی مکمل نہ ہوسکا، کوئلے کے منصوبوں میں کئی مسائل در آئے، ایل این جی کے معاہدے پر شکوک ظاہر کیے جاتے ہیں۔ ان سب کے باوجود اگر انتخابات 2018ء میں ہوئے تو کئی ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوچکی ہوگی اور امکانات ہیں کہ الیکشن والے سال کا موسم گرما لوڈ شیڈنگ کے اعتبارسے بہت بہتر ہو۔ یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ اس وقت لاہور میں اورنج ٹرین دوڑتی نظر آئے گی، ملتان کا میٹرو بس پراجیکٹ مکمل ہوجائے گا اور کئی اور بڑے منصوبے بھی تکمیل کے مراحل طے کر لیں گے۔ ماہرین مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہیں کہ ان کی ترجیحات درست نہیں اور وہ سوشل سیکٹرجیسے صحت، تعلیم، صاف پانی وغیرہ پر زیادہ خرچ نہیں کر رہے۔ عام ووٹر ان باتوں کو زیادہ نہیں سمجھتا، چکاچوند والے بڑے منصوبے اس پر اثرانداز ہوجاتے ہیں۔ خاص کر سندھ حکومت کی بدترین کارکردگی اور خیبر پختون خوا میں غیرمعمولی تبدیلی نہ آنے سے پنجاب حکومت کی خرابیوں پر پردہ پڑجاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ چلو دوسروں سے تو بہتر ہے۔ کے پی کے میں تحریک انصاف اہم جوہری تبدیلیاں لا کر جوابی پرکشش ماڈل سامنے لا سکتی تھی۔ وجوہات جو بھی ہوں، یہ بہرحال حقیقت ہے کہ تحریک انصاف ایسا نہیں کر پائی۔ کچھ چیزیں بہتر ہوئی ہیں، مگر ایسا نہیں کہ خیبر پختونخوا کو مثالی صوبے کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ ایک سال باقی ہے، مگر کیا تحریک انصاف اس سے فائدہ اٹھا پائے گی؟ بظاہر توایسا نہیں لگتا۔

میاں نواز شریف کو ایک اور بڑا ایڈوانٹیج اپنے اتحادیوں کی صورت میں حاصل ہے۔ تحریک انصاف مسلم لیگ ن اور ان کی حلیف جماعتوں کو سٹیٹس کو کی علمبردار کہتی ہے یہ تنقید درست بھی ہو تو بھی بہرحال حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کو کے پی کے اور بلوچستان میں اہم قوم پرست جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ بلوچستان میں محمود اچکزئی کی ملی عوامی پارٹی، ڈاکٹر مالک بلوچ کی نیشنل پارٹی، کے پی کے میں اے این پی اور پھر جمعیت علمائے اسلام ف کی صورت میں میاں صاحب کو اہم اتحادی حاصل ہیں۔ سندھ میں فنکشنل لیگ کی انہیں حمایت حاصل ہے۔ اس طرح مسلم لیگ ن ایک زیادہ بڑا، کثیر الجماعتی اتحاد بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ اگلا الیکشن نوازشریف اور اینٹی نواز شریف ووٹ پر لڑا جائے گا۔ الیکشن جیتنے کا آسان نسخہ تحریک انصاف کے لیے یہی ہے کہ وہ اینٹی نواز شریف ووٹ اکٹھے کر لے، مگر اس کے لیے یہ ممکن نہیں۔ تحریک انصاف کی مجبوری یہ ہے کہ چونکہ اسے پورے سسٹم سے بیزاری ظاہرکرنا اور سٹیٹس کو کو نشانہ بنانا ہے، اس لیے وہ پیپلزپارٹی سمیت تمام روایتی جماعتوں پر ضرب لگانے کے لیے مجبور ہے۔ جس کانتیجہ سیاسی علیحدگی کی صورت میں نکلتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی اپنی فطری اتحادی جماعت اسلامی تک سے کوئی ملک گیر اتحاد بنانے کا نہیں سوچ رہی۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف کی وکالت سے پاکستان کی وکالت تک - اسماعیل احمد

میاں نوازشریف کو تیسرا ایڈوانٹیج یہ حاصل ہے کہ انہوں نے پاکستان سے باہر کے سٹیک ہولڈرز کے لیے بھی اپنی افادیت ثابت کر دی ہے۔ سی پیک کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام آباد میں بڑے میاں صاحب کی موجودگی ہر ایک کے لیے قابل اطمینان ہے۔ چینیوں کے لیے وہ قابل قبول ہیں کہ بلوچستان اور کے پی کے میں قوم پرستوں کے ساتھ معاملہ وہ آسانی سے طے کر سکتے ہیں۔ میاں صاحب اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کا ”تمغہ“ بھی حاصل کر چکے ہیں، بلوچستان میں جس کی خاص اہمیت ہے۔ ادھر عسکری تنظیموں، کالعدم جماعتوں کے حوالے سے میاں نواز شریف کا مؤقف زیادہ سخت ہے۔ اپنے پرانے اتحادیوں کو وہ خیرباد کہہ چکے ہیں۔ حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کو وہ اعلانیہ بوجھ قرار دے چکے ہیں۔ امریکی اور یورپی قوتوں کے لیے میاں صاحب زیادہ قابل بھروسہ ہیں، جو عسکریت پسندی، طالبانائزیشن کے خلاف اور بھارت کے ساتھ خوشگوار تجارتی تعلقات قائم کرنے کا حامی ہے۔

عمران خان بدقسمتی سے اپنے آپ کو ان تمام ایشوز پر سنجیدہ لیڈر ثابت نہیں کر سکے۔ فطری طور پر امریکہ، چین، ترکی اور دیگر اہم اتحادیوں سمیت کوئی بھی عمران کو اپنی پہلی ترجیح نہیں بنانا چاہے گا۔ مسلم لیگ ن کے حامی میڈیا نے بڑی عمدگی سے عمران خان کا ایک نہایت متلون مزاج، یوٹرن کنگ اور غیر سنجیدہ سیاستدان کا امیج بنا دیا ہے۔ مزے کی بات ہے کہ خان نے بھی اس امیج کو بدلنے کی کوئی زحمت نہیں کی۔

یسا ہرگز نہیں کہ میاں صاحب سیاسی اعتبار سے ناقابل تسخیر ہیں۔ پانامہ ایشو سے وہ ابھی باہر نہیں نکلے۔ ان کی اخلاقی ساکھ اس معاملے میں تباہ ہوگئی۔ قطری شہزادے کے خط سے ہر حلقے میں شریف خاندان کی بھد اڑی۔ ڈیمیج کنٹرول کی کوششیں ابھی کامیاب نہیں ہوسکیں۔ اس کے باوجود انہیں اپنے حریفوں پر سبقت حاصل ہے۔ سیاست میں معجزے برپا نہیں ہوتے، تخلیق کیے جاتے ہیں۔ عمران خان بھی ایسا کر سکتے ہیں، اس کے لیے مگر غیرمعمولی محنت، نئی حکمت عملی اور دانشمندانہ اپروچ اپنانا ہوگی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!