’’وہی حالات ہیں‘‘ – احسان کوہاٹی

’’اچھا! تو آپ ہیں سیلانی صاحب‘‘ سفید ریش بزرگ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے انگشت شہادت سے سرک کر ناک کی نوک پر آنے والی عینک آنکھوں کے قریب کی اور سیلانی کا بغور جائزہ لیتے ہوئے ساتھ والے صوفے پر آکر بیٹھ گئے. \r\n’’جی، جی السلام علیکم‘‘ سیلانی نے مصافحے کے لیے ان کا بڑھا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا، وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگے’’معاف کیجئے گا سیلانی صاحب! ہم تو سمجھے تھے کہ آپ لمبے چوڑے گورے چٹے بڑی بڑی داڑھی والے کوئی پٹھان ہوں گے لیکن آپ تو پٹھان کم بلوچ زیادہ معلوم ہوتے ہیں‘‘۔\r\n’’جی میں کیموفلاج ہوں‘‘ سیلانی کی اس بات پر وہ بےساختہ ہنس پڑے.\r\n’’تشریف رکھیں، اطمینان سے بیٹھ جائیں، ہم نے آپ کو بڑی اہم بات کے لیے بلایا ہے‘‘\r\n’’جی بڑی نوازش آپ کی‘‘\r\n’’ہمارا نام عبدالشکور ہے اور یہ جو آپ کو یہاں لائے ہیں، یہ ہمارے منجھلے صاحبزادے ہیں، ہم نے انہیں کب سے کہہ رکھا تھا کہ سیلانی صاحب سے ملواؤ، ہم بھی تو دیکھیں کہ موصوف کون ہیں جو دیکھتے چلے جاتے ہیں لیکن یہ ہمیشہ ٹال مٹول سے کام لیتے کہ وہ مصروف آدمی ہیں، کاہے کو آنے لگے، پھر ایسا ہوا کہ ہم نماز جمعہ کے لیے مسجد گئے تو راستے میں وہ سب کچھ دیکھا کہ جو نہیں دیکھنا چاہتے تھے، ہمارا تو دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر یوں مٹھی بند کرلی ہو، ہم نے ان سے کہا کہ آپ سیلانی سے نہیں ملواؤگے تو ہم خود چل پڑتے ہیں، ہماری یہ دھمکی کام کر گئی، ہم دراصل دل کے مریض ہیں، ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس عمر میں آپریشن ہو نہیں سکتا، بس جتنی سانسیں ہیں جی لیں‘‘۔\r\n’’اللہ آپ کو زندگی اور صحت دے، فرمائیے کیسے یاد کیا؟‘‘سیلانی سیدھا ہو کر بیٹھ گیا.\r\n’’عبدالصبور نے آپ کو کچھ دکھایا؟‘‘سیلانی نے عبدالصبور کی طرف دیکھا تو انہوں نے فورا کہا’’بس جاتے ہوئے دکھا دیں گے، وہاں دراصل روڈ کھدوا ہوا ہے ناں! اس لیے ہم وہاں جا نہیں سکے، ویسے ہم نے فوٹو بنا لیے ہیں، انہیں ابھی دکھا دیتے ہیں‘‘۔\r\n’’یہ بھی ٹھیک ہے، پہلے انہیں فوٹو دکھا دو اور ہاں کاکا سے چائے ناشتہ کا بھی کہا ہے کہ نہیں‘‘\r\nسیلانی نے فورا کہا ’’کسی تکلف کی ضرورت نہیں ہے، میں نے کھانا کچھ دیر پہلے ہی کھایا ہے‘‘\r\n’’ارے بھئی! چائے سے کون سا پیٹ بھرتا ہے، اچھا یہ دیکھیں‘‘ عبدالصبور نے اپنا سیل فون سامنے کر دیا، سیل فون کی اسکرین پر مختلف مقامات پر وال چاکنگ کی تصاویر تھیں، یہ وال چاکنگ رینجرز اور پاک فوج کے خلاف تھی، ایک جگہ ’’اپنی زمین اپنا اختیار‘‘ کا معنی خیز جملہ بھی لکھا ہوا دکھائی دے رہا تھا، ایک جگہ مقبوضہ کراچی نامنظورکا نعرہ بھی لکھا ہوا تھا، یہ درجن بھر سے زائد تصاویر تھیں، سیلانی نے تمام تصاویر دیکھیں اور سیل فون واپس کر دیا، وہ یہ تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھ چکا تھا۔\r\n’’سیلانی صاحب! خدا کا شکر ہے ویسے حالات تو نہیں ہیں لیکن حالات کو ویسا رخ ضرور دیا جا رہا ہے‘‘ عبدالشکور صاحب نے سیلانی کے چہرے پر نظریں جماتے ہوئے اپنی بات کا آغاز کیا اور کہنے لگے’’ہم بھی بانیان پاکستان کی اولاد میں سے ہیں، کسی نے پاکستان کے لیے ایک ہجرت کی ہوگی، ہم نے تو دو دو ہجرتیں کر رکھی ہیں. والد صاحب مرحوم نے کلکتہ سے فرید آباد مشرقی پاکستان ہجرت کی اور پھر دوسری ہجرت ہم نے اکہتر میں اس وقت کی جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش ہوا‘‘ یہ کہتے ہوئے عبدالشکور صاحب ذرا دیرکو رکے اور زخمی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگے۔ یہ کہنے کو ایک جملہ ہے، تین سیکنڈ ہی لگتے ہیں، لیکن کوئی ہم سے پوچھے کہ کیسے کلیجہ منہ کو آتا ہے‘‘۔\r\nعبدالشکور صاحب کے ان الفاظ نے سیلانی کو چونکا دیا، مشرقی پاکستان سیلانی کی دکھتی رگ ہے، اگر کسی نے سیلانی کو پہروں پاس بٹھانا ہو تو مشرقی پاکستان کے قصے شروع کر دیجیے اور پھر یہاں تواس سانحہ کو آنکھوں سے دیکھ رکھنے والی آنکھیں سامنے تھیں اور حسن اتفاق سے یہ سامنا بھی سقوط کے روز ہی ٹھہرا تھا، سیلانی نے اشتیاق سے ان کی جانب دیکھا اور کہا ’’آپ مشرقی پاکستان میں کتنا عرصہ رہے؟‘‘\r\n’’ہماری تو پیدائش ہی وہاں کی ہے، ہم انیس برس کے تھے جب سقوط ہوا، ہم نے سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھا ہے، ہم تو دودھ کے جلے ہیں چھاچھ پر بھی پھونکیں نہ ماریں تو کیا کریں، اب جو ہم نے شہر میں یہ نعرے دیکھے تو ہمیں ڈھاکہ، دیناج پور، فرید پور، نواکھالی کی وہ گلیاں یاد آگئیں جہاں اسی طرح کے نعروں سے نفرتوں کی شروعات ہوئی تھیں، آپ کو بلانے کا مقصد ہی یہی ہے کہ اس سلسلے کو یہیں روکنے کی سبیل کی جائے‘‘۔\r\n’’ان شاءاللہ ایسا نہیں ہوگا، یہ اکہتر نہیں ہے‘‘\r\nسیلانی کی اس بات پر انہوں نے عجیب انداز میں کہا ’’ہاں اکہتر تو نہیں ہے مگر اکہتر سے مختلف کیا ہے؟‘‘\r\n’’مطلب؟‘‘\r\n’’دیکھو بابو! عبدالشکور صاحب نے سیلانی کو خالص بہار کے میٹھے لہجے میں مخاطب کیا ’’پاکستان اس وقت بھی کمزور نہیں تھا، دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک تھا، حکمران کمزور اور بدطینت ضرور تھے. میں آج کے حکمرانوں کے بارے میں خوش گمان نہیں ہوں لیکن اب اور تب کا جب موازنہ کرتا ہوں تو دل بے اختیار پریشان ہوجاتا ہے، اس وقت ملک میں آج ہی کی طرح سیاسی انتشار تھا، ایک طرف عوامی لیگ کی ساری طاقت جمع تھی اور دوسری طرف پیپلزپارٹی تھی، یعنی یوں سمجھو کہ سیاسی بٹوارہ ہو گیا تھا کہ وہ تمہارا اور یہ ہمارا، آج بھی کچھ ملتی جلتی صورتحال ہے، دو ہی بڑی سیاسی قوتیں ہیں، ایک پیپلز پارٹی اور دوسری مسلم لیگ، ایک نے پنجاب پر اکتفا کر لیا ہے، اور دوسری نے سندھ کو کافی سمجھ رکھا ہے، سندھ میں مسلم لیگ کے پاس قومی اسمبلی کی ایک نشست بھی نہیں، اور سندھ اسمبلی میں برائے نام نمائندگی ہے، یہی صورتحال پنجاب میں پیپلز پارٹی کی ہے۔ رہ گیا بلوچستان تو وہ بےچارہ تین میں نہ تیرہ میں، کے پی کے کبھی ادھر جاتا ہے اور کبھی ادھر، لیکن ملک میں اصل طاقت کا منبع پنجاب اور اس کے بعد سندھ ہی ہے۔ ان حالات میں بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک اور یہاں کراچی میں یہ نفرت انگیز نعرے بڑے ہی معنی خیز ہیں، اس کا تدارک ہونا چاہیے‘‘۔\r\n’’عبدالشکور صاحب درد دل رکھنے والے سچے کھرے پاکستانی اور موجودہ حالات سے دلبرداشتہ دکھائی دیتے تھے، کافی دیر تک باتیں کرتے رہے، سیلانی نے نوٹ کیا کہ وہ مشرقی پاکستان کے ذکر پر زیادہ نہیں بولتے، بس ہوں ہاں کر دیتے ہیں. آخر کار سیلانی نے ان سے پوچھ ہی لیا، \r\n’’آپ مشرقی پاکستان کے ذکر پر چپ سے ہوجاتے ہیں‘‘۔\r\n’’تکلیف ہوتی ہے بیٹا، دیناج پور کے روشن دن یاد آجاتے ہیں، ڈھاکہ یونی ورسٹی کے پیچھے کی وہ بستی یاد آجاتی ہے جہاں ہم جا جا کر کھیلا کرتے تھے‘‘۔\r\n ’’آپ مشرقی پاکستان میں کہاں رہتے تھے؟ کچھ وہاں کے بارے میں بتائیں ناں‘‘\r\n’’میری پیدائش تو راج شاہی کی ہے، وہاں سے ہم پھر دیناج پور اور پھر ڈھاکہ آگئے تھے۔ ہمارا گھر ڈھاکہ یونی ورسٹی سے قریب ہی تھا، ہم شام کو پیروں میں دو پٹی کی چپل ڈالے وہاں پہنچ جاتے تھے، وہاں میرے دوست مشرف الاسلام، صدیق الاکبر، ہارون رشید رہتے تھے، ان کے والد یونی ورسٹی ہی میں ملازم تھے، ہم شام کو وہاں کھیلتے تھے اور کراچی کی باتیں کرتے تھے، اس وقت کراچی کا بڑا نام ہوا کرتا تھا، ہم سنتے تھے کہ کراچی میں رات کو بڑی بڑی لائٹس جلتی ہیں، سڑکوں پر خوب موٹرکاریں اور ٹرام چلتی ہیں، مجھے فوٹو گرافی کا شوق تھا تو میں انہیں اپنے انکل کے جھوٹے سچے قصے سناتا اور ڈینگیں مارتا تھا کہ وہ کراچی میں بڑے فوٹو گرافر ہیں، شہر کے سارے بڑے افسر اور سیٹھ لوگ ان سے ہی فوٹو کھنچوانے آتے ہیں، اور میرے یہ دوست مجھ سے کہتے تھے کہ جب ہم بڑے ہوجائیں گے تو ہمیں کراچی لے کر جانا، مشرف کو پہاڑ دیکھنے کا بہت شوق تھا‘‘۔\r\n’’ایک بات تو بتائیں کہ بنگالی پاکستان سے نفرت کیوں کرنے لگے، علیحدگی کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا؟‘‘۔\r\n’’نہ نہ نہ بنگالی پاکستان کا خالق تھا، وہ پاکستان سے کیسے نفرت کرتا، یہ تو ہمارے سیاستدان تھے، ہمارے لیڈر تھے، اس وقت کی قیادت تھی جس نے انہیں ہم سے بدظن کیا، پے در پے ایسے اقدامات کیے کہ وہ ہم سے دور اور بھارت سے قریب ہوتے چلے گئے، پھر تعصب کی آندھی بڑی زوردار ہوتی ہے، وہاں تعصب کی آندھیاں چلنے لگی تھیں، مسلم لیگ کی بنیاد وہاں رکھی گئی تھی، انہوں نے مغربی پاکستان سے دور ہونے کے باوجود کلمے کی بنیاد پر قائداعظم کے پاکستان کومنتخب کیا تھا، اور پاکستان ان کی چوائس تھا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہم نے بنگالی بھائیوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں رکھا، ان سے ہمارا رویہ بڑا ہی عجیب تھا، بالکل جیسے آج کل بنگالی بولنے والے پاکستانیوں کے ساتھ ہے، آپ خود بتاؤ، آج لفظ بنگالی کتنا معزز اور معتبر ہے۔ تو ایک وجہ مغربی پاکستان والوں کا ہتک آمیز رویہ تھا. دوسرا وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، اس سے بھارت کو کھل کھیلنے کا موقع مل گیا، اس نے بنگلہ عصبیت کو خوب بڑھاوا دیا اور پھر ایک کے بعد ایک سازش، مکتی باہنی نے تو پاک فوج کو عاجز کر کے رکھ دیا تھا، فوج ان سے لڑتی یا بارڈر پر دفاع کرتی، خیر یہ تو وہ باتیں ہیں جو آپ اس وقت کے کسی فوجی افسر سے پوچھو تو بہتر بتائے گا، میں تو عام سا نوجوان تھا جو کچھ گلیوں چوراہوں پر ہو رہا تھا وہی بتا سکتا ہوں، اور میں نے دیکھا کہ بنگالیوں کی بڑی تعداد نے آنکھیں پھیر لی تھیں، اور یہ بھی درست تھا کہ پاکستان کا ساتھ دینے والے بھی کم نہ تھے، لیکن ان سے بہرحال کم تھے. میرے جگری دوست معین السلام کا بڑا بھائی خود مکتی باہنی میں چلا گیا تھا، وہ بھارت سے تربیت لے کر آیا تھا، معین السلام مجھے بتاتا تھا کہ اس کے بھائی کو انڈین آرمی نے ٹریننگ دی ہے اور وہ اسٹین گن چلا لیتا ہے‘‘۔\r\n’’مکتی باہنی کے مقابلے میں البدر اور الشمس بھی تو بنائی گئی تھیں.‘‘\r\nسیلانی کی بات پر عبدالشکور صاحب نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہا ’’ہاں! یہ قربانی کے بکرے تھے جنہیں وقت پڑنے پر ذبح کر دیا گیا۔ یہ وہ بنگالی نوجوان تھے جو رضاکارانہ طور پر پاک فوج کی مدد کے لیے آگے آئے، یہ مکتی باہنی سے دو بدو لڑے، پاک فوج کی راہنمائی کی اور پھر جب ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ ہوا تو ان کی باری آگئی. مکتی باہنی والوں نے انہیں چن چن کر مارا، انہیں ہی کیا جتنے بھی غیر بنگالی تھے، ان کا بڑے پیمانے پر قتل عام ہوا، چن چن کر بہاریوں کو مارا گیا. وہاں غیر بنگالیوں، بہاریوں اور پنجابیوں کا بڑا ہی بےدردانہ قتل عام ہوا. یہ صحیح ہے کہ اس لڑائی میں بنگالی بھی مرے، ان کے ساتھ بھی زیادتیاں ہوئیں، ان کے گھر بھی جلائے گئے، طاقت کا اندھا استعمال ہوا، ان کی عورتوں کی عصمت دری کی گئی لیکن غیر بنگالیوں کی بھی بڑی کاٹ پیٹ ہوئی، عجیب وحشت اور دہشت کا کھیل تھا جو کھیلا گیا، ہم اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ سقوط سے دو ماہ پہلے ہی کراچی آگئے لیکن میرے چچا اور دو ماموں وہاں تھے جن کا کچھ پتہ نہ چلا، چچا کی پانچ ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی، ان کی مسز بھی لاپتہ ہو گئیں، یقینا شہید ہو گئے ہوں گے، زندہ ہوتے تو بعد میں رابطہ کر ہی لیتے‘‘۔\r\nسیلانی عبدالشکور صاحب کے پاس لگ بھگ ڈیڑھ دو گھنٹہ بیٹھا رہا، انہیں کرید کرید کر ڈھاکہ، دیناج پور، سلہٹ کی باتیں پوچھتا رہا. وہ افسردہ لہجے میں بتاتے رہے اور آخر میں کہنے لگے’’ایک بات سچ ہے کہ ہم پکے کاغذ پر لکھے ہوئے بےوفا لوگ ہیں، اکہتر میں جو لٹے پٹے بہاری زندہ بچ گئے تھے، انہیں آج پینتالیس برسوں بعد بھی ہم نے اپنے وطن میں آنے نہیں دیا، وہاں اب ان کی اتنی نسلیں پیدا ہوچکی ہیں کہ انہیں اب اردو زبان تک نہیں آتی۔ انہیں چھوڑیں جن البدر و الشمس والوں کو حسینہ واجد نے پکڑ پکڑ کر پاکستان سے محبت کے جرم میں پھانسیاں دیں تو آپ نے ان کے لیے کیا کیا؟‘‘۔\r\nعبدالشکور صاحب کا گلہ وہی تھا جو تمام سچے پاکستانیوں کا ہے، کچے کے علاقوں میں چھوٹو گینگ کے خاتمے پر ’’راولپنڈی‘‘ سے شاباشی کا تحسین نامہ میڈیا کو جاری ہو جاتا ہے، کرکٹ میچ جیتنے پر شاباشی دے دی جاتی ہے لیکن جن لوگوں نے اکہتر میں افواج پاکستان کے ساتھ پاکستان کا دفاع کا ’’جرم‘‘ کیا تھا، ان کے لیے ہماری انگلیاں کسی کاغذ پر چند الفاظ لکھ سکتی ہیں نہ ہماری زبانوں سے کچھ نکلتا ہے، اور آج کے حالات بتاتے ہیں کہ ہم نے کل بھی اس سانحے سے کچھ سیکھا تھا نہ آج سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، کل محرومیوں ناانصافیوں کا ڈھول پیٹ کر بھارت نے پاکستان کا بازو کاٹ ڈالا تھا، آج بلوچستان میں انھی محرومیوں کا ڈیرہ ہے، ساری خوشحالیاں ملک کے ایک حصے میں سمٹ کر رہ گئی ہیں، اور کراچی میں مصلحتیں نفرتوں کی آبیاری کر رہی ہیں. عدلیہ کے بارے میں کیا کہیں کہ اس کے ججوں کو انصاف سے زیادہ جاڑے کی چھٹیاں عزیز ہیں، ادارے تباہی کے دہانے پر ہیں، رشوت زمینی حقیقت بن چکی ہے، غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے، مظلوم کے لیے آسمان دور اور زمین تنگ ہے، پاکستان صرف چند خاندانوں کے لیے خوشحال ہے۔ سیلانی نے ٹھنڈی سانس لی اور عبدالصبور کے ہاتھ سے سیل فون لے کر نفرت انگیز نعروں کی وال چاکنگ دیکھنے لگا اور دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam