ارض شام، ایک تاریخی پس منظر - حامد کمال الدین

تاریخ میں جس خطے کو ’بلادِ شام‘ کہا جاتا ہے، اس کے چار اقلیم ہیں، حالیہ سیریا، فلسطین، لبنان اور اردن، جوکہ اس وقت چار الگ الگ ملک ہیں۔

خطۂ شام صرف قدیم نبوتوں اور صحیفوں کے حوالے سے نہیں، احادیث نبوی کے اندر بھی ایک قابل تعظیم خطہ کے طور پر مذکور ہوتا ہے اور محدثین نے رسول اللہ ﷺ سے ثبوت کے ساتھ ’شام‘ کے لاتعداد مناقب روایت کیے ہیں۔ یہاں تک کہ کئی اہل علم نے آیات اور مستند احادیث پر مشتمل، سرزمین شام کی فضیلت پر باقاعدہ تصانیف چھوڑی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا بخاری میں مروی ہے:
اللہم بارک لنا فی شامنا (صحیح بخاری حدیث رقم: 990 )

”اے اللہ! ہمارے شام میں برکت فرما“۔

مزید برآں کئی احادیث سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ خطۂ شام طائفۂ منصورہ کا مسکن بنا رہے گا، مثلا حدیث:
لایزال أھل الغرب ظاھرین علی الحق حتی تقوم الساعۃ (صحیح مسلم حدیث رقم 5067)
”شام کی جہت والے لوگ بالاتر رہیں گے، حق پر رہتے ہوئے، یہاں تک کہ قیامت آجائے“۔

یہاں تک کہ آپ ﷺ کا یہ فرما دینا:
اِذا فسد أھل الشام فلا خیر فیکم، لا تزال طائفۃ من أمتی منصورین لا یضرہم من خذلہم حتیٰ تقوم الساعۃ (مسند احمد حدیث رقم 15635، عن معاویۃ بن قرۃ) (2)
”جب اہل شام فساد کا شکار ہوجائیں تو پھر تم میں کوئی خیر نہیں۔ میری امت میں سے ایک طبقہ نصرت مند رہے گا، جو لوگ ان کو بے یار ومددگار چھوڑیں گے وہ ان کا کچھ نہ بگاڑ پائیں گے، یہاں تک کہ قیامت آجائے“۔

اسی طرح کے نبوی اخبار و آثار کے پیش نظر صحابہ کی بہت بڑی تعداد خاص شام کو مسکن بنا کر رہی اور شام و مابعد خطوں میں جہاد کرنا صحابہ کو سب سے زیادہ مرغوب تھا۔ مدینہ یا عمومی طور پر جزیرۂ عرب کے بعد اگر کوئی خطہ ہے جس کو یہ شرف حاصل ہو کہ وہاں اصحابِ رسول اللہ کی سب سے بڑی تعداد دفن ہے تو وہ بلاد شام ہی ہے۔ پس یہاں جگہ جگہ انبیاء مدفون ہیں، جوکہ مخلوق میں برگزیدہ ترین ہیں اور یا پھر خاتم المرسلین کے اصحابؓ جوکہ انبیاء کے بعد برگزیدہ ترین ہیں۔ اور جہاں تک تابعین و ما بعد ادوار کے اولیاء وصلحاء، آئمۂ وعلماء، شہداء اور مجاہدین، قائدین اور سلاطین اور عجوبۂ روزگار مسلم شخصیات کا تعلق ہے، تو خطۂ شام کے حوالے سے وہ تو شمار سے باہر ہے۔ یوں سمجھیے کہ شام ہمیشہ ہیروں موتیوں سے بھرا رہا ہے!

کئی ایک نصوص کی رو سے شام ہی ارض محشر ہے۔ شام کا ایک تاریخی حوالہ اہل اسلام کے ہاں ’ارضِ رِباط‘ رہا ہے.

اسلامی فتوحات سے پہلے دراصل شام ہی دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کا پایۂ تخت رہا ہے۔ یہیں سے بیٹھ کر رومن سیزر ایشیا، یورپ اور افریقہ کے ایک بڑے خطے پر قائم اپنی ایمپائر کا انتظام و انصرام کرتا تھا، جو کہ اس جگہ کی جغرافیائی اہمیت کی ایک واضح دلیل ہے۔ رومن طنطنہ و جبر کا سکہ کوئی چوتھائی دنیا پر یہیں سے چلایا جا رہا تھا۔ اسلام کے شیر جزیرۂ عرب سے نکلے تو مغربی سمت سب سے پہلا ہلہ ظلم کے اسی راج گھاٹ پر بولا گیا۔ چنانچہ بیرونی فتوحات میں انبیاء کی یہ سرزمین اہل اسلام کے لیے پہلا خدائی تحفہ تھا۔ ابو عبیدہ بن الجراحؓ کی مجاہد سپاہ کے ہاتھوں یرموک کی فیصلہ کن شکست کے بعد سیزر ہریکولیس اپنا یہ تاریخی جملہ کہتا ہوا رخصت ہوا ’سلام اے ارض شام، جس کے بعد کبھی ملنا نہیں‘، اور اس کے ساتھ ہی یہ خطہ اذانوں کی گونج میں عدل فارقی کا نظارہ کرنے لگا!

شام کا مسلم افواج کے ہاتھوں میں آنا تھا کہ ایشیا اور افریقہ میں پھر رومنز کے باقی مقبوضات پکے پھل کی طرح ایک ایک کر کے عمر فاروقؓ کی جھولی میں گرنے لگے، اور تکبیروں کی گونج میں مغرب کی جانب پیش قدمی کرتی ہوئی مسلم افواج مصر سے بڑھتی ہوئی افریقہ کے ایک بڑے علاقے تک صبح صادق کی طرح پھیل گئیں۔ بلکہ کچھ ہی دیر بعد بحر ابیض کے ساحلوں پہ بڑھتی ہوئی پورے شمالی افریقہ پر حاوی ہوگئیں، یہاں تک کہ قیروان، مراکش سے اِدھر کہیں رکنے کا نام نہ لیا، جہاں شمال کی جانب بحر ابیض کے دوسرے پار اندلس (یورپ) رہ جاتا تھا تو مغرب کی جانب خشکی ختم، بحر اوقیانوس Atlantic Ocean شروع ہوجاتا تھا، جس کی بابت اُس وقت کے لوگوں کا خیال تھا کہ دنیا یہاں پر ختم ہوجاتی ہے!

اس سے کوئی دو عشرے بعد یہیں شام سے بیٹھ کر امیر معاویہؓ نے بحر ابیض کو، جس کا دوسرا نام کسی وقت ’بحرِ روم‘ ہوا کرتا تھا، اسلام کے بحری بیڑوں کی آماج گاہ بنا دیا اور قبرص اور سلسلی ایسے اسٹریٹجک جزیروں کو زیر نگین کرتے ہوئے سیزر کے پایۂ تخت قسطنطنیہ پر چڑھائی کے لیے موحدین کے لشکر روانہ کیے۔ چند عشرے بعد یہیں سے بیٹھ کر خلیفہ ولید بن عبد الملک اندلس کا خراج وصول کرنے لگا۔ چنانچہ مغرب کی جانب ہونے والی تمام تر اسلامی توسیع کے لیے ارض شام ایک گیٹ وے بنا رہا۔

اس کے بعد کوئی تین صدی تک رومنوں کی بائزنٹینی ایمپائر کے ساتھ عباسی خلفاء اور بعد ازاں کچھ علاقائی امارتوں کی مسلسل جنگ رہی تو اس کا بیس کیمپ بڑی حد تک شام ہی رہا۔ اس لحاظ سے، شام مجاہدین سے کبھی خالی نہ رہا۔ اسلام کے دور عروج میں بھی شہادت کے متلاشی صدیوں تک اسی جگہ کو اپنا مستقر بناتے رہے۔ پھر جب مسلم قوت کے کمزور پڑجانے کے بعد صلیبی یلغاریں شروع ہوئیں تو یہی خطہ جو کبھی بندگانِ صلیب پر عرصۂ حیات تنگ کر کے رہا تھا، اب ان کی دست درازی کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا ہدف تھا۔ پانچویں صدی ہجری میں بیت المقدس اور فلسطین کا ایک بڑاحصہ مسلمانوں کے ہاتھ سے جاتا رہا اور بقیہ شام لینے کے لیے صلیبی افواج ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھیں، جس کے بعد ان صلیبی قوتوں کا اگلا ہدف یہ تھا کہ عالم اسلام کے دیگر خطے بھی تاراج کر دیں، بلکہ ان کا ایک بدبخت رینالڈ ڈی شاتیلون، جو کہ کرک کا صلیبی بادشاہ تھا، اور مصر سے آنے والے حجاج کے قافلے لوٹنے کے لیے بہت آگے تک جایا کرتا تھا، علی الاعلان بکتا تھا کہ وہ مدینہ پہنچ کر پیغمبرِ اسلام کی قبر اکھاڑنے سے کم کسی بات پر رکنے والا نہیں۔ یہی وہ خبیث النفس تھا جس کی بابت صلاح الدین ایوبی نے قسم کھا کر نذر مانی تھی کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے جہنم رسید کرے گا۔ چنانچہ اب ایک بار پھر، پوری عیسائی دنیا کے مدمقابل پورے عالم اسلام کی جنگ یہیں پہ مورچہ زن ہو کر لڑی جانے لگی۔ چھٹی صدی ہجری میں عماد الدین، نور الدین اور پھر صلاح الدین کے گھوڑے اسی ارض شام میں دوڑائے گئے کہ بالآخر اللہ نے بیت المقدس مسلمانوں کو واپس دیا۔ حطین کا وہ تاریخی میدان فلسطین ہی میں واقع ہے جہاں پر صلاح الدین کی مجاہد سپاہ نے عالم صلیب کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی اور جس میں سات صلیبی بادشاہ قید کر کے صلاح الدین کی سرکار میں پیش کیے گئے تھے۔ صلاح الدین کی جانب سے رینالڈ کہ گستاخِ رسول اور آخری درجے کا بدعہد تھا کو چھوڑ کر باقی چھ کی جان بخشی کر دی گئی تھی۔ ’حطین‘ درحقیقت سات عشرے سے مسلسل جاری جہادی عمل کا نقطۂ عروج تھا۔ مگر اس کے بعد بھی کوئی دو سو سال تک ایوبی سلاطین اور پھر ممالیک، صلیبی حملوں کے مدمقابل یہیں پر معرکہ آرا رہے اور امت کے لیے خدائی نصرت کا ذریعہ بنتے رہے۔ چنانچہ شام خصوصاً فلسطین کے علاوہ شاید ہی کوئی خطہ ہو جس کو اتنی صدیاں اس تسلسل اور اس شدت کے ساتھ ’ارضِ رِباط‘ بنا رہنے کا شرف حاصل رہا ہو، اور وہ بھی امت کے ایک نہایت فیصلہ کن محاذ کے طور پر۔

یہاں تک کہ ساتویں صدی ہجری میں جب تاتاریوں کا سیلاب قریب قریب پورے عالم اسلام کو غرقاب کر چکا تھا، اور بغداد کے دارِ خلافت کو تہس نہس کر چکا تھا تو صرف شام کا کچھ خطہ اور مصر باقی رہ گیا تھا جو ابھی تک مسلم قلمرو کا حصہ تھے۔ تاتاریوں کی وحشی یلغار کے سامنے ’ممالیک‘ اب عالم اسلام کی آخری امید رہ گئے تھے۔ تب سلطان العلماء عز الدین بن عبد السلامؒ کے زیر تحریک، مملوک سلطان سیف الدین مظفر قطز کی قیادت میں مصر سے اسلام کا ایک لشکر اٹھتا ہے اور ہلاکو کے نائب کتبغا کے زیرقیادت شام میں پیش قدمی کرتی ہوئی تاتاری افواج سے مقابلہ کے لیے فلسطین کے تاریخی مقام ’عین جالوت‘ کا انتخاب کرتا ہے۔ معرکۂ عین جالوت کے نتیجہ میں پہلی بار مسلم دنیا ’اہل اسلام کے ہاتھوں تاتاریوں کو شکست فاش‘ ہونے کی خبر سنتی ہے، ورنہ تاحال تاتاریوں کے لیے ’شکست‘ کا لفظ سننے کی حسرت تک مسلم دلوں میں کبھی پوری نہ ہو پائی تھی۔ معرکۂ عین جالوت کی بابت ہی سلطان قطز کا یہ تاریخی نعرہ مشہور ہے ’وا اسلاماہ‘ کہ ’ہائے، اسلام گیا!‘۔ اسی معرکہ کی بابت، جوکہ رمضان میں جمعۃ المبارک کے روز ہوا، اور جس کا نتیجہ جاننے کے انتظار میں پورا عالم اسلام دم سادھ کر بیٹھا تھا، مشہور ہے کہ سلطان نے نماز جمعہ کے وقت تک معرکہ شروع نہ ہونے دیا، جس سے اس کا مقصد یہ تھا کہ عالم اسلام میں شرق تا غرب مسجدیں لشکر اسلام کی نصرت کے لیے دعاگو ہوجائیں تو معرکہ تب شروع ہو!

اس سے چند عشرے بعد قازان کی قیادت میں تاتاری سیلاب کا ایک اور زوردار ریلہ شام کا رخ کرتا ہے اور شقحب کے مشہور معرکہ میں مسلم افواج کے ہاتھوں منہ کی کھا کر لوٹتا ہے۔ اس معرکۂ شقحب کے روحِ رواں شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ہوتے ہیں!

یوں بلا مبالغہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ شام اور خصوصا فلسطین وہ ارضِ رباط ہے جہاں تاریخ اسلام کے پر آشوب ترین دور میں، ایک صدی کے اندر اندر، عالم اسلام پر چڑھ آنے والی دو بدترین کافر افواج کے گھٹنے لگے؛ ایک یورپ کے قلب سے اٹھنے والا صلیبی طوفان اور دوسرا صحرائے گوبی سے اٹھنے والا تاتاری ٹڈی دل۔ دونوں ’جہادِ شام‘ کی چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہوئے اور یوں یہی خطہ پورے عالم اسلام میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑا دینے کا منبع بنا!

تاریخ اگر اپنا آپ دہراتی ہے تو کیا معرکۂ کفر و اسلام کا حالیہ ڈراپ سین بھی کہیں ارضِ فلسطین میں تو نہیں ہونے والا؟ تاریخ انسانی کے دو نہایت عظیم شر، صیہونیت اور صلیبیت جو عالم اسلام کے خلاف صدیوں کا بغض پال کر ایک خاص تیاری اور خاص ایجنڈے کے ساتھ اس بار آئے ہیں. اس عالمی مملکتِ کفر کے خاتمہ کے سلسلہ میں کیا یہی ’ارضِ رباط‘ پھر سے کسی خدائی تدبیر کے ظہور میں آنے کے لیے ”میدان“ بننے والی تو نہیں، بلکہ بن نہیں چکی!؟ جس کے نتیجہ میں قدسیوں کی لازوال مملکت، ایک وقتی تعطل کے بعد، ہر بار کی طرح ایک بار پھر اپنی تاریخی شان و شوکت کے ساتھ بحال ہوجائے اور صدیوں تک کے لیے اسلام کے قلعے یہاں پھر سے ناقابلِ تسخیر ہو جائیں؟!