کیا بشارالاسد ملک شام کا قانونی حکمران ہے؟ وسیم گل

بشار الاسد کے والد کا نام حافظ الاسد تھا، جو شام کے ایک غریب نصیری گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد شامی ائیر فورس میں شمولیت اختیار کی۔ آرمی چیف صلاح جدید نے ملک کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا تو حافظ الاسد اس بغاوت کا حصہ تھا۔ کچھ عرصے بعد حافظ الاسد نے صلاح جدید کا بھی تختہ الٹ دیا اور بطور ڈکٹیٹر ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا۔ اس نے ملک میں اپنے دورکے مشہور سیکولرازم برانڈ یعنی سوشلزم کی ترویج کی اور پوری قوم پر زبردستی سیکیولر اقدار مسلط کیں۔ تاہم شام کی 95 فیصد مسلمان آبادی کی عظیم اکثریت نے ان اقدار کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔\r\n\r\nحافظ الاسد نے چونکہ ایک ایسی مضبوط فوج اور خفیہ ایجنسی بنا رکھی تھی، جو ہر شہری کی نقل و حرکت پر نظر رکھتی تھی، لہذا اگر کسی کے بارے میں معمولی سا بھی شک پڑتا کہ وہ باعمل مسلمان ہے، تو پھر ایسے شخص کی زندگی ایک عذاب بنا دی جاتی۔ اسد کی جیلیں باعمل مسلمانوں سے ہمیشہ بھری رہتیں۔ مسلمانوں کے قتل عام کے کئی واقعات ہوئے لیکن سخت سنسر کے سبب دنیا بروقت ان کے بارے میں نہ جان سکی۔ اس سلسلے کا سب سے بھیانک قتل عام شام کے شہر حما میں 1982\0ء میں برپا کیا گیا، جب شہر کو گھیر کر ایک لاکھ مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا۔ پچاس ہزار مسلمان شہید کر دیے گئے، جبکہ کم و بیش اتنے ہی جیلوں میں ڈال دیے گئے۔ عورتوں کی بے حرمتی کی گئی، انہیں برہنہ کر کے ٹرکوں میں سوار کروا کر دوسرے شہروں میں گھمایا گیا، اور پھر مار دیا گیا، کچھ کی آنکھیں نکال دی گئیں اور زندگی بھر کے لیے معذور بنا کر چھوڑ دیا گیا۔\r\nسن 2000ء میں حافظ الاسد نے مرنے سے قبل ہی اپنے بیٹے بشار الاسد کو حکمران بنا دیا۔\r\n\r\nچونکہ یہ نصیری ہیں، جو علی رض کو اللہ مانتے ہیں، تو شامی عوام پر انہوں نے ہمیشہ سے زندگی تنگ ہی رکھی ہے۔ اس خاندان کو ایران، عراق، لبنان اور دیگر ممالک کے اہل تشیع کی مکمل حمایت حاصل رہی ہے۔ اس کے علاوہ فرانس اور روس اس خاندان کے پشت پناہ ہیں۔\r\nشامی عوام نے ہمیشہ کوشش کی کہ انہیں بھی انسانی حقوق میسر ہوں اور ریاستی معاملات میں شریک کیا جائے لیکن اپنے والد کی طرح بشار بھی کسی بھی صورت عوام کو ان کا حق اقتدار دینے کو تیار نہیں۔\r\n\r\nدوست خود سمجھ سکتے ہیں کہ کیا بشار الاسد ملک شام کا قانونی حکمران ہے؟

وسیم گل

وسیم گل چین میں شعبہ اتصالات سے وابستہ ہیں اور ایریکسن کمپنی کی مختلف اسائنمنٹس کے سلسلے میں دنیا کے مختلف ممالک میں خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam