حلب، چند سوالات – آصف محمود

حلب میں ننھے وجود خزاں کے پتوں کی طرح بکھرے پڑے ہیں۔ کچھ تو ایسے ہیں جیسے ٹہنی پہ تازہ گلاب رکھے ہوں، ان کے کٹے وجود بتا رہے ہیں کہ ماں کے دودھ کی مہک شاید ابھی ان کے ہونٹوں سے جدا نہ ہوئی ہو۔ یہ مرنے کی عمر تو نہ تھی، یہ تو کھیلنے کے دن تھے۔ ان کی تصاویر دیکھتا ہوں اور آنکھوں میں روٹھے ساون بھی لوٹ آتے ہیں۔ یہ کسی آنگن کے معصوم قہقہے تھے جو جل کر راکھ ہو گئے۔ جستجو ہو تو کوئی اس راکھ کو کرید کے دیکھے، ایک ہی صدا آ رہی ہے: اے ایران کے عالی مرتبت آیت اللہ صاحبان! اے سعودی عرب کے صاحبان قدر و منزلت ! تم سب اتنے ہی پاٹے خان ہو تو براہ راست ایک جنگ کیوں نہیں کر لیتے؟ تم کب تک اپنے گندے کپڑے غریب مسلمان ممالک کے صحنوں میں دھوتے رہو گے؟ تمہارے اپنے معاشروں میں تو امن اور سکون ہے لیکن مسلم معاشروں کو تم نے میدان جنگ بنا دیا ہے، ان کا سکون تم نے غارت کر دیا ہے۔ تمہارے عارض و رخسار کی لالی قائم رکھنے کے لیے مسلمانوں کا اور کتنا لہو درکار ہے؟ ہنستے بستے سماج تم نے قبرستان بنا دیے، کتنی آہیں چاہییں جو تمہارے کلیجے کو ٹھنڈا کر سکیں؟\r\n\r\nہمارے اردگرد ان ’’برادر اسلامی‘‘ ممالک کی لگائی آگ کے الاؤ دہک رہے ہیں۔ کوئی وقت جاتا ہے کہ اس سیلاب بلا کی دستک سے ہمارے کواڑ چٹخ کر رہ جائیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان کے فرزندان توحید چند امور پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں۔\r\n\r\n1۔ کیا وجہ ہے کہ یہ برادر اسلامی ممالک خود اس آگ سے محفوظ ہیں جو انہوں نے ساری مسلم دنیا میں لگا رکھی ہے؟ دین کے نام پر انہوں نے اسلامی معاشروں کو آگ میں جھونک رکھا ہے لیکن اس آگ کی ایک چنگاری بھی ان کی دہلیز تک نہیں پہنچی؟\r\n\r\n2۔ یہ برادر اسلامی ممالک بادی النظرمیں اسلام کے علمبردار ہیں، لیکن عملی طور پر یہ اسلامی ریاستیں ہیں یا مروجہ معنوں میں سیکولر نیشن سٹیٹ؟ اسلام کے نام پر جتنے ایڈونچر ہوئے، ان ممالک کی سر پرستی میں ہوئے لیکن یہ بطور ریاست کسی ایک کا بھی حصہ نہ بنے۔ ایسا کیوں ہوا؟ کیا یہ محض اتفاق تھا یا یہ ان کی نیشن سٹیٹ کی پالیسی کا حصہ تھا؟ امت کا تصور جہاں جہاں ان کی فارن پالیسی کے خد و خال سنوارنے کے کام آیا، انہوں نے اس کا فائدہ اٹھایا لیکن جہاں امت مسلمہ اور ان کے ریاستی مفادات ٹکرائے انہوں نے ہمیشہ سیکولر نیشن سٹیٹ کی طرح اپنے ریاستی مفاد کو ترجیح دی۔ مذہب کے نام پر انہوں نے مسلم معاشروں میں اپنی پراکسیز لڑیں اور اپنے وفادار پیدا کیے جو شہری تو دیگر مسلم ریاستوں کے ہوتے ہیں لیکن ان کی ڈوریں ان برادر اسلامی ممالک سے ہلتی ہیں۔ اس کا جو نتیجہ ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ خون تو بہتا ہی ہے اور راکھ تو اڑتی ہی ہے، فکر کی دنیا بھی آلودہ اور متعفن ہو چکی ہے۔ اس رویے نے ایک بیمار نفسیات پیدا کر دی ہے۔ ایک طبقہ یمن کو روتا ہے لیکن حلب پر خاموش ہو جاتا ہے اور ایک گروہ حلب پر خون روتا ہے اور یمن پر اسے چپ لگ جاتی ہے۔ ہر گروہ اپنے ظالم کا دفاع کرتا ہے اور اپنے مظلوم پر آنسو بہاتا ہے۔ وہی بات جس کا میں اکثر رونا روتا ہوں کہ اپنا اپنا ظالم اپنا مظلوم۔ اپنوں پر ظلم ہو تو سب خون روتے ہیں اور اپنے ظلم کر رہے ہوں تو سب گونگے شیطان بن جاتے ہیں۔\r\n

Comments

FB Login Required

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ نئی بات میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

Protected by WP Anti Spam