میں اپنی زندگی میں محمد ﷺ سے کتنی متاثر ہوں؟ حنا نرجس

اگر میں غور کروں کہ بحیثیتِ مسلمان میرا سب سے زیادہ قابلِ فخر سرمایہ کیا ہے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ سرمایہ نبی آخر الزماں، محمد الرسول الل\0ہ سے میری نسبت ہے. اسلام اگر مکمل ضابطہ حیات ہے تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم بہترین زندگی کی عمدہ ترین عملی مثال! میری ہمیشہ شدید خواہش رہی ہے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی کو اگر میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے طرزِ زندگی پر گزاروں تو یہ ٹُو ان وَن پیکج بن جائے یعنی میرا ہر عمل عبادت بن جائے، دین و دنیا یکجا ہو جائیں، راہ روشن ہو جائے اور کامیابی یقینی ہونے لگے.\r\n\r\nمیری دوڑ ہمیشہ اسی جانب رہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کے اتباع میں مَیں اپنے اخلاق کو اتنا بلند کر لوں کہ جب کبھی کسی سے قرض لوں تو واپس کرتے وقت اپنی خوشی سے کچھ بڑھا کر ادا کروں، رکشہ والے کو طے شدہ رقم سے کچھ زیادہ دوں. بہترین لباس بھی پہنوں مگر پیوند لگا لباس پہننے میں بھی کوئی عار نہ سمجھوں. ایک بہترین سامع بنوں کیونکہ ہماری اکثریت اس سنت کو بھلائے ہوئے ہے، ہمارے پاس دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ اور وقت ختم ہوتا جا رہا ہے. چھوٹے چھوٹے کام مثلاً جوتا سی لینے، جھاڑو دینے اور پانی بھرنے میں شرم محسوس نہ کروں. اپنی جسمانی صفائی کا بہت زیادہ خیال رکھوں، خصوصاً منہ کی صفائی کا. صاف ستھری اور خوشبودار رہوں. \r\n\r\nلینے والی نہیں، دینے والی بنوں. کھانے پینے میں عیب نہ نکالوں. دوسروں کو بھی کھانے پینے میں اپنے ساتھ شریک کروں. ہر خوشی میں اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے ”الحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات“ \0پکاروں اور آپے سے باہر نہ ہوں اور ہر غمی میں بے اختیار ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ کے کلمات ادا کرتے ہوئے چیخ و پکار سے گریز کروں. بار بار اللہ سے رجوع کرنے والی بنوں. مجلس میں کبھی لاتعلق ہو کر نہ بیٹھوں بلکہ ساتھیوں کے ساتھ ہلکے پھلکے مزاح سے لطف اندوز ہوں. نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرح بہت مسکرانے والی بنوں. بات ہمیشہ مختصر، واضح، مثبت اور بامقصد کروں. ہمیشہ دیانت دار، حیا دار، شکرگزار، بہادر، مہمان نواز اور دوسروں کو معاف کرنے والی بنوں. \r\n\r\nتحائف دے کر محبتوں کو فروغ دوں. دوسروں کو ان کے بہترین ناموں سے پکاروں. آسانیاں پیدا کروں. ماحول دوست رہوں کیونکہ ہمارے نبی صل اللہ علیہ و سلم نے کھیتیاں تباہ کرنے سے منع فرمایا ہے. غیبت سے بچوں. میرا غصہ دنیا اور اس کی چیزوں پر نہ ہو بلکہ حق کی مخالفت کیے جانے پر ہو. بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت میرا شیوہ ہو. جو مجھ پر نگران ہیں، ان کی فی المعروف اطاعت کروں اور جن پر میں نگران ہوں، ان کے معاملے میں اللہ سے ڈروں. کمزور طبقہ سے خود رابطے اور ملاقات کرنے والی بنوں. امید کروں کہ میری زندگی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے مشن یعنی دعوتِ حق کا عملی نمونہ بن جائے اور نیکی کی خوشبو پھیلاتے ہوئے آپ کی سچی امتی بنوں.\r\n

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!