حلب میں جو قیامت گزری ہے – محمد عامر خاکوانی

حلب میں جو قیامت گزری ہے، اس نے افسردہ کر رکھا ہے۔ سوشل میڈیا پر آنے والی تصاویر خون کے آنسو رلا دینے والی ہیں۔ الحمداللہ فرقہ واریت سے ہمیشہ دور رہا ہوں۔ داعش کے جنونیوں کا نشانہ بننے والی شیعہ آبادی یا ان کی طرف سے مزارات کو نشانہ بنانے والی وحیشانہ حرکتوں سے بھی دل دکھا، یمن میں حوثی جنازوں پر سعودی بمباری سے بھی افسوس ہوا، حوثی جنگجوئوں کی طرف سے مخالف شہری آبادی کو ٹارگٹ کرنے سے دکھ ہوا اور لاکھوں شامیوں کے قاتل سفاک بشارالاسد کی جانب سے سنی آبادی پر ڈھائے جانے والے چنگیز خانی مظالم بھی تڑپا دیتے ہیں۔ شام اور اس کے اتحادیوں ایران، حزب اللہ اور خاص طور پر روس کی جانب سے شہری آبادی کو جس بے رحمی سے نشانہ بنایا گیا، عورتوں اور بچے قتل کیےگئے، حلب پر قبضے کے بعد جس طرح شہر میں گھس کر شامی افواج نے قتل عام کیا، وہ شرمناک ہے۔ شدید مذمت کےلائق ہے۔ \r\nافسوس اے اہل حلب۔ ہمارے مقدر میں صرف آنسو بہانا ہی رہ گیا۔ افسوس۔ \r\n\r\nافسوس تو یہ بھی ہے کہ مسلمان ممالک نےکچھ نہیں کیا۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ فریق بن جاتے اورجنگ میں کود پڑتے ۔ انہیں کم از کم یہ تو کرنا چاہیے تھا کہ جنگ بندی کی کوششیں کرتے، اہل حلب کو’’ فتح‘‘ کے بعد کی خونریزی سے بچاتے۔ افسوس کہ سب بیٹھے تماشا دیکھتے رہے۔ بوسنیا میں سربوں کے ہاتھوں مارے جانے والے بوسنیائی مسلمانوں کی المناک یاد تازہ ہوگئی۔ افسوس کہ مسلم دنیا نے شام میں تباہی بچانے، خانہ جنگی روکنے کے ل\0یے کچھ نہیں کیا۔ افسوس کہ عالمی ضمیر بھی سویا رہا، عالمی دنیا، عالمی قوتوں نے کچھ نہیں کیا۔ شامی عوام کا لہو بہتا رہا۔ افسوس تو اس پر بھی ہے کہ ہمارے ہاں کے لبرلز بھی اپنی مرضی کی جگہوں پر آنسو بہاتے اور اپنی پسند کے نوحے پڑھتے ہیں۔ سلیکٹو انصاف کی طرح سلیکٹو مذمت کی روش ہمارے لبرلز میں بھی آگئی ہے، اگرچہ اس کا الزام وہ مذہبی حلقوں کو دیتے تھے۔\r\n\r\nاے اہل حلب تم کمال دلیری سے لڑے، لڑنے کا حق ادا کیا، بے سروسامانی کے باوجود اپنے آخری جنگجو، اپنی توانائی کے آخری ذرے تک لڑے۔ افسوس کہ کوئی تمہاری مدد کو نہ پہنچا۔ \r\nجاہلی عربی کے اس جواں سال شعلہ بیاں شاعر طرفہ نےکہا تھا، وہی طرفہ جس کا ایک قصیدہ سبع معلقات میں شامل ہے، سونے کے پانی سے لکھے، وہ سات قصیدے جنہیں کعبہ میں لٹکائے جانے کا اعزاز ملا۔ طرفہ کہتا ہے \r\n’’اے میرے بھائی کی بیٹی \r\nمیں مرجائوں تو مجھ پر\r\nمیری شان کے شایاں بین کرنا\r\nاور میرے غم میں گریبان چاک کر ڈالنا\r\nاور مجھے کسی عام آدمی کی سی حیثت نہ دینا\r\nجس کا عزم میرے عزم سے لگا نہیں کھا سکتا\r\nاور نہ وہ \r\n(وقت پڑنے پر)\r\nمیرے برابر ثابت ہو سکتا ہے\r\nاور نہ جنگ میں اس کی موجودگی \r\nمیری موجودگی کا بدل ہو سکتی ہے.‘‘\r\n\r\n

Comments

FB Login Required

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ دنیا میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے سابق مدیر رہ چکے ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

Protected by WP Anti Spam