ہم دماغ سے سوچتے ہیں یا دل سے؟ مجیب الحق حقی

سائنس کا کام نظریۂ حیات بتانا نہیں۔ سائنس اللہ کی تخلیق کی علمی اور عقلی وضاحت ہے لیکن اس پر متعصب سائنسدانوں کی ایک خاص تنگ دل سوچ کا غلبہ ہے جس نے سائنس کے حدود ِکار کو نہیں سمجھا اور بلا وجہ سائنس کو مذہب کے مقابل کھڑا کیا ہے۔ اگر کشادہ دلی کے ساتھ اسلام کے فلسفہ حیات کو سمجھا جائے تو یہی حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ اسلام اور جدید سائنس دن بدن قریب آ رہے ہیں۔ اس تحریر کا مقصد قرآن اور سائنس کا تقابل نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ یہ جدید علوم اور دریافتیں ہی ہیں جوقرآن میں درج حقائق کی تصدیق کرتی جارہی ہیں۔ اس کی ضرورت بھی اس لیے پڑ رہی ہے کہ جدید دور میں ایک فیشن کے طور پر مذہب اور الہامی کتب کو دقیا نوسی کہہ کر ان کی بےتوقیری کی جاتی ہے۔ اگر گہرائی میں جاکر دیکھا جائے تو جدیدیت اپنے بے شمار مخمصوں کے ساتھ اس لیے زندہ ہے کہ ہم مرعوبیت کی ایک خاص ذہنی ساخت میں جا بسے ہیں اور ایک طرح کے احساس کمتری کے باوصف سائنسی علوم کو کسی متوازی نظام زندگی کا نمائندہ مانتے جارہے ہیں حالانکہ ایسی سوچ ایک سراب کے سوا کچھ نہیں۔ منکرین خدا عموماً سائنس کو جو خالصتاً طبعی علوم پر مشتمل ہے اپنے غیر عقلی اور الجھاؤ والے نظریات کے دفاع میں استعمال کرتے ہیں اور سائنس کو زبردستی نظریاتی بحث کا حصّہ بناکر اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں ان جدید سائنسدانوں کا زیادہ قصور ہے جو خود منکر ہیں اور اپنی حیثیت کا غلط استعمال کرتے ہیں اور سائنس کے تشنہ نظریات کا سہارا لے کر اللہ کے وجود کے حوالے سے الجھن پیدا کرتے ہیں اور سائنس اور مذہب کو ایک دوسرے کی ضد قرار دیتے ہیں۔ ان کی مثال اس گروہ کی ہے جو زبردستی قیادت پرقابض ہوکر کسی تحریک کی سمت بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اسلام اور قرآن کیونکہ خالق کے نمائندہ ہیں اس لیے خود سائنس ہی قرآن اور اسلام کے معاون بنتے جا رہے ہیں۔\r\n\r\nٓآئیے دیکھتے ہیں کہ جدید دریافتیں اور قرآن کس طرح ہم آہنگ ہیں۔\r\n\r\nخیالات کا منبع: دل یا دماغ؟\r\nیہ سوال اکثر اُٹھتا ہے کہ انسان کے جذبات کا تعلّق دماغ سے ہے یا کہ قلب سے؟\r\nعام خیال یہی کیا جاتا ہے کہ جذبات اور خیالات کا تعلّق قلب سے ہوتا ہے جس کا روز مرّہ کی بول چال میں بھی فطری اظہار ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہ میرے دل میں خیال آیا، یا کہ میرا دل چاہا وغیرہ وغیرہ۔ محبت کے جذبات کے لیے بھی دل ہی کا خاکہ بنایا جاتا ہے۔ فلاسفر کا ہمیشہ سے یہی نظریہ ہے کہ قلب ہی جذبات جیسے محبت، نفرت، عداوت اور خیالات کا منبع ہے، مگر طبعی سائنس کی ترقی کے بعد سائنسدانوں نے اس نظریے کو باطل قرار دیا کیونکہ سائنسی تحقیق کے مطابق دماغ میں موجود نیورون ہی انتہائی پیچیدہ نظام کے تئیں تمام خیالات و جذبات کا منبع ہیں جبکہ سائنس قلب میں اب تک ایسی صلاحیت ڈھونڈ نہیں سکی تھی۔گویا سائنسی طور پر دماغ کو ہی خیالات کا منبع سمجھا جاتا رہا ہے، دل کو نہیں۔\r\nلیکن سائنسدانوں کے تجسّس کو سلام کہ وہ ہر عضو کی کارکردگی کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہی رہتے ہیں۔ جدید سائنس کی دماغ سے متعلق تحقیقات نئے اُفق سے روشناس کرا رہی ہیں۔ اسی ضمن میں کچھ سائنسداں قلب اور دماغ کے تعلّق پر تحقیق بھی کر رہے ہیں کہ قلب دماغ سے کس طرح ہدایات لیتا ہے، اور مزید یہ کہ:\r\nکیا دل بھی دماغ کی طرح کام کرسکتاہے؟\r\nیا دل میں بھی دماغ جیسی صلاحیّتیں موجود ہیں؟\r\n\r\nہمارے لیے اس باب میں جاننا ایک دلچسپ بات ہوگی کہ دل اور دماغ میں ہم آہنگی کی کیا قابل گرفت سائنسی بنیادیں ہیں اور یہ کہ بھلا دل کیسے سوچتا ہے!\r\nکیلیفورنیا میں واقع ہارٹ میتھ انسٹی ٹیوٹ میں اس کی ابتدائی تحقیق ہو رہی ہے کہ قلب کا جذبات و احساسات کے پیدا ہونے میں کیا کردار ہے۔\r\nآئیے جدید سائنس کی اس تحقیق پر نظر ڈالتے ہیں۔ درج ذیل حوالے سے ماخوذ یہ اقتباس اپنے اندر حیرانیاں لیے ہوئے ہیں۔\r\n”دل اور دماغ دو طرفہ گفتگو میں مصروف رہتے ہے مگر دل اور اس کے نظام کی طرف سے دماغ کو زیادہ پیغام جاتے ہیں بہ نسبت دماغ سے دل کی طرف۔“\r\n آگے تحریر ہے:\r\n”نیوروکارڈیالوجی کی نئی فیلڈ میں حالیہ تحقیق سے یہ مضبوطی سے ثابت ہوا ہے کہ دل ایک حواسی آلہ Sensory-Organ اور معلومات کی چھان بین کرنے والا ایک مرکز information-encoding-and-processing-centre ہے۔ اس کے اندر اچھا خاصا پیچیدہ اعصابی نظام موجود ہے جو اس کو قلبی دماغ بناتا ہے۔ اس کے اندر ایسے سرکٹ موجود ہیں جس سے یہ آزادی سے سیکھنے، جانچنے اور فیصلہ کرنے کا عمل بغیر دماغ کی مدد کے کرتا ہے۔ سب کی حیرانی کے لیے، کہ یہ دریافت کامیاب تجربات سے ظاہر کرتی ہے کہ دل کے اندر موجود انتہائی منظّم خودکار اعصابی نظام دوہرے یعنی قلیل اور طویل رابطے کی صلاحیت رکھتا ہے۔“\r\n\r\nاب اس سلسلے میں وحی کا انکشاف بھی دیکھیں!\r\nقرآن کا دوٹوک اعلان درج ذیل ہے۔\r\nقرآن: (سورۃ۵۰ ،آیت۱۶)\r\n”ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم اس کے دل میں ابھرنے والے وسوسوں تک کو جانتے ہیں، ہم رگ ِجاں سے زیادہ قریب ہیں۔“\r\nقرآن: (سورۃ۶۷ ،آیات ۱۳۔۱۴)\r\n”وہ دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ بھلا وہ ہی نہ جانے جس نے پیدا کیا؟“\r\n\r\n14 سو سال پہلے کا مذکورہ بیان آج کے سائنس دانوں کے لیے یقیناً حیرت کا باعث ہوگا۔ قرآن ایک طویل عرصے سے یہی کہہ رہا ہے کہ خیالات کا منبع دل ہے کہ یہیں سے خیالات کی ابتدا ہوتی ہے۔ گویا قرآن کے مطابق دماغ کی حیثیت ثانوی ہے اور جسم و روح کا قُطب قلب ہے۔ قلب ہی اعمال کے چناؤ میں ایک کلیدی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہے، جس کا دماغ سے یقیناً کوئی ایسا تعلّق ہے جس کی مستقبل میں باریک بین ریسرچ ہی کچھ اور وضاحت کرے یعنی قلب کی ایک آزاد حیثیت ہے۔\r\n\r\nجڑواں اعصابی نظام اور ارتقاء :\r\nانسان، زندگی اور کائنات کے بارے میں سائنس کی اکثر وضاحتیں تشنہ ہی ہیں جو کسی عقلی اور منطقی نظریۂ حیات کے بجائے غیر یقینیت سے لبریز فلسفے کی آبیاری کرتی ہیں۔ قرآن قلب کو ایک آزاد اور مرکزی فیصلہ کرنے والا کہتا ہے، لیکن ارتقاء اور فطری چناؤ natural selection کے حامی اس سے مختلف نظریہ رکھتے رہے ہیں یعنی کہ خیالات کا تعلّق دماغ اور نیورون سے ہی ہے۔\r\n\r\nآگے بڑھنے سے پہلے اہم سائنسی نظریے نیچرل سلیکشن کی بابت جان لیں کہ یہ کیا ہے۔\r\nA natural process that results in the survival and reproductive success of individuals or groups best adjusted to their environment and that leads to the perpetuation (continuation) of genetic qualities best suited to that particular environment.(Marium-Webster Dictionery)\r\nنیچرل سلیکشن یا فطری چناؤ، ایک قدرتی عمل! جس کے نتیجے میں پیدائش اور زندہ رہنے میں کسی گروپ یا کسی ذات کا ماحول کے مطابق خود کو اس طرح ہم آہنگ کرنا کہ جنّیاتی خصوصیات کو ماحول کے مطابق بہترین طور کو برقرار رکھے.\r\n……………\r\nذرا اس سپر آٹومیٹک تخیّلاتی ”اوزار“ یا ٹول پر غور کریں کہ کس طرح ہر مخمصے اور نظریاتی مے ڈے Mayday سے نکلنے کی پیش بندی کر لی گئی ہے۔ جیسا کہ اس کی تشریح سے ظاہر ہے، یہ نظریہ خدا کو جھٹلانے کے لیے سائنسدانوں کی خود ساختہ راہ ِفرار ہے جو علم، منطق اور استدلال کی بنیاد پر حیات کی تحقیق میں ہر ناقابل تشریح صورتحال میں ان کے بچاؤ میں کام آتی ہے۔\r\n\r\nلیکن مذکورہ بالا قلبی دماغ کی دریافت یا سائنسی اعتراف کے بعدان سے سوال ہے کہ :\r\nارتقاء کے خود ساختہ عمل میں جڑواں یا دوہرا اعصابی نظام (قلب اور دماغ میں) کیوں پیدا ہوا؟\r\nآخر اس کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی ہوگی؟\r\n\r\nیہاں ایک دلچسپ منطقی سوال اٹھتا ہے کہ:\r\nقلب کو بھی دماغ کے ساتھ اعمال میں کوئی کردار دینے کا فیصلہ کس نے کیا؟\r\nاس کی سائنسی توجیہ نیچرل سلیکشن کی چھتری ہی ہوگی، جیسا کہ ہم نے جانا کہ قدرتی چناؤ یا natural selection ایک سائنسی توجیہ ہے جو فطرت کا سہارا لے کر کسی ناقابل تشریح پیش رفت کو من و عن قبول کرنے کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔\r\n\r\nلیکن کیا انسان میں دوہرے اعصابی نظام کے اہم فیصلے کو فطری چناؤ کا نام دے کر ہم مطمئن ہو سکتے ہیں؟\r\nدماغ اور دل کے درمیان کسی فیصلے کے لیے ایک طرح کی ہم آہنگی ہوتی ہے جو خودکار نہیں ہوسکتی بلکہ ایک ذہین اور ارادتی تخلیق کا پرتو ہی ہوسکتی ہے کیونکہ ارتقاء کے عمل میں خیال و اعصاب کے حوالے سے قدرتی چناؤ دو دفعہ اور دو مختلف اعضاء یعنی قلب اور دماغ میں ہونے کی کوئی بھی غیر حقیقی توجیہہ محض حقائق سے فرار ہی ہوگا یعنی یہ سوالات نظر انداز نہیں ہوسکتے کہ:\r\nفطرت کی اگر یہ ارتقائی ضرورت تھی کہ انسان میں اعصابی نظام تخلیق ہو اور وہ اتفاقاً تخلیق بھی ہوگیا تو وہ ”اتفاق“ دو دفعہ اور دو جگہ کیوں ہوا ؟\r\nاس فائن ٹیوننگ کی ضرورت کا احساس کہاں ہوا اور کیوں ارتقاء نے ایک اچھوتی کروٹ لی؟\r\nیہاں سائنس کا نظریہ natural-selection یعنی تصوراتی فطری چناؤ پسپا ہوتا اور پھسلتا نظر آتا ہے جبکہ مذکورہ بالا وحی کا اشارہ ایک آفاقی سچّائی کا روپ لے کر بڑی قوّت سے سامنے آتا ہے۔\r\n\r\nالحاد کے تازیانے:\r\nالحاد بےعقلی کا وہ سراب ہے جو منکر کو عقلمندی اور احساس برتری کے سحر میں گرفتار کرتا ہے لیکن جدید سائنسی دریافتیں بذات ِخود جدید الحادی نظریات کے لیے ہی تازیانے لے کر آ رہی ہیں۔ یہ ثابت ہو رہا ہے کہ سائنس کے بظاہر مضبوط نظریات اور مفروضے hypothesis بھی سیاّل عقیدے ہیں، جو نئے دور میں نئی شکلیں بدل رہے ہیں۔ اس کے مقابل وحی کے انکشافات ٹھوس اور اٹل ہیں جو اگر کل تک سائنسدانوں کی سمجھ میں نہیں آرہے تھے تو یہ ان کی اپنی کوتاہ علمی کا ہی شاخسانہ تھا۔ قرآن میں درج حقائق وقت کے ساتھ ثابت ہو رہے ہیں۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ قرآن ہی ہر الحادی سائنس کو زیر کرنے کی استطاعت رکھتا ہے۔\r\nلیکن اہل فلاسفہ کے لیے ایک نکتہ فکر ضرور ابھرتا ہے کہ عقل اور شعور کو کس سے منسوب کریں گے، قلب سے یا دماغ سے۔

Comments

FB Login Required

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

Protected by WP Anti Spam